الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ ﴿٦﴾
جس دن کاپنے والی کانپے گی۔ (١)
٦۔١ یہ نفخۂ اولیٰ ہے جسے نفخۂ فنا کہتے ہیں، جس سے ساری کائنات کانپ اور لرز اٹھے گی اور ہر چیز فنا ہو جائے گی۔
فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا ﴿٥﴾
پھر کام کی تدبیر کرنے والوں کی قسم! (١)
٥۔١ یعنی اللہ تعالیٰ جو کام ان کے سپرد کرتا ہے، وہ اس کی تدبیر کرتے ہیں اصل مدبر تو اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنی حکمت بالغہ کے تحت فرشتوں کے ذریعے سے کام کرواتا ہے تو انہیں بھی مدبر کہہ دیا جاتا ہے۔ اس اعتبار...
فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا ﴿٤﴾
پھر دوڑ کر آگے بڑھنے والوں کی قسم! (١)
٤۔١ یہ فرشتے اللہ کی وحی، انبیاء تک، دوڑ کر پہنچاتے ہیں تاکہ شیطان کو اس کی کوئی سن گن نہ ملے۔ یا مومنوں کی روحیں جنت کی طرف لے جانے میں نہایت سرعت سے کام لیتے ہیں۔
وَالسَّابِحَاتِ سَبْحًا ﴿٣﴾
اور تیرنے پھرنے والوں کی قسم! (١)
٣۔١ سَبْحٌ کے معنی، تیرنا، فرشتے روح نکالنے کے لیے انسان کے بدن میں اس طرح تیرتے پھرتے ہیں جیسے غواص سمندر سے موتی نکالنے کے لیے سمندر کی گہرائیوں میں تیرتا ہے۔ یا مطلب ہے کہ نہایت تیزی سے اللہ کا حکم لے کر آسمان سے اترتے ہیں۔ کیونکہ...
وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا ﴿٢﴾
بند کھول کر چھڑا دینے والوں کی قسم! (١)
٢۔١ نَشْطٌ کے معنی، گرہ کھول دینا، یعنی مومن کی جان فرشتے بہ سہولت نکالتے ہیں، جیسے کسی چیز کی گرہ کھول دی جائے۔
سورة النازعات
(سورہ نازعات مکی ہے اور اس میں چھیالیس آیتیں اور دو رکوع ہیں۔)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا ﴿١﴾
ڈوب کر سختی سے کھینچنے والوں کی قسم! (١)
١۔١ نَزْعٌ کے معنی، سختی سے کھینچنا،...
زمانہ دنیاوی طالب علمی کا برس ہا برس سے گزر چکا۔
لیکن آج کل پھر امتحان دے رہا ہوں۔
دعا کیجئے گا ، پاس ہو جاوں۔
پیر والے دن آخری امتحان ہے ۔
اگلے امتحانوں کے شروع ہونے تک۔ ان شاء اللہ۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
میری بیٹی ، میٹرک کے پیپرز دی رہی ہے۔
۔
۔
اور اس نے مجھےپک اینڈ ڈراپ کے امتحان میں ڈالا...
إِنَّا أَنذَرْنَاكُمْ عَذَابًا قَرِيبًا يَوْمَ يَنظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ وَيَقُولُ الْكَافِرُ يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا ﴿٤٠﴾
ہم نے تمہیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرا دیا (اور چوکنا کر دیا) ہے۔ (١) جس دن انسان اپنے ہاتھوں کی کمائی کو دیکھ لے گا (۲) اور کافر کہے گا کہ کاش...
ذَٰلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ ۖ فَمَن شَاءَ اتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِ مَآبًا ﴿٣٩﴾
یہ دن حق ہے (١) اب جو چاہے اپنے رب کے پاس (نیک اعمال کر کے) ٹھکانا بنا لے۔ (۲)
٣٩۔١ یعنی لا محالہ آنے والا ہے۔
٣٩۔۲ یعنی اس آنے والے دن کو سامنے رکھتے ہوئے ایمان و تقویٰ کی زندگی اختیار کرے تاکہ اس روز وہاں اس کو اچھا...
يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا ﴿٣٨﴾
جس دن روح اور فرشتے صفیں باندھ کھڑے ہوں گے (١) تو کوئی کلام نہ کر سکے گا مگر جسے رحمٰن اجازت دے دے اور وہ ٹھیک بات زبان سے نکالے۔ (۲)
٣٨۔١ یہاں جبرائیل عليہ السلام...
رَّبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الرَّحْمَـٰنِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خِطَابًا ﴿٣٧﴾
(اس رب کی طرف سے ملے گا جو کہ) آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا پروردگار ہے اور بڑی بخشش کرنے والا ہے۔ کسی کو اس سے بات چیت کرنے کا اختیار نہیں ہو گا۔ (١)
٣٧۔١ یعنی...
جَزَاءً مِّن رَّبِّكَ عَطَاءً حِسَابًا ﴿٣٦﴾
(ان کو) تیرے رب کی طرف سے (ان کے نیک اعمال کا) یہ بدلہ ملے گا جو کافی انعام ہو گا۔ (١)
٣٦۔١ عَطَاءً کے ساتھ حِسَابٌ مبالغے کے لیے آتا ہے، یعنی اللہ کی داد و دہش کی وہاں فراوانی ہو گی۔
وَكَأْسًا دِهَاقًا ﴿٣٤﴾
اور چھلکتے ہوئے جام شراب ہیں۔
٣٤-۱ دِهَاقًا، بھرے ہوئے، یا لگاتار، ایک کے بعد ایک۔ یا صاف شفاف۔ كَأْسٌ، ایسے جام کو کہتے ہیں جو لبالب بھرا ہوا ہو۔
لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا كِذَّابًا ﴿٣٥﴾
وہاں نہ تو وہ بیہودہ باتیں سنیں گے اور نہ ہی جھوٹیں باتیں سنیں گے۔ (١)...
فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا ﴿٣٠﴾
اب تم (اپنے کیے کا) مزہ چکھو ہم تمہارا عذاب ہی بڑھاتے رہیں گے۔
٣٠-۱ عذاب بڑھانے کا مطلب ہے کہ اب یہ عذاب دائمی ہے۔ جب ان کے چمڑے گل جائیں گے تو دوسرے بدل دیئے جائیں گے۔ (النساء:56) جب آگ بجھنے لگے گی، تو پھر بھڑکا دی جائے گی۔ (بنی اسرائیل: ۹۷)...
إِنَّهُمْ كَانُوا لَا يَرْجُونَ حِسَابًا ﴿٢٧﴾
انہیں تو حساب کی توقع ہی نہ تھی۔
٢٧-۱ یہ پہلے جملے کی تعلیل ہے۔ یعنی وہ مذکورہ سزا کے اس لیے مستحق قرار پائے کہ عقیدۂ بعث بعد الموت کے وہ قائل ہی نہیں تھے کہ حساب کتاب کی وہ امید رکھتے۔
وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا كِذَّابًا ﴿٢٨﴾
اور بے باکی سے ہماری...
لِّلطَّاغِينَ مَآبًا ﴿٢٢﴾
سرکشوں کا ٹھکانا وہی ہے۔
لَّابِثِينَ فِيهَا أَحْقَابًا ﴿٢٣﴾
اس میں وہ مدتوں تک پڑے رہیں گے۔
٢٣-۱ أَحْقَابٌ ، حُقُبٌ کی جمع ہے، بمعنی زمانہ۔ مراد ابد اور ہمیشگی ہے۔ ابد الاباد تک وہ جہنم میں ہی رہیں گے۔ یہ سزا کافروں اور مشرکوں کے لیے ہے۔
لَّا يَذُوقُونَ فِيهَا...
إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا ﴿٢١﴾
بیشک دوزخ گھات میں ہے۔ (١)
٢١۔١ گھات ایسی جگہ کو کہتے ہیں، جہاں چھپ کر دشمن کا انتظار کیا جاتا ہے تاکہ وہاں سے گزرے تو فوراً اس پر حملہ کر دیا جائے، جہنم کے دروغے بھی جہنمیوں کے انتظار میں اسی طرح بیٹھے ہیں یا خود جہنم اللہ کے حکم سے کفار کے لیے گھات...
وَسُيِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا ﴿٢٠﴾
اور پہاڑ چلائے جائیں گے پس وہ سراب ہو جائیں گے۔ (١)
٢٠۔١ سَرَابٌ، وہ ریت جو دور سے پانی محسوس ہوتی ہو۔ پہاڑ بھی سراب کی طرح صرف دور سے نظر آنے والی چیز بن کر رہ جائیں گے۔ اور اس کے بعد بالکل ہی معدوم ہو جائیں گے، ان کا کوئی نشان باقی نہیں رہے گا۔...
وَفُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ أَبْوَابًا ﴿١٩﴾
اور آسمان کھول دیا جائے گا پھر اس میں دروازے دروازے ہو جائیں گے۔ (١)
١٩۔١ یعنی فرشتوں کے نزول کے لیے راستے بن جائیں گے اور وہ زمین پر اتر آئیں گے۔