• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا ائْتُوا بِآبَائِنَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿٢٥﴾
اور جب ان کے سامنے ہماری واضح اور روشن آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کے پاس اس قول کے سوا کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو لاؤ۔ (١)
٢٥۔١ یہ ان کی سب سے بڑی دلیل ہے جو ان کی کٹ حجتی کا مظہر ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلِ اللَّـهُ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا رَ‌يْبَ فِيهِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ‌ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٢٦﴾
آپ کہہ دیجئے! اللہ ہی تمہیں زندہ کرتا ہے پھر تمہیں مار ڈالتا ہے پھر تمہیں قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔

وَلِلَّـهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ ۚ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَخْسَرُ‌ الْمُبْطِلُونَ ﴿٢٧﴾
اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے اور جس دن قیامت قائم ہو گی اس دن اہل باطل بڑے نقصان میں پڑیں گے۔

وَتَرَ‌ىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً ۚ كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَىٰ إِلَىٰ كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿٢٨﴾
اور آپ دیکھیں گے کہ ہر امت گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہو گی۔ (١) ہر گروہ اپنے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا، آج تمہیں اپنے کیے کا بدلہ دیا جائے گا۔
٢٨۔١ ظاہر آیت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر گروہ ہی (چاہے وہ انبیاء کے پیروکار ہوں یا ان کے مخالفین) خوف و دہشت کے مارے گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوں گے (فتح القدیر) تا آنکہ سب کو حساب کتاب کے لیے بلایا جائے گا، جیسا کہ آیت کے اگلے حصے سے واضح ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
هَـٰذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿٢٩﴾
یہ ہے ہماری کتاب جو تمہارے بارے میں سچ سچ بول رہی ہے، (١) ہم تمہارے اعمال لکھواتے جاتے تھے (٢)
٢٩۔١ اس کتاب سے مراد، وہ رجسٹر ہیں جن میں انسان کے تمام اعمال درج ہوں گے۔ ﴿وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ﴾ (الزمر: ۶۹) (اعمال نامے سامنے لائے جائیں گے، نبیوں اور شہدا کو گواہی کے لیے پیش کیا جائے گا)۔ یہ اعمال نامے انسانی زندگی کے ایسے مکمل ریکارڈ ہوں گے کہ جن میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں ہو گی۔ انسان ان کو دیکھ کر پکار اٹھے گا۔ ﴿مَالِ هَذَا الْكِتَابِ لا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلا كَبِيرَةً إِلا أَحْصَاهَا﴾ (الكهف: ۴۹) (یہ کیسا اعمال نامہ ہے جس نے چھوٹی بڑی چیز کسی کو بھی نہیں چھوڑا، سب کچھ ہی تو اس میں درج ہے)
٢٩۔٢ یعنی ہمارے علم کے علاوہ، فرشتے بھی ہمارے حکم سے تمہاری ہر چیز نوٹ کرتے اور محفوظ رکھتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَيُدْخِلُهُمْ رَ‌بُّهُمْ فِي رَ‌حْمَتِهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ ﴿٣٠﴾
پس لیکن جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام (١) کیے تو ان کو ان کا رب اپنی رحمت تلے لے لے گا، (٢) یہی صریح کامیابی ہے۔
٣٠۔١ یہاں بھی ایمان کے ساتھ عمل صالح کا ذکر کرکے اس کی اہمیت واضح کر دی اور عمل صالح وہ اعمال خیر ہیں جو سنت کے مطابق ادا کیے جائیں نہ کہ ہر وہ عمل جسے انسان اپنے طور پر اچھا سمجھ لے اور اسے نہایت اہتمام اور ذوق و شوق کے ساتھ کرے جیسے بہت سی بدعات مذہبی حلقوں میں رائج ہیں اور جو ان حلقوں میں فرائض و واجبات سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ اسی لیے فرائض و سنن کا ترک تو ان کے ہاں عام ہے لیکن بدعات کا ایسا التزام ہے کہ اس میں کسی قسم کی کوتاہی کا تصور ہی نہیں ہے۔ حالانکہ نبی ﷺ نے بدعات کو شرالامور (بدترین کام) قرار دیا ہے۔
٣٠۔٢ رحمت سے مراد جنت ہے، یعنی جنت میں داخل فرما ئے گا، جیسے حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ جنت سے فرمائے گا [أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ] (صحيح بخاری، تفسير سورة ق) ”تو میری رحمت ہے تیرے ذریعے سے (یعنی تجھ میں داخل کرکے) میں جس پر چاہوں گا، رحم کروں گا“۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُ‌وا أَفَلَمْ تَكُنْ آيَاتِي تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فَاسْتَكْبَرْ‌تُمْ وَكُنتُمْ قَوْمًا مُّجْرِ‌مِينَ ﴿٣١﴾
لیکن جن لوگوں نے کفر کیا تو (میں ان سے کہوں گا) کیا میری آیتیں تمہیں سنائی نہیں جاتی تھیں؟ (١) پھر بھی تم تکبر کرتے رہے اور تم تھے ہی گناہ گار لوگ۔ (٢)
٣١۔١ یہ بطور توبیخ کے ان سے کہا جائے گا، کیوں کہ رسول ان کے پاس آئے تھے، انہوں نے اللہ کے احکام انہیں سنائے تھے، لیکن انہوں نے پروا ہی نہیں کی تھی۔
٣١۔٢ یعنی حق کے قبول کرنے سے تم نے تکبر کیا اور ایمان نہیں لائے، بلکہ تم تھے ہی گناہ گار۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِذَا قِيلَ إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ لَا رَ‌يْبَ فِيهَا قُلْتُم مَّا نَدْرِ‌ي مَا السَّاعَةُ إِن نَّظُنُّ إِلَّا ظَنًّا وَمَا نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ ﴿٣٢﴾
اور جب کبھی کہا جاتا کہ اللہ کا وعدہ یقیناً سچا ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں تو تم جواب دیتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے؟ ہمیں کچھ یوں ہی سا خیال ہو جاتا ہے لیکن ہمیں یقین نہیں۔ (١)
٣٢۔١ یعنی قیامت کا وقوع، محض ظن و تخمین ہے۔ ہمیں تو یقین نہیں کہ یہ واقعی ہو گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَبَدَا لَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا عَمِلُوا وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ ﴿٣٣﴾
اور ان پر اپنے اعمال کی برائیاں کھل گئیں اور جس کا وہ مذاق اڑا رہے تھے اس نے انہیں گھیر لیا۔ (١)
٣٣۔١ یعنی قیامت کا عذاب، جسے وہ مذاق یعنی انہونا سمجھتے تھے، اس میں وہ گرفتار ہوں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقِيلَ الْيَوْمَ نَنسَاكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَـٰذَا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ‌ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِ‌ينَ ﴿٣٤﴾
اور کہہ دیا گیا کہ آج ہم تمہیں بھلا دیں گے جیسے کہ تم نے اپنے اس دن سے ملنے کو (١) بھلا دیا تھا تمہارا ٹھکانا جہنم ہے اور تمہارا مددگار کوئی نہیں۔
٣٤۔١ جیسے حدیث میں آتا ہے۔ اللہ اپنے بعض بندوں سے کہے گا کیا میں نے تجھے بیوی نہیں دی تھی؟ کیا میں نے تیرا اکرام نہیