الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٧١﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
حُورٌ مَّقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ ﴿٧٢﴾
(گوری رنگت کی) حوریں جنتی خیموں میں رہنے والیاں ہیں۔ (١)
٧٢۔١ حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا جنت میں موتیوں کے خیمے ہوں گے، ان کا عرض ساٹھ میل ہو گا، اس کے ہر کونے میں...
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٦٩﴾
کیا اب بھی رب کی کسی نعمت کی تکذیب تم کرو گے؟
فِيهِنَّ خَيْرَاتٌ حِسَانٌ ﴿٧٠﴾
ان میں نیک سیرت خوبصورت عورتیں ہیں۔ (١)
٧٠۔١ خَيْرَاتٌ سے مراد اخلاق و کردار کی خوبیاں ہیں اور حِسَانٌ کا مطلب ہے کہ حسن و جمال میں یکتا۔
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٦٧﴾
پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
فِيهِمَا فَاكِهَةٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌ ﴿٦٨﴾
ان دونوں میں میوے اور کھجور اور انار ہوں گے۔ (١)
٦٨۔١ جب کہ پہلی دو جنتوں (باغوں) کی صفت میں بتلایا گیا ہے کہ ہر پھل دو قسم کا ہو گا۔ ظاہر ہے اس میں شرف و...
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٦٥﴾
بتاؤ اب اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
فِيهِمَا عَيْنَانِ نَضَّاخَتَانِ ﴿٦٦﴾
ان میں دو (جوش سے) ابلنے والے چشمے ہیں۔ (١)
٦٦۔١ یہ صفت تَجْرِيَانِ سے ہلکی ہے (الْجَرْيُ أَقْوَى مِنَ النَّضْخ) (ابن كثير)
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٦٣﴾
پس اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
مُدْهَامَّتَانِ ﴿٦٤﴾
جو دونوں گہری سبز سیاہی مائل ہیں۔ (١)
٦٤۔١ کثرت سیرابی اور سبزے کی فراوانی کی وجہ سے وہ مائل بہ سیاہی ہوں گے۔
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٦١﴾
پس اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
وَمِن دُونِهِمَا جَنَّتَانِ ﴿٦٢﴾
اور ان کے سوا دو جنتیں اور ہیں۔ (١)
٦٢۔١ دُونِهِمَا سے یہ استدلال بھی کیا گیا ہے کہ یہ دو باغ شان اور فضیلت میں پچھلے دو باغوں سے، جن کا ذکر آیت 46 میں گزرا، کم تر ہوں گے۔
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٥٩﴾
پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ ﴿٦٠﴾
احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے۔ (١)
٦٠۔١ پہلے احسان سے مراد نیکی اور اطاعت اور اطاعت الٰہی اور دوسرے احسان سے اس کا صلہ، یعنی جنت اور اس کی نعمتیں...
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٥٧﴾
پس اپنے پالنے والے کی کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ ﴿٥٨﴾
وہ حوریں مثل یاقوت اور مونگے کے ہوں گی۔ (١)
٥٨۔١ یعنی صفائی میں یا قوت اور سفیدی و سرخی میں موتی یا مونگے کی طرح ہوں گی۔ جس طرح صحیح احادیث میں بھی ان...
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٥٥﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
فِيهِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ ﴿٥٦﴾
وہاں (شرمیلی) نیچی نگاہ والی حوریں ہیں (١) جنہیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔ (٢)
٥٦۔١ جن کی نگاہیں اپنے...
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٥٣﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ فُرُشٍ بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ ۚ وَجَنَى الْجَنَّتَيْنِ دَانٍ ﴿٥٤﴾
جنتی ایسے فرشوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے، (١) اور دونوں جنتوں کے میوے بالکل...
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٥١﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
فِيهِمَا مِن كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجَانِ ﴿٥٢﴾
ان دونوں جنتوں میں ہر قسم کے میووں کی دو قسمیں ہوں گی۔ (١)
٢٥۔١ یعنی ذائقے اور لذت کے اعتبار سے ہر پھل دو قسم کا ہو گا، یہ مزید فضل خاص کی ایک صورت ہے۔ بعض نے کہا...
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٤٩﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
فِيهِمَا عَيْنَانِ تَجْرِيَانِ ﴿٥٠﴾
ان دونوں (جنتوں) میں دو بہتے ہوئے چشمے ہیں۔ (١)
٥٠۔١ ایک کا نام تَسْنِيمٌ اور دوسرے کا سَلْسَبِيلٌ ہے۔
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٤٧﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
.
ذَوَاتَا أَفْنَانٍ ﴿٤٨﴾
(دونوں جنتیں) بہت سی ٹہنیوں اور شاخوں والی ہیں۔ (١)
٤٨۔١ یہ اشارہ ہے اس طرف کہ اس میں سایہ گنجان اور گہرا ہو گا، نیز پھولوں کی کثرت ہو گی، کیونکہ کہتے ہیں ہر شاخ اور ٹہنی پھلوں سے...
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٤٥﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ ﴿٤٦﴾
اور اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا دو جنتیں ہیں۔ (١)
٤٦۔١ جیسے حدیث میں آتا ہے۔ ”دو باغ چاندی کے ہیں، جن میں برتن اور جو کچھ ان میں ہے،...
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٤٢﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
هَـٰذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ ﴿٤٣﴾
یہ ہے وہ جہنم جسے مجرم جھوٹا جانتے تھے۔
يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ آنٍ ﴿٤٤﴾
اس کے اور کھولتے ہوئے گرم پانی کے درمیان چکر کھائیں...
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٤٠﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِي وَالْأَقْدَامِ ﴿٤١﴾
گناہ گار صرف حلیہ سے ہی پہچان لیے جائیں گے (١) اور انکے پیشانیوں کے بال اور قدم پکڑ لیے جائیں گے۔ (٢)
٤١۔١ یعنی جس طرح اہل...
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٣٨﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْأَلُ عَن ذَنبِهِ إِنسٌ وَلَا جَانٌّ ﴿٣٩﴾
اس دن کسی انسان اور کسی جن سے اس کے گناہوں کی پرسش نہ کی جائے گی۔ (١)
٣٩۔١ یعنی جس وقت وہ قبروں سے باہر نکلیں گے۔ ورنہ بعد میں موقف حساب میں ان...
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٣٦﴾
پھر اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
فَإِذَا انشَقَّتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِ ﴿٣٧﴾
پس جب کہ آسمان پھٹ کر سرخ ہو جائے جیسے کہ سرخ چمڑہ۔ (١)
٣٧۔١ قیامت والے دن آسمان پھٹ پڑے گا، فرشتے زمین پر اترآئیں گے، اس دن...
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٣٤﴾
پھر اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِّن نَّارٍ وَنُحَاسٌ فَلَا تَنتَصِرَانِ ﴿٣٥﴾
تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑا جائے گا (١) پھر تم مقابلہ نہ کر سکو گے۔ (۲)
٣٥۔١ مطلب یہ ہے کہ اگر تم قیامت والے دن کہیں بھاگ کر...
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٣٢﴾
پھر اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانفُذُوا ۚ لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ ﴿٣٣﴾
اے گروہ جنات و انسان! اگر تم میں آسمانوں...