• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانَت تَّأْتِيهِمْ رُ‌سُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَكَفَرُ‌وا فَأَخَذَهُمُ اللَّـهُ ۚ إِنَّهُ قَوِيٌّ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴿٢٢﴾
یہ اس وجہ سے کہ ان کے پاس پیغمبر معجزے لے لے کر آتے تھے تو وہ انکار کر دیتے تھے، (١) پس اللہ انہیں پکڑ لیتا تھا۔ یقیناً وہ طاقتور اور سخت عذاب والا ہے۔
٢٢۔١ یہ ان کی ہلاکت کی وجہ بیان کی گئی ہے، اور وہ ہے اللہ کی آیتوں کا انکار اور پیغمبروں کی تکذیب۔ اب سلسلۂ نبوت و رسالت تو بند ہے تاہم آفاق و انفس میں بے شمار آیات الٰہی بکھری اور پھیلی ہوئی ہیں۔ علاوہ ازیں وعظ و تذکیر اور دعوت و تبلیغ کے ذریعے سے علما اور داعیان حق ان کی وضاحت اور نشان دہی کے لیے موجود ہیں۔ اس لیے آج بھی جو آیات الٰہی سے اعراض اور دین و شریعت سے غفلت کرے گا، اس کا انجام مکذبین اور منکرین رسالت سے مختلف نہیں ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ أَرْ‌سَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُّبِينٍ ﴿٢٣﴾
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی آیتوں اور کھلی دلیلوں کے ساتھ بھیجا۔ (۱)
۲۳۔۱ آیات سے مراد وہ نو نشانیاں بھی ہو سکتی ہیں جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے، یا عصا اور ید بیضا والے دو بڑے واضح معجزات بھی سُلْطَانٍ مُبِينٍ سے مراد قوی دلیل اور حجت واضحہ، جس کا کوئی جواب ان کی طرف سے ممکن نہیں تھا، بجز ڈھٹائی اور بے شرمی کے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِلَىٰ فِرْ‌عَوْنَ وَهَامَانَ وَقَارُ‌ونَ فَقَالُوا سَاحِرٌ‌ كَذَّابٌ ﴿٢٤﴾
فرعون ہامان اور قارون کی طرف تو انہوں نے کہا (یہ تو) جادوگر اور جھوٹا ہے۔
۲٤۔۱ فرعون، مصر میں آباد قبط کا بادشاہ تھا، بڑا ظالم و جابر اور رب اعلیٰ ہونے کا دعوے دار۔ اس نے حضرت موسیٰ (عليہ السلام) کی قوم بنی اسرائیل کوغلام بنا رکھا تھا اور اس پر طرح طرح کی سختیاں کرتا تھا، جیساکہ قرآن کے متعدد مقامات پر اس کی تفصیل ہے۔ ہامان، فرعون کا وزیر اور مشیر خاص تھا۔ قارون اپنے وقت کامال دار ترین آدمی تھا،ان سب نے پہلے لوگوں کی طرح حضرت موسیٰ (عليہ السلام) کی تکذیب کی اور انہیں جادوگر اور کذاب کہا۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا گیا ﴿َذَلِكَ مَا أَتَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلا قَالُوا سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ، أَتَوَاصَوْا بِهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ﴾ (سورة الذاريات: ۵۲-۵۳) ”اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں، ان کے پاس جو بھی نبی آیا۔ انہوں نے کہہ دیا کہ یا تو یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔ کیا یہ اس بات کی ایک دوسرے کو وصیت کرتے گئے ہیں؟ نہیں بلکہ یہ سب کے سب سرکش ہیں“۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَلَمَّا جَاءَهُم بِالْحَقِّ مِنْ عِندِنَا قَالُوا اقْتُلُوا أَبْنَاءَ الَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ وَاسْتَحْيُوا نِسَاءَهُمْ ۚ وَمَا كَيْدُ الْكَافِرِ‌ينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ ﴿٢٥﴾
