• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُ‌وحًا مِّنْ أَمْرِ‌نَا ۚ مَا كُنتَ تَدْرِ‌ي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَـٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورً‌ا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا ۚ وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَ‌اطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿٥٢﴾
اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روح کو اتارا ہے، (١) آپ اس سے پہلے یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ کتاب اور ایمان کیا چیز ہے؟ (٢) لیکن ہم نے اسے نور بنایا، اس کے ذریعے سے اپنے بندوں میں جس کو چاہتے ہیں، (٣) ہدایت دیتے ہیں بیشک آپ راہ راست کی رہنمائی کر رہے ہیں۔
٥٢۔١ رُوحٌ سے مراد قرآن ہے۔ یعنی جس طرح آپ سے پہلے اور رسولوں پر ہم وحی کرتے رہے، اسی طرح ہم نے آپ پر قرآن کی وحی کی ہے۔ قرآن کو روح سے اس لیے تعبیر کیا ہے کہ قرآن سے دلوں کو زندگی حاصل ہوتی ہے جیسے روح میں انسانی زندگی کا راز مضمر ہے۔
٥٢۔٢ کتاب سے مراد قرآن ہے، یعنی نبوت سے پہلے قرآن کا بھی کوئی علم آپ کو نہیں تھا اور اسی طرح ایمان کی ان تفصیلات سے بھی بے خبر تھے جو شریعت میں مطلوب ہیں۔
٥٢۔٣ یعنی قرآن کو نور بنایا، اس کے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے ہم جسے چاہتے ہیں، ہدایت سے نواز دیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن سے ہدایت و رہنمائی انہی کو ملتی ہے جن میں ایمان کی طلب اور تڑپ ہوتی ہے وہ اسے طلب ہدایت کی نیت سے پڑھتے، سنتے اور غور وفکر کرتے ہیں، چنانچہ اللہ ان کی مدد فرماتا ہے اور ہدایت کا راستہ ان کے لیے ہموار کر دیتا ہے جس پر وہ چل پڑتے ہیں ورنہ جو اپنی آنکھوں کو ہی بند کر لیں، کانوں میں ڈاٹ لگا لیں اور عقل و فہم کو ہی بروئے کار نہ لائیں تو انہیں ہدایت کیوں کر نصیب ہو سکتی ہے، جیسے فرمایا ﴿قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَئِكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ﴾ (سورۃ حمٰ السجدۃ: ۴۴)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
صِرَ‌اطِ اللَّـهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْ‌ضِ ۗ أَلَا إِلَى اللَّـهِ تَصِيرُ‌ الْأُمُورُ‌ ﴿٥٣﴾
اس اللہ کی راہ کی (١) جس کی ملکیت میں آسمانوں اور زمین کی ہر چیز ہے۔ آگاہ رہو سب کام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔ (٢)
٥٣۔١ یہ صراط مستقیم، اسلام ہے۔ اس کی اضافت اللہ نے اپنی طرف فرمائی ہے جس سے اس راستے کی عظمت و فخامت شان واضح ہوتی ہے اور اس کے واحد راہ نجات ہونے کی طرف اشارہ بھی۔
٥٣۔٢ یعنی قیامت والے دن تمام معاملات کا فیصلہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہو گا، اس میں سخت وعید ہے، جو مجازات (جزا و سزا) کو مستلزم ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الزخرف

(سورة الزخرف مکی ہے اس میں نواسی آیتیں اور سات رکوع ہیں)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

حم ﴿١﴾ وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿٢﴾
حم - قسم ہے اس واضح کتاب کی۔

إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْ‌آنًا عَرَ‌بِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ﴿٣﴾
ہم نے اسکو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے (١) کہ تم سمجھ لو۔ (١)
٣۔١ جو دنیا کی فصیح ترین زبان ہے، دوسرے، اس کے اولین مخاطب بھی عرب تھے، انہی کی زبان میں قرآن اتارا تاکہ وہ سمجھنا چاہیں تو آسانی سے سمجھ سکیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيمٌ ﴿٤﴾
یقیناً یہ لوح محفوظ میں ہے اور ہمارے نزدیک بلند مرتبہ حکمت (١) والی ہے۔
٤۔١ اس میں قرآن کریم کی اس عظمت اور شرف کا بیان ہے جو ملا اعلیٰ میں اسے حاصل ہے تاکہ اہل زمین بھی اس کے شرف و عظمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کو قرار واقعی اہمیت دیں اور اس سے ہدایت کا وہ مقصد حاصل کریں جس کے لیے اسے دنیا میں اتارا گیا ہے أُمُّ الْكِتَابِ سے مراد لوح محفوظ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَفَنَضْرِ‌بُ عَنكُمُ الذِّكْرَ‌ صَفْحًا أَن كُنتُمْ قَوْمًا مُّسْرِ‌فِينَ ﴿٥﴾
کیا ہم اس نصیحت کو تم سے اس بنا پر ہٹا لیں کہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔ (١)
٥۔١ اس کے مختلف معنی کیے گئے ہیں مثلاً ۱۔ تم چونکہ گناہوں میں بہت منہمک اور ان پر مصر ہو، اس لیے کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ ہم تمہیں وعظ و نصیحت کرنا چھوڑ دیں گے؟ ۲۔ یا تمہارے کفر اور اسراف پر ہم تمہیں کچھ نہ کہیں گے اور تم سے درگزر کر لیں گے۔ ۳۔ یا ہم تمہیں ہلاک کر دیں اور کسی چیز کا تمہیں حکم دیں نہ منع کریں۔ ۴۔ چونکہ تم قرآن پر ایمان لانے والے نہیں ہو، اس لیے ہم انزال قرآن کا سلسلہ ہی بند کر دیں۔ پہلے مفہوم کو امام طبری نے اور آخری مفہوم کو امام ابن کثیر نے زیادہ پسند کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اللہ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے خیر اور ذکر حکیم (قرآن) کی طرف دعوت دینے کا سلسلہ موقوف نہیں فرمایا، اگرچہ وہ اعراض و انکار میں حد سے تجاوز کر رہے تھے، تاکہ جس کے لیے ہدایت مقدر ہے وہ اس کے ذریعے سے ہدایت اپنا لے اور جن کے لیے شقاوت لکھی جا چکی ہے ان پر حجت قائم ہو جائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَكَمْ أَرْ‌سَلْنَا مِن نَّبِيٍّ فِي الْأَوَّلِينَ ﴿٦﴾
اور ہم نے اگلے لوگوں میں بھی کتنے ہی نبی بھیجے۔

وَمَا يَأْتِيهِم مِّن نَّبِيٍّ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ ﴿٧﴾
جو نبی ان کے پاس آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔

فَأَهْلَكْنَا أَشَدَّ مِنْهُم بَطْشًا وَمَضَىٰ مَثَلُ الْأَوَّلِينَ ﴿٨﴾
پس ہم نے ان سے زیادہ زور آوروں (١) کو تباہ کر ڈالا اور اگلوں کی مثال گزر چکی ہے۔ (٢)
٨۔١ یعنی اہل مکہ سے زیادہ زور آور تھے، جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ﴿كَانُوا أَكْثَرَ مِنْهُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً﴾ (المؤمن: ۸۲) ”وہ ان سے تعداد اور قوت میں کہیں زیادہ تھے“۔
٨۔٢ یعنی قرآن مجید میں ان قوموں کا تذکرہ یا وصف متعدد مرتبہ گزر چکا ہے۔ اس میں اہل مکہ کے لیے تہدید ہے کہ پچھلی قومیں رسولوں کی تکذیب کی وجہ سے ہلاک ہوئیں۔ اگر یہ بھی تکذیب رسالت پر مصر رہے تو ان کی مثل یہ بھی ہلاک کر دیئے جائیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ لَيَقُولُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِيزُ الْعَلِيمُ ﴿٩﴾
اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یقیناً ان کا جواب یہی ہو گا کہ انہیں غالب و دانا (اللہ) ہی (١) نے پیدا کیا ہے۔
١٠۔٩ لیکن اس اعتراف کے باوجود انہی مخلوقات میں سے بہت سوں کو ان نادانوں نے اللہ کا شریک ٹھہرا لیا ہے۔ اس میں ان کے جرم کی شناعت و قباحت کا بھی بیان ہے اور ان کی سفاہت و جہالت کا اظہار بھی۔

الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْ‌ضَ مَهْدًا وَجَعَلَ لَكُمْ فِيهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ﴿١٠﴾
وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش (بچھونا) (١) بنایا اور اس میں تمہارے لیے راستے کر دیئے تاکہ تم راہ پا لیا کرو۔ (٢)
١٠۔١ ایسا بچھونا، جس میں ثبات و قرار ہے، تم اس پر چلتے ہو، کھڑے ہوتے اور سوتے ہو اور جہاں چاہتے ہو، پھرتے ہو، اس نے اس کو پہاڑوں کے ذریعے سے جما دیا تاکہ اس میں حرکت و جنبش نہ ہو۔
١٠۔٢ یعنی ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں اور ایک ملک سے دوسرے ملک میں جانے کے لیے راستے بنا دیئے تاکہ کاروباری، تجارتی اور دیگر مقاصد کے لیے تم آجا سکو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِي نَزَّلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ‌ فَأَنشَرْ‌نَا بِهِ بَلْدَةً مَّيْتًا ۚ كَذَٰلِكَ تُخْرَ‌جُونَ ﴿١١﴾
اسی نے آسمان سے ایک اندازے (١) کے مطابق پانی نازل فرمایا، پس ہم نے اس مردہ شہر کو زندہ کر دیا۔ اسی طرح تم نکالے جاؤ گے۔ (٢)
١١۔١ جس سے تمہاری ضرورت پوری ہو سکے، کیونکہ قدر حاجت سے کم بارش ہوتی تو وہ تمہارے لیے مفید ثابت نہ ہوتی اور زیادہ ہوتی تو وہ طوفان بن جاتی، جس میں تمہارے ڈوبنے اور ہلاک ہونے کا خطرہ ہوتا۔
١١۔٢ یعنی جس طرح بارش سے مردہ زمین شاداب ہو جاتی ہے، اسی طرح قیامت والے دن تمہیں بھی زندہ کرکے قبروں سے نکال لیا جائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْ‌كَبُونَ ﴿١٢﴾
جس نے تمام چیزوں کے جوڑے بنائے (١) اور تمہارے لیے کشتیاں بنائیں اور چوپائے جانور (پیدا کیے) جن پر تم سوار ہوتے ہو۔
١٢۔١ یعنی ہر چیز کو جوڑا جوڑا بنایا، نر اور مادہ، نباتات، کھیتیاں، پھل، پھول اور حیوانات سب میں نر اور مادہ کا سلسلہ ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ایک دوسرے کی مخالف چیزیں ہیں جیسے روشنی اور اندھیرا، مرض اور صحت، انصاف اور ظلم، خیر اور شر، ایمان اور کفر، نرمی اور سختی وغیرہ۔ بعض کہتے ہیں ازواج، اصناف کے معنی میں ہے۔ تمام انواع و اقسام کا خالق اللہ ہے۔

لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِ‌هِ ثُمَّ تَذْكُرُ‌وا نِعْمَةَ رَ‌بِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ‌ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِ‌نِينَ ﴿١٣﴾
تاکہ تم ان کی پیٹھ پر جم کر سوار ہوا کرو (١) پھر اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو جب اس پر ٹھیک ٹھاک بیٹھ جاؤ، اور کہو پاک ذات ہے اس کی جس نے ہمارے بس میں کر دیا حالانکہ ہمیں اسے قابو کرنے کی (٢) طاقت نہ تھی۔
١٣۔١ لِتَسْتَوُوا بِمَعْنَى لِتَسْتَقِرُّوا یا لِتَسْتَعْلُوا جم کر بیٹھ جاو یا چڑھ جاؤ۔ ظُهُورِهِ میں ضمیر واحد باعتبار جنس کے ہے۔
١٣۔٢ یعنی اگر ان جانوروں کو ہمارے تابع اور ہمارے بس میں نہ کرتا تو ہم انہیں اپنے قابو میں رکھ کر ان کو سواری، بار برداری اور دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں کر سکتے تھے، مُقْرِنِينَ بمعنی مُطِيقِينَ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِنَّا إِلَىٰ رَ‌بِّنَا لَمُنقَلِبُونَ ﴿١٤﴾
اور بالیقین ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ (١)
١٤۔١ نبی کریم ﷺ جب سواری پر سوار ہوتے تو تین مرتبہ اللهُ أَكْبَرُ کہتے اور ﴿سُبْحَانَ الَّذِي﴾... سے ﴿لَمُنْقَلِبُونَ ﴾ تک آیت پڑھتے۔ علاوہ ازیں خیر و عافیت کی دعا مانگتے، جو دعاؤں کی کتابوں میں دیکھ لی جائے (صحيح مسلم، كتاب الحج، باب ما يقول إذا ركب)۔

وَجَعَلُوا لَهُ مِنْ عِبَادِهِ جُزْءًا ۚ إِنَّ الْإِنسَانَ لَكَفُورٌ‌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾
اور انہوں نے اللہ کے بعض بندوں کو اس کا جزء ٹھہرا (١) دیا یقیناً انسان کھلم کھلا ناشکرا ہے۔
١٥۔١ عِبَادٌ سے مراد فرشتے اور جُزْءٌ سے مراد بیٹیاں یعنی فرشتے، جن کو مشرکین اللہ کی بیٹیاں قرار دے کر ان کی عبادت کرتے تھے۔ یوں وہ مخلوق کو اللہ کا شریک اور اس کا جزء مانتے تھے، حالانکہ وہ ان چیزوں سے پاک ہے۔ بعض نے جزء سے یہاں نذر نیاز کے طور پر نکالے جانے والے وہ جانور مراد لیے ہیں جن کا ایک حصہ مشرکین اللہ کے نام پر اور ایک حصہ بتوں کے نام پر نکالا کرتے تھے جس کا ذکر سورۃ الانعام: ۱۳۶ میں ہے۔
 
Top