• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

"اسلامی سعودیہ" : سعودی خواتین کو شرکت کی اجازت

allahkabanda

مبتدی
شمولیت
مارچ 27، 2012
پیغامات
174
ری ایکشن اسکور
568
پوائنٹ
0
پھر رفیق طاھر بھائی کے اس مراسلے پر بھی خوب غور فرمائیں :
دین اسلام میں تو فرد معین پر لعنت کرنا منع ہے۔۔۔ کیونکہ اللہ تعالی نے قران میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرمان میں کسی معین فرد پر لعنت نہیں فرمائی ۔
ہاں مطلق طور پر لعنت ضرور کی گئی ہے مثلا جھوٹوں پر لعنت ‘ کفار پر لعنت ‘ ظالموں پر لعنت ‘ وغیرہ وغیرہ ۔
لیکن کسی جھوٹے ‘ یا ظالم کا نام لے کر لعنت نہیں کی گئی ۔
لعنت میں نے تو نہیں کی امیر حمزہ صاحب نے کی ہے وہ آپ ان سے پوچھیں-
اور جن کتابوں میں کی ہے وہ خود محدثّ لائبریری پر اپلوڈ ہیں
آگے خود ہی سوچ لیں
 

allahkabanda

مبتدی
شمولیت
مارچ 27، 2012
پیغامات
174
ری ایکشن اسکور
568
پوائنٹ
0
جہاں تک خبیث لفظ کا تعلق ہے وہ علی رضی اللہ عنہ نے بھی استعمال کیا ہے (یہ بھی مجھے اس فورم سے معلوم ہوا)
ابو اسحا ق فزاری نے اپنی سند سے نقل کیا ہے کہ حضرت علی ؓ کے زمانہ میں سو ید بن غفلہ آپ ؓ کی خد مت میں حا ضر ہوئے ، پس آ پ ؓ کی خدمت میں عر ض کیا کہ : میں کچھ لو گو ں کے پاس سے گزار جو ابو بکر و عمر ؓ کو برائی سے یا د کر رہے تھے ، اان کی رائے یہ ہے کہ آپ بھی ( یعنی حضرت علی ؓ بھی ) ان دو نو ں کے بارے میں یہی با ت اپنے دل میں چھپائے ہو ئے ہیں جو وہ کہہ رہے ہیں ۔ اس گر وہ میں سے ایک عبد اللہ بن سبا ہے اور عبد اللہ بن سبا سب سے پہلا شخص تھا جس نے اس کا ( عداوت شیخین کا )اظہار کیا۔ حضرت علی ؓ نے میری بات سن کر فر مایا : مجھے اس کا لے خبیث( عبد اللہ بن سبا ) سے کیا تعلق ؟ پھر فر مایا کہ : اللہ کی پنا ہ کہ میں شیخین ؓ کے با رے میں بھلائی اور خو بی کے سو اکو ئی اور با ت اپنے دل میں چھپا ؤ ں۔ پھر آپ نے عبد اللہ بن سبا کو بلا بھیجا ، پس اسکو مد ا ئن کی طر ف چلتا کیا اور فر ما یا : یہ میر ے سا تھ ایک شہر میں نہیں ر ہ سکتا ۔ پھر اُ ٹھ کر منبر پر تشریف لے گئے، یہا ں تک کہ لو گ جمع ہوگئے ۔یہاں راوی طو یل قصہ ذکر کیا ہے جس میں حضرت علی ؓ نے شیخین کی مدح و ثنا فر ما ئی ، اس کے آ خر میں حضرت علی ؓ کے الفا ظ یہ تھے :

’’سن رکھو ! جس شخص کے بارے میں بھی مجھے یہ خبر پہنچی کہ وہ مجھے شیخین ؓ پر فضیلت دیتا ہے ،میں اس پر بہتان لگا نے والے کی حد (اسی ّ درّے ) جاری کر وں گا‘‘ ( لسان المیزان ج :۳ ص : ۲۹۰)
http://www.kitabosunnat.com/forum/اہل-تشیع-160/عقیدہ-امامت-کا-موجد-اوّل-عبد-بن-سبا-یہودی-تھا-6279/

فورم پر لفظ خبیث سرچ کریں تو ١١١ یعنی ایک سو گیارہ تھریڈ سامنے آتے ہیں مثلا
١- "حنفیت کا مکروہ اور خبیث چہرہ"
http://www.kitabosunnat.com/forum/حنفی-155/مسئلہ-پیشاب-سے-سورہ-فاتحہ-لکھنا-6116/

2- "(یزید)خبیث"
http://www.kitabosunnat.com/forum/بادشاہت-572/کیا-یزید-پر-لعنت-کرنا-جائز-ہے۔-6920/

٣- "خبیث رافضیوں"
http://www.kitabosunnat.com/forum/بادشاہت-572/یزید-سے-متعلق-چند-سوالات-7276/

٤- "اجلہ محدثین کے نظرمیں ابوحنیفہ کے اقوال جانوروں کی گندگی کے مانند نجس و خبیث ہیں"
http://www.kitabosunnat.com/forum/مکالمہ-197/کافر-اورواجب-القتل-لوگوں-کی-ایک-قسم-شیخ-الاسلام-ابن-تیمیہ-رحمہ-1295/index15.html

