• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
نَحْنُ جَعَلْنَاهَا تَذْكِرَ‌ةً وَمَتَاعًا لِّلْمُقْوِينَ ﴿٧٣﴾
ہم نے اسے سبب نصیحت (۱) اور مسافروں کے فائدے کی چیز بنایا ہے۔ (۲)
٧٣۔١ کہ اس کے اثرات اور فوائد حیرت انگیز ہیں اور دنیا کی بے شمار چیزوں کی تیاری کے لیے اسے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ جو ہماری قدرت عظیمہ کی نشانی ہے، پھر ہم نے جس طرح دنیا میں یہ آگ پیدا کی ہے، ہم آخرت میں بھی پیدا کرنے پر قادر ہیں۔ جو اس سے انہتر درجہ حرارت میں زیادہ ہو گی۔ (كَمَا فِي الْحَدِيثِ)
٧٣۔۲ مُقْوِينَ، مُقْوٍ کی جمع ہے، قَوَاءٌ یعنی خالی صحرا میں داخل ہونے والا، مراد مسافر ہے۔ یعنی مسافر صحراؤں اور جنگلوں میں ان درختوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اس سے روشنی، گرمی اور ایندھن حاصل کرتے ہیں۔ بعض نے مُقْوٍ سے وہ فقرا مراد لیے ہیں جو بھوک کی وجہ سے خالی پیٹ ہوں۔ بعض نے اس کی معنی مُسْتَمْتِعِينَ (فائدہ اٹھانے والے) کیے ہیں۔ اس میں امیر، غریب، مقیم اور مسافر سب آ جاتے ہیں اور سب ہی آگ سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اسی لیے حدیث میں جن تین چیزوں کو عام رکھنے کا اور ان سے کسی کو نہ روکنے کا حکم دیا گیا ہے، ان میں پانی اور گھاس کے علاوہ آگ بھی ہے، (أبو داود، كتاب البيوع، باب في منع الماء، وسنن ابن ماجہ، كتاب الرهون، باب المسلمون شركاء في ثلاث) امام ابن کثیر نے اس مفہوم کو زیادہ پسند کیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَ‌بِّكَ الْعَظِيمِ ﴿٧٤﴾
پس اپنے بہت بڑے رب کے نام کی تسبیح کیا کرو۔

فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ ﴿٧٥﴾
پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی۔ (١)
٧٥۔۱ فَلا أُقْسِمُ میں ”لا“ زائد ہے جو تاکید کے لیے ہے۔ یا یہ زائد نہیں ہے۔ بلکہ ماقبل کی کسی چیز کی نفی کے لیے ہے۔ یعنی یہ قرآن کہانت یا شاعری نہیں ہے بلکہ میں ستاروں کے گرنے کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ قرآن عزت والا ہے . . . مَوَاقِعُ النُّجُومِ سے مراد ستاروں کے طلوع و غروب کی جگہیں اور ان کی منزلیں اور مدار ہیں، بعض نے ترجمہ کیا ہے ”قسم کھاتا ہوں آیتوں کے اترنے کی پیغمبروں کے دلوں میں“ (موضح القرآن) یعنی نجوم، قرآن کی آیات اور مواقع، قلوب انبیاء۔ بعض نے اس کا مطلب قرآن کا آہستہ آہستہ بتدریج اترنا اور بعض نے قیامت والے ستاروں کا جھڑنا مراد لیا ہے۔ (ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ ﴿٧٦﴾
اور اگر تمہیں علم ہو تو یہ بہت بڑی قسم ہے۔

إِنَّهُ لَقُرْ‌آنٌ كَرِ‌يمٌ ﴿٧٧﴾
کہ بیشک یہ قرآن بہت بڑی عزت والا ہے۔ (١)
٧٧۔١ یہ جواب قسم ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ ﴿٧٨﴾
جو ایک محفوظ کتاب میں درج ہے۔ (١)
٧٨۔١ یعنی لوح محفوظ ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُ‌ونَ ﴿٧٩﴾
جسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔ (١)
٧٩۔١ لا يَمَسُّهُ، میں ضمیر کا مرجع لوح محفوط ہے اور پاک لوگوں سے مراد فرشتے، بعض نے اس کا مرجع، قرآن کریم کو بنایا ہے یعنی اس قرآن کو فرشتے ہی چھوتے ہیں، یعنی آسمانوں پر فرشتوں کے علاوہ کسی کی بھی رسائی اس قرآن تک نہیں ہوتی۔ مطلب مشرکین کی تردید ہے جو کہتے تھے کہ قرآن شیاطین لے کر اترتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا یہ کیونکر ممکن ہے یہ قرآن تو شیطانی اثرات سے بالکل محفوظ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تَنزِيلٌ مِّن رَّ‌بِّ الْعَالَمِينَ ﴿٨٠﴾
یہ رب العالمین کی طرف سے اترا ہوا ہے۔

