• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿١٣﴾
پس (اے انسانو اور جنو!) تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ (١)
١٣۔١ یہ انسانوں اور جنوں دونوں سے خطاب ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی نعتمیں گنوا کر ان سے پوچھ رہا ہے۔ یہ تکرار اس شخص کی طرح ہے جو کسی پرمسلسل احسان کرے لیکن وہ اس کے احسان کا منکر ہو، جیسے کہے، میں نے تیرا فلاں کام کیا، کیا تو انکار کرتا ہے؟ فلاں چیز تجھے دی، کیا تجھے یاد نہیں؟ تجھ پر فلاں احسان کیا، کیا تجھے ہمارا ذرا خیال نہیں؟ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ‌ ﴿١٤﴾
اس نے انسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا جو ٹھیکری کی طرح تھی۔ (١)
١٤۔١ صَلْصَالٍ خشک مٹی، جس میں آواز ہو۔ فَخَّارٌ آگ میں پکی ہوئی مٹی، جسے ٹھیکری کہتےہیں۔ اس انسان سے مراد حضرت آدم عليہ السلام ہیں، جن کا پہلے مٹی سے پتلا بنایا گیا اور پھر اس میں اللہ نے روح پھونکی۔ پھر حضرت آدم عليہ السلام کی بائیں پسلی سے حوا کو پیدا فرمایا، اور پھر ان دونوں سے نسل انسانی چلی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِ‌جٍ مِّن نَّارٍ‌ ﴿١٥﴾
اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا۔ (١)
١٥۔١ اس سے مراد سب سے پہلا جن ہے جو ابوالجن ہے، یا جن بطور جنس کے ہے۔ جیسا کہ ترجمہ جنس کے اعتبار سے ہی کیا گیا ہے۔ مَارِجٍ آگ سے بلند ہونے والے شعلے کو کہتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿١٦﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ (١)
١٦۔١ یعنی تمہاری یہ پیدائش بھی اور پھر تم سے مزید نسلوں کی تخلیق و افزائش، یہ اللہ کی نعمتوں میں سے ہے۔ کیا تم اس نعمت کا انکار کرو گے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
رَ‌بُّ الْمَشْرِ‌قَيْنِ وَرَ‌بُّ الْمَغْرِ‌بَيْنِ ﴿١٧﴾
وہ رب ہے دونوں مشرقوں کا اور دونوں مغربوں کا۔ (١)
١٧۔١ ایک گرمی کا مشرق اور ایک سردی کا مشرق، اسی طرح مغرب ہے۔ اس لیے دونوں کو تثنیہ ذکر کیا ہے، موسموں کے اعتبار سے مشرق و مغرب کا مختلف ہونا اس میں بھی انس و جن کی بہت سی مصلحتیں ہیں، اس لیے اسے بھی نعمت قرار دیا گیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿١٨﴾
تو (اے جنو اور انسانو!) تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

مَرَ‌جَ الْبَحْرَ‌يْنِ يَلْتَقِيَانِ ﴿١٩﴾
اس نے دو دریا جاری کر دیئے جو ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں۔

بَيْنَهُمَا بَرْ‌زَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ ﴿٢٠﴾
ان دونوں میں ایک آڑ ہے کہ اس سے بڑھ نہیں سکتے۔ (١)
٢٠۔١ مَرَجَ بمعنی أَرْسَلَ جاری کر دیئے۔ اس کی تفصیل سورۃ الفرقان، آیت 53 میں گزر چکی ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ دو دریاوں سے مراد بعض کے نزدیک ان کے الگ الگ وجود ہیں۔ جیسے میٹھے پانی کے دریا ہیں، جن سے کھیتیاں سیراب ہوتی ہیں اور انسان ان کا پانی اپنی دیگر ضروریات میں بھی استعمال کرتا ہے۔ دوسری قسم سمندروں کا پانی ہے۔ جو کھارا ہے، جس کے کچھ اور فوائد ہیں۔ یہ دونوں آپس میں نہیں ملتے۔ بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ کھارے سمندروں میں ہی میٹھے پانی کی لہریں چلتی ہیں اور یہ دونوں لہریں آپس میں نہیں ملتیں، بلکہ ایک دوسرے سے جدا اور ممتاز ہی رہتی ہیں۔ اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کھارے سمندروں میں ہی کئی مقامات پر میٹھے پانی کی لہریں بھی جاری کی ہوئی ہیں اور وہ کھارے پانی سے الگ ہی رہتی ہیں۔ دوسری صورت یہ بھی ہے کہ اوپر کھارا پانی ہو اور اس کی تہ میں نیچے چشمہ آب شیریں۔ جیسا کہ واقعتاً بعض مقامات پر ایسا ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ جن مقامات پر میٹھے پانی کے دریا کا پانی سمندر میں جا گرتا ہے، وہاں کئی لوگوں کا مشاہدہ ہے کہ دونوں پانی میلوں دور تک اس طرح ساتھ ساتھ چلتے ہیں کہ ایک طرف میٹھا دریائی پانی اور دوسری طرف وسیع و عریض سمندر کا کھارا پانی، ان کے درمیان اگرچہ کوئی آڑ نہیں۔ لیکن یہ باہم نہیں ملتے۔ دونوں کے درمیان یہ وہ برزخ (آڑ) ہے جو اللہ نے رکھ دی ہے، دونوں اس سے تجاوز نہیں کرتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٢١﴾
پس اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

يَخْرُ‌جُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْ‌جَانُ ﴿٢٢﴾
ان دونوں میں سے موتی اور مونگے برآمد ہوتے ہیں۔ (١)
٢٢۔١ مَرْجَانٌ سے چھوٹے موتی یا پھر مونگے مراد ہیں۔ کہتے ہیں کہ آسمان سے بارش ہوتی ہے تو سیپیاں اپنے مونہہ کھول دیتی ہیں، جو قطرہ ان کے اندر پڑ جاتا ہے، وہ موتی بن جاتا ہے مشہور یہی ہے کہ موتی وغیرہ میٹھے پانی کے دریاؤں سے نہیں، بلکہ صرف آب شور یعنی سمندروں سے ہی نکلتے ہیں۔ لیکن قرآن نے تثنیہ کی ضمیر استعمال کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں سے ہی موتی نکلتے ہیں۔ چونکہ موتی کثرت کے ساتھ سمندروں سے ہی نکلتے ہیں، اس لیے اس کی شہرت ہو گئی ہے۔ تاہم شیریں دریاؤں سے اس کی نفی ممکن نہیں بلکہ موجودہ دور کے تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ میٹھے دریا میں بھی موتی ہوتے ہیں۔ البتہ ان کے مسلسل جاری رہنے کی وجہ سے ان سے موتی نکالنا مشکل امر ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ مراد مجموعہ ہے، ان میں سے کسی ایک سے بھی موتی نکل جائیں تو ان پر تثنیہ کا اطلاق صحیح ہے۔ بعض نے کہا کہ شیریں دریا بھی عام طور پر سمندر میں ہی گرتے ہیں اور وہیں سے موتی نکالے جاتے ہیں، اس لیے گو منبع دریائے شور ہی ہوئے، لیکن دوسرے دریاؤں کا حصہ بھی اس میں شامل ہے لیکن موجودہ دورکے تجربات کے بعد ان تاویلات اور تکلفات کی ضرورت نہیں۔ وَاللهُ أَعْلَمُ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٢٣﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ (١)
٢٣۔١ یہ جواہر اور موتی زیب و زینت اور حسن و جمال کا مظہر ہیں اور اہل شوق و اہل ثروت انہیں اپنے ذوق جمال کی تسکین اور حسن و رعنائی میں اضافے ہی کے لیے استعمال کرتے ہیں، اس لیے ان کا نعمت ہونا بھی واضح ہے۔