٥- "توہین رسالتؐ کے مرتکب خبیث مجرموں" (اور اللہ کی توہین کا مجرم پاکستان کا علّامہ ؟)
http://www.kitabosunnat.com/forum/تازہ-مضامین-142/قانونِ-توہین-رسالت-ؐاور-عاصمہ-جہانگیر-کا-کردار-7045/index3.html

اس سب کے باوجود صرف نصرت فتح علی کے لیے خبیث کے لفظ پر اعتراض کیوں ؟
 

allahkabanda

مبتدی
شمولیت
مارچ 27، 2012
پیغامات
174
ری ایکشن اسکور
568
پوائنٹ
0
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ برکاتہ
حق برداشت نہیں ہوتا آپسے نا
اس پوسٹ میں سے ترمیم کر کے وہ حصہ اڑا دیا گیا جس میں اس فورم پر "حنفیوں کا مکروہ اور خبیث چہرہ" استعمال کیا گیا تھا
http://www.kitabosunnat.com/forum/تجدد-پسندی-450/اسلامی-سعودیہ-سعودی-خواتین-کو-شرکت-کی-اجازت-7335/index4.html#post47653

حنفیوں کے لیے ہو سکتا ہے لیکن نصرت فتح علی کے لیے نہیں ؟
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,150
ری ایکشن اسکور
6,343
پوائنٹ
437
اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ.
بڑی معذرت کے ساتھ... کسی کو پابند کرنا یہ مسئلے کا حل ہرگز نہیں ہے... کسی ممبر پر ایک ہفتے کی بندش لگانے سےکیا ہم فریق کو باز رکھ پائیں گے... نہیں قطعی طور پر نہیں میری درخواست ہے اس طرح کے اقدامات سے فورم کی ساکھ متاثر ہوتی ہے دیکھیں ہم جس معاشرے میں بستے ہیں وہاں ہر قسم کے افراد موجود ہیں چیک اینڈ بیلنس کا سسٹم پوری سوسائٹی میں کہیں دکھائی نہیں دیتا اور نہ ہی اکاونٹیبلٹی... میرا ایک مشورہ ہے ہر اس دوست کے لئے جو کسی بھی بحث کا حصہ بنے تو مستقل مزاجی سے اس کی تکمیل تک یا اختتام تک وہ پابند رہے کے وہ فریق کے پیش کئے گئے ہر دعوٰی یا ہر بات کا جواب دے... طویل تاخیر سے دوسرے ارکان بحث کا حصہ بن کر مزید بگاڑ پیدا کردیتے ہیں جس سے اس طرح کے نتائج سامنے آتے ہیں اگر کسی دوست کے پاس فریق کی بات کا جواب نہیں ہے تو اُسے چاہئے کے فریق کی بات کو قبول کرے اور اسی اثناء میں کوئی دوسرا ساتھی فریق کی بات کا جواب دے تو اخلاقی طور پر بھی ہم کو اس بحث سے دستبردار ہوجانا چاہئے... تاکہ موضوع آگے کی طرف بڑھتا رہے...
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,402
پوائنٹ
891
محترم، دلائل یا نظریاتی اختلاف کی بنا پر پابندی لگانے کے حق میں ہم بھی نہیں۔ لیکن اگر کوئی اوپن فورم ہی پر کھلی کھلی گالیاں دینا شروع کر دے، اور بار بار درخواست کرنے پر بھی غلطی کا احساس نہ ہو تو کیا کیا جا سکتا ہے؟ یہاں خواتین بھی موجود ہیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ اقدام سوچ سمجھ کر اٹھایا گیا ہوگا۔
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,150
ری ایکشن اسکور
6,343
پوائنٹ
437
لیکن اگر کوئی اوپن فورم ہی پر کھلی کھلی گالیاں دینا شروع کر دے، اور بار بار درخواست کرنے پر بھی غلطی کا احساس نہ ہو تو کیا کیا جا سکتا ہے؟ ۔
غیر اخلاقی الفاظ حذف کردیئے جائیں...
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,402
پوائنٹ
891

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,150
ری ایکشن اسکور
6,343
پوائنٹ
437
جی ہم کچھ عرصے سے ان کی پوسٹس کے ساتھ یہی کرتے رہے تھے۔۔۔لیکن کب تک؟
تو اخلاقیات کا تقاضا یہ ہی تھا کے جن کے ساتھ یہ معاملہ ہوا ہے وہ خود اس کے ہر پہلو کو سامنے رکھتے اور سوچتے کے وہ فورم پر موجود دوسرے ارکان کو کیا تاثر دے رہے ہیں یا دینا چاہتے ہیں... کیا اس طرح کا انداز خود اُن کے اپنے لئے درست ہوسکتا تھا... قطعی طور پر نہیں اور جیسا کے آپ نے کہا یہاں پر خواتین بھی آتی ہیں تو اس حقیقت کو خود کے مزاج پر مقدم رکھ کر جواب کا دیا جانا چاہئے تھا اسلام نے حق اور سچ بات کہنے سے نہیں روکا مگر طریقہ بھی بتادیا ہے ہاں اگر ہم ایک حکم کو پکڑیں اور دوسرے کو چھوڑ دیں تو کسی کو بتانے کی ضرورت قطعی نہیں کیا یہ سب کیوں کیا جارہا ہے کیونکہ عقل اللہ رب العالمین نے سب کو دی ہے. شکریہ شاکر بھائی.
 
Top