• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ ﴿٤١﴾
تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے۔

يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْ‌سَاهَا ﴿٤٢﴾
لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کا وقت دریافت کرتے ہیں۔ (١)
٤٢۔١ یعنی قیامت کب واقع اور قائم ہو گی؟ جس طرح کشتی اپنے آخری مقام پر پہنچ کر لنگر انداز ہوتی ہے اسی طرح قیامت کے واقع کا صحیح وقت کیا ہے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَ‌اهَا ﴿٤٣﴾
آپ کو اس کے بیان کرنے سے کیا تعلق؟ (١)
٤٣۔١ یعنی آپ کو اس کی بابت یقینی علم نہیں ہے، اس لیے آپ کا اس کو بیان کرنے سے کیا تعلق؟ اس کا یقینی علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِلَىٰ رَ‌بِّكَ مُنتَهَاهَا ﴿٤٤﴾
اس کے علم کی انتہا تو اللہ کی جانب ہے۔

إِنَّمَا أَنتَ مُنذِرُ‌ مَن يَخْشَاهَا ﴿٤٥﴾
آپ تو صرف اس سے ڈرتے رہنے والوں کو آگاہ کرنے والے ہیں۔ (١)
٤٥۔١ یعنی آپ کا کام صرف انذار (ڈرانا) ہے، نہ کہ غیب کی خبریں دینا، جن میں قیامت کا علم بھی ہے جو اللہ نے کسی کو بھی نہیں دیا۔ ﴿مَنْ يَخْشَاهَا﴾ اس لیے کہا کہ انذار و تبلیغ سے اصل فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جن کے دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے، ورنہ انذار و تبلیغ کا حکم تو ہر ایک کے لیے ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَ‌وْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا ﴿٤٦﴾
جس روز یہ اسے دیکھ لیں گے تو ایسا معلوم ہو گا کہ صرف دن کا آخری حصہ یا اول حصہ ہی (دنیا میں) رہے ہیں۔ (١)
٤٦۔١ عَشِيَّةً، ظہر سے لے کر غروب شمس تک اور ضحیٰ، طلوع شمس سے نصف النہار تک کے لیے بولا جاتا ہے۔ یعنی جب کافر جہنم کا عذاب دیکھیں گے تو دنیا کی عیش و عشرت اور اس کے مزے سب بھول جائیں گے اور انہیں ایسا محسوس ہو گا کہ وہ دنیا میں پورا ایک دن بھی نہیں رہے۔ دن کا پہلا حصہ یا دن کا آخری حصہ ہی صرف دنیا میں رہے ہیں یعنی دنیا کی زندگی، انہیں اتنی قلیل معلوم ہو گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة عبس


(سورة عبس مکی ہے اور اس میں بیالیس آیتیں اور ایک رکوع ہے۔ اس کی شان نزول میں تمام مفسیر کا اتفاق ہے کہ یہ حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم کے بارے نازل ہوئی۔ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اشراف قریش بیٹھے گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک ابن ام مکثوم جو نابینا تھے، تشریف لے آئے اور آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دین کی باتیں پوچھنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کچھ ناگواری محسوس کی اور کچھ بے توجہی سی برتی۔ چنانچہ تنبیہ کے طور پر ان آیات کا نزول ہوا (ترمذی، تفسیر سورہ عبس))

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

عَبَسَ وَتَوَلَّىٰ ﴿١﴾
وہ ترش رو ہوا اور منہ موڑ لیا۔

أَن جَاءَهُ الْأَعْمَىٰ ﴿٢﴾
(صرفٖ اس لیے) کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا۔ (١)
٢۔١ ابن ام مکتوم سے نبی ﷺ کے چہرے پر جو ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے، اسے عَبَسَ سے اور توجہی کو تَوَلَّىٰ سے تعبیر فرمایا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا يُدْرِ‌يكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّىٰ ﴿٣﴾
تجھے کیا خبر شاید وہ سنور جاتا۔ (١)
٣۔١ یعنی وہ نابینا تجھ سے دینی رہنمائی حاصل کر کے عمل صالح کرتا جس سے اس کا اخلاق و کردار سنور جاتا، اس کے باطن کی اصلاح ہو جاتی اور تیری نصیحت سننے سے اس کو فائدہ ہوتا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَوْ يَذَّكَّرُ‌ فَتَنفَعَهُ الذِّكْرَ‌ىٰ ﴿٤﴾
یا نصیحت سنتا اور اسے نصیحت فائدہ پہنچاتی۔

أَمَّا مَنِ اسْتَغْنَىٰ ﴿٥﴾
جو بے پروائی کرتا ہے۔ (١)
٥۔١ ایمان سے اور اس علم سے جو تیرے پاس اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ یا دوسرا ترجمہ جو صاحب ثروت و غنا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَأَنتَ لَهُ تَصَدَّىٰ ﴿٦﴾
اس کی طرف تو تو پوری توجہ کرتا ہے۔ (١)
٦-۱ اس میں آپ ﷺ کو مزید توجہ دلائی گئی ہے کہ مخلصین کو چھوڑ کر معرضین کی طرف توجہ مبذول رکھنا صحیح بات نہیں ہے۔

وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّىٰ ﴿٧﴾
حالانکہ اس کے نہ سنورنے سے تجھ پر کوئی الزام نہیں۔ (١)
٧-۱ کیوں کہ تیرا کام تو صرف تبلیغ ہے۔ اس لیے اس قسم کے کفار کے پیچھے پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔

وَأَمَّا مَن جَاءَكَ يَسْعَىٰ ﴿٨﴾
اور جو شخص تیرے پاس دوڑتا ہوا آتا ہے۔ (١)
٨۔١ اس بات کا طالب بن کر کہ تو خیر کی طرف اس کی رہنمائی کرے اور اسے وعظ و نصیحت سے نوازے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَهُوَ يَخْشَىٰ ﴿٩﴾
اور وہ ڈر (بھی) رہا ہے۔ (١)
٩۔١ یعنی اللہ کا خوف بھی اس کے دل میں ہے، جس کی وجہ سے یہ امید ہے کہ تیری باتیں اس کے لیے مفید ہوں گی اور وہ ان کو اپنائے گا اور ان پر عمل کرے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَأَنتَ عَنْهُ تَلَهَّىٰ ﴿١٠﴾
تو اس سے بے رخی برتتا ہے۔ (١)
١٠۔١ یعنی ایسے لوگوں کی قدر افزائی کی ضرورت ہے نہ کہ ان سے بے رخی برتنے کی۔ ان آیات سے یہ معلوم ہوئی کہ دعوت و تبلیغ میں کسی کو خاص نہیں کرنا چاہیے بلکہ اصحاحب حیثیت اور بے حیثیت، امیر اور غریب، آقا و غلام، مرد اور عورت، چھوٹے اور بڑے سب کو یکساں حیثیت دی جائے اور سب کو مشترکہ خطاب کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا اپنی حکمت بالغہ کے تحت، ہدایت سے نواز دے گا۔ (ابن کثیر)
 
Top