• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَوْمَ يَفِرُّ‌ الْمَرْ‌ءُ مِنْ أَخِيهِ ﴿٣٤﴾
اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی سے۔

وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ ﴿٣٥﴾
اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے۔

وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ ﴿٣٦﴾
اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے.

لِكُلِّ امْرِ‌ئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ ﴿٣٧﴾
ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایسی فکر (دامن گیر) ہو گی جو اس کے لیے کافی ہو گی۔ (١)
٣٧۔١ یا اپنے اقربا اور احباب سے بے نیاز اور بے پروا کر دے گا۔ حدیث میں آتا ہے نبی ﷺ نے فرمایا کہ سب لوگ میدان محشر میں ننگے بدن، ننگے پیر، پیدل اور غیر مختون ہوں گے۔ حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے پوچھا، اس طرح شرم گاہوں پر نظر نہیں پڑے گی؟ آپ ﷺ نے اس کے جواب میں یہی آیت تلاوت فرمائی۔ یعنی لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ (الترمذی تفسير سورة عبس، النسائی، كتاب الجنائز، باب البعث) اس کی وجہ بعض کے نزدیک یہ ہے کہ انسان اپنے گھر والوں سے اس لی ےبھاگے گا تاکہ وہ اس کی وہ تکلیف اور شدت نہ دیکھیں جس میں وہ مبتلا ہو گا۔ بعض کہتے ہیں، اس لیے کہ انہیں علم ہو گا کہ وہ کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور ان کے کچھ کام نہیں آسکتے۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَ‌ةٌ ﴿٣٨﴾
اس دن بہت سے چہرے روشن ہوں گے۔

ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَ‌ةٌ ﴿٣٩﴾
(جو) ہنستے ہوئے اور ہشاش بشاش ہوں گے۔ (١)
٣٩۔١ یہ اہل ایمان کے چہرے ہوں گے، جنہیں ان کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں ملیں گے، جس سے انہیں اپنی اخروی سعادت و کامیابی کا یقین ہو جائے گا، جس سے ان کے چہرے خوشی سے ٹمٹماتے رہے ہوں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَ‌ةٌ ﴿٤٠﴾
اور بہت سے چہرے اس دن غبار آلود ہوں گے۔

تَرْ‌هَقُهَا قَتَرَ‌ةٌ ﴿٤١﴾
جن پر سیاہی چڑھی ہوئی ہو گی۔ (١)
٤١۔١ یعنی ذلت اور معائینہ عذاب سے ان کے چہرے غبار آلود، کدورت زدہ اور سیاہ ہوں گے، جیسے محزون اور نہایت غمگین آدمی کا چہرہ ہوتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَفَرَ‌ةُ الْفَجَرَ‌ةُ ﴿٤٢﴾
وہ یہی کافر بد کردار لوگ ہوں گے۔ (١)
٤٢۔١ یعنی اللہ کا، رسولوں کا اور قیامت کا انکار کرنے والے بھی تھے اور بد کردار اور بد اطوار بھی۔ (اللَّهُمَّ! لا تَجْعَلْنَا مِنْهُمْ)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة التکویر

(سورہ تکویر مکی ہے اور اس میں انتیس آیتیں ہیں۔ اس سورت میں بطور خاص قیامت کی منظر کشی کی گءی ہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے "جس کو یہ بات پسند ہے کہ وہ قیامت کو اس طرح دیکھے، جیسے آنکھ سے دیکھنا ہوتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ، إِذَا السَّمَاءُ انفَطَرَتْ اور إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ پڑھے" ترمذی و مسند احمد)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَ‌تْ ﴿١﴾
جب سورج لپیٹ لیا جائے گا۔ (١)
١۔١ یعنی جس طرح سر پر عمامہ لپیٹا جاتا ہے، اس طرح سورج کے وجود کو لپیٹ کر پھینک دیا جائے گا۔ جس سے اس کی روشنی از خود ختم ہو جائے گی۔ حدیث میں ہے "الشمس والقمر مكوران یوم القيامة" ( صحيح بخاری، بدء الخلق، باب صفة الشمس والقمر بحسبان) "قیامت والے دن چاند اور سورج لپیٹ دیئے جائیں گے"۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ لپیٹ کر ان دونوں کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا تاکہ مشرکین مزید ذلیل و خوار ہوں جو ان کی عبادت کرتے تھے۔ (فتح الباری، باب مذکور)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَ‌تْ ﴿٢﴾
اور جب ستارے بے نور ہو جائیں گے۔ (١)
٢۔١ دوسرا ترجمہ ہے کہ جھڑ کر گر جائیں گے یعنی آسمان پر ان کا وجود ہی نہیں رہے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَ‌تْ ﴿٣﴾
اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔ (١)
٣۔١ یعنی انہیں زمین سے اکھیڑ کر ہواؤں میں چلا دیا جائے گا اور دھنی ہوئی روئی کی طرح اڑیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِذَا الْعِشَارُ‌ عُطِّلَتْ ﴿٤﴾
اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔ (١)
٤۔١ عِشَارٌ، عُشَراءُ کی جمع ہے، حمل والیاں یعنی گابھن اونٹیناں، جب ان کا حمل دس مہینوں کا ہو جاتا ہے تو عربوں میں یہ بہت نفیس اور قیمتی سمجھیں جاتی تھیں۔ جب قیامت برپا ہو گی تو ایسا ہولناک منظر ہو گا کہ اگر کسی کے پاس اس قسم کی قیمتی اونٹنیاں بھی ہوں گی تو وہ ان کی بھی پروا نہیں کرے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَ‌تْ ﴿٥﴾
اور جب وحشی جانور اکھٹے کہے جائیں گے۔ (١)
٥۔١ یعنی انہیں بھی قیامت والے دن جمع کیا جائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِذَا الْبِحَارُ‌ سُجِّرَ‌تْ ﴿٦﴾
اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے۔ (١)
٦-۱ یعنی ان میں اللہ کے حکم سے آگ بھڑک اٹھے گی۔

وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ ﴿٧﴾
اور جب جانیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی۔ (١)
٧۔١ اس کے کئی مفہوم بیان کیے گئے ہیں۔ زیادہ قرین قیاس یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان کو اس کے ہم مذہب و ہم مشرب کےساتھ ملا دیا جائے گا۔ مومن کو مومنوں کےساتھ اور بد کو بدوں کے ساتھ، یہودی کو یہودیوں کے ساتھ اور عیسائی کو عیسائیوں کے ساتھ، وَعَلَى هَذَا الْقِيَاسِ۔
 
Top