پس جب ان کے پاس (موسیٰ علیہ السلام) ہماری طرف سے (دین) حق لے کر آئے تو انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ جو ایمان والے ہیں ان کے لڑکوں کو تو مار ڈالو اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھو (۱) اور کافروں کی جو حیلہ سازی ہے وہ غلطی میں ہی ہے۔ (۲)
٢٥۔١ فرعون یہ کام پہلے بھی کر رہا تھا تاکہ وہ بچہ پیدا نہ ہو، جو نجومیوں کی پیش گوئی کے مطابق، اس کی بادشاہت کے لیے خطرے کا باعث تھا۔ یہ دوبارہ حکم اس نے حضرت موسیٰ عليہ السلام کی تذلیل و اہانت کے لیے دیا، نیز تاکہ بنی اسرائیل موسیٰ عليہ السلام کے وجود کو اپنے لیے مصیبت اور نحوست کا باعث سمجھیں، جیسا کہ فی الواقع انہوں نے کہا ﴿أُوذِينَا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَأْتِيَنَا وَمِنْ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا﴾ (الأعراف: ۱۲۹) ”اے موسیٰ (عليہ السلام) تیرے آنے سے قبل بھی ہم اذیتوں سے دوچار تھے اور تیرے آنے کے بعد بھی ہمارا یہی حال ہے“۔
٢٥۔١ یعنی اس سے جو مقصد وہ حاصل کرنا چاہتا تھا کہ بنی اسرائیل کی قوت میں اضافہ اور اس کی عزت میں کمی نہ ہو۔ یہ اسے حاصل نہیں ہوا، بلکہ اللہ نے فرعون اور اس کی قوم کو ہی غرق کر دیا اور بنی اسرائیل کو بابرکت زمین کا وارث بنا دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَالَ فِرْ‌عَوْنُ ذَرُ‌ونِي أَقْتُلْ مُوسَىٰ وَلْيَدْعُ رَ‌بَّهُ ۖ إِنِّي أَخَافُ أَن يُبَدِّلَ دِينَكُمْ أَوْ أَن يُظْهِرَ‌ فِي الْأَرْ‌ضِ الْفَسَادَ ﴿٢٦﴾
اور فرعون نے کہا مجھے چھوڑو کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو مار ڈالوں (١) اور اسے چاہیے کہ اپنے رب کو پکارے، (٢) مجھے تو ڈر ہے کہ یہ کہیں تمہارا دین نہ بدل ڈالے یا ملک میں کوئی (بہت بڑا) فساد برپا نہ کر دے۔ (۳)
٢٦۔١ یہ غالباً فرعون نے ان لوگوں سے کہا جو اسے موسیٰ (عليہ السلام) کو قتل کرنے سے منع کرتے تھے۔
٢٦۔٢ یہ فرعون کی دیدہ دلیری کا اظہارہے کہ میں دیکھوں گا، اس کا رب اسے کیسے بچاتا ہے، اسے پکار کر دیکھ لے۔ یا رب ہی کا انکار ہے کہ اس کا کون سا رب ہے جو بچا لے گا، کیونکہ رب تو وہ اپنے آپ کو کہتا تھا۔
٢٦۔۳ یعنی غیر اللہ کی عبادت سے ہٹا کر ایک اللہ کی عبادت پر نہ لگا دے یا اس کی وجہ سے فساد نہ پیدا ہو جائے۔ مطلب یہ تھا کہ اس کی دعوت اگر میری قوم کے کچھ لوگوں نے قبول کر لی، تو وہ نہ قبول کرنے والوں سے بحث و تکرار کریں گے جس سے ان کے درمیان لڑائی جھگڑا ہو گا جو فساد کا ذریعہ بنے گا یوں دعوت توحید کو اس نے فساد کا سبب اور اہل توحید کو فسادی قرار دیا۔ دراں حالیکہ فسادی وہ خود تھا اور غیر اللہ کی عبادت ہی فساد کی جڑ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَالَ مُوسَىٰ إِنِّي عُذْتُ بِرَ‌بِّي وَرَ‌بِّكُم مِّن كُلِّ مُتَكَبِّرٍ‌ لَّا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ ﴿٢٧﴾
موسٰی (علیہ السلام) نے کہا میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ میں آتا ہوں ہر اس تکبر کرنے والے شخص (کی برائی) سے جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا۔ (۱)
