• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فِي سَمُومٍ وَحَمِيمٍ ﴿٤٢﴾
گرم ہوا اور گرم پانی میں (ہوں گے)

وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ ﴿٤٣﴾
اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں۔ (١)
٤٣۔١ سَمُومٍ، آگ کی حرارت یا گرم ہوا جو مسام بدن میں گھس جائے۔ حَمِيمٍ، کھولتا ہوا پانی، يَحْمُومٍ، حِمَمَةٌ سے ہے، بمعنی سیاہ، اور احم بہت زیادہ سیاہ چیز ہو تو کہا جاتا ہے، يَحْمُومٍ کے معنی سخت کالا دھواں مطلب یہ ہے کہ جہنم کے عذاب سے تنگ آ کر وہ ایک سائے کی طرف دوڑیں گے، لیکن جب وہاں پہنچیں گے تو معلوم ہو گا کہ یہ سایہ نہیں ہے، جہنم ہی کی آگ کا سخت سیاہ دھواں ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ حَمٌّ سے ہے جو اس چربی کو کہتے ہیں جو آگ میں جل جل کر سیاہ ہو گئی ہو۔ بعض کہتے ہیں، یہ حِمَمٌ سے ہے، جو کوئلے کے معنی میں ہے۔ اسی لیے امام ضحاک فرماتے ہیں۔ آگ بھی سیاہ ہے، اہل نار بھی سیاہ رو ہوں گے۔ اور جہنم میں جو کچھ بھی ہو گا۔ ، سیاہ ہی ہو گا۔ (اللَّهُمَّ أَجِرْنَا مِنَ النَّارِ)

لَّا بَارِ‌دٍ وَلَا كَرِ‌يمٍ ﴿٤٤﴾
جو نہ ٹھنڈا ہے نہ فرحت بخش۔ (١)
٤٤۔١ یعنی سایہ ٹھنڈا ہوتا ہے، لیکن یہ جس کو سایہ سمجھ رہے ہوں گے، وہ سایہ ہی نہیں ہو گا، جو ٹھنڈا ہو، وہ تو جہنم کا دھواں ہو گا، وَلا كَرِيمٍ، جس میں کوئی حسن منظر یا خیر نہیں۔ یا حلاوت نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَٰلِكَ مُتْرَ‌فِينَ ﴿٤٥﴾
بیشک یہ لوگ اس سے پہلے بہت نازوں سے پلے ہوئے تھے۔ (١)
٤٥۔١ یعنی دنیا میں آخرت سے غافل ہو کر عیش و عشرت کی زندگی میں ڈوبے ہوئے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَكَانُوا يُصِرُّ‌ونَ عَلَى الْحِنثِ الْعَظِيمِ ﴿٤٦﴾
اور بڑے بڑے گناہوں پر اصرار کرتے تھے۔

وَكَانُوا يَقُولُونَ أَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَ‌ابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ ﴿٤٧﴾
اور کہتے تھے کہ کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہو جائیں گے تو کیا ہم پھر دوبارہ اٹھا کھڑے کیے جائیں گے۔

أَوَآبَاؤُنَا الْأَوَّلُونَ ﴿٤٨﴾
اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی؟
٤٨۔١ اس سے معلوم ہوا کہ عقیدۂ آخرت کا انکار ہی کفر و شرک اور معاصی میں ڈوبے رہنے کا بنیادی سبب ہے . یہی وجہ ہے کہ جب آخرت کا تصور، اس کے ماننے والوں کے ذہنوں میں دھندلا جاتا ہے، تو ان میں بھی فسق و فجور عام ہو جاتا ہے۔ جیسے آج کل عام مسلمانوں کا حال ہے۔

قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِ‌ينَ ﴿٤٩﴾
آپ کہہ دیجئے کہ یقیناً سب اگلے اور پچھلے۔

لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ ﴿٥٠﴾
ضرور جمع کئے جائیں گے ایک مقرر دن کے وقت۔

ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الضَّالُّونَ الْمُكَذِّبُونَ ﴿٥١﴾
پھر تم اے گمراہو جھٹلانے والو!

لَآكِلُونَ مِن شَجَرٍ‌ مِّن زَقُّومٍ ﴿٥٢﴾
البتہ کھانے والے ہو تھوہر کا درخت۔

فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ ﴿٥٣﴾
اور اسی سے پیٹ بھرنے والے ہو۔
٥٣۔١ یعنی اس کریہہ المنظر اور نہایت بد ذائقہ اور تلخ درخت کا کھانا تمہیں اگرچہ سخت ناگوار ہو گا، لیکن بھوک کی شدت سے تمہیں اسی سے اپنا پیٹ بھرنا ہوگا۔

فَشَارِ‌بُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيمِ ﴿٥٤﴾
پھر اس پر گرم کھولتا پانی پینے والے ہو۔

فَشَارِ‌بُونَ شُرْ‌بَ الْهِيمِ ﴿٥٥﴾
پھر پینے والے بھی پیاسے اونٹوں کی طرح۔
٥٥۔١ هِيمٌ، أَهْيَمُ کی جمع ہے، ان پیاسے اونٹوں کو کہا جاتا ہے جو ایک خاص بیماری کی وجہ سے پانی پر پانی پیئے جاتے ہیں لیکن ان کی پیاس نہیں بجھتی۔ مطلب یہ ہے کہ زقوم کھانے کے بعد بھی اس طرح نہیں پیو گے جس طرح عام معمول ہوتا ہے، بلکہ ایک تو بطور عذاب کے تمہیں پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی ملے گا۔ دوسرا تم اسے پیاسے اونٹوں کی طرح پیئے جاؤ گے لیکن تمہاری پیاس دور نہیں ہو گی۔

هَـٰذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّينِ ﴿٥٦﴾
قیامت کے دن ان کی مہمانی یہ ہے۔
٥٦۔١ یہ بطور استہزا اور تحکم کے فرمایا، ورنہ مہمانی تو وہ ہوتی ہے جو مہمان کی عزت کے لیے تیار کی جاتی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے بعض مقام پر فرمایا: ﴿فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ (آل عمران: ۲۱) ”ان کو دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دیجیئے“۔

نَحْنُ خَلَقْنَاكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَ ﴿٥٧﴾
ہم ہی نے تم سب کو پیدا کیا ہے پھر تم کیوں باور نہیں کرتے؟ (١)
٥٧۔١ یعنی تم جانتے ہو کہ تمہیں پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے، پھر تم اس کو مانتے کیوں نہیں ہو؟ یا دوبارہ زندہ کرنے پر یقین کیوں نہیں کرتے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَفَرَ‌أَيْتُم مَّا تُمْنُونَ ﴿٥٨﴾
اچھا پھر یہ بتلاؤ کہ جو منی تم ٹپکاتے ہو۔

أَأَنتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ ﴿٥٩﴾
کیا اس کا (انسان) تم بناتے ہو یا پیدا کرنے والے ہم ہی ہیں؟ (١)
٥٩۔١ یعنی تمہارے بیویوں سے مباشرت کرنے کے نتیجے میں تمہارے جو قطرات منی عورتوں کے رحموں میں جاتے ہیں، ان سے انسانی شکل و صورت بنانے والے ہم ہیں یا تم؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
نَحْنُ قَدَّرْ‌نَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ ﴿٦٠﴾
ہم ہی نے تم میں موت کو معین کر دیا ہے (١) اور ہم اس سے ہارے ہوئے نہیں ہیں۔ (٢)
٦٠۔١ یعنی ہر شخص کی موت کا وقت مقرر کر دیا ہے، جس سے کوئی تجاوز نہیں کر سکتا۔ چنانچہ کوئی بچپن میں، کوئی جوانی میں اور کوئی بڑھاپے میں فوت ہوتا ہے۔
٦٠۔٢ یا مغلوب اور عاجز نہیں ہیں، بلکہ قادر ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
عَلَىٰ أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَالَكُمْ وَنُنشِئَكُمْ فِي مَا لَا تَعْلَمُونَ ﴿٦١﴾
کہ تمہاری جگہ تم جیسے اور پیدا کر دیں اور تمہیں نئے سرے سے اس عالم میں پیدا کریں جس سے تم (بالکل) بے خبر ہو۔ (١)
٦١۔١ یعنی تمہاری صورتیں مسخ کر کے بندر اور خنزیر بنا دیں اور تمہاری جگہ تمہاری شکل و صورت کی کوئی اور مخلوق پیدا کر دیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولَىٰ فَلَوْلَا تَذَكَّرُ‌ونَ ﴿٦٢﴾
تمہیں یقینی طور پر پہلی دفعہ کی پیدائش معلوم ہی ہے پھر کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟ (١)
٦٢۔١ یعنی کیوں یہ نہیں سمجھتے کہ جس طرح اس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا (جس کا تمہیں علم ہے) وہ دوبارہ بھی پیدا کر سکتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَفَرَ‌أَيْتُم مَّا تَحْرُ‌ثُونَ ﴿٦٣﴾
اچھا پھر یہ بھی بتلاؤ کہ تم جو کچھ بوتے ہو۔

أَأَنتُمْ تَزْرَ‌عُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِ‌عُونَ ﴿٦٤﴾
اسے تم ہی اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں۔ (١)
٦٦۔١ یعنی زمین میں تم جو بیج بوتے ہو، اس سے ایک درخت زمین کے اوپر نمودار ہو جاتا ہے۔ غلے کے ایک بے جان دانے کو پھاڑ کر اور زمین کے سینے کو چیر کو اس طرح درخت اگانے والا کون ہے؟ یہ بھی منی کے قطرے سے انسان بنا دینے کی طرح ہماری ہی قدرت کا شاہکار ہے۔ یا تمہارے کسی ہنر یا چھو منتر کا نتیجہ ہے؟

لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَاهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ ﴿٦٥﴾
اگر ہم چاہیں تو اسے ریزہ ریزہ کر ڈالیں اور تم حیرت کے ساتھ باتیں بناتے ہی رہ جاؤ۔ (١)
٦٦۔١ یعنی کھیتی کو سرسبز و شاداب کرنے کے بعد، جب وہ پکنے کے قریب ہو جائے تو ہم اگر چاہیں تو اسے خشک کر کے ریزہ ریزہ کر دیں اور تم حیرت سے منہ ہی تکتے رہ جاؤ۔ تَفَكُّهٌ اضداد میں سے ہے اس کے معنی نعمت و خوش حالی بھی ہیں اور حزن و یاس بھی۔ یہاں دوسرے معنی مراد ہیں، اس کے مختلف معانی کیے گئے ہیں، (تُنَوِّعُونَ كَلامَكُمْ، تَنْدَمُونَ، تَحْزَنُونَ، تَعْجَبُونَ، تَلاوَمُونَ، اور تَفْجَعُونَ وغیرہ۔) ظَلْتُمْ، اصل میں ظَلَلْتُم بمعنی صِرْتُمْ اور تَفَكَّهُونَ، تَتَفَكَّهُونَ ہے۔

إِنَّا لَمُغْرَ‌مُونَ ﴿٦٦﴾
کہ ہم پر تاوان ہی پڑ گیا۔ (١)
٦٦۔١ یعنی ہم نے پہلے زمین پر ہل چلا کر اسے ٹھیک کیا پھر بیج ڈالا، پھر اسے پانی دیتے رہے، لیکن جب فصل کے پکنے کا وقت آیا تو وہ خشک ہو گئی، اور ہمیں کچھ بھی نہ ملا یعنی یہ سارا خرچ اور محنت، ایک تاوان ہی ہوا جو ہمیں برداشت کرنا پڑا۔ تاوان کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ انسان کو اس کے مال یا محنت کا معاوضہ نہ ملے، بلکہ وہ یوں ہی ضائع ہو جائے یا زبردستی اس سے کچھ موصول کر لیا جائے۔ اور اس کے بدلے میں اسے کچھ نہ دیا جائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَلْ نَحْنُ مَحْرُ‌ومُونَ ﴿٦٧﴾
بلکہ ہم بالکل محروم ہی رہ گئے۔

أَفَرَ‌أَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَ‌بُونَ ﴿٦٨﴾
اچھا یہ بتاؤ کہ جس پانی کو تم پیتے ہو۔

أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ ﴿٦٩﴾
اسے بادلوں سے بھی تم ہی اتارتے ہو یا ہم برساتے ہیں؟

لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُ‌ونَ ﴿٧٠﴾
اگر ہماری منشا ہو تو ہم اسے کڑوا زہر کر دیں پھر تم ہماری شکر گزاری کیوں نہیں کرتے؟ (١)
٧٠۔١ یعنی اس احسان پر ہماری اطاعت کر کے ہمارا عملی شکر ادا کیوں نہیں کرتے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَفَرَ‌أَيْتُمُ النَّارَ‌ الَّتِي تُورُ‌ونَ ﴿٧١﴾
اچھا ذرا یہ بھی بتاؤ کہ جو آگ تم سلگاتے ہو۔

أَأَنتُمْ أَنشَأْتُمْ شَجَرَ‌تَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنشِئُونَ ﴿٧٢﴾
اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم اس کے پیدا کرنے والے ہیں؟ (١)
٧٢۔١ کہتے ہیں عرب میں دو درخت ہیں، مرخ اور عفار، ان دونوں سے ٹہنیاں لے کر، ان کو آپس میں رگڑا جائے تو اس سے آگ کے شرارے نکلتے ہیں۔
 
Top