الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
خَاشِعَةً أَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ۚ ذَٰلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ ﴿٤٤﴾
ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی، (١) ان پر ذلت چھا رہی ہو گی، (٢) یہ ہے وہ دن جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ (٣)
٤٤۔١ جس طرح مجرموں کی آنکھیں جھکی ہوتی ہیں کیونکہ انہیں اپنے کرتوتوں کا علم ہوتا ہے۔...
يَوْمَ يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ سِرَاعًا كَأَنَّهُمْ إِلَىٰ نُصُبٍ يُوفِضُونَ ﴿٤٣﴾
جس دن یہ قبروں سے دوڑتے ہوئے نکلیں گے، گویا کہ وہ کسی جگہ کی طرف تیز تیز جا رہے ہیں۔ (۱)
٤۳۔۱ أَجْدَاث جمع ہے۔ جَدَث کے معنی قبر ہیں۔ نُصُبٌ تھانے، جہاں بتوں کے نام پر جانور ذبح کیے جاتے ہیں، اور بتوں کے...
فَذَرْهُمْ يَخُوضُوا وَيَلْعَبُوا حَتَّىٰ يُلَاقُوا يَوْمَهُمُ الَّذِي يُوعَدُونَ ﴿٤٢﴾
پس تو انہیں جھگڑتا کھیلتا چھوڑ دے (۱) یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن سے جا ملیں جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔
٤۲۔۱ یعنی فضول اور لا یعنی بحثوں میں پھنسے اور اپنی دنیا میں مگن رہیں، تاہم آپ اپنی تبلیغ کا کام جاری...
عَلَىٰ أَن نُّبَدِّلَ خَيْرًا مِّنْهُمْ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ ﴿٤١﴾
اس پر کہ ان کے عوض ان سے اچھے لوگ لے آئیں (١) اور ہم عاجز نہیں ہیں (۲)
٤١۔١ یعنی ان کو ختم کرکے ایک نئی مخلوق آباد کر دینے پر ہم پوری طرح قادر ہیں۔
٤١۔۲ جب ایسا ہے تو کیا ہم قیامت والے دن ان کو دوبارہ نہیں اٹھا سکیں گے۔
فَلَا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ إِنَّا لَقَادِرُونَ ﴿٤٠﴾
پس مجھے قسم ہے مشرقوں اور مغربوں (١) کے رب کی (کہ) ہم یقیناً قادر ہیں۔
٤٠۔١ ہر روز سورج ایک الگ جگہ سے نکلتا ہے اور الگ مغرب میں غروب ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے مشرق بھی بہت ہیں اور مغرب بھی اتنے ہی۔ مزید تفصیل کے لے سورہ...
أَيَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ أَن يُدْخَلَ جَنَّةَ نَعِيمٍ ﴿٣٨﴾
کیا ان میں سے ہر ایک کی توقع یہ ہے کہ وہ نعمتوں والی جنت میں داخل کیا جائے گا؟
كَلَّا ۖ إِنَّا خَلَقْنَاهُم مِّمَّا يَعْلَمُونَ ﴿٣٩﴾
(ایسا) ہرگز نہ ہو گا۔ (١) ہم نے انہیں اس (چیز) سے پیدا کیا ہے جسے وہ جانتے ہیں۔ (۲)
٣٩۔١...
وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ ﴿٣٤﴾
اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
أُولَـٰئِكَ فِي جَنَّاتٍ مُّكْرَمُونَ ﴿٣٥﴾
یہی لوگ جنتوں میں عزت والے ہوں گے۔
فَمَالِ الَّذِينَ كَفَرُوا قِبَلَكَ مُهْطِعِينَ ﴿٣٦﴾
پس کافروں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ تیری طرف دوڑتے آتے ہیں۔
عَنِ...
وَالَّذِينَ هُم بِشَهَادَاتِهِمْ قَائِمُونَ ﴿٣٣﴾
اور جو اپنی گواہیوں پر سیدھے اور قائم رہتے ہیں۔ (۱)
۳۳۔۱یعنی اسے صحیح صحیح ادا کرتے ہیں، چاہے اس کی زد میں ان کے قریبی عزیز ہی آجائیں، علاوہ ازیں اسے چھپاتے بھی نہیں، نہ اس میں تبدیلی ہی کرتے ہیں۔
فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ ﴿٣١﴾
اب جو کوئی اس کے علاوہ (راہ) ڈھونڈے گا تو ایسے لوگ حد سے گزر جانے والے ہوں گے۔
وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ ﴿٣٢﴾
اور جو اپنی امانتوں کا اور اپنے قول و قرار کا پاس رکھتے ہیں۔ (۱)
۳۲۔۱ یعنی ان کے پاس...
وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ ﴿٢٩﴾
اور جو لوگ اپنی شرمگاہوں کی (حرام سے) حفاظت کرتے ہیں۔
إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ ﴿٣٠﴾
ہاں ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جن کے وہ مالک ہیں انہیں کوئی ملامت نہیں۔ (١)
٣٠۔١ یعنی...
إِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَيْرُ مَأْمُونٍ ﴿٢٨﴾
بیشک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونے کی چیز نہیں۔ (۱)
۲۸۔۱ یہ سابقہ مضمون ہی کی تاکید ہے کہ اللہ کے عذاب سے کسی کو بھی بے خوف نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر وقت اس سے ڈرتے رہنا اور اس سے بچاؤ کی ممکنہ تدابیر اختیار کرتے رہنا چاہیے۔
وَالَّذِينَ هُم مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِم مُّشْفِقُونَ ﴿٢٧﴾
اور جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں۔ (۱)
۲۷۔۱ یعنی اطاعت اور اعمال صالحہ کے باوجود، اللہ کی عظمت و جلالت کے پیش نظر اس کی گرفت سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں، اور یقین رکھتے ہیں کہ جب تک اللہ کی رحمت ہمیں اپنے دامن میں نہیں ڈھانک لے گی،...
وَالَّذِينَ يُصَدِّقُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ ﴿٢٦﴾
اور جو انصاف کے دن پر یقین رکھتے ہیں۔ (۱)
۲٦۔۱ یعنی وہ اس کا انکار کرتے ہیں نہ اس میں شک و شبہ کا اظہار۔
لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ﴿٢٥﴾
مانگنے والوں کا بھی اور سوال سے بچنے والوں کا بھی۔ (۱)
۲۵۔۱ محروم میں وہ شخص بھی داخل ہے جو رزق سے ہی محروم ہے، وہ بھی جو کسی آفت سماوی و ارضی کی زد میں آکر اپنی پونجی سے محروم ہو گیا اور وہ بھی جو ضرورت مند ہونے کے باوجود اپنی صفت تعفف کی وجہ سے لوگوں کی عطا...
وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ ﴿٢٤﴾
اور جن کے مالوں میں مقررہ حصہ ہے۔ (١)
٢٤۔١ یعنی زکوٰۃ مفروضہ۔ بعض کے نزدیک یہ عام ہے، صدقات واجبہ اور نافلہ دونوں اس میں شامل ہیں۔
إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا ﴿٢٠﴾
جب اسے مصیبت پہنچتی ہے تو ہڑبڑا اٹھتا ہے۔
وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا ﴿٢١﴾
اور جب راحت ملتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے۔
إِلَّا الْمُصَلِّينَ ﴿٢٢﴾
مگر وہ نمازی۔
الَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ ﴿٢٣﴾
جو اپنی نمازوں پر ہمیشگی کرنے والے ہیں۔...
إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا ﴿١٩﴾
بیشک انسان بڑے کچے دل والا بنایا گیا ہے۔ (١)
١٩۔١ سخت حریص اور بہت جزع فزع کرنے والے کو هَلُوع کہا جاتا ہے۔ جس کو ترجمے میں کچے دل والا سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیوں کہ ایسا شخص ہی بخیل و حریص اور زیادہ جزع فزع کرنے والا ہوتا ہے، آگےاس کی صفت بیان کی گئی ہے۔
تَدْعُو مَنْ أَدْبَرَ وَتَوَلَّىٰ ﴿١٧﴾
وہ ہر اس شخص کو پکارے گی جو پیچھے ہٹتا اور منہ موڑتا ہے۔
وَجَمَعَ فَأَوْعَىٰ ﴿١٨﴾
اور جمع کرکے سنبھال رکھتا ہے۔ (١)
١٨۔١ یعنی جو دنیا میں حق سے پیٹھ پھیرتا اور منہ موڑتا تھا اور مال جمع کرکے خزانوں میں سینت سینت کر رکھتا تھا، اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا...
نَزَّاعَةً لِّلشَّوَىٰ ﴿١٦﴾
جو منہ اور سر کی کھال کھینچ لانے والی ہے۔ (١)
١٦۔١ یعنی گوشت اور کھال کو جلا کر رکھ دے گی۔ انسان صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ جائے گا۔