• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اس تضاد کی وجہ کیا ہے؟

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,431
پوائنٹ
463
السلام علیکم و ر حمتہ اللہ و برکاتہ،
ہمارے مذہب نے مرد کو 4 شادیوں کا اختیار دیا ہے۔جس کا واضح حکم قرآن کریم میں موجود ہے اور آپ ﷺ کے عمل سے بھی ثابت ہے۔یوں تو اس کے بہت سے فوائد ہیں۔جس کا اہم ترین فائدہ عورت کاتحفظ ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ موجودہ وقت میں ایک شادی کے بعد دوسری شادی کیوں بری تصور کی جاتی ہے؟ ہم میں یہ سوچ کہاں سے آگئی کہ مرد صرف ایک عورت کا بن کر رہے؟ آج کیوں دوسری شادی کی خواہش کرنے والے کو عیاش کہا جاتا ہے؟ اور پہلی بیوی مختلف طریقوں سے ملامت کرتی ہے اور زبردستی شوہر کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ایسے فعل سے باز رہے، خاندان کے بزرگ مرد کو قائل کرنے میں لگ جاتے ہیں کہ دوسری شادی سے بچوں پر اثر آئے گا ، خاندان کی ساکھ متاثر ہو گی وغیرہ وغیرہ
مائیں بیٹیوں کو گھر بٹھانے پر رضامند ہیں مگر شادی شدہ مرد سے بیاہنے پر نہیں۔اگر کسی لڑکی کی ایسی شادی ہو بھی جائے تو بھی اسے بے چاری یا مظلوم کا نام دیا جاتا ہے۔۔۔ہم مسلمان ہیں تو پھر ہمیں یہ سنت نبوی ﷺ کیوں کھٹکتی ہے؟؟؟
آخر کیوں اس کو عورت کے حقوق کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے؟ اس کی کیا وجوہات اور ہیں ، اس پر آراء کا اظہار کریں۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,383
ری ایکشن اسکور
17,081
پوائنٹ
1,033
السلام علیکم و ر حمتہ اللہ و برکاتہ،
ہمارے مذہب نے مرد کو 4 شادیوں کا اختیار دیا ہے۔جس کا واضح حکم قرآن کریم میں موجود ہے اور آپ ﷺ کے عمل سے بھی ثابت ہے۔یوں تو اس کے بہت سے فوائد ہیں۔جس کا اہم ترین فائدہ عورت کاتحفظ ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ موجودہ وقت میں ایک شادی کے بعد دوسری شادی کیوں بری تصور کی جاتی ہے؟ ہم میں یہ سوچ کہاں سے آگئی کہ مرد صرف ایک عورت کا بن کر رہے؟ آج کیوں دوسری شادی کی خواہش کرنے والے کو عیاش کہا جاتا ہے؟ اور پہلی بیوی مختلف طریقوں سے ملامت کرتی ہے اور زبردستی شوہر کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ایسے فعل سے باز رہے، خاندان کے بزرگ مرد کو قائل کرنے میں لگ جاتے ہیں کہ دوسری شادی سے بچوں پر اثر آئے گا ، خاندان کی ساکھ متاثر ہو گی وغیرہ وغیرہ
مائیں بیٹیوں کو گھر بٹھانے پر رضامند ہیں مگر شادی شدہ مرد سے بیاہنے پر نہیں۔اگر کسی لڑکی کی ایسی شادی ہو بھی جائے تو بھی اسے بے چاری یا مظلوم کا نام دیا جاتا ہے۔۔۔ہم مسلمان ہیں تو پھر ہمیں یہ سنت نبوی ﷺ کیوں کھٹکتی ہے؟؟؟
آخر کیوں اس کو عورت کے حقوق کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے؟ اس کی کیا وجوہات اور ہیں ، اس پر آراء کا اظہار کریں۔
وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
مجھے لگتا ہے اس میں اعتراض صرف عورتوں کو ہوتا ہے، ورنہ مرد حضرات تو دوسری شادی کر لے، ابتسامہ
یہ تو ہوا مذاق اصل وجہ دین شریعت کی کمی ہے، اگر ہم سب مرد اور عورتیں دین کو سمجھیں تو یہ وبال ہی ختم ہو جاتا ہے، لیکن ہمارے نفس میں دین سے زیادہ دنیا بسی ہے اسی لئے نفس دنیا کو سمجھنے پر زور دیتا ہے، عورتیں سوچتی ہے کہ دوسری بیوی کے آنے سے اس پر دھیان کم دیا جائے گا تو مرد حضرات کا یہاں سچ میں دوسری بیوی پر زور زیادہ دیتے ہیں اور کبھی کبھی تو پہلی بیوی کو ہی طلاق دے دی جاتی ہے یا نوکروں جیسا سلوک کیا جاتا ہے، اسی لئے شاید ہمارے ملکوں میں یہ سنت ختم ہی ہو گئی ہے
 

حسن شبیر

مشہور رکن
شمولیت
مئی 18، 2013
پیغامات
802
ری ایکشن اسکور
1,834
پوائنٹ
196
السلام علیکم و ر حمتہ اللہ و برکاتہ،
ہمارے مذہب نے مرد کو 4 شادیوں کا اختیار دیا ہے۔جس کا واضح حکم قرآن کریم میں موجود ہے اور آپ ﷺ کے عمل سے بھی ثابت ہے۔یوں تو اس کے بہت سے فوائد ہیں۔جس کا اہم ترین فائدہ عورت کاتحفظ ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ موجودہ وقت میں ایک شادی کے بعد دوسری شادی کیوں بری تصور کی جاتی ہے؟ ہم میں یہ سوچ کہاں سے آگئی کہ مرد صرف ایک عورت کا بن کر رہے؟ آج کیوں دوسری شادی کی خواہش کرنے والے کو عیاش کہا جاتا ہے؟ اور پہلی بیوی مختلف طریقوں سے ملامت کرتی ہے اور زبردستی شوہر کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ایسے فعل سے باز رہے، خاندان کے بزرگ مرد کو قائل کرنے میں لگ جاتے ہیں کہ دوسری شادی سے بچوں پر اثر آئے گا ، خاندان کی ساکھ متاثر ہو گی وغیرہ وغیرہ
مائیں بیٹیوں کو گھر بٹھانے پر رضامند ہیں مگر شادی شدہ مرد سے بیاہنے پر نہیں۔اگر کسی لڑکی کی ایسی شادی ہو بھی جائے تو بھی اسے بے چاری یا مظلوم کا نام دیا جاتا ہے۔۔۔ہم مسلمان ہیں تو پھر ہمیں یہ سنت نبوی ﷺ کیوں کھٹکتی ہے؟؟؟
آخر کیوں اس کو عورت کے حقوق کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے؟ اس کی کیا وجوہات اور ہیں ، اس پر آراء کا اظہار کریں۔
پہلی بات تو یہ ہے کیا آپ واقعہ عورت ہیں اگر عورت ہیں تو پھر اتنا بڑا دل ہاہاہاہاہاہا
خیراصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ہم دوسری شادی کو برا کیوں تصور کرتے ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا المیہ یہی ہے، کہ ہم شروع سے ہی ہندو معاشرے کے ساتھ رہے ہیں۔ جہاں پر ایک شادی وہ بھی اگر بدقسمتی سے خاوند مرجائے تو اسی کے ساتھ ہی ستی کر دیتے تھے۔ تو آج بھی ہم میں ہندوانہ رسمیں زیادہ اور اسلامی افکار کم پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ہم میں سے کوئی دوسری شادی کر بھی لے تو اتنا ہنگامہ کھڑا کیا جاتا ہے کہ بندہ سمجھتا ہے کہ میں نے اچھا کام کیا ہے یا برا۔
 

بابر تنویر

مشہور رکن
شمولیت
اکتوبر 02، 2011
پیغامات
227
ری ایکشن اسکور
690
پوائنٹ
104
سسٹر دعا دراصل ہمارا معاشرہ ہندوانہ رسم و رواج سے متاثر ہے۔ جہاں آج کے زمانے میں دوسری شادی کا تصور ہی نہیں ہے۔ لیکن جب ہم ان کی مذہبی کتابوں میں ایک مرد کی ایک دو نہین ہزاروں شادیوں کا تذکرہ ملتا ہے۔ اسی طرح فلپائن وغیرہ میں صرف ایک ہی شادی کا تصور ہے۔ طلاق کا نہیں۔ شادی کے بعد طلاق نہیں بلکہ علیحدگی ہو سکتی ہے۔ اور پھر اس کے بعد مرد اور عورت جہاں چاہے اور جس کے ساتھ بغیر شادی کے رہ سکتے ہیں۔ اور چونکہ اس معاشرے میں عورتوں کی تعداد مردوں سے کہیں زیادہ ہے اس لیۓ مرد جب چاہتا ہے ایک عورت کو چھوڑ دیتا ہے ۔
جہاں تک مسلمان معاشرے کی بات ہے تو مرد کو صرف اسی صورت میں دوسری شادی کی اجازت دی گئ ہے کہ وہ ایک سے زیادہ بیویوں کے ساتھ انصاف کر سکے سورہ نساء کی آیت نمبر 3 میں ارشاد باری تعالی ہے۔
ترجمہ: اور اگر تم یتیم لڑکیوں سے بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہوتوجوعورتیں تمہیں پسند آئیں ان میں سے دو دو تین تین چار چار سے نکاح کر لو اگر تمہیں خطرہ ہو کہ انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی سے نکاح کرو جو لونڈی تمہارے ملک میں ہو وہی سہی یہ طریقہ بے انصافی سے بچنے کے لیے زیادہ قریب ہے (3)
ہمارے معاشرے میں دوسری شادی کے معیوب سمجھے جانے کا ایک سبب جہیز بھی ہے۔ اسلام میں جہیز کا کوئ تصور نہیں ہے۔ عورت کو رہنے کے لیۓ گھر اور زندگی کی دوسری تمام سہولیات دینا ایک مرد کی ذمہ داری ہے۔ اور پھر حق مہر بھی عورت کا حق ہے۔ یہاں سعودی عرب میں نکاح کے وقت قاضی لڑکی سے پوچھتا ہے کہ اگر تمہاری کوئ شرط ہو تو بتاۓ اور حق مہر بھی عموما قاضی کے سامنے ہی ادا کیا جاتا ہے۔
لیکن ہمارے ہاں معاملہ اس کے برعکس ہے یہان شادی کے لیۓ عام طور پر لڑکی والے ہی جہیز کی شکل میں تمام ضروریات زندگی فراہم کرتے ہیں۔ دوسرے معنوں میں لڑکی ہی اپنا مال خرچ کرتی ہے۔ تو جب لڑکی ہی اپنا مال خرچ کرتی ہے تو مرد کو دوسری شادی کی اجازت دینا یہ نہ دینا بھی اس کا حق ہونا چاہیۓ۔
جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم شادی کے معاملے میں اسلامی اقدار کو اپنا لیں ؛ـ
1- مرد لڑکی کو گھر اور رہنے سہنے کے لیۓ تمام ضروریات فراہم کرے۔
2- اس کا حق مہر معاف کرنے کے بجاۓ اسے شادی کے موقع پر ہی ادا کرے۔
3- جہیز لینا اور اس کا مطالبہ کرنا چھوڑ دے۔
4- دوسری شادی کے صورت میں تمام ازواج سے انصاف کرے۔
5- اور عورت بھی مرد کی دوسری شادی کو قبول کرے کہ یہ حق اسے دین اسلام نے دیا ہے۔

تو پھر میرا خیال ہے کہ ہمارے معاشرے مین دوسری شادی کرنا معیوب نہیں سمجھا جاۓ گا۔
آخر مین سسٹر دعا کا شکریہ جنہوں نے اس نہایت ہی اہم امر کی جانب توجہ دلائ وگرنہ عام طور پر ایک عورت مرد کی دوسری شادی کا ذکر کرنا بھی پسند نہین کرتی
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
جزاکم اللہ خیرا

معیاری سوچ ہے،ماشاءاللہ۔۔ اسلام میں مرد کو چار شادیوں کے حکم پر اعتراضات غیر مسلم قوم کا طریقہ ہے، اور جس طرح غیر مسلموں کی دیگر عادات و اطوار مسلمانوں میں در آئے ہیں اسی طرح اس حکم پر بھی اعتراضات اور تنقید دیکھنے میں سامنے آتی ہے۔ لیکن ایک بات یہاں یاد رکھنے کی ہے کہ مرد کو اگرچہ چار شادیوں کی اجازت ضرور ہے اس کے ساتھ ساتھ ایک چیز ازواج کے درمیان عدل کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔
وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا۟ فِى ٱلْيَتَـٰمَىٰ فَٱنكِحُوا۟ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ مَثْنَىٰ وَثُلَـٰثَ وَرُ‌بَـٰعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا۟ فَوَ‌ٰحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُكُمْ ۚ ذَ‌ٰلِكَ أَدْنَىٰٓ أَلَّا تَعُولُوا۟ ﴿٣﴾۔۔سورۃ النساء
ترجمہ:اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کرکے تم انصاف نہ رکھ سکو گے تو اور عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو، دو دو، تین تین، چار چار سے، لیکن اگر تمہیں برابری نہ کر سکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے یا تمہاری ملکیت کی لونڈی یہ زیاده قریب ہے، کہ (ایسا کرنے سے ناانصافی اور) ایک طرف جھک پڑنے سے بچ جاؤ
تو جو مرد اپنی تمام ازواج کے حقوق میں مساوات کا خیال رکھے وہ تو چار شادیاں کرے لیکن جس کی یہ پوزیشن نہ ہو وہ ایک شادی ہی کرے۔
 

حسن شبیر

مشہور رکن
شمولیت
مئی 18، 2013
پیغامات
802
ری ایکشن اسکور
1,834
پوائنٹ
196
ویسے ایک بات ہے، جو بھی اس فورم پر بھائی رہ گئے ہیں جن کی ابھی تک شادی نہیں ہوئی، وہ جلد سے جلد شادی ضرور کرلیں، ایک کریں یا چار کریں بہرکیف کریں ضرور۔ کیا کہتے ہیں ، ابتسامہ
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
ویسے ایک بات ہے، جو بھی اس فورم پر بھائی رہ گئے ہیں جن کی ابھی تک شادی نہیں ہوئی، وہ جلد سے جلد شادی ضرور کرلیں، ایک کریں یا چار کریں بہرکیف کریں ضرور۔ کیا کہتے ہیں ، ابتسامہ
ہم یہ کہتے ہیں
متفق۔۔۔۔ متفق۔۔۔۔ متفق۔۔۔۔ متفق۔۔۔۔ متفق۔۔۔۔ متفق۔۔۔۔ متفق۔۔۔۔ متفق
 
Top