أَفَبِهَـٰذَا الْحَدِيثِ أَنتُم مُّدْهِنُونَ ﴿٨١﴾
پس کیا تم ایسی بات کو سرسری (اور معمولی) سمجھ رہے ہو؟ (١)
٨١۔١ حدیث سے مراد قرآن کریم ہے مُدَاهَنَةٌ، وہ نرمی جو کفر و نفاق کے مقابلے میں اختیار کی جائے۔ دراں حالیکہ ان کے مقابلے میں سخت تر رویے کی ضرورت ہے۔ یعنی اس قرآن کو اپنانے کے معاملے میں تمام کافروں کو خوش کرنے کے لیے نرمی اور اعراض کا راستہ اختیار کر رہے ہو۔ حالانکہ یہ قرآن جو مذکورہ صفات کا حامل ہے، اس لائق ہے کہ اسے نہایت خوشی سے اپنایا جائے۔

وَتَجْعَلُونَ رِ‌زْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ ﴿٨٢﴾
اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ جھٹلاتے پھرو۔

فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ ﴿٨٣﴾
پس جبکہ روح نرخرے تک پہنچ جائے۔

وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُ‌ونَ ﴿٨٤﴾
اور تم اس وقت آنکھوں سے دیکھتے رہو۔ (١)
٨٤۔١ یعنی روح نکلتے ہوئے دیکھتے ہو لیکن اسے ٹال سکنے کی یا اسے کوئی فائدہ پہنچانے کی قدرت نہیں رکھتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَنَحْنُ أَقْرَ‌بُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُ‌ونَ ﴿٨٥﴾
ہم اس شخص سے بہ نسبت تمہارے بہت زیادہ قریب ہوتے ہیں (١) لیکن تم دیکھ نہیں سکتے۔ (۲)
٨٥۔١ یعنی مرنے والے کے ہم، تم سے بھی زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ اپنے علم، قدرت اور رؤیت کے اعتبار سے۔ یا ہم سے مراد اللہ کے کارندے یعنی موت کے فرشتے ہیں جو اس کی روح قبض کرتے ہیں۔
٨٥۔۲ یعنی اپنی جہالت کی وجہ سے تمہیں اس بات کا ادراک نہیں کہ اللہ تو تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے یا روح قبض کرنے والے فرشتوں کو تم دیکھ نہیں سکتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ‌ مَدِينِينَ ﴿٨٦﴾
پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں۔

تَرْ‌جِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿٨٧﴾
اور اس قول میں سچے ہو تو (ذرا) اس روح کو تو لوٹاؤ۔ (١)
٨٧۔١ دَانَ يَدِينُ کے معنی ہیں، ماتحت ہونا، دوسرے معنی ہیں بدلہ دینا۔ یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ کوئی تمہارا آقا اور مالک نہیں جس کے تم زیر فرمان اور ماتحت ہو یا کوئی جزا سزا کا دن نہیں آئے گا، تو اس قبض کی ہوئی روح کو اپنی جگہ پر واپس لوٹا کر دکھاؤ اور اگرتم ایسا نہیں کر سکتے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ تمہارا گمان باطل ہے۔ یقیناً تمہارا ایک آقا ہے اور یقیناً ایک دن آئے گا جس میں وہ آقا ہر ایک کو اس کے عمل کی جزادے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُقَرَّ‌بِينَ ﴿٨٨﴾
پس جو کوئی بارگاہ الٰہی سے قریب ہو گا۔

فَرَ‌وْحٌ وَرَ‌يْحَانٌ وَجَنَّتُ نَعِيمٍ ﴿٨٩﴾
اسے تو راحت ہے اور غذائیں ہیں اور آرام والی جنت ہے۔

وَأَمَّا إِن كَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ ﴿٩٠﴾
اور جو شخص داہنے (ہاتھ) والوں میں سے ہے۔ (١)
٩٠۔١ سورت کے آغاز میں اعمال کے لحاظ سے انسانوں کی جو تین قسمیں بیان کی گئیں تھیں، ان کا پھر ذکر کیا جا رہا ہے۔ یہ ان کی پہلی قسم ہے جنہیں مقربین کے علاوہ سابقین بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ نیکی کے ہر کام میں آگے آگے ہوتے ہیں اور قبول ایمان میں بھی دوسروں سے سبقت کرتے ہیں اور اپنی اسی خوبی کی وجہ سے وہ مقربین بارگاہ الٰہی قرار پاتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَسَلَامٌ لَّكَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ ﴿٩١﴾
تو بھی سلامتی ہے تیرے لیے کہ تو داہنے والوں میں سے ہے۔

وَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِينَ الضَّالِّينَ ﴿٩٢﴾
لیکن اگر کوئی جھٹلانے والوں گمراہوں میں سے ہے۔ (١)
٩۲۔١ یہ دوسری قسم ہے، عام مومنین۔ یہ بھی جہنم سے بچ کر جنت میں جائیں گے، تاہم درجات میں سابقین سے کم تر ہوں گے۔ موت کے وقت فرشتے ان کو بھی سلامتی کی خوش خبری دیتے ہیں۔
 
Top