• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ كَفَىٰ بِاللَّـهِ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ شَهِيدًا ۖ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ ۗ وَالَّذِينَ آمَنُوا بِالْبَاطِلِ وَكَفَرُ‌وا بِاللَّـهِ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُ‌ونَ ﴿٥٢﴾
کہہ دیجئے کہ مجھ میں اور تم میں اللہ تعالیٰ گواہ ہونا کافی ہے (١) وہ آسمان و زمین کی ہر چیز کا عالم ہے، جو لوگ باطل کے ماننے والے اور اللہ تعالیٰ سے کفر کرنے والے (۲) ہیں وہ زبردست نقصان اور گھاٹے میں ہیں۔ (۳)
٥٢۔١ اس بات پر کہ میں اللہ کا نبی ہوں اور جو کتاب مجھ پر نازل ہوئی ہے، یقیناً من جانب اللہ ہے۔
٥٢۔۲ یعنی غیر اللہ کو عبادت کا مستحق ٹھہراتے ہیں اور جو فی الواقع مستحق عبادت ہے، یعنی اللہ تعالیٰ، اس کا انکار کرتے ہیں۔
٥٢۔۳ کیونکہ یہی لوگ فساد عقلی اور سوء فہم میں مبتلا ہیں، اسی لیے انہوں نے جو سودا کیا ہےکہ ایمان کے بدلے کفر اور ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی ہے، اس میں بھی یہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ ۚ وَلَوْلَا أَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَاءَهُمُ الْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُ‌ونَ ﴿٥٣﴾
یہ لوگ آپ سے عذاب کی جلدی کر رہے ہیں۔ (١) اگر میری طرف سے مقرر کیا ہوا وقت نہ ہوتا تو ابھی تک ان کے پاس عذاب آ چکا ہوتا، (٢) یہ یقینی بات ہے کہ اچانک ان کی بے خبری میں ان کے پاس عذاب آ پہنچے گا۔ (۳)
٥٣۔١ یعنی پیغمبر کی بات ماننے کے بجائے، کہتے ہیں کہ اگر تو سچا ہے تو ہم پر عذاب نازل کروا دے۔
٥٣۔٢ یعنی ان کے اعمال و اقوال تو یقیناً اس لائق ہیں کہ انہیں فوراً صفحۂ ہستی سے ہی مٹا دیا جائے۔ لیکن ہماری سنت ہے کہ ہر قوم کو ایک وقت خاص تک مہلت دیتے ہیں، جب وہ مہلت عمل ختم ہو جاتی ہے تو ہمارا عذاب آ جاتا ہے۔
٥٣۔۳ یعنی جب عذاب کا وقت مقرر آ جائے گا تو اس طرح اچانک آئے گا کہ انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا، یہ وقت مقرر وہ ہے جو اس نے اہل مکہ کے لئے لکھ رکھا تھا، یعنی جنگ بدر میں اسارت و قتل، یا پھر قیامت کا وقوع ہے جس کے بعد کافروں کے لیے عذاب ہی عذاب ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِ‌ينَ ﴿٥٤﴾
یہ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں اور (تسلی رکھیں) جہنم کافروں کو گھیر لینے والی ہے۔ (۱)
٥٤۔١ پہلا يَسْتَعْجِلُونَكَ بطور خبر کے تھا اور یہ دوسرا بطور تعجب کے ہے یعنی یہ امر تعجب انگیز ہے کہ عذاب کی جگہ (جہنم) ان کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔ پھر بھی عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں؟ حالاں کہ ہر آنے والی چیز قریب ہی ہوتی ہے، اسے دور کیوں سمجھتے ہیں؟ یا پھر یہ تکرار بطور تاکید کے ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَوْمَ يَغْشَاهُمُ الْعَذَابُ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْ‌جُلِهِمْ وَيَقُولُ ذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿٥٥﴾
اس دن ان کے اوپر تلے سے انہیں عذاب ڈھانپ رہا ہو گا اور اللہ تعالیٰ (١) فرمائے گا کہ اب اپنے (بد) اعمال کا مزہ چھکو۔
٥٥۔١ يَقُولُ، کا فاعل اللہ ہے یا فرشتے، یعنی جب چاروں طرف سے ان پر عذاب ہو رہا ہو گا تو کہا جائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ أَرْ‌ضِي وَاسِعَةٌ فَإِيَّايَ فَاعْبُدُونِ ﴿٥٦﴾
اے میرے ایمان والے بندو! میری زمین بہت کشادہ ہے سو تم میری ہی عبادت کرو۔ (١)
٥٦۔١ اس میں ایسی جگہ سے، جہاں اللہ کی عبادت کرنی مشکل ہو اور دین پر قائم رہنا دوبھر ہو رہا ہو، ہجرت کرنے کا حکم ہے، جس طرح مسلمانوں نے پہلے مکہ سے حبشہ کی طرف اور پھر بعد میں مدینہ کی طرف ہجرت کی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْ‌جَعُونَ ﴿٥٧﴾
ہر جاندار موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور تم سب ہماری طرف ہی لوٹائے جاؤ گے۔ (۱)
٥۷۔١ یعنی موت کا جرعۂ تلخ تو لامحالہ ہر ایک کو پینا ہے، ہجرت کرو گے تب بھی اور نہ کرو گے تب بھی، اس لیے تمہارے لیے وطن کا، رشتے داروں کا، اور دوست احباب کا چھوڑنا مشکل نہیں ہونا چاہئے۔ موت تو تم جہاں بھی ہوں گے آجائے گی۔ البتہ اللہ کی عبادت کرتے ہوئے مرو گے تو تم اخروی نعمتوں سے شاد کام ہو گے، اس لیے کہ مر کر تو اللہ ہی کے پاس جانا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُبَوِّئَنَّهُم مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَ‌فًا تَجْرِ‌ي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ‌ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ نِعْمَ أَجْرُ‌ الْعَامِلِينَ ﴿٥٨﴾
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے انہیں ہم یقیناً جنت کے ان بالا خانوں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے چشمے بہہ رہے ہیں (١) جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، (٢) نیک کام کرنے والوں کا کیا ہی اچھا اجر ہے۔
٥٨۔١ یعنی اہل جنت کے مکانات بلند ہوں گے، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ نہریں پانی، شراب، شہد اور دودھ کی ہوں گی، علاوہ ازیں انہیں جس طرف پھیرنا چاہیں گے، ان کا رخ اسی طرف ہو جائے گا۔
٥٨۔٢ ان کے زوال کا خطرہ ہو گا، نہ انہیں موت کا اندیشہ نہ کسی اور جگہ پھر جانے کا خوف۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
الَّذِينَ صَبَرُ‌وا وَعَلَىٰ رَ‌بِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ﴿٥٩﴾
وہ جنہوں نے صبر کیا (١) اور اپنے رب تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ (٢)
٥٩۔١ یعنی دین پر مضبوطی سے قائم رہے، ہجرت کی تکلیفیں برداشت کیں، اہل و عیال اور عزیز و اقربا سے دوری کو محض اللہ کی رضا کے لیے گوارا کیا۔
٥٩۔٢ دین اور دنیا کے ہر معاملے اور حالات میں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَكَأَيِّن مِّن دَابَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِ‌زْقَهَا اللَّـهُ يَرْ‌زُقُهَا وَإِيَّاكُمْ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴿٦٠﴾
اور بہت سے جانور (١) ہیں جو اپنی روزی اٹھائے نہیں پھرتے، (٢) ان سب کو اور تمہیں بھی اللہ تعالیٰ ہی روزی دیتا ہے، (۳) وہ بڑا ہی سننے والا ہے۔ (٤)
٦٠۔١ كَأَيِّنْ میں کاف تشبیہ کا ہے اور معنی ہیں کتنے ہی یا بہت سے۔
٦٠۔٢ کیونکہ اٹھا کر لے جانے کی ان میں ہمت ہی نہیں ہوتی، اسی طرح وہ ذخیرہ بھی نہیں کر سکتے۔ مطلب یہ ہے کہ رزق کسی خاص جگہ کے ساتھ مختص نہیں ہے بلکہ اللہ کا رزق اپنی مخلوق کے لیے عام ہے وہ جو بھی ہو اور جہاں بھی ہو بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہجرت کو جانے والے صحابہ رضی الله عنہم کو پہلے سے کہیں زیادہ وسیع اور پاکیزہ رزق عطا فرمایا، نیز تھوڑے ہی عرصے کے بعد انہیں عرب کے متعدد علاقوں کا حکمران بنا دیا۔ رضی الله عنہم أَجْمَعِينَ.
٦٠۔۳ یعنی کمزور ہے یا طاقتور، اسباب و وسائل سے بہرہ ور ہے یا بے بہرہ، اپنے وطن میں ہے یا مہاجر اور بے وطن، سب کا روزی رساں وہی اللہ ہے جو چیونٹی کو زمین کے کونوں کھدروں میں، پرندوں کو ہواؤں میں اور مچھلیوں اور دیگر آبی جانوروں کو سمندر کی گہرائیوں میں روزی پہنچاتا ہے۔ اس موقع پر مطلب یہ ہے کہ فقر و فاقہ کا ڈر ہجرت میں رکاوٹ نہ بنے، اس لہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اور تمام مخلوقات کی روزی کا ذمے دار ہے۔
٦٠۔٤ وہ جاننے والا ہے تمہارے اعمال و افعال کو اور تمہارے ظاہر و باطن کو، اس لیے صرف اسی سے ڈرو، اس کے سوا کسی سے مت ڈرو! اسی کی اطاعت میں سعادت و کمال ہے اور اس کی معصیت میں شقاوت و نقصان۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ وَسَخَّرَ‌ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ‌ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ ۖ فَأَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ ﴿٦١﴾
اور اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ زمین و آسمان کا خالق اور سورج اور چاند کو کام میں لگانے والا کون ہے؟ تو ان کا جواب یہی ہو گا کہ اللہ تعالیٰ، (١) پھر کدھر الٹے جا رہے ہیں۔ (٢)
٦١۔١ یہ مشرکین کے اعتراض کا جواب ہے جو وہ مسلمانوں پر کرتے تھے کہ اگر تم حق پر ہو تو پھر غریب اور کمزور کیوں ہو؟ اللہ نے فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور کمی اللہ کے اختیار میں ہے وہ اپنی حکمت و مشیت کے مطابق جس کو چاہتا ہے کم یا زیادہ دیتا ہے، اس کا تعلق اس کی رضا مندی یا غضب سے نہیں ہے۔
٦١۔۲ اس کو بھی وہی جانتا ہے کہ زیادہ رزق کس کے لیے بہتر ہے اور کس کے لیے نہیں؟
 
Top