• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٣٢﴾
پھر اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

يَا مَعْشَرَ‌ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ‌ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ فَانفُذُوا ۚ لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ ﴿٣٣﴾
اے گروہ جنات و انسان! اگر تم میں آسمانوں اور زمین میں کے کناروں سے باہر نکل جانے کی طاقت ہے تو نکل بھاگو! (١) بغیر غلبہ اور طاقت کے تم نہیں نکل سکتے۔ (۲)
٣٣۔١ یہ تہدید بھی نعمت ہے کہ اس سے بدکار، بدیوں کے ارتکاب سے باز آجائے اورمحسن زیادہ نیکیاں کمائے۔
٣٣۔۲ یعنی اللہ کی تقدیر اور قضا سے تم بھاگ کر کہیں جا سکتے ہو تو چلے جاؤ، لیکن یہ طاقت کس میں ہے؟ اور بھاگ کر آخر کہاں جائے گا؟ کون سی جگہ ایسی ہے جو اللہ کے اختیارات سے باہر ہو۔ یہ بھی تہدید ہے جو مذکورہ تہدید کی طرح نعمت ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ میدان محشر میں کہا جائے گا، جب کہ فرشتے ہر طرف سے لوگوں کو گھیر رکھے ہوں گے۔ دونوں ہی مفہوم اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٣٤﴾
پھر اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

يُرْ‌سَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِّن نَّارٍ‌ وَنُحَاسٌ فَلَا تَنتَصِرَ‌انِ ﴿٣٥﴾
تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑا جائے گا (١) پھر تم مقابلہ نہ کر سکو گے۔ (۲)
٣٥۔١ مطلب یہ ہے کہ اگر تم قیامت والے دن کہیں بھاگ کر گئے بھی، تو فرشتے آگ کے شعلے اور دھواں تم پر چھوڑ کر یا پگھلا ہوا تانبہ تمہارے سروں پر ڈال کر تمہیں واپس لے آئیں گے۔ نُحَاسٌ کے دوسرے معنی پگھلے ہوئے تانبے کے کیے گئے ہیں۔
٣٥۔٢ یعنی اللہ کے عذاب کو ٹالنے کی تم قدرت نہیں رکھو گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٣٦﴾
پھر اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

فَإِذَا انشَقَّتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ وَرْ‌دَةً كَالدِّهَانِ ﴿٣٧﴾
پس جب کہ آسمان پھٹ کر سرخ ہو جائے جیسے کہ سرخ چمڑہ۔ (١)
٣٧۔١ قیامت والے دن آسمان پھٹ پڑے گا، فرشتے زمین پر اترآئیں گے، اس دن یہ نار جہنم کی شدت حرارت سے پگھل کر سرخ نری کے چمڑے کر طرح ہو جائے گا۔ دِهَانٌ ،سرخ چمڑہ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٣٨﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْأَلُ عَن ذَنبِهِ إِنسٌ وَلَا جَانٌّ ﴿٣٩﴾
اس دن کسی انسان اور کسی جن سے اس کے گناہوں کی پرسش نہ کی جائے گی۔ (١)
٣٩۔١ یعنی جس وقت وہ قبروں سے باہر نکلیں گے۔ ورنہ بعد میں موقف حساب میں ان سے باز پرس کی جائے گی۔ بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ گناہوں کی بابت نہیں پوچھا جائے گا، کیونکہ ان کا تو پورا ریکارڈ فرشتوں کے پاس بھی ہو گا اور اللہ کے علم میں بھی۔ البتہ پوچھا جائے گا کہ تم نے یہ کیوں کیے؟ یا یہ مطلب ہے، ان سے نہیں پوچھا جائے گا بلکہ انسانی اعضا خود بول کر ہر بات بتلائیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٤٠﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

يُعْرَ‌فُ الْمُجْرِ‌مُونَ بِسِيمَاهُمْ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِي وَالْأَقْدَامِ ﴿٤١﴾
گناہ گار صرف حلیہ سے ہی پہچان لیے جائیں گے (١) اور انکے پیشانیوں کے بال اور قدم پکڑ لیے جائیں گے۔ (٢)
٤١۔١ یعنی جس طرح اہل ایمان کی علامت ہو گی کہ ان کے اعضائے وضو چمکتے ہوں گے۔ اسی طرح گناہ گاروں کے چہرے سیاہ، آنکھیں نیلگوں اور وہ دہشت زدہ ہوں گے۔
٤١۔٢ فرشتے ان کی پیشانیاں اور ان کے قدموں کے ساتھ ملا کر پکڑیں گے اور جہنم میں ڈال دیں گے، یا کبھی پیشانیوں سے اور کبھی قدموں سے انہیں پکڑیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٤٢﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

هَـٰذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِ‌مُونَ ﴿٤٣﴾
یہ ہے وہ جہنم جسے مجرم جھوٹا جانتے تھے۔

يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ آنٍ ﴿٤٤﴾
اس کے اور کھولتے ہوئے گرم پانی کے درمیان چکر کھائیں گے۔ (١)
٤٤۔١ یعنی کبھی انہی حجیم کا عذاب دیا جائے گا اور کبھی مَاءٌ حَمِيمٌ پینے کا عذاب۔ آنٍ گرم۔ یعنی سخت کھولتا ہوا پانی، جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ دے گا۔ أَعَاذَنَا اللهُ مِنْهَا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٤٥﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَ‌بِّهِ جَنَّتَانِ ﴿٤٦﴾
اور اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا دو جنتیں ہیں۔ (١)
٤٦۔١ جیسے حدیث میں آتا ہے۔ ”دو باغ چاندی کے ہیں، جن میں برتن اور جو کچھ ان میں ہے، سب چاندی کے ہوں گے۔ دو باغ سونے کے ہیں اور ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے، سب سونے کے ہی ہوں گے“۔ (صحيح بخاری، تفسير سور الرحمن) بعض آثار میں ہے کہ سونے کے باغ خواص مومنین مُقَرَّبِينَ اور چاندی کے باغ عام مومنین أَصْحَابُ الْيَمِينِ کے لیے ہوں گے۔ (ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٤٧﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
.

ذَوَاتَا أَفْنَانٍ ﴿٤٨﴾
(دونوں جنتیں) بہت سی ٹہنیوں اور شاخوں والی ہیں۔ (١)
٤٨۔١ یہ اشارہ ہے اس طرف کہ اس میں سایہ گنجان اور گہرا ہو گا، نیز پھولوں کی کثرت ہو گی، کیونکہ کہتے ہیں ہر شاخ اور ٹہنی پھلوں سے لدی ہو گی۔ (ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٤٩﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

فِيهِمَا عَيْنَانِ تَجْرِ‌يَانِ ﴿٥٠﴾
ان دونوں (جنتوں) میں دو بہتے ہوئے چشمے ہیں۔ (١)
٥٠۔١ ایک کا نام تَسْنِيمٌ اور دوسرے کا سَلْسَبِيلٌ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٥١﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

فِيهِمَا مِن كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجَانِ ﴿٥٢﴾
ان دونوں جنتوں میں ہر قسم کے میووں کی دو قسمیں ہوں گی۔ (١)
٢٥۔١ یعنی ذائقے اور لذت کے اعتبار سے ہر پھل دو قسم کا ہو گا، یہ مزید فضل خاص کی ایک صورت ہے۔ بعض نے کہا کہ ایک قسم خشک میوے کی اور دوسری تازہ میوے کی ہو گی۔
 
Top