الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
فَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ ﴿٨٨﴾
پس جو کوئی بارگاہ الٰہی سے قریب ہو گا۔
فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّتُ نَعِيمٍ ﴿٨٩﴾
اسے تو راحت ہے اور غذائیں ہیں اور آرام والی جنت ہے۔
وَأَمَّا إِن كَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ ﴿٩٠﴾
اور جو شخص داہنے (ہاتھ) والوں میں سے ہے۔ (١)
٩٠۔١ سورت کے...
فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ ﴿٨٦﴾
پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں۔
تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿٨٧﴾
اور اس قول میں سچے ہو تو (ذرا) اس روح کو تو لوٹاؤ۔ (١)
٨٧۔١ دَانَ يَدِينُ کے معنی ہیں، ماتحت ہونا، دوسرے معنی ہیں بدلہ دینا۔ یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ کوئی تمہارا...
وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ ﴿٨٥﴾
ہم اس شخص سے بہ نسبت تمہارے بہت زیادہ قریب ہوتے ہیں (١) لیکن تم دیکھ نہیں سکتے۔ (۲)
٨٥۔١ یعنی مرنے والے کے ہم، تم سے بھی زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ اپنے علم، قدرت اور رؤیت کے اعتبار سے۔ یا ہم سے مراد اللہ کے کارندے یعنی موت کے فرشتے...
تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ ﴿٨٠﴾
یہ رب العالمین کی طرف سے اترا ہوا ہے۔
أَفَبِهَـٰذَا الْحَدِيثِ أَنتُم مُّدْهِنُونَ ﴿٨١﴾
پس کیا تم ایسی بات کو سرسری (اور معمولی) سمجھ رہے ہو؟ (١)
٨١۔١ حدیث سے مراد قرآن کریم ہے مُدَاهَنَةٌ، وہ نرمی جو کفر و نفاق کے مقابلے میں اختیار کی جائے۔ دراں حالیکہ...
لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ﴿٧٩﴾
جسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔ (١)
٧٩۔١ لا يَمَسُّهُ، میں ضمیر کا مرجع لوح محفوط ہے اور پاک لوگوں سے مراد فرشتے، بعض نے اس کا مرجع، قرآن کریم کو بنایا ہے یعنی اس قرآن کو فرشتے ہی چھوتے ہیں، یعنی آسمانوں پر فرشتوں کے علاوہ کسی کی بھی رسائی اس قرآن تک...
وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ ﴿٧٦﴾
اور اگر تمہیں علم ہو تو یہ بہت بڑی قسم ہے۔
إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ ﴿٧٧﴾
کہ بیشک یہ قرآن بہت بڑی عزت والا ہے۔ (١)
٧٧۔١ یہ جواب قسم ہے۔
فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ ﴿٧٤﴾
پس اپنے بہت بڑے رب کے نام کی تسبیح کیا کرو۔
فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ ﴿٧٥﴾
پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی۔ (١)
٧٥۔۱ فَلا أُقْسِمُ میں ”لا“ زائد ہے جو تاکید کے لیے ہے۔ یا یہ زائد نہیں ہے۔ بلکہ ماقبل کی کسی چیز کی نفی کے لیے ہے۔ یعنی...
نَحْنُ جَعَلْنَاهَا تَذْكِرَةً وَمَتَاعًا لِّلْمُقْوِينَ ﴿٧٣﴾
ہم نے اسے سبب نصیحت (۱) اور مسافروں کے فائدے کی چیز بنایا ہے۔ (۲)
٧٣۔١ کہ اس کے اثرات اور فوائد حیرت انگیز ہیں اور دنیا کی بے شمار چیزوں کی تیاری کے لیے اسے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ جو ہماری قدرت عظیمہ کی نشانی ہے، پھر ہم نے جس...
أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ ﴿٧١﴾
اچھا ذرا یہ بھی بتاؤ کہ جو آگ تم سلگاتے ہو۔
أَأَنتُمْ أَنشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنشِئُونَ ﴿٧٢﴾
اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم اس کے پیدا کرنے والے ہیں؟ (١)
٧٢۔١ کہتے ہیں عرب میں دو درخت ہیں، مرخ اور عفار، ان دونوں سے ٹہنیاں...
بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ ﴿٦٧﴾
بلکہ ہم بالکل محروم ہی رہ گئے۔
أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ ﴿٦٨﴾
اچھا یہ بتاؤ کہ جس پانی کو تم پیتے ہو۔
أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ ﴿٦٩﴾
اسے بادلوں سے بھی تم ہی اتارتے ہو یا ہم برساتے ہیں؟
لَوْ نَشَاءُ...
أَفَرَأَيْتُم مَّا تَحْرُثُونَ ﴿٦٣﴾
اچھا پھر یہ بھی بتلاؤ کہ تم جو کچھ بوتے ہو۔
أَأَنتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ ﴿٦٤﴾
اسے تم ہی اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں۔ (١)
٦٦۔١ یعنی زمین میں تم جو بیج بوتے ہو، اس سے ایک درخت زمین کے اوپر نمودار ہو جاتا ہے۔ غلے کے ایک بے جان دانے کو...
وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولَىٰ فَلَوْلَا تَذَكَّرُونَ ﴿٦٢﴾
تمہیں یقینی طور پر پہلی دفعہ کی پیدائش معلوم ہی ہے پھر کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟ (١)
٦٢۔١ یعنی کیوں یہ نہیں سمجھتے کہ جس طرح اس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا (جس کا تمہیں علم ہے) وہ دوبارہ بھی پیدا کر سکتا ہے۔
عَلَىٰ أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَالَكُمْ وَنُنشِئَكُمْ فِي مَا لَا تَعْلَمُونَ ﴿٦١﴾
کہ تمہاری جگہ تم جیسے اور پیدا کر دیں اور تمہیں نئے سرے سے اس عالم میں پیدا کریں جس سے تم (بالکل) بے خبر ہو۔ (١)
٦١۔١ یعنی تمہاری صورتیں مسخ کر کے بندر اور خنزیر بنا دیں اور تمہاری جگہ تمہاری شکل و صورت کی کوئی اور...
نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ ﴿٦٠﴾
ہم ہی نے تم میں موت کو معین کر دیا ہے (١) اور ہم اس سے ہارے ہوئے نہیں ہیں۔ (٢)
٦٠۔١ یعنی ہر شخص کی موت کا وقت مقرر کر دیا ہے، جس سے کوئی تجاوز نہیں کر سکتا۔ چنانچہ کوئی بچپن میں، کوئی جوانی میں اور کوئی بڑھاپے میں فوت ہوتا...
أَفَرَأَيْتُم مَّا تُمْنُونَ ﴿٥٨﴾
اچھا پھر یہ بتلاؤ کہ جو منی تم ٹپکاتے ہو۔
أَأَنتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ ﴿٥٩﴾
کیا اس کا (انسان) تم بناتے ہو یا پیدا کرنے والے ہم ہی ہیں؟ (١)
٥٩۔١ یعنی تمہارے بیویوں سے مباشرت کرنے کے نتیجے میں تمہارے جو قطرات منی عورتوں کے رحموں میں جاتے...
وَكَانُوا يُصِرُّونَ عَلَى الْحِنثِ الْعَظِيمِ ﴿٤٦﴾
اور بڑے بڑے گناہوں پر اصرار کرتے تھے۔
وَكَانُوا يَقُولُونَ أَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ ﴿٤٧﴾
اور کہتے تھے کہ کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہو جائیں گے تو کیا ہم پھر دوبارہ اٹھا کھڑے کیے جائیں...
إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَٰلِكَ مُتْرَفِينَ ﴿٤٥﴾
بیشک یہ لوگ اس سے پہلے بہت نازوں سے پلے ہوئے تھے۔ (١)
٤٥۔١ یعنی دنیا میں آخرت سے غافل ہو کر عیش و عشرت کی زندگی میں ڈوبے ہوئے تھے۔
فِي سَمُومٍ وَحَمِيمٍ ﴿٤٢﴾
گرم ہوا اور گرم پانی میں (ہوں گے)
وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ ﴿٤٣﴾
اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں۔ (١)
٤٣۔١ سَمُومٍ، آگ کی حرارت یا گرم ہوا جو مسام بدن میں گھس جائے۔ حَمِيمٍ، کھولتا ہوا پانی، يَحْمُومٍ، حِمَمَةٌ سے ہے، بمعنی سیاہ، اور احم بہت زیادہ سیاہ چیز ہو تو کہا جاتا ہے،...
وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ مَا أَصْحَابُ الشِّمَالِ ﴿٤١﴾
اور بائیں ہاتھ والے کیا ہیں بائیں ہاتھ والے۔ (١)
٤١۔١ اس سے مراد اہل جہنم ہیں، جن کو ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے، جو ان کی مقدر شدہ شقاوت کی علامت ہو گی۔