• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا بِالذِّكْرِ‌ لَمَّا جَاءَهُمْ ۖ وَإِنَّهُ لَكِتَابٌ عَزِيزٌ ﴿٤١﴾
جن لوگوں نے اپنے پاس قرآن پہنچ جانے کے باوجود اس سے کفر کیا، (وہ بھی ہم سے پوشیدہ نہیں) یہ (١) باوقعت کتاب ہے۔ (٢)
٤١۔١ بریکٹ کے الفاظ إِنَّ کی خبر محذوف کا ترجمہ ہیں بعض نے کچھ اور الفاظ محذوف مانے ہیں۔ مثلاً يُجَازَوْنَ بِكُفْرِهِمْ (انہیں ان کے کفر کی سزا دی جائے گی) یا هَالِكُونَ (وہ ہلاک ہونے والے ہیں) یا يُعَذَّبُونَ۔
٤١۔٢ یعنی یہ کتاب، جس سے اعراض و انحراف کیا جاتا ہے معارضے اور طعن کرنے والوں کے طعن سے بہت بلند اور ہر عیب سے پاک ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ۖ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ ﴿٤٢﴾
جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا نہ اس کے آگے سے اور نہ اس کے پیچھے سے، یہ ہے نازل کردہ حکمتوں والے خوبیوں والے (اللہ) کی طرف سے۔ (١)
٤٢۔١ یعنی وہ ہر طرح سے محفوظ ہے، آگے سے، کا مطلب ہے کمی اور پیچھے سے، کا مطلب ہے زیادتی یعنی باطل اس کے آگے سے آ کر اس میں کمی اور نہ اس کے پیچھے سے آکر اس میں اضافہ کر سکتا ہے اور نہ کوئی تغییر و تحریف ہی کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ کیونکہ یہ اس کی طرف سے نازل کردہ ہے جو اپنے اقوال و افعال میں حکیم ہے اور حمید یعنی محمود ہے۔ یا وہ جن باتوں کا حکم دیتا ہے اور جن سے منع فرماتا ہے، عواقب اور غایات کے اعتبار سے سب محمود ہیں، یعنی اچھے اور مفید ہیں۔ (ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَّا يُقَالُ لَكَ إِلَّا مَا قَدْ قِيلَ لِلرُّ‌سُلِ مِن قَبْلِكَ ۚ إِنَّ رَ‌بَّكَ لَذُو مَغْفِرَ‌ةٍ وَذُو عِقَابٍ أَلِيمٍ ﴿٤٣﴾
آپ سے وہی کہا جاتا ہے جو آپ سے پہلے کے رسولوں سے بھی کہا گیا ہے، (١) یقیناً آپ کا رب معافی والا (٢) اور دردناک عذاب والا ہے۔ (٣)
٤٣۔١ یعنی پچھلی قوموں نے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کے لیے جو کچھ کہا کہ یہ ساحر ہیں، مجنون ہیں، کذاب ہیں وغیرہ وغیرہ، وہی کچھ کفار مکہ نے بھی آپ ﷺ کو کہا ہے۔ یہ گویا آپ ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ ﷺ کی تکذیب اور آپ ﷺ کی سحر، کذب اور جنون کی طرف نسبت، نئی بات نہیں ہے، ہر پیغمبر کے ساتھ یہی کچھ ہوتا آیا ہے جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ﴿مَا أَتَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلا قَالُوا سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ، أَتَوَاصَوْا بِهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ﴾ (الذاريات: ۵۲-۵۳) دوسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ آپ ﷺ کو توحید اور اخلاص کا جو حکم دیا گیا ہے، یہ وہی باتیں ہیں جو آپ ﷺ سے پہلے رسولوں کو بھی کہی گئی تھیں۔ اس لیے کہ تمام شریعتیں ان باتوں پر متفق رہی ہیں بلکہ سب کی اولین دعوت ہی توحید و اخلاص تھی۔ (فتح القدیر)
٤٣۔٢ یعنی اہل ایمان و توحید کے لیے جو مستحق مغفرت ہیں۔
٤٣۔٣ ان کے لیے جو کافر اور اللہ کے پیغمبروں کے دشمن ہیں۔ یہ آیت بھی سورہ حجر کی آیت کی طرح ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَوْ جَعَلْنَاهُ قُرْ‌آنًا أَعْجَمِيًّا لَّقَالُوا لَوْلَا فُصِّلَتْ آيَاتُهُ ۖ أَأَعْجَمِيٌّ وَعَرَ‌بِيٌّ ۗ قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ ۖ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ‌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى ۚ أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ ﴿٤٤﴾
اور اگر ہم اسے عجمی زبان کا قرآن بناتے تو کہتے (۱) کہ اس کی آیتیں صاف صاف بیان کیوں نہیں کی گئیں؟ (۲) یہ کیا کہ عجمی کتاب اور آپ عربی رسول؟ (۳) آپ کہہ دیجئے! کہ یہ تو ایمان والوں کے لیے ہدایت و شفا ہے اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں تو (بہرا پن اور) بوجھ ہے اور یہ ان پر اندھا پن ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو کسی بہت دور دراز جگہ سے پکارے جا رہے ہیں۔ (٤)
٤٤۔۱ یعنی عربی کے بجائے کسی اور زبان میں قرآن نازل کرتے۔
٤٤۔۲ یعنی ہماری زبان میں اسے بیان کیوں نہیں کیا گیا، جسے ہم سمجھ سکتے، کیونکہ ہم توعرب ہیں، عجمی زبان نہیں سمجھتے۔
٤٤۔۳ یہ بھی کافروں ہی کا قول ہے کہ وہ تعجب کرتے ہیں کہ رسول تو عربی ہے اور قرآن اس پر عجمی زبان میں نازل ہوا ہے۔ مطلب یہ کہ قرآن کو عربی زبان میں نازل فرما کر اس کے اولین مخاطب عربوں کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہنے دیا۔ ہے اگر یہ غیر عربی زبان میں ہوتا تو وہ عذر کر سکتے تھے۔
٤٤۔٤ یعنی جس طرح دور کا شخص، دوری کی وجہ سے پکارنے والے کی آواز سننے سے قاصر رہتا ہے، اسی طرح ان لوگوں کی عقل و فہم میں قرآن نہیں آتا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِيهِ ۗ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّ‌بِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۚ وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مُرِ‌يبٍ ﴿٤٥﴾
یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی، سو اس میں بھی اختلاف کیا گیا اور اگر (وہ) بات نہ ہوتی (جو) آپ کے رب کی طرف سے پہلے ہی مقرر ہو چکی ہے (١) تو انکے درمیان (کبھی) کا فیصلہ ہو چکا ہوتا، (٢) یہ لوگ تو اسکے بارے میں سخت بے چین کرنے والے شک میں ہیں۔ (٣)
٤٥۔١ کہ ان کو عذاب دینے سے پہلے مہلت دی جائے گی۔ ﴿وَلَكِنْ يُؤَخِّرُهُمْ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى﴾ (فاطر: ۴۵)
٤٥۔٢ یعنی فوراً عذاب دے کر ان کو تباہ کر دیا گیا ہوتا۔
٤٥۔٣ یعنی ان کا انکار عقل و بصیرت کی وجہ سے نہیں، بلکہ محض شک کی وجہ سے ہے جو ان کو بے چین کئے رکھتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَّنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا ۗ وَمَا رَ‌بُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ ﴿٤٦﴾
جو شخص نیک کام کرے گا وہ اپنے نفع کے لیے اور جو برا کام کرے گا اس کا وبال بھی اسی پر ہے۔ اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔ (١)
٤٦۔١ اس لیے کہ وہ عذاب صرف اسی کو دیتا ہے جو گناہ گار ہوتا ہے، نہ کہ جس کو چاہے، یوں ہی عذاب میں مبتلا کر دے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
پارہ 25
إِلَيْهِ يُرَ‌دُّ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَمَا تَخْرُ‌جُ مِن ثَمَرَ‌اتٍ مِّنْ أَكْمَامِهَا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِ ۚ وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ أَيْنَ شُرَ‌كَائِي قَالُوا آذَنَّاكَ مَا مِنَّا مِن شَهِيدٍ ﴿٤٧﴾
قیامت کا علم اللہ ہی کی طرف لوٹایا جاتا ہے (١) اور جو جو پھل اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں اور جو مادہ حمل سے ہوتی ہے اور جو بچے وہ جنتی ہے سب کا علم اسے ہے (٢) اور جس دن اللہ تعالیٰ ان (مشرکوں) کو بلا کر دریافت فرمائے گا میرے شریک کہاں ہیں، وہ جواب دیں گے کہ ہم نے تو تجھے کہہ سنایا کہ ہم میں سے تو کوئی اس کا گواہ نہیں۔ (٣)
٤٧۔١ یعنی اللہ کے سوا اس کے وقوع کا کسی کو علم نہیں۔ اسی لیے جب حضرت جبرائیل عليہ السلام نے نبی کریم ﷺ سے قیامت کے واقع ہونے کے بارے میں پوچھا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا [مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ] "اس کی بابت مجھے بھی اتنا ہی علم ہے جتنا تجھے ہے، میں تجھ سے زیادہ نہیں جانتا"۔ دوسرے مقامات پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِلَى رَبِّكَ مُنْتَهَاهَا﴾ (النازعات: ۴۴) ﴿لا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلا هُوَ﴾ (الأعراف: ۱۸۷)
٤٧۔٢ یہ اللہ کے علم کامل و محیط کا بیان ہے اور اس کی اس صفت علم میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔ یعنی اس طرح کا علم کامل کسی کو حاصل نہیں۔ حتیٰ کہ انبیا علیہم السلام کو بھی نہیں۔ انہیں بھی اتنا ہی علم ہوتا ہے جتنا اللہ تعالیٰ انہیں وحی کے ذریعے سے بتلا دیتا ہے۔ اور اس علم و حی کا تعلق بھی منصب نبوت اور اس کے تقاضوں کی ادائیگی سے متعلق ہی ہوتا ہے نہ کہ دیگر فنون و معاملات سے متعلق۔ اس لیے کسی بھی نبی اور رسول کو، چاہے وہ کتنی ہی عظمت شان کا حامل ہو، عَالِمُ مَا كَانَ وَمَا يَكُونُ کہنا جائز نہیں۔ کیونکہ یہ صرف ایک اللہ کی شان اور اس کی صفت ہے۔ جس میں کسی اور کو شریک ماننا شرک ہو گا۔
٤٧۔٣ یعنی آج ہم میں سے کوئی شخص یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ تیرا کوئی شریک ہے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَدْعُونَ مِن قَبْلُ ۖ وَظَنُّوا مَا لَهُم مِّن مَّحِيصٍ ﴿٤٨﴾
اور یہ جن (جن) کی پرستش اس سے پہلے کرتے تھے وہ ان کی نگاہ سے گم ہو گئے (١) اور انہوں نے سمجھ لیا ان کے لیے کوئی بچاؤ نہیں۔ (٢)
٤٨۔١ یعنی وہ ادھر ادھر ہو گئے اور حسب گمان انہوں نے کسی کو فائدہ نہیں پہنچایا۔
٤٨۔٢ یہ گمان، یقین کے معنی میں ہے یعنی قیامت والے دن وہ یہ یقین کرنے پر مجبور ہوں گے کہ انہیں اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ﴿وَرَأَى الْمُجْرِمُونَ النَّارَ فَظَنُّوا أَنَّهُمْ مُوَاقِعُوهَا وَلَمْ يَجِدُوا عَنْهَا مَصْرِفًا﴾ (الكهف: ۵۳)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَّا يَسْأَمُ الْإِنسَانُ مِن دُعَاءِ الْخَيْرِ‌ وَإِن مَّسَّهُ الشَّرُّ‌ فَيَئُوسٌ قَنُوطٌ ﴿٤٩﴾
بھلائی کے مانگنے سے انسان تھکتا نہیں (١) اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو مایوس اور نا امید ہو جاتا ہے (۲)
٤٩۔١ یعنی دنیا کا مال و اسباب، صحت و قوت، عزت و رفعت اور دیگر دنیوی نعمتوں کے مانگنے سے انسان نہیں تھکتا، بلکہ مانگتا ہی رہتا ہے۔ انسان سے مراد انسانوں کی غالب اکثریت ہے۔
٤٩۔۲ یعنی تکلیف پہنچنے پر فوراً مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے، جب کہ اللہ کے مخلص بندوں کا حال اس سے مختلف ہوتا ہے۔ وہ ایک تو دنیا کے طالب نہیں ہوتے، ان کے سامنے ہر وقت آخرت ہی ہوتی ہے، دوسرے، تکلیف پہنچنے پر بھی وہ اللہ کی رحمت اور اس کے فضل سے مایوس نہیں ہوتے، بلکہ آزمائشوں کو بھی وہ کفارۂ سیئات اور رفع درجات کا باعث گردانتے ہیں۔ گویا مایوسی ان کے قریب بھی نہیں پھٹکتی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ رَ‌حْمَةً مِّنَّا مِن بَعْدِ ضَرَّ‌اءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ هَـٰذَا لِي وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِن رُّ‌جِعْتُ إِلَىٰ رَ‌بِّي إِنَّ لِي عِندَهُ لَلْحُسْنَىٰ ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا بِمَا عَمِلُوا وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنْ عَذَابٍ غَلِيظٍ ﴿٥٠﴾
اور جو مصیبت اسے پہنچ چکی ہے اس کے بعد اگر ہم اسے کسی رحمت کا مزہ چکھائیں تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ اس کا تو میں حقدار (١) ہی تھا اور میں تو خیال نہیں کر سکتا کہ قیامت قائم ہو گی اور اگر میں اپنے رب کے پاس واپس گیا تو بھی یقیناً میرے لیے اس کے پاس بھی بہتری (٢) ہے، یقیناً ہم ان کفار کو ان کے اعمال سے خبردار کریں گے اور انہیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
٥٠۔١ یعنی اللہ کے ہاں میں محبوب ہوں، وہ مجھ سے خوش ہے، اسی لیے مجھے وہ اپنی نعمتوں سے نواز رہا ہے۔ حالانکہ دنیا کی کمی بیشی اس کی محبت یا ناراضی کی علامت نہیں ہے۔ بلکہ صرف آزمائش کے لیے اللہ ایسا کرتا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ نعمتوں میں اس کا شکر کون کررہا ہے اور تکلیفوں میں صابر کون ہے؟
٥٠۔٢ یہ کہنے والا منافق یا کافر ہے، کوئی مومن ایسی بات نہیں کہہ سکتا۔ کافر ہی یہ سمجھتا ہے کہ میری دنیا خیر کے ساتھ گزر رہی ہے تو آخرت بھی میرے لیے ایسی ہی ہو گی۔
 
Top