1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک روایت " یا محمدٌ کی تحقیق

'موضوع ومنکر روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از Abdul Mussavir, ‏ستمبر 22، 2017۔

  1. ‏ستمبر 28، 2017 #51
    arslanmasoom2

    arslanmasoom2 رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 24، 2017
    پیغامات:
    56
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    30

  2. ‏ستمبر 28، 2017 #52
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,660
    موصول شکریہ جات:
    423
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    لنک بھی بریلویوں کی طرح فارغ ہے ۔۔۔۔
    1.png

    عمرو بن عبد الله السبيعي الكوفي مشهور بالتدليس وهو تابعي ثقة وصفه النسائي وغيره بذلك
    وہ تدلیس میں مشہور ہے اور ثقہ تابعی ہے امام نسائی رحمتہ اللہ وغیرہ نے اسے مدلس کہا ہے

    عنوان الكتاب: تعريف أهل التقديس بمراتب الموصوفين بالتدليس
    المؤلف: أحمد بن علي بن حجر العسقلاني أبو الفضل شهاب الدين
    المحقق: عاصم بن عبد الله القريوتي
    حالة الفهرسة: غير مفهرس
    الناشر: مكتبة المنار - الأردن


    أفسد حديث أهل الكوفة الأعمش وأبو إسحاق يعني للتدليس
    اعمش اور ابو اسحاق نے تدلیس کی بنا پر اہل کوفہ کی روایات کو نقصان پہنچایا ہے۔
    عنوان الكتاب: تهذيب التهذيب (ط. الهند)
    المؤلف: أحمد بن علي بن حجر العسقلاني أبو الفضل شهاب الدين
    حالة الفهرسة: غير مفهرس
    الناشر: دارئة المعارف النظامية - الهند


    إنما أفسد حديث أهل الكوفة أبو إسحاق، والأعمش
    عنوان الكتاب: ميزان الاعتدال فى نقد الرجال (ت: البجاوي)
    المؤلف: محمد بن أحمد بن عثمان بن قايماز الذهبي شمس الدين أبو عبد الله
    المحقق: علي محمد البجاوي
    حالة الفهرسة: غير مفهرس



    علامہ ماردینی حنفی لکھے ہیں:
    ان ابا اسحاق قال فيه حدثنى عبد الرحمن فزال بذلك تهمة تدليسه
    ابو اسحاق نے یہاں حدثنى عبد الرحمن کہا ہے پس اس سے یہاں تدلیس کا الزام مرتفع ہوگیا۔
    الجوهر النقي

    (احناف) دیوبند کے علامہ حبیب الرحمن اعظمی لکھتے ہیں:
    قال البوصيري اسناده حسن قلت فيه ابو اسحاق السبيعي وهو مدلس ولم يصرح بالسماع
    علامہ بوصیری نے اس حدیث کی سند کو حسن کہا ہے مگر میں کہتا ہوں کہ اس میں ابو اسحاق مدلس ہے اور اس نے سماع کی صراحت نہیں کی۔
    تعليق علي المطالب العاليه ص 333 ج 4
     
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏ستمبر 28، 2017 #53
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,660
    موصول شکریہ جات:
    423
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    اضطراب ملاحظہ ہو:

    ایک طرف وہابی پر اعتماد نہیں اور دوسری طرف حجت بھی ہیں (سبحان اللہ)

    اور الحمد للہ کا ورد بھی کر رہے ہیں :)

     
    Last edited: ‏ستمبر 28، 2017
    • متفق متفق x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏ستمبر 28، 2017 #54
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    السلام علیکم ورحمة الله وبركاته Zahabi-And-SUfiyan-_03B-768x829.jpg Ibn-Habban-_04B-768x752.jpg Zahabi-And-SUfiyan-_03B-768x829.jpg Ibn-Habban-_04B-768x752.jpg Zahabi-And-SUfiyan-_03B-768x829.jpg Ibn-Habban-_04B-768x752.jpg

    بھائی جی، امام سفیان ثوری رحمه الله کے بارے تو علم حدیث جاننے والے چھوٹے طالبعلم بھی جانتے ہونگے کہ وہ ضعفاء اور مجھولین سے تدلیس کرنے میں مشھور سے بھی مشھور ہیں۔
     
  5. ‏ستمبر 28، 2017 #55
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    الس
    السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته...
    جی آپ کی تحقیق سے متعلق ہی اوپر اعتراضات نقل کیئے ہیں۔ جن کا جواب دینے کے بجائے آپ پھر سے "اپنی" تحقیق کو پڑھنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

    ویسے اک بات تو بتائیں۔ مقلدین نے بھی تحقیق کرنی شروع کردی ہوئی ہے؟ ماشاء الله۔ اھلحدیثوں کے آس پاس رہیں گے تو ان شاء الله تقلید چھوڑ کر محقق متبع ہی بنیں گے۔ بشرطیکہ غیر جانبدار ہوکر تحقیق کی جائے تو۔
    لیکن عرض یہ ھے کہ ، آپ کی تحقیق ، پہلے سے بنائے ہوئے مذھب (حنفیہ) کو سچ ثابت کرنے کے لیئے ہے۔
    بحرحال۔ بجائے اپنی تحقیق کو بار بار پڑھوانے کے ، جو اشکالات آپ کی تحقیق پر پیش کیئے گئے ہیں اُن کو رفع کرنے کی کوشش کریں۔
     
  6. ‏ستمبر 29، 2017 #56
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    جزاک اللہ بہن جی۔ چھوٹے طالب علم تو یقیناً یہ جانتے ہوں گے۔ بہر حال۔۔۔ ہم تو ان سے بھی چھوٹے طالب علم ہیں۔
    اس بارے میں کچھ مزید گزارشات ہیں۔
    پہلی بات یہ کہ سفیان ثوریؒ کی تدلیس بہت ہی کم ہے۔ اس لیے امام ترمذیؒ امام بخاریؒ سے نقل فرماتے ہیں:
    وقال البخاري، فيما حكاه عنه الترمذي في علله: لا أعرف لسفيان، يعني الثوري، عن حبيب بن أبي ثابت، ولا عن سلمة بن كهيل، ولا عن منصور، وذكر شيوخاً كثيرة، لا أعرف لسفيان عن هؤلاء تدليساً، ما أقل تدليسه.
    (العلل الکبیر)
    "میں ان سے سفیان کی تدلیس نہیں جانتا۔ کتنی کم تدلیس ہے ان کی!"
    ظاہر ہے یہ تعریف کے الفاظ ہیں۔

    دوسری بات اس کم تدلیس میں بھی سفیان ثوریؒ یہ ملکہ رکھتے تھے کہ وہ صحیح حدیث کو روایت کریں اگرچہ اس کا آخری راوی یعنی سفیان کے شیخ ضعیف ہوں۔ چنانچہ علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں:
    سفيان بن سعيد الحجة الثبت، متفق عليه، مع أنه كان يدلس عن الضعفاء، ولكن له نقد وذوق، ولا عبرة لقول من قال: يدلس ويكتب عن الكذابين.
    (میزان الاعتدال)
    "سفیان بن سعید حجت ثبت ہیں، ان پر اتفاق ہے باوجود اس بات کے کہ یہ ضعفاء سے تدلیس کرتے تھے۔ لیکن ان میں پرکھنے کی صلاحیت اور (حدیث کا) ذوق تھا۔ اور اس شخص کی بات کا کوئی اعتبار نہیں ہے جس نے یہ کہا ہے: یہ تدلیس کرتے تھے اور جھوٹوں سے لکھ لیا کرتے تھے۔"
    اس آخری جملے کا پچھلی بات سے تعلق نہیں ہے جیسا کہ امیر صنعانیؒ سے تسامح ہوا ہے بلکہ یہ مستقل طور پر کسی قائل کی بات کو رد کیا ہے۔ باقی ضعفاء سے ان کی تدلیس کے بارے میں ذہبیؒ نے ان کا دفاع کیا ہے۔اسی طرح تنقیح الانظار میں محمد بن ابراہیم الوزیرؒ نے بھی ان کا دفاع کیا ہے۔
    غالباً یہی وجہ ہے کہ حافظ ابن حجرؒ نے انہیں دوسرے مرتبے میں ذکر کیا ہے جن کی روایات مقبول ہوتی ہیں۔

    لیکن میں در اصل یہ عرض کر رہا تھا کہ علم جرح و تعدیل کا قاعدہ یہ ہے کہ جرح مبہم پر تعدیل مفسر کو ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ کسی پر مطلقاً تدلیس کا الزام جرح مبہم ہے اور اس کے مقابلے میں فسویؒ کا قول کہ" ان کی روایت قبول کی جائے گی جب تک تدلیس والی ثابت نہ ہو" تعدیل مفسر ہے۔ اس بنیادی اصول کے مطابق تو ان کی اور ابو اسحاق سبیعیؒ کی روایات مقبول ہونی چاہئیں۔
    ان گزارشات پر توجہ کی درخواست ہے۔
     
  7. ‏ستمبر 29، 2017 #57
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    ایک اور بات بھی برائے توجہ و غور ہے:
    یہ جو روایت ہے جسے شعبہؒ نے ابو اسحاق سبیعی سے روایت کیا ہے، یہ تدلیس سے پاک ہے شعبہ کی وجہ سے۔ یہ تو ٹھیک ہے کہ اس میں ابو اسحاق سبیعیؒ کے استاد کا نام مذکور نہیں ہے لیکن اس میں ایک اور چیز مذکور ہے۔ وہ یہ کہ ابو اسحاق سبیعی کے جو بھی استاد ہیں انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ڈائریکٹ سنا ہے۔ یہاں یہ طے نہیں ہے کہ ابو اسحاق کے استاد کا نام شعبہ نے نہیں لیا یا انہوں نے خود نہیں لیا۔ لیکن ان کی سماعت کا ذکر موجود ہے۔ لہذا اس کا اطلاق ہر اس استاد پر ہوگا جو ابو اسحاق کے براہ راست استاد ہوں اور ان کا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سماع بھی ہو۔
    اب اگر کسی دوسری سند میں ایسے کوئی استاد آ جاتے ہیں تو اس بات کو ترجیح ہونی چاہیے کہ ابو اسحاق اور ان استاد کے درمیان اور کوئی ضعیف چھپا ہوا نہیں ہے۔ مثال کے طور پر:
    اس طریق میں ابو اسحاق کے استاد عبد الرحمان بن سعد ہیں جنہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ہے۔ شعبہ نے تو پہلے ہی وضاحت کی ہوئی ہے کہ ابو اسحاق کی اس روایت میں ان کے اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان صرف ایک واسطہ ہے اور سفیان کی یہ روایت صرف وہ واسطہ بتا رہی ہے۔
    اصل میں تدلیس کی وجہ سے روایت کو قبول نہ کرنا ایک "احتمال" کی بنیاد پر ہوتا ہے کہ "ممکن ہے" اس راوی نے بیچ میں سے ایک ضعیف واسطے کو حذف کر رکھا ہو۔ لیکن جب اس احتمال کی مخالف سمت کو ترجیح مل جائے کہ بیچ سے واسطہ غائب نہیں ہے تو یہ روایت قوی ہو جانی چاہیے۔
     
  8. ‏ستمبر 29، 2017 #58
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,340
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اس روایت کو وسیلہ کی دلیل بنانے پر ’ وہابیوں ‘ کی طرف سے تین اعتراض ہیں ، دو تحقیقی اور ایک الزامی ۔
    1۔ سند ضعیف ہے، ابو اسحاق السبیعی مدلس اور مختلط ہیں ۔
    2۔ اس روایت میں وسیلہ کا کہیں ذکر ہی نہیں ، کیونکہ پاؤں کی موچ وغیرہ کا یہ علاج عرب کے ہاں مجرب تھا ، کہ اپنے کسی بھی محبوب شخص کو پکارتے تھے ، اور خون کی گردش رواں ہوجاتی تھی ، جاہلی اشعار میں اس کی بکثرت مثالیں موجود ہیں ۔
    3۔ الزامی اعتراض یہ ہے کہ یہ روایت صحیح بھی ہو ، تو خبر واحد ہے ، اور اس روایت کو وسیلہ کی دلیل بنانے والوں کےہاں یہ قاعدہ ہے کہ عقائد میں خبر واحد حجت نہیں ہوتی ۔
    احمد رضا بریلوی صاحب کے فتاوی رضویہ میں لکھا ہوا ہے :
    (حدیث سے ثبوت ہونے میں مطالب تین قسم ہیں)جن باتوں کا ثبوت حدیث سے پایا جائے وہ سب ایک پلّہ کی نہیں ہوتیں بعض تو اس اعلٰی درجہ قوت پر ہوتی ہیں کہ جب تک حدیث مشہور، متواتر نہ ہو اُس کا ثبوت نہیں دے سکتے احاد اگرچہ کیسے ہی قوت ِسند ونہایت ِصحت پر ہوں اُن کے معاملہ میں کام نہیں دیتیں۔(عقائد میں حدیث احاد اگرچہ صحیح ہو کافی نہیں)یہ اصول عقائد اسلامیہ ہیں جن میں خاص یقین درکار، علّامہ تفتازانی رحمہ اللہ تعالٰی شرح عقائد نسفی میں فرماتے ہیں:خبر الواحد علی تقدیر اشتمالہ علٰی جمیع الشرائط المذکورۃ فی اصول الفقہ لایفید الا الظن ولاعبرۃ بالظن فی باب الاعتقادات حدیث احاد اگرچہ تمام شرائط صحت کی جامع ہو ظن ہی کا فائدہ دیتی ہے اور معاملہ اعتقادمیں ظنیات کاکچھ اعتبار نہیں۔
    مولاناعلی قاری منح الروض الازہر میں فرماتے ہیں: الاحاد لاتفید الاعتماد فی الاعتقاد (احادیث احاد دربارہ اعتقاد ناقابلِ اعتماد)۔ ( فتاوى رضویہ ج 5 ص 477 ، 478 ط رضا فاؤنڈیشن لاہور ، پاکستان)

    اس بریلوی حوالے اور اس کے ضمن میں دیگر احناف کے حوالہ جات سے یہ ثابت ہوا کہ ان کے عقائد کے باب میں اعلی درجہ[1] کی خبر واحد بھی کوئی کام نہیں دے سکتی ۔
    اوپر جتنی بھی تحریریں میری نظر سے گزری ہیں ، ان میں صرف پہلے اعتراض ( اس میں بھی اختلاط کا جواب شاید کہیں مذکور نہیں ) جواب دیا گیا ہے ، جبکہ باقی دو باتوں کی طرف سرے سے توجہ ہی نہیں کی گئی ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
    [1] اس اعلی درجہ کی وضاحت ایک اور جگہ پر فتاوی رضویہ میں موجود ہے ایگ جگہ ایک مسئلہ کی چند صور بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں : ‘‘یہ سب کا سب باب عقاید سے ہے جس میں ضعاف درکنار بخاری ومسلم کی صحیح حدیثیں بھی مردود ہیں جب تک متواتر وقطعی الدلالۃ نہ ہوں ’’ ( فتاوی رضویہ ج 5 ص 576 )
     
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  9. ‏ستمبر 29، 2017 #59
    arslanmasoom2

    arslanmasoom2 رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 24، 2017
    پیغامات:
    56
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    30

    وسیلہ پے بھی بات کر لیں گے جناب ابھی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہنا تو جائز کیو

    Sent from my GT-I9505 using Tapatalk
     
  10. ‏ستمبر 29، 2017 #60
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    جزاک اللہ خیرا
    یہ اس روایت کی درایت اور اس سے استدلال پر جرح ہے اور یہ درست ہے۔ بات یہی ہے۔
    اوپر میں نے بات صرف اس روایت کی سند کی کی ہے۔ اگر کوئی روایت مسلک کے خلاف ہو لیکن اس کی سند درست ہو تو سند کو صحیح مانتے ہوئے اس کے مخالف دلائل پیش کرنے چاہئیں۔ ہم لوگوں کا یہ عام دستور بنتا جا رہا ہے کہ ہم سند کے پیچھے لٹھ لے کر پڑ جاتے ہیں۔
    بہرحال یہ سند کو صحیح ماننا نہ ماننا خود ایک اجتہادی معاملہ ہے۔ و اللہ اعلم
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. عامر عدنان
    جوابات:
    0
    مناظر:
    159
  2. طالب العلم194
    جوابات:
    0
    مناظر:
    139
  3. محمد احمد نوید
    جوابات:
    0
    مناظر:
    427
  4. عامر عدنان
    جوابات:
    1
    مناظر:
    315
  5. محمد علی جواد
    جوابات:
    2
    مناظر:
    924

اس صفحے کو مشتہر کریں