وَلَهُ الْجَوَارِ‌ الْمُنشَآتُ فِي الْبَحْرِ‌ كَالْأَعْلَامِ ﴿٢٤﴾
اور اللہ ہی کی (ملکیت میں) ہیں وہ جہاز جو سمندروں میں پہاڑ کی طرح بلند (چل پھر رہے) ہیں۔ (١)
٢٤۔١ الْجَوَارِ، جَارِيَةٌ (چلنے والی) کی جمع اور محذوف موصوف (السُّفُنُ) کی صفت ہے۔ مُنْشَآتٌ کے معنی مرفوعات ہیں، یعنی بلند کی ہوئیں، مراد بادبان ہیں، جو بادبانی کشتیوں میں جھنڈوں کی طرح اونچے اور بلند بنائے جاتے ہیں۔ بعض نے اس کے معنی مصنوعات کے کیے ہیں یعنی اللہ کی بنائی ہوئی جو سمندر میں چلتی ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٢٥﴾
پس (اے انسانو! اور جنو!) تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ (١)
٢٥۔١ ان کے ذریعے سے بھی نقل و حمل کی جو آسانیاں ہیں، محتاج وضاحت نہیں، اس لیے یہ بھی اللہ کی عظیم نعمت ہے۔

كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ﴿٢٦﴾
زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے ہیں۔

وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَ‌بِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَ‌امِ ﴿٢٧﴾
صرف تیرے رب کی ذات جو عظمت اور عزت والی ہے باقی رہ جائے گی۔

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٢٨﴾
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ (١)
٢٨۔١ فنائے دنیا کے بعد، جزا و سزا یعنی عدل کا اہتمام ہو گا، لہٰذا یہ بھی ایک نعمت عظمیٰ ہے جس پر شکر الٰہی واجب ہے۔

يَسْأَلُهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ ۚ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ ﴿٢٩﴾
سب آسمان و زمین والے اسی سے مانگتے ہیں۔ (١) ہر روز وہ ایک شان میں ہے۔ (٢)
٢٩۔١ یعنی سب اس کے محتاج اور اس کے در کے سوالی ہیں۔
٢٩۔٢ ہر روز کا مطلب، ہر وقت۔ شان کے معنی امر یا معاملہ ، یعنی ہر وقت وہ کسی نہ کسی کام میں مصروف ہے، کسی کو بیمار کر رہا ہے، کسی کو شفایاب، کسی کو تونگر بنا رہا ہے تو کسی تونگر کو فقیر۔ کسی کو گدا سے شاہ اور شاہ سے گدا، کسی کو بلندیوں پر فائز کر رہا ہے، کسی کو پستی میں گرا رہا ہے، کسی کو ہست سے نیست اور نیست کو ہست کر رہا ہے وغیرہ۔ الغرض کائنات میں یہ سارے تصرف اسی کے امر و مشیئت سے ہو رہے ہیں اور شب و روز کا کوئی لمحہ ایسا نہیں جو اس کی کارگزاری سے خالی ہو۔ ﴿هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ، لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ﴾۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٣٠﴾
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ (١)
٣٠۔١ اور اتنی بڑی ہستی کا ہر وقت بندوں کے امور و معاملات کی تدبیر میں لگے رہنا، کتنی بڑی نعمت ہے۔

سَنَفْرُ‌غُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلَانِ ﴿٣١﴾
(جنوں اور انسانوں کے گروہو!) عنقریب ہم تمہاری طرف پوری طرح متوجہ ہو جائیں گے۔ (١)
٣١۔١ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ کو فراغت نہیں ہے بلکہ یہ محاورۃً بولا گیا ہے۔ جس کا مقصد وعید و تہدید ہے۔ ثَقَلانِ (جن وانس کو) اس لیے کہا گیا ہے کہ ان کو تکالیف شرعیہ کا پابند کیا گیا ہے، اس پابندی یا بوجھ سے دوسری مخلوق مستثنیٰ ہے۔
 
Top