عبداللہ عبدل
مبتدی
- شمولیت
- نومبر 23، 2011
- پیغامات
- 493
- ری ایکشن اسکور
- 2,479
- پوائنٹ
- 26
السلام علیکم ورحمۃ اللہ ............... ماشاء اللہ دفاع اہل السنۃ کا بھرپور عملی مظاہرہ کیا ہے الشیخ ابو عبداللہ طارق بھائی نے...اس دوسرا حصہ کب منظر عام پر آئے گا؟
بھائی میرے خیال میں تو مضمون مکمل ہے باقی معلومات لے کر اپ ڈیٹ کردوں گاالسلام علیکم ورحمۃ اللہ ............... ماشاء اللہ دفاع اہل السنۃ کا بھرپور عملی مظاہرہ کیا ہے الشیخ ابو عبداللہ طارق بھائی نے...اس دوسرا حصہ کب منظر عام پر آئے گا؟
بہت ہی خوبخلاصہ کلام
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مرجئہ جہمیہ کے نزدیک ایمان رب تعالیٰ کی معرفت کا نام ہے اور کفر اس سے جہالت کا۔ جبکہ شیخ البانی فرماتے ہیں:
ماتریدیہ وغیرہ کے نزدیک ایمان دل سے تصدیق ہے۔
اور مرجئہ فقہا کے نزدیک ایمان، دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار ہے جبکہ اہلسنت، سلف صالحین کے نزدیک ایمان اعتقاد، زبان سے اقرار او رعمل سے عبارت ہے او رجو لوگ اس کے قائل نہیں ہیں۔ علامہ البانی ان پر شدید نکیر اور تردید فرماتے ہیں۔ دیکھیں: ([80])
مرجئہ کے نزدیک اعمال ایمان کا جز نہیں ہیں۔
جبکہ سلف کے نزدیک اعمال ایمان کا جزء ہیں اور ترجمان سلف علامہ البانی کے نزدیک بھی اعمال ایمان کا جزء ہیں ۔ ([81])
جہمیہ وغیرہ کے نزدیک اعمال قلوب بھی ایمان کاجز نہیں ہیں۔
جبکہ شیخ البانی کےنزدیک اعمال قلوب ایمان کا جز ہیں۔ ([82])
سلف کے نزدیک مرجئہ میں سے کوئی بھی اعمال کو کمال ایمان کے لیے شرط نہیں کہتا۔
اور بعض حضرات کا یہ کہناکہ ’’مرجئہ ایمان کے لیے اعمال کو شرط کمال قرار دیتے ہیں‘‘ انتہائی مضحکہ خیز ہے۔
کیونکہ مرجئہ کے نزدیک تو ایمان شئ واحد ہے اس میں نیک و بد برابرہیں گنہگار بھی کامل الایمان ہے نہ کہ ناقص الایمان اور ان کے نزدیک تو اعمال ایمان میں شامل ہی نہیں لہٰذا شرط کمال کیونکر قرار پائیں گے۔
مرجئہ کے نزدیک ایمان میں کمی و بیشی نہیں ہوتی۔
جبکہ اہلسنت کے نزدیک ایمان میں کمی و بیشی ہوتی ہے۔
اور شیخ البانی فرماتے ہیں: