1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اکابرین اہل حدیث کا تعلق صوفیت بہتان یا حقیقت؟

'اہل حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از شاہد نذیر, ‏ستمبر 23، 2013۔

  1. ‏دسمبر 05، 2015 #31
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,612
    موصول شکریہ جات:
    734
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    باقی ان شاء اللہ آپ کے مباحثہ کو دیکهنے اور اس پر تبصرہ کے بعد۔
    صرف معلومات کیلئے هی دیکهیں ۔ تصوف صرف برصغیر میں هی نهیں عرب اور افریقہ میں بهی اور اعلانیہ سعودی عرب میں بهی هے ۔
    والسلام
     
  2. ‏دسمبر 05، 2015 #32
    سید شاہ رُخ کمال

    سید شاہ رُخ کمال مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 27، 2015
    پیغامات:
    8
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    ما شاء اللہ! اچھی بحث کا آغاز ہوا۔ خیر، ادھر میں دو تین باتوں کا ذکر کرنا چاہوں گا۔
    ۱۔ سیّد علی ہجویری محدثین میں شمار نہیں ہوتے۔ اس لیے اگر اُن سے کوئی ضعیف یا موضوع حدیث آئی ہے تو کوئی بڑی بات نہیں۔ اس کی تحقیق کر کے وضاحت کی جا سکتی ہے۔ جیسے وضائفِ اسلامی پر حافظ زبیر علی زئی صاحب نے تحقیق کی اور بتایا کہ کون سی احادیث ضعیف ہیں اور کون کی صحیح اور حسن۔
    ۲۔ میں چونکہ بہت کم علم رکھتا ہوں، اس لیے کچھ کہہ نہیں سکتا۔ لیکن مجھے اتنا علم ہے کہ جو چیز شریعتِ مطہرہ میں نہیں وہ جائز نہیں۔ مجھے یہ بھی پتا ہے کہ ائمۂ تصوف کی مدح تمام لوگوں نے کی۔ مثلاً شیخ سیّد عبد القادر جیلانی کو ہر فرقہ صحیح العقیدہ کہتا ہے۔ اسی طرح سیّد علی ہجویری کے بارے میں بھی میں نے پڑھے لکھے اہلِ حدیث لوگوں کے منہ سے تعریف ہی سنی ہے۔ اگر آپ دیوبندیوں کو دیکھ لیں تو وہ بھی سیّد علی ہجویریؒ کو ایک صحیح العقیدہ صوفی ہی مانتے ہیں۔
    ۳۔ میں نے سب سے پہلا تبصرہ تصوف پر یا تصوف کے اہلِ حدیث کے ساتھ تعلق پر نہیں کیا تھا بلکہ اس چیز پر کیا تھا کہ شاہد نذیر صاحب نے دو بہت کھلی غلطیاں کیں۔
    الف: انہوں نے سیّد علی ہجویریؒ کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ کیا اسلام یہی درس دیتا ہے؟
    ب: انہوں نے تحقیق پر کم زور دیا اور مواد اکٹھا کرنے پر زیادہ زور دیا۔ انہوں نے کشف المحجوب کی ایک شرح اٹھائی اور شارح کے الفاظ کو سیّد علی ہجویریؒ کے ساتھ منسوب کر کے اُس بنا پر انہیں برا بھلا کہا۔ عجیب بات یہ ہے کہ انہوں نے شارح کے نام کا ذکر بھی نہیں کیا اور حوالے میں صرف شرحِ کشف المحجوب ہی لکھ دیا۔ اسی طرح انہوں نے تذکرۂ غوثیہ کا حوالہ دیا۔ یہ کتاب کسی بھی فرقے کے قریب معتبر نہیں ہے۔ حتیٰ کے بریلویوں کے امام، احمد رضا خاں صاحب کہتے ہیں کہ یہ کتاب جلا دینے کے قابل ہے۔ پھر انہوں نے دو نئی اصطلاحات استعمال کیں۔ حنفی تصوف اور اہلِ حدیث تصوف۔ گویا انہوں نے کہا کہ اہلِ حدیث بھی تصوف کے قائل ہیں اگرچہ اُس کی نوعیت کچھ اور ہے۔ پھر انہوں نے حنفیوں کے علاوہ باقی تینوں مسالک کو تصوف سے ہی باہر نکال دیا۔

    رہی بات اُس حدیث کی جو آپ نے کشف المحجوب سے دکھائی ہے، میں اسے ابھی جا کے دیکھتا ہوں۔ لیکن جہاں تک مجھے علم ہے تو صاحبِ کشف المحجوب کا کہنا ہے کہ زمانۂ رسالت میں تصوف اپنی اصطلاح کے ساتھ موجود نہ تھا مگر اپنے معانی کے ساتھ موجود تھا اور آج تصوف اپنے معانی کے ساتھ موجود نہیں بلکہ صرف نام کے ساتھ رہ گیا ہے۔ پھر میں نے کشف المحجوب سے وہ حوالہ بھی دے دیا کہ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی بھی خلافِ شرع کام کا نام تصوف نہیں۔ اسی طرح فقر پر بھی آپ بات کرتے ہیں۔ آج کل لوگ سائیں مست ملنگ بن جاتے ہیں اور مختلف رنگوں کی ٹاکیوں والے کپڑے پہن کر اپنے آپ کو صوفیانہ اصطلاح میں فقیر کہتے ہیں۔ صاحبِ کشف المحجوب کہتے ہیں کہ فقر غربت کا نام نہیں ہے۔ ایک امیر بھی فقیر ہو سکتا ہے۔ فقر تو اس چیز کا نام ہے کہ انسان کے پاس جو کچھ ہے اُس پر راضی رہے۔ یہ الفاظ میرے ہیں کیونکہ فی الحال کشف المحجوب میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔ لیکن کشف المحجوب کے ابتدا میں ہی آپ کو فقر کے متعلق یہ بات مل جائے گی۔
     
  3. ‏دسمبر 05، 2015 #33
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,340
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    تصوف کے ثبوت اور عدم ثبوت پر فورم پر دو تین جگہ پہلے بحث ہوچکی ہے ، قرآن و حدیث سے کوئی ایک دلیل بھی اس کے ثبوت کے لیے ابھی تک سامنے نہیں آئی ( اس رائے سے اتفاق ضروری نہیں )، گزارش ہے کہ احباب ان مکالمات کا مطالعہ کرلیں ، اور انہیں بحثوں کو آگے بڑھائیں ، تاکہ وقت بچ سکے ـ
    تصوف کیا ہے ؟
    علماء اہلحدیث اور تصوف
    حقیقت مذہب صوفیاء اور اہلحدیث
    تصوف اور اس کی حقیقت
     
  4. ‏دسمبر 06، 2015 #34
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,942
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    محترم راقم الحروف نے اصل کتابوں سے حوالے دینے کی پوری کوشش کی ہے اور آپ کسی حوالے کو غلط ثابت نہیں کرسکے یہ حوالوں کے درست ہونے کا ثبوت ہے۔ میں نے نہایت سوچ سمجھ کر اور اچھا خاصہ وقت صرف کرکے مضمون سپرد قلم کیا ہے اس لئے جلد بازی کا الزام فضول ہے۔ جہاں تک ایک خاص ذہن بنا کر مضمون لکھنے کا تعلق ہے تو آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ تمام لکھنے والے جب کسی موضوع کو ہاتھ لگاتے ہیں تو ان کا اس موضوع پر ایک خاص ذہن بنا ہوا ہوتا ہے اس لئے ہر لکھنے والا اپنی تحریر سے ایک خاص نقطہ نظر پیش کررہا ہوتا ہے چناچہ ایک خاص نقطہ نظر کو اجاگر کرنے کے لئے پہلے سے میرا ذہن بنا ہوا ہونا کوئی قابل طعن بات نہیں ہے۔ اصل اور قابل غور بات یہ ہے کہ جو خاص نقطہ نظر پیش کیا گیا ہے وہ دلائل کے میدان میں کتنا وزن رکھتا ہے۔ اور آپ اصل بات کو چھوڑ کر غیر اصل بات کے پیچھے پڑ گئے۔

    محترم آپ تھوڑی بہت نہیں اپنی پوری عقل استعمال کریں ہم آپ کی آسانی کے لئے شرح کشف المحبوب کے کچھ اسکین پیش کررہے ہیں آپ انہیں دیکھ کر بتادیں کہ اصل غلطی کس کی ہے۔ آپ کی؟ کتاب کے ناشر کی؟ مترجم کی یا پھر خود علی ہجویری کی؟ اسکین یہاں دیکھئے: http://forum.mohaddis.com/threads/حقیقت-مذہب-صوفیاء-اور-اہل-حدیث.20960/page-2
    آپ کی آسانی کے لئے ہم بتادیں کہ کشف المحبوب کے محقق، شارح اور مترجم جناب واجد بخش سیال صاحب ہیں جنہوں نے اصل عبارتوں اور شرح میں اہتمام کے ساتھ فرق کو واضح کیا ہے۔ اصل عبارت کو علیحدہ رکھا ہے اور اس عبارت کی تشریح کو شرح کی ہیڈنگ لگا کر علیحدہ لکھا ہے اس لئے کتاب میں اصل اور تشریحی عبارتیں واضح ہیں۔ میں نے بھی اصل عبارت کو علی ہجویری کی جانب منسوب کیا ہے اور شرح کو واجد بخش سیال کی جانب۔ اگر آپ کو عبارتوں کا انتساب غلط لگ رہا ہے تو یا تو یہ خود آپ کی غلطی ہے یا پھر واجد بخش سیال کی۔ راقم الحروف کی اس میں کوئی غلطی نہیں آپ اپنی تصحیح فرمالیں۔شکریہ
     
  5. ‏دسمبر 06، 2015 #35
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,942
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    ایک طرف تو آپ نے مجھ پر جلد بازی کا الزام لگایا ہے حالانکہ اتنا مضمون لکھنے میں بھی وقت لگتا ہے۔ جبکہ خود آپ کی حالت یہ ہے کہ آپ نے میرے مختصر سے مضمون کو بھی پورا نہیں پڑھا یا پھر جلدبازی میں سرسری سا ہی دیکھا ہے اور اس پر غور کرنے کی زحمت گوارا نہیں فرمائی۔ اگر آپ نے تھوڑی سی توجہ سے میرا مضمون پڑھا ہوتا تو یقینا آپ یہ فضول اعتراض نہ کرتے۔ آپ نے اعتراض فرمایا ہے کہ میں شارح کا نام تک ذکر نہیں کیا اور شارح کی عبارتیں اصل مصنف کی طرف منسوب کردی ہیں۔ میں اپنے اسی مضمون سے ایک عبارت پیش کررہاہوں جہاں میں نے شارح کا نام بھی لکھا ہے اور شارح کی عبارت شارح کی طرف اور علی ہجویری کی عبارت خود انہیں کی طرف منسوب کی ہے۔ دیکھئے:

    واجد بخش سیال شارح کشف المحجوب لکھتے ہیں:اس لئے بعض اولیاء کرام کمال صدق و خلوص کی بنا پر عمداً ایسے کام کرتے ہیں جن سے خلق میں بدنام ہوجائیں۔اگرچہ بظاہر ان کے یہ کام خلاف شرع نظر آتے ہیں در حقیقت وہ خلاف شرع نہیں ہوتے ۔(شرح کشف المحجوب، صفحہ 274)

    صوفیوں کے نزدیک انسان جس قدر بدنام ہوتا ہے اسی قدر اللہ سے قریب ہوتا ہے۔ علی بن عثمان الہجویری رقم طراز ہیں:جاننا چاہیے کہ طریق ملامت کو پہلے پہل شیخ ابوحمدون قصار علیہ رحمہ نے رائج کیا اور اس بارے میں آپ کے اقوال لطیف ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ الملامتہ ترک السلامتہ (ملامت کا اختیار کرنا سلامتی کا ترک کرناہے) اور جو شخص جان بوجھ کر سلامتی ترک کرتا ہے وہ آفات کو دعوت دیتا ہے اور اسے آرام و راحت سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے اور طلب جاہ و مال اور خلق خدا سے نا امید ہونا پڑتا ہے اور دنیا سے بیزار ہونا پڑتا ہے اور جس قدر آدمی دنیا سے بیزار ہوتا ہے حق تعالیٰ سے اسی قدر اس کا تعلق مضبوط ہوتا ہے۔(شرح کشف المحجوب،صفحہ 277)
     
  6. ‏دسمبر 07، 2015 #36
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,942
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    پہلی بات تو یہ ہے کہ میرے مضمون کی بنیاد تذکرہ غوثیہ پر نہیں ہے اس کتاب کی محض ایک مختصر عبارت بطور حوالہ میں نے پیش کی ہے اور اگر اسے مضمون سے خارج بھی کردیا جائے تو اصل مضمون کی صحت پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لہٰذا جسے آپ بہت بڑا اعتراض کہہ رہے ہیں وہ بہت معمولی اعتراض ہے۔ آپ کی معلومات کے لئے عرض ہے کہ تذکرہ غوثیہ کے غیر معتبر ہونے کا ڈھنڈورا بھی محض دھوکہ بازی ہے وگرنہ ہمارے بھائی طالب نور نے باقاعدہ بریلوی علماء کے حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ آج بھی تذکرہ غوثیہ ان کے ہاں معتبر کتاب ہے۔(ان کا مضمون مجھے تلاش کے باوجود نہیں ملا ان سے پوچھ کر شئیر کردیا جائے گا۔ان شاء اللہ)۔ میں یہاں شاہ رخ صاحب سے یہ ضرور پوچھنا چاہوں گا کہ وحیدالزماں کی کتابوں سے اہل حدیث ہمیشہ سے براءت کا اظہار کرتے چلے آرہے ہیں لیکن اس کے باوجود بے شرمی کی انتہاء ہے کہ بریلوی اور دیوبندی علماء آج تک وحید الزماں کی کتابوں کے حوالے اہل حدیث کے خلاف پیش کر رہے ہیں۔ اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟
     
  7. ‏دسمبر 09، 2015 #37
    رحمانی

    رحمانی رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 13، 2015
    پیغامات:
    382
    موصول شکریہ جات:
    102
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    میراشاہد نذیر صاحب سے سوال یہ ہےکہ اگرکوئی کوئی مولاناعبدالرشید گنگوہی کو"اہل حدیث کہے تواس کہنے والے کو کیاکہیں گے،کافریامومن؟مختصرجواب عنایت فرمائیں۔
     
  8. ‏دسمبر 09، 2015 #38
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,942
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    دیکھا جائے گا کہ کہنے والا کون ہے اگر تو وہ رشید احمد گنگوہی کی طرح بدعقیدہ اور وحدت الوجودی ہے تو یقینا اس کا حکم بھی رشید احمد گنگوہی والا ہے اور اگر کہنے والا صحیح العقیدہ ہے تو اسے اس کی غلطی کہا جائے گا۔
     
  9. ‏دسمبر 10، 2015 #39
    رحمانی

    رحمانی رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 13، 2015
    پیغامات:
    382
    موصول شکریہ جات:
    102
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    کمال ہے صحیح العقیدہ لوگوں کو بدعقیدہ لوگوں کی تعریف سے اوربھی دوررہناچاہئے،حدیث میں آتاہے کہ فاسق کی مدح سے عرش الہی کانپ اٹھتاہے توآپ کے بقول رشید احمد گنگوہی جیسے کافر کو اہل حدیث جیساعظیم المرتبت خطاب دیناکتنے بڑے گناہ کا موجب ہوگا وہ محتاج بیان نہیں ہے،پھر جب آپ نے محض واقعہ بیان کرنے،کتاب میں بیان درج کرنے پرتکفیری مشین گن چلائی ہے تو اب جاکر اتنی احتیاط کیوں کہ صحیح العقیدہ اورفاسدالعقیدہ کی تفریق ہونے لگی،یہ تو وہی بات ہوئی کہ اونٹ نگل جاتے ہو اورمکھی کا مسئلہ پوچھتے ہو،یاحق کی پاسداری چھوڑ کر محض مسلکی اورگروہی تعصب کا مظاہرہ ہے کہ اگراپناکوئی کرے تو سوخون معاف اور دوسراکرے توقابل گردن زنی۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں