• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّـهُ وَرَ‌سُولُهُ أَمْرً‌ا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَ‌ةُ مِنْ أَمْرِ‌هِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ اللَّـهَ وَرَ‌سُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا ﴿٣٦﴾
اور (دیکھو) کسی مومن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے بعد کسی امر کا کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا، (١) (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں پڑے گا۔
٣٦۔١ یہ آیت حضرت زینب رضی الله عنہا کے نکاح کے سلسلے میں نازل ہوئی تھی۔ حضرت زید بن حارثہ رضی الله عنہ، جو اگرچہ اصلاً عرب تھے، لیکن کسی نے انہیں بچپن میں زبردستی پکڑ کر بطور غلام بیچ دیا تھا۔ نبی کریم ﷺ سے حضرت خدیجہ رضی الله عنہا کے نکاح کے بعد حضرت خدیجہ رضی الله عنہا نے انہیں رسول اللہ ﷺ کو ہبہ کر دیا تھا۔ آپ ﷺ نے انہیں آزاد کرکے اپنا بیٹا بنا لیا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے نکاح کے لیے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب رضی الله عنہا کو نکاح کا پیغام بھیجا، جس پر انہیں اور ان کے بھائی کو خاندانی وجاہت کی بناء پر تامل ہوا، کہ زید رضی الله عنہ ایک آزاد کردہ غلام ہیں اور ہمارا تعلق ایک اونچے خاندان سے ہے۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اور رسول کے فیصلے کے بعد کسی مومن مرد اور عورت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنا اختیار بروئے کار لائے۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ سر تسلیم خم کر دے۔ چنانچہ یہ آیت سننے کے بعد حضرت زینب رضی الله عنہا وغیرہ نے اپنی رائے پر اصرار نہیں کیا اور ان کا باہم نکاح ہو گیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّـهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّـهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّـهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ ۖ فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرً‌ا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَ‌جٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرً‌ا ۚ وَكَانَ أَمْرُ‌ اللَّـهِ مَفْعُولًا ﴿٣٧﴾
(یاد کرو) جب کہ تو اس شخص سے کہہ رہا تھا کہ جس پر اللہ نے بھی انعام کیا اور تو نے بھی کہ تو اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھ اور اللہ سے ڈر اور تو اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور تو لوگوں سے خوف کھاتا تھا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس کا زیادہ حق دار تھا کہ تو اس سے ڈرے، (١) پس جب کہ زید نے اس عورت سے اپنی غرض پوری کر لی (۲) ہم نے اسے تیرے نکاح میں دے دیا (۳) تاکہ مسلمانوں پر اپنے لے پالک بیویوں کے بارے میں کسی طرح تنگی نہ رہے جب کہ وہ اپنی غرض ان سے پوری کر لیں، (٤) اللہ کا (یہ) حکم تو ہو کر ہی رہنے والا تھا۔ (۵)
٣٧۔١ لیکن چونکہ ان کے مزاج میں فرق تھا، بیوی کے مزاج میں خاندانی نسب و شرف رچا ہوا تھا، جب کہ زید رضی الله عنہ کے دامن پر غلامی کا داغ تھا، ان کی آپس میں ان بن رہتی تھی جس کا تذکرہ حضرت زید رضی الله عنہ نبی کریم ﷺ سے کرتے رہتے تھے اور طلاق کا عندیہ بھی ظاہر کرتے۔ لیکن نبی کریم ﷺ ان کو طلاق دینے سے روکتے اور نباہ کرنے کی تلقین فرماتے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس پیش گوئی سے بھی آگاہ فرما دیا تھا کہ زید رضی الله عنہ کی طرف سے طلاق واقع ہو کر رہے گی اور اس کے بعد زینب رضی الله عنہا کا نکاح آپ سے کر دیا جائے گا تاکہ جاہلیت کی اس رسم تبنیت پر ایک کاری ضرب لگا کر واضح کر دیا جائے کہ منہ بولا بیٹا، احکام شرعیہ میں حقیقی بیٹے کی طرح نہیں ہے اور اس کی مطلقہ سے نکاح جائز ہے۔ اس آیت میں ان ہی باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ حضرت زید رضی الله عنہ پر اللہ کا انعام یہ تھا کہ انہیں قبول اسلام کی توفیق دی اور غلامی سے نجات دلائی، نبی کریم ﷺ کا احسان ان پر یہ تھا کہ ان کی دینی تربیت کی۔ ان کو آزاد کرکے اپنا بیٹا قرار دیا اور اپنی پھوپھی امیمہ بنت عبدالمطلب کی لڑکی سے ان کا نکاح کرا دیا۔ دل میں چھپانے والی بات یہی تھی جو آپ کو حضرت زینب رضی الله عنہا سے نکاح کی بابت بذریعہ وحی بتلائی گئی تھی، آپ ﷺ ڈرتے اس بات سے تھے کہ لوگ کہیں گے اپنی بہو سے نکاح کر لیا۔ حالانکہ جب اللہ کو آپ کے ذریعے سے اس رسم کا خاتمہ کرنا تھا تو پھر لوگوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ آپ ﷺ کا یہ خوف اگرچہ فطری تھا، اس کے باوجود آپ ﷺ کو تنبیہ فرمائی گئی۔ ظاہر کرنے سے مراد یہی ہے کہ یہ نکاح ہو گیا، جس سے یہ بات سب کے ہی علم میں آجائے گی۔
٣٧۔٢ یعنی نکاح کے بعد طلاق دی اور حضرت زینب رضی الله عنہا عدت سے فارغ ہو گئیں۔
٣٧۔٣ یعنی یہ نکاح معروف طریقے کے برعکس صرف اللہ کے حکم سے نکاح قرار پا گیا، نکاح خوانی، ولایت، حق مہر اور گواہوں کے بغیر ہی۔
٣٧۔٤ یہ حضرت زینب رضی الله عنہا سے، نبی کریم ﷺ کے نکاح کی علت ہے کہ آئندہ کوئی مسلمان اس بارے میں تنگی محسوس نہ کرے اور حسب ضرورت اقتضا لے پالک بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح کیا جا سکے۔
۳۷۔۵ یعنی پہلے سے ہی تقدیر الٰہی میں تھا جو بہرصورت ہو کر رہنا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَّا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنْ حَرَ‌جٍ فِيمَا فَرَ‌ضَ اللَّـهُ لَهُ ۖ سُنَّةَ اللَّـهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلُ ۚ وَكَانَ أَمْرُ‌ اللَّـهِ قَدَرً‌ا مَّقْدُورً‌ا ﴿٣٨﴾
جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے مقرر کی ہیں ان میں نبی پر کوئی حرج نہیں، (١) (یہی) اللہ کا دستور ان میں بھی رہا جو پہلے ہوئے (٢) اور اللہ تعالیٰ کے کام اندازے پر مقرر کیے ہوئے ہیں۔ (۳)
٣٨۔١ یہ اسی واقعہ نکاح زینب رضی الله عنہا کی طرف اشارہ ہے، چونکہ یہ نکاح آپ ﷺ کے لیے حلال تھا، اس لیے اس میں کوئی گناہ اور تنگی والی بات نہیں ہے۔
٣٨۔٢ یعنی گزشتہ انبیا علیہم السلام بھی ایسے کاموں کے کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر فرض قرار دیئے جاتے تھے چاہے قومی اور عوامی رسم و رواج ان کے خلاف ہی ہوتے۔
۳۸۔۳ یعنی خاص حکمت و مصلحت پر مبنی ہوتے ہیں، دنیوی حکمرانوں کی طرح وقتی اور فوری ضرورت پر مشتمل نہیں ہوتے، اسی طرح ان کا وقت بھی مقرر ہوتا ہے جس کے مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
الَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِ‌سَالَاتِ اللَّـهِ وَيَخْشَوْنَهُ وَلَا يَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا اللَّـهَ ۗ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ حَسِيبًا ﴿٣٩﴾
یہ سب ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچایا کرتے تھے اور اللہ ہی سے ڈرتے تھے اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے تھے، (۱) اور اللہ تعالیٰ حساب لینے کے لیے کافی ہے۔ (۲)
٣٩۔١ اس لیے کسی کا ڈر یا سطوت انہیں اللہ کا پیغام پہچانے میں مانع بنتا تھا نہ طعن و ملامت کی انہیں پروا ہوتی تھی۔
٣٩۔۲ یعنی ہر جگہ وہ اپنے علم اور قدرت کے لحاظ سے موجود ہے، اس لیے وہ اپنے بندوں کی مدد کے لیے کافی ہے اور اللہ کے دین کی تبلیغ و دعوت میں انہیں جو مشکلات آتی ہیں، ان میں وہ ان کی چارہ سازی فرماتا اور دشمنوں کے مذموم ارادوں اور سازشوں سے انہیں بچاتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّ‌جَالِكُمْ وَلَـٰكِن رَّ‌سُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ﴿٤٠﴾
(لوگو!) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نہیں (١) لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے، (٢) اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا (بخوبی) جاننے والا ہےـ
٤۰۔١ اس لیے وہ زید بن حارثہ رضی الله عنہ کے بھی باپ نہیں ہیں، جس پر انہیں مورد طعن بنایا جا سکے کہ انہوں نے اپنی بہو سے نکاح کیوں کرلیا؟ ایک زید رضی الله عنہ ہی کیا، وہ تو کسی بھی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ کیونکہ زید رضی الله عنہ تو حارثہ کے بیٹے تھے، آپ ﷺ نے تو انہیں منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا اور جاہلی دستور کے مطابق انہیں زید بن محمد کہا جاتا تھا، حقیقتاً وہ آپ ﷺ کے صلبی بیٹے نہیں تھے۔ اس لیے ﴿ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ ﴾ کے نزول کے بعد انہیں زید بن حارثہ رضی الله عنہ ہی کہا جاتا تھا، علاوہ ازیں حضرت خدیجہ رضی الله عنہا سے آپ ﷺ کے تین بیٹے، قاسم، طاہر، طیب ہوئے اور ایک ابراہیم بچہ ماریہ قبطیہ رضی الله عنہا کے بطن سے ہوا۔ لیکن یہ سب کے سب بچپن میں ہی فوت ہو گئے، ان میں سے کوئی بھی عمر رجولیت کو نہیں پہنچا۔ بنا بریں آپ ﷺ کی صلبی اولاد میں سے بھی کوئی مرد نہیں بنا کہ جس کے آپ باپ ہوں (ابن کثیر)
٤۰۔۲ خَاتَمٌ مہر کو کہتے ہیں اور مہر آخری عمل ہی کو کہا جاتا ہے۔ یعنی آپ ﷺ پر نبوت و رسالت کا خاتمہ کر دیا گیا، آپ ﷺ کے بعد جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا، وہ نبی نہیں کذاب و دجال ہو گا۔ احادیث میں اس مضمون کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اور اس پر پوری امت کا اجماع و اتفاق ہے۔ قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ عليہ السلام کا نزول ہو گا، جو صحیح اور متواتر روایات سے ثابت ہے، تو وہ نبی کی حیثیت سے نہیں آئیں گے بلکہ نبی کریم ﷺ کے امتی بن کر آئیں گے، اس لیے ان کا نزول عقیدہ آخرت نبوت کے منافی نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُ‌وا اللَّـهَ ذِكْرً‌ا كَثِيرً‌ا ﴿٤١﴾
مسلمانو! اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت زیادہ کیا کرو۔

وَسَبِّحُوهُ بُكْرَ‌ةً وَأَصِيلًا ﴿٤٢﴾
اور صبح و شام اس کی پاکیزگی بیان کرو۔

هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ لِيُخْرِ‌جَكُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ‌ ۚ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَ‌حِيمًا ﴿٤٣﴾
وہی ہے جو تم پر رحمتیں بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے (تمہارے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں) تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لے جائے اور اللہ تعالیٰ مومنوں پر بہت ہی مہربان ہے۔

تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ سَلَامٌ ۚ وَأَعَدَّ لَهُمْ أَجْرً‌ا كَرِ‌يمًا ﴿٤٤﴾
جس دن یہ (اللہ سے) ملاقات کریں گے ان کا تخفہ سلام ہو گا، (١) ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے با عزت اجر تیار کر رکھا ہے۔
٤٤۔١ یعنی جنت میں فرشتے اہل ایمان کو یا مومن آپس میں ایک دوسرے کو سلام کریں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْ‌سَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرً‌ا وَنَذِيرً‌ا ﴿٤٥﴾
اے نبی! یقیناً ہم نے ہی آپ کو (رسول بنا کر) گواہیاں دینے والا، (١) خوشخبریاں سنانے والا، آگاہ کرنے والا بھیجا ہے۔
٤۵۔۱ بعض لوگ شاہد کے معنی حاضر و ناظر کے کرتے ہیں جو قرآن کی تحریف معنوی ہے۔ نبی کریم ﷺ اپنی امت کی گواہی دیں گے، ان کی بھی جو آپ ﷺ پر ایمان لائے اور ان کی بھی جنہوں نے تکذیب کی۔ آپ ﷺ قیامت والے دن اہل ایمان کو ان کے اعضائے وضو سے پہنچان لیں گے جو چمکتے ہوں گے، اسی طرح آپ ﷺ دیگر انبیا علیہم السلام کی گواہی دیں گے کہ انہوں نے اپنی اپنی قوموں کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا اور یہ گواہی اللہ کے دیئے ہوئے یقینی علم کی بنیاد پر ہو گی۔ اس لیے نہیں کہ آپ ﷺ تمام انبیا علیہم السلام کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہے ہیں، یہ عقیدہ تو نصوص قرآنی کے خلاف ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَدَاعِيًا إِلَى اللَّـهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَ‌اجًا مُّنِيرً‌ا ﴿٤٦﴾
اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ۔ (١)
٤٦۔١ جس طرح چراغ سے اندھیرے دور ہو جاتے ہیں، اسی طرح آپ ﷺ کے ذریعے سے کفر و شرک کی تاریکیاں دور ہوئیں۔ علاوہ ازیں اس چراغ سے کسب ضیا کرکے جو کمال و سعادت حاصل کرنا چاہے، کر سکتا ہے۔ اس لیے کہ یہ چراغ قیامت تک روشن ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَبَشِّرِ‌ الْمُؤْمِنِينَ بِأَنَّ لَهُم مِّنَ اللَّـهِ فَضْلًا كَبِيرً‌ا ﴿٤٧﴾
آپ مومنوں کو خوشخبری سنا دیجئے! کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہے۔

وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِ‌ينَ وَالْمُنَافِقِينَ وَدَعْ أَذَاهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ وَكِيلًا ﴿٤٨﴾
اور کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ مانیئے! اور جو ایذاء (ان کی طرف سے پہنچے) اس کا خیال بھی نہ کیجئے اللہ پر بھروسہ کیے رہیں، اور کافی ہے اللہ تعالیٰ کام بنانے والا۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا ۖ فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّ‌حُوهُنَّ سَرَ‌احًا جَمِيلًا ﴿٤٩﴾
اے مومنو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر ہاتھ لگانے سے پہلے (ہی) طلاق دے دو تو ان پر تمہارا کوئی حق عدت کا نہیں جسے تم شمار کرو، (١) پس تم کچھ نہ کچھ انہیں دے دو (۲) پھر بھلے طریق پر انہیں رخصت کر دو۔ (۳)
٤٩۔١ نکاح کے بعد جن عورتوں سے ہم بستری کی جا چکی ہو اور وہ ابھی جوان ہوں، ایسی عورتوں کو طلاق مل جائے تو ان کی عدت تین حیض ہے۔ (البقرۃ: ۲۲۸) یہاں ان عورتوں کو حکم بیان کیا جا رہا ہے کہ جن سے نکاح ہوا ہے لیکن میاں بیوی کے درمیان ہم بستری نہیں ہوئی۔ ان کو اگر طلاق ہو جائے تو کوئی عدت نہیں ہے یعنی ایسی غیر مدخولہ مطلقہ بغیر عدت گزارے فوری طور پر کہیں نکاح کرنا چاہے، تو کر سکتی ہے، البتہ اگر ہم بستری سے قبل خاوند فوت ہو جائے تو پھر اسے ۴ مہینے ۱۰ دن ہی عدت گزارنی پڑے گی۔ (فتح القدیر، ابن کثیر) چھونا یا ہاتھ لگانا، یہ کنایہ ہے جماع (ہم بستری) سے۔ نکاح کا لفظ خاص جماع اور عقد زواج دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہاں عقد کے معنی میں ہے۔ اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہے۔ اس لیے کہ یہاں نکاح کے بعد طلاق کا ذکر ہے۔ اس لیے جو فقہا اس بات کے قائل ہیں کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اگر فلاں عورت سے میں نے نکاح کیا تو اسے طلاق، تو ان کے نزدیک اس عورت سے نکاح ہوتے ہی طلاق واقع ہو جائے گی۔ اسی طرح بعض جو یہ کہتے ہیں کہ اگر وہ یہ کہے کہ میں نے کسی بھی عورت سے نکاح کیا تو اسے طلاق، تو جس عورت سے بھی نکاح کرے گا، طلاق واقع ہو جائے گی۔ یہ بات صحیح نہیں ہے۔ حدیث میں بھی وضاحت ہے۔ لا طَلاقَ قَبْلَ نِكَاحٍ (ابن ماجہ) لا طَلاقَ لابْنِ آدَمَ فِيمَا لا يَمْلِكُ (أبو داود، باب في الطلاق قبل النكاح، ترمذی، ابن ماجہ ومسند أحمد ۲ /۱۸۹) اس سے واضح ہے کہ نکاح سے قبل طلاق، ایک فعل عبث ہے جس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔
٤٩۔٢ یہ متعہ، اگر مہر مقرر کیا گیا ہو تو نصف مہر ہے ورنہ حسب توفیق کچھ دے دیا جائے۔
٤۹۔۳ یعنی انہیں عزت و احترام سے ، بغیر کوئی ایذاء پہنچائے علیحدہ کر دیا جائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَ‌هُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّـهُ عَلَيْكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالَاتِكَ اللَّاتِي هَاجَرْ‌نَ مَعَكَ وَامْرَ‌أَةً مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَ‌ادَ النَّبِيُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا خَالِصَةً لَّكَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۗ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَ‌ضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ لِكَيْلَا يَكُونَ عَلَيْكَ حَرَ‌جٌ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورً‌ا رَّ‌حِيمًا ﴿٥٠﴾
اے نبی! ہم نے تیرے لیے تیری وہ بیویاں حلال کر دی ہیں جنہیں تو ان کے مہر دے چکا ہے (۱) اور وہ لونڈیاں بھی جو اللہ تعالیٰ نے غنیمت میں تجھے دی ہیں (۲) اور تیرے چچا کی لڑکیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموں کی بیٹیاں اور تیری خالاؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے، (۳) اور وہ باایمان عورت جو اپنا نفس نبی کو ہبہ کر دے یہ اس صورت میں کہ خود نبی بھی اس سے نکاح کرنا چاہے، (٤) یہ خاص طور پر صرف تیرے لیے ہی ہے اور مومنوں کے لیے نہیں، (۵) ہم اسے بخوبی جانتے ہیں جو ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں (احکام) مقرر کر رکھے ہیں، (٦) یہ اس لیے کہ تجھ پر حرج واقع نہ ہو، (۷) اللہ تعالیٰ بہت بخشنے اور بڑے رحم والا ہے۔
٥٠۔١ بعض احکام شرعیہ میں نبی کریم ﷺ کو امتیاز حاصل تھا، جنہیں آپ ﷺ کی خصوصیات کہا جاتا ہے۔ مثلاً اہل علم کی ایک جماعت کے بقول قیام اللیل (تہجد) آپ ﷺ پر فرض تھا، صدقہ آپ ﷺ پر حرام تھا، اسی طرح کی بعض خصوصیات کا ذکر قرآن کریم کے اس مقام پر کیا گیا ہے جن کا تعلق نکاح سے ہے۔ 1. جن عورتوں کو آپ ﷺ نے مہر دیا ہے، وہ حلال ہیں چاہے تعداد میں وہ کتنی ہی ہوں اور آپ ﷺ نے حضرت صفیہ رضی الله عنہا اور جویریہ رضی الله عنہا کا مہر ان کی آزادی کو قرار دیا تھا، ان کے علاوہ بصورت نقد سب کو مہر ادا کیا تھا۔ صرف ام حبیبہ رضی الله عنہا کا مہر نجاشی نے اپنی طرف سے دیا تھا۔
۵۰۔۲ چنانچہ حضرت صفیہ رضی الله عنہا اور جویریہ رضی الله عنہا ملکیت میں آئیں جنہیں آپ ﷺ نے آزاد کر کے نکاح کر لیا، اور ریحانہ رضی الله عنہا اور ماریہ قبطیہ رضی الله عنہا یہ بطور لونڈی آپ کے پاس رہیں۔
۵۰۔۳ اس کا مطلب ہے کہ جس طرح آپ ﷺ نے ہجرت کی، اسی طرح انہوں نے بھی مکے سے مدینہ ہجرت کی۔ کیونکہ آپ ﷺ کے ساتھ تو کسی عورت نے بھی ہجرت نہیں کی تھی۔
۵۰۔٤ یعنی اپنے آپ ﷺ کو ہبہ کرنے والی عورت، اگر آپ ﷺ اس سے نکاح کرنا پسند فرمائیں تو بغیر مہر کے آپ ﷺ کے لیے اسے اپنے نکاح میں رکھنا جائزہے۔
٥٠۔۵ یہ اجازت صرف آپ ﷺ کے لیے ہے۔ دیگر مومنوں کے لیے تو ضروری ہے کہ وہ حق مہر، ادا کریں، تب نکاح جائز ہو گا۔
٥٠۔٦ یعنی عقد کے جو شرائط اور حقوق ہیں جو ہم نے فرض کئے ہیں کہ مثلاً چار سے زیادہ عورتیں بیک وقت کوئی شخص اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکتا، نکاح کے لیے ولی، گواہ اور حق مہر ضروری ہے۔ البتہ لونڈیاں جتنی کوئی چاہے، رکھ سکتا ہے، تاہم آج کل لونڈیوں کا مسئلہ تو ختم ہے۔
٥٠۔۷ اس کا تعلق ﴿إِنَّا أَحْلَلْنَا﴾ سے ہے یعنی مذکورہ تمام عورتوں کی آپ ﷺ کے لیے حلت اس لیے ہے تاکہ آپ ﷺ کو تنگی محسوس نہ ہو اور آپ ﷺ ان میں سے کسی کے ساتھ نکاح میں گناہ نہ سمجھیں۔
 
Top