۲۷۔۱ حضرت موسیٰ عليہ السلام کے علم میں جب یہ بات آئی کہ فرعون مجھے قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو انہوں نے اللہ سے اس کے شر سے بچنے کے لیے دعا مانگی۔ نبی ﷺ کو جب دشمن کا خوف ہوتا تو یہ دعا پڑھتے [اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهُمْ وَنعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ] (مسند أحمد ۴ /۴۱۵) ”اے اللہ ! ہم تجھ کو ان کے مقابلے میں کرتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں“۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَالَ رَ‌جُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْ‌عَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَ‌جُلًا أَن يَقُولَ رَ‌بِّيَ اللَّـهُ وَقَدْ جَاءَكُم بِالْبَيِّنَاتِ مِن رَّ‌بِّكُمْ ۖ وَإِن يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ ۖ وَإِن يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُم بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ ۖ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِ‌فٌ كَذَّابٌ ﴿٢٨﴾
اور ایک مومن شخص نے، جو فرعون کے خاندان میں سے تھا اور اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، کہا کہ تم ایک شخص کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور تمہارے رب کی طرف سے دلیلیں لے کر آیا ہے، (١) اگر وہ جھوٹا ہو تو اس کا جھوٹ اسی پر ہے اور اگر وہ سچا ہو، تو جس (عذاب) کا وہ تم سے وعدہ کر رہا ہے اس میں کچھ نہ کچھ تو تم پر آپڑے گا، (۲) اللہ تعالیٰ اس کی رہبری نہیں کرتا جو حد سے گزر جانے والے اور جھوٹے ہوں۔ (۳)
٢٨۔١ یعنی اللہ کی ربوبیت پر وہ ایمان یوں ہی نہیں رکھتا، بلکہ اس کے پاس اپنے اس موقف کی واضح دلیلیں ہیں۔
٢٨۔٢ یہ اس نے بطور تنزل کے کہا، کہ اگر اس کے دلائل سے تم مطمئن نہیں اور اس کی صداقت اور اس کی دعوت کی صحت تم پر واضح نہیں ہوئی، تب بھی عقل و دانش اور احتیاط کا تقاضا ہے کہ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے، اس سے تعرض نہ کیا جائے۔ اگر وہ جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ خود ہی اسے اس جھوٹ کی سزا دنیا و آخرت میں دے دے گا۔ اور اگر وہ سچا ہے اور تم نے اسے ایذائیں پہنچائیں تو پھر یقیناً وہ تمہیں جن عذابوں سے ڈراتا ہے، تم پران میں سے کوئی عذاب آ سکتا ہے۔
٢٨۔۳ اس کا مطلب ہے کہ اگروہ جھوٹا ہوتا (جیسا کہ تم باور کراتے ہو) تو اللہ تعالیٰ اسے دلائل و معجزات سے نہ نوازتا، جب کہ اس کے پاس یہ چیزیں موجود ہیں۔ دوسرا مطلب ہے کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ خود ہی اسے ذلیل اور ہلاک کر دے گا، تمہیں اس کے خلاف کوئی اقدام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَا قَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظَاهِرِ‌ينَ فِي الْأَرْ‌ضِ فَمَن يَنصُرُ‌نَا مِن بَأْسِ اللَّـهِ إِن جَاءَنَا ۚ قَالَ فِرْ‌عَوْنُ مَا أُرِ‌يكُمْ إِلَّا مَا أَرَ‌ىٰ وَمَا أَهْدِيكُمْ إِلَّا سَبِيلَ الرَّ‌شَادِ ﴿٢٩﴾
اے میری قوم کے لوگو! آج تو بادشاہت تمہاری ہے کہ اس زمین پر تم غالب ہو (١) لیکن اگر اللہ کا عذاب ہم پر آگیا تو کون ہماری مدد کرے گا؟ (۲) فرعون بولا، میں تو تمہیں وہی رائے دے رہا ہوں جو خود دیکھ رہا ہوں اور میں تو تمہیں بھلائی کی راہ ہی بتلا رہا ہوں۔ (۳)
٢٩۔١ یعنی یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ تمہیں زمین پر غلبہ عطا فرمایا اس کا شکر ادا کرو! اور اس کے رسول کی تکذیب کر کے اللہ کی ناراضی مول نہ لو۔
٢٩۔۲ یہ فوجی اور لشکر تمہارے کچھ کام نہ آئیں گے، نہ اللہ کے عذاب ہی کو ٹال سکیں گے اگر وہ آ گیا۔ یہاں تک اس مومن کا کلام تھا جو ایمان چھپائے ہوئے تھا۔
٢٩۔۳ فرعون نے اپنے دنیوی جاہ و جلال کی بنیاد پر جھوٹ بولا اور کہا کہ میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں، وہی تمہیں بتلا رہا ہوں اور میری بتلائی ہوئی راہ ہی صحیح ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں تھا۔ ﴿وَمَا أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٍ﴾ (هود: ۹۷)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَالَ الَّذِي آمَنَ يَا قَوْمِ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُم مِّثْلَ يَوْمِ الْأَحْزَابِ ﴿٣٠﴾
اس مومن نے کہا اے میری قوم! (کے لوگو) مجھے تو اندیشہ ہے کہ تم پر بھی ویسا ہی روز (بد عذاب) نہ آئے جو اور امتوں پر آیا۔

مِثْلَ دَأْبِ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَالَّذِينَ مِن بَعْدِهِمْ ۚ وَمَا اللَّـهُ يُرِ‌يدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ ﴿٣١﴾
جیسے امت نوح اور عاد و ثمود اور ان کے بعد والوں کا (حال ہوا)، (١) اللہ اپنے بندوں پر کسی طرح کا ظلم کرنا نہیں چاہتا۔ (۲)
٣١۔١ یہ اس مومن آدمی نے دوبارہ اپنی قوم کو ڈرایا کہ اگر اللہ کے رسول کی تکذیب پر ہم اڑے رہے، تو خطرہ ہے کہ گزشتہ قوموں کی طرح عذاب الٰہی کی گرفت میں آجائیں گے۔
٣١۔۲ یعنی اللہ نے جن کو بھی ہلاک کیا، ان کے گناہوں کی پاداش میں اور رسولوں کی تکذیب ومخالفت کی وجہ سے ہی ہلاک کیا، ورنہ وہ شفیق و رحیم رب اپنے بندوں پر ظلم کرنے کا ارادہ ہی نہیں کرتا۔ گویا قوموں کی ہلاکت، یہ ان پر اللہ کا ظلم نہیں ہے بلکہ قانون مکافات کا ایک لازمی نتیجہ ہے جس سے کوئی قوم اور فرد مستثنیٰ نہیں:
از مکافات عمل غافل مشو
گندم از گندم بروید جو از جو
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيَا قَوْمِ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ ﴿٣٢﴾
اور مجھے تم پر ہانک پکار کے دن کا بھی ڈر ہے۔ (١)
٣٢۔١ تَنَادِي کے معنی ہیں۔ ایک دوسرے کو پکارنا، قیامت کو ”يَوْمَ التَّنَادِ“ اس لیے کہا گیا ہے کہ اس دن ایک دوسرے کو پکاریں گے۔ اہل جنت اہل نار کو اور اہل نار اہل جنت کو ندائیں دیں گے۔ (الاعراف: ۴۸-۴۹) بعض کہتے ہیں کہ میزان کے پاس ایک فرشتہ ہو گا، جس کی نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہو گا، اس کی بدبختی کا یہ فرشتہ چیخ کر اعلان کرے گا، بعض کہتے ہیں کہ عملوں کے مطابق لوگوں کو پکارا جائے گا، جیسے اہل جنت کو اے جنتیو! اور اہل جہنم کو اے جہنمیو! امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ امام بغوی کا یہ قول بہت اچھا ہے کہ ان تمام باتوں ہی کی وجہ سے یہ نام رکھا گیا ہے۔
 
Top