• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَوْمَ تُوَلُّونَ مُدْبِرِ‌ينَ مَا لَكُم مِّنَ اللَّـهِ مِنْ عَاصِمٍ ۗ وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ﴿٣٣﴾
جس دن تم پیٹھ پھیر کر لوٹو گے، (١) تمہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہو گا اور جسے اللہ گمراہ کر دے اس کا ہادی کوئی نہیں۔ (٢)
٣٣۔١ یعنی موقف (میدان محشر) سے جہنم کی طرف جاؤ گے، یا حساب کے بعد وہاں سے بھاگو گے۔
٣٣۔٢ جو اسے ہدایت کا راستہ بتا سکے یعنی اس پر چلا سکے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ جَاءَكُمْ يُوسُفُ مِن قَبْلُ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا زِلْتُمْ فِي شَكٍّ مِّمَّا جَاءَكُم بِهِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَن يَبْعَثَ اللَّـهُ مِن بَعْدِهِ رَ‌سُولًا ۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ اللَّـهُ مَنْ هُوَ مُسْرِ‌فٌ مُّرْ‌تَابٌ ﴿٣٤﴾
اور اس سے پہلے تمہارے پاس (حضرت) یوسف دلیلیں لے کر آئے، (١) پھر بھی تم ان کی لائی ہوئی (دلیل) میں شک و شبہ ہی کرتے رہے (٢) یہاں تک کہ جب ان کی وفات ہو گئی (٣) تو کہنے لگے ان کے بعد تو اللہ کسی رسول کو بھیجے گا ہی نہیں، (٤) اسی طرح اللہ گمراہ کرتا ہے ہر اس شخص کو جو حد سے بڑھ جانے والا شک و شبہ کرنے والا ہو۔ (۵)
٣٤۔١ یعنی اے اہل مصر! حضرت موسیٰ عليہ السلام سے قبل تمہارے اسی علاقے میں، جس میں تم آباد ہو، حضرت یوسف عليہ السلام بھی دلائل و براہین کے ساتھ آئےتھے۔ جس میں تمہارے آبا و اجداد کو ایمان کی دعوت دی گئی تھی یعنی جَاءَكُمْ سے مراد جَاءَ إِلَى آبَائِكُمْ ہے یعنی تمہارے آبا و اجداد کے پاس آئے۔
٣٤۔٢ لیکن تم ان پر بھی ایمان نہیں لائے اور ان کی دعوت میں شک و شبہ ہی کرتے رہے۔
٣٤۔٣ یعنی یوسف عليہ السلام پیغمبر کی وفات ہو گئی۔
٣٤۔٤ یعنی تمہارا شیوہ چونکہ ہر پیغمبرکی تکذیب اور مخالفت ہی رہا ہے، اس لیے سمجھتے تھے کہ اب کوئی رسول ہی نہیں آئے گا، یا یہ مطلب ہے کہ رسول کا آنا یا نہ آنا، تمہارے لیے برابر ہے یا یہ مطلوب ہے کہ ایسا باعظمت انسان کہاں پیدا ہو سکتا ہے جو رسالت سے سرفراز ہو۔ گویا بعد از مرگ حضرت یوسف عليہ السلام کی عظمت کا اعتراف تھا۔ اور بہت سے لوگ ہر اہم ترین انسان کی وفات کے بعد یہی کہتے ہیں۔
٣٤۔۵ یعنی اس واضح گمراہی کی طرح، جس میں تم مبتلا ہو، اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو بھی گمراہ کرتا ہے جو نہایت کثرت سے گناہوں کا ارتکاب کرتا اور اللہ کے دین، اس کی وحدانیت اور اس کے وعدوں وعیدوں میں شک کرتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِ اللَّـهِ بِغَيْرِ‌ سُلْطَانٍ أَتَاهُمْ ۖ كَبُرَ‌ مَقْتًا عِندَ اللَّـهِ وَعِندَ الَّذِينَ آمَنُوا ۚ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ‌ جَبَّارٍ‌ ﴿٣٥﴾
جو بغیر کسی سند کے جو ان کے پاس آئی ہو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں، (١) اللہ کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک یہ تو بہت بڑی ناراضگی کی چیز ہے، (٢) اللہ تعالیٰ اسی طرح ہر ایک مغرور سرکش کے دل پر مہر کر دیتا ہے۔ (۳)
٣٥۔١ یعنی اللہ کی طرف سے اتاری ہوئی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں ہے، اس کے باوجود اللہ کی توحید اور اس کے احکام میں جھگڑتے ہیں، جیسا کہ ہر دور کے اہل باطن کا وطیرہ رہا ہے۔
٣٥۔٢ یعنی ان کی اس حرکت شنیعہ سے اللہ تعالیٰ ہی ناراض نہیں ہوتا، اہل ایمان بھی اس کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔
٣٥۔٢ یعنی جس طرح ان مجادلین کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے، اسی طرح ہر اس شخص کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے، جو اللہ کی آیتوں کے مقابلے میں تکبر اور سرکشی کا اظہار کرتا ہے، جس کے بعد معروف، ان کو معروف اور منکر، منکر نظر نہیں آتا بلکہ بعض دفعہ منکر، ان کے ہاں معروف اور معروف، منکر قرار پاتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَالَ فِرْ‌عَوْنُ يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَرْ‌حًا لَّعَلِّي أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ ﴿٣٦﴾
فرعون نے کہا اے ہامان! میرے لیے ایک بالا خانہ بنا (١) شاید کہ میں آسمان کے جو دروازے ہیں۔
٣٦۔١ یہ فرعون کی سرکشی اور تمرد کا بیان ہے کہ اس نے اپنے وزیر ہامان کو ایک بلند عمارت بنانے کا حکم دیا تاکہ اس کے ذریعے سے وہ آسمان کے دروازوں تک پہنچ جائے۔ اسباب کے معنی دروازے، یا راستے کے ہیں۔ مزید دیکھیے القصص، آیت ۲۸۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَسْبَابَ السَّمَاوَاتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰ إِلَـٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ كَاذِبًا ۚ وَكَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرْ‌عَوْنَ سُوءُ عَمَلِهِ وَصُدَّ عَنِ السَّبِيلِ ۚ وَمَا كَيْدُ فِرْ‌عَوْنَ إِلَّا فِي تَبَابٍ ﴿٣٧﴾
(ان) دروازوں تک پہنچ جاؤں اور موسیٰ کے معبود کو جھانک لوں (١) اور بیشک میں سمجھتا ہوں وہ جھوٹا ہے (٢) اور اسی طرح فرعون کی بد کرداریاں اسے بھلی دکھائی گئیں (٣) اور راہ سے روک دیا گیا (٤) اور فرعون کی (ہر) حیلہ سازی تباہی میں ہی رہی۔ (٥)
٣٧۔١ یعنی دیکھوں کہ آسمانوں پر کیا واقعی کوئی الہٰ ہے؟
٣٧۔٢ اس بات میں کہ آسمان پر اللہ ہے جو آسمان و زمین کا خالق اور ان کا مدبر ہے۔ یا اس بات میں کہ وہ اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہے۔
٣٧۔٣ یعنی شیطان نے اس طرح اسے گمراہ کیے رکھا اور اس کے برے عمل اسے اچھے نظر آتے رہے۔
٣٧۔٤ یعنی حق اور صواب (درست) راستے سے اسے روک دیا گیا اور وہ گمراہیوں کی بھول بھلیوں میں بھٹکتا رہا۔
٣٧۔٥ تَبَابٌ۔ خسارہ، ہلاکت۔ یعنی فرعون نے جو تدبیر اختیار کی، اس کا نتیجہ اس کے حق میں برا ہی نکلا۔ اور بالآخر اپنے لشکر سمیت پانی میں ڈبو دیا گیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَالَ الَّذِي آمَنَ يَا قَوْمِ اتَّبِعُونِ أَهْدِكُمْ سَبِيلَ الرَّ‌شَادِ ﴿٣٨﴾
اور اس مومن شخص نے کہا اے میری قوم! (کے لوگو) تم (سب) میری پیروی کرو میں نیک راہ کی طرف تمہاری رہبری کروں گا۔ (١)
٣٨۔١ فرعون کی قوم میں سے ایمان لانے والا پھر بولا۔ اور کہا کہ دعویٰ تو فرعون بھی کرتا ہے کہ میں تمہیں سیدھے راستے پرچلا رہا ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ فرعون بھٹکا ہوا ہے، میں جس راستے کی نشاندہی کر رہا ہوں، وہ سیدھا راستہ ہے اور وہ وہی راستہ ہے، جس کی طرف تمہیں حضرت موسیٰ عليہ السلام دعوت دے رہے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَا قَوْمِ إِنَّمَا هَـٰذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَإِنَّ الْآخِرَ‌ةَ هِيَ دَارُ‌ الْقَرَ‌ارِ‌ ﴿٣٩﴾
اے میری قوم! یہ حیات دنیا متاع فانی ہے، (١) (یقین مانو کہ قرار) اور ہمیشگی کا گھر تو آخرت ہی ہے۔ (٢)
٣٩۔١ جس کی زندگی چند روزہ ہے۔ اور وہ بھی آخرت کے مقابلے میں صبح یا شام کی ایک گھڑی کے برابر۔
٣٩۔٢ جس کو زوال اور فنا نہیں، نہ وہاں سے انتقال اور کوچ ہو گا۔ کوئی جنت میں جائے یا جہنم میں، دونوں کی زندگیاں ابدی ہوں گی۔ ایک راحت اور آرام کی زندگی۔ دوسری، شقاوت اور عذاب کی زندگی۔ موت اہل جنت کو آئے گی نہ اہل جہنم کو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلَا يُجْزَىٰ إِلَّا مِثْلَهَا ۖ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ‌ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْ‌زَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ‌ حِسَابٍ ﴿٤٠﴾
جس نے گناہ کیا ہے اسے تو برابر ہی کا بدلہ ہی ہے (۱) اور جس نے نیکی کی ہو خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور وہ ایمان والا ہو تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے (۲) اور وہاں بے شمار روزی پائیں گے۔ (۳)
٤٠۔١ یعنی برائی کی مثل ہی جزا ہو گی، زیادہ نہیں۔ اور اس کے مطابق ہی عذاب ہو گا۔ جو عدل و انصاف کا آئینہ دار ہو گا۔
٤٠۔۲ یعنی وہ جو ایمان دار بھی ہوں گے اور اعمال صالحہ کے پابند بھی۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اعمال صالحہ کے بغیر محض ایمان یا ایمان کے بغیر اعمال صالحہ کی حیثیت اللہ کےہاں کچھ نہیں ہو گی، عند اللہ کامیابی کے لیے ایمان کے ساتھ عمل صالح اور عمل صالح کے ساتھ ایمان ضروری ہے۔
٤٠۔۳ یعنی بغیر اندازے اور حساب کے نعمتیں ملیں گی اور ان کے ختم ہونے کا بھی کوئی اندیشہ نہیں ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيَا قَوْمِ مَا لِي أَدْعُوكُمْ إِلَى النَّجَاةِ وَتَدْعُونَنِي إِلَى النَّارِ‌ ﴿٤١﴾
اے میری قوم! یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلا رہا ہوں (١) اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلا رہے ہو۔ (۲)
٤١۔١ اور وہ یہ کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں ہے اوراس کے اس رسول کی تصدیق کرو، جو اس نے تمہاری ہدایت اور رہنمائی کے لیے بھیجا ہے۔
٤١۔۲ یعنی توحید کے بجائے شرک کی دعوت دے رہے ہو جو انسان کو جہنم میں لے جانے والا ہے، جیسا کہ اگلی آیت میں وضاحت ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تَدْعُونَنِي لِأَكْفُرَ‌ بِاللَّـهِ وَأُشْرِ‌كَ بِهِ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَأَنَا أَدْعُوكُمْ إِلَى الْعَزِيزِ الْغَفَّارِ‌ ﴿٤٢﴾
تم مجھے یہ دعوت دے رہے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ شرک کروں جس کا کوئی علم مجھے نہیں اور میں تمہیں غالب بخشنے والے (معبود) کی طرف دعوت دے رہا ہوں۔ (۱)
٤۲۔۱ عَزِيزٌ (غالب) جو کافروں سے انتقام لینے اور ان کو عذاب دینے پر قادر ہے۔ غَفَّارٌ اپنے ماننے والوں کی غلطیوں، کوتاہیوں کو معاف کر دینے والا اور ان کی پردہ پوشی کرنے والا۔ جب کہ تم جن کی عبادت کرنے کی طرف مجھے بلا رہے ہو، وہ بالکل حقیر اور کم تر چیزیں ہیں، نہ وہ سن سکتی ہیں نہ جواب دے سکتی ہیں، کسی کو نفع پہنچانے پرقادر ہیں نہ نقصان پہنچانے پر۔
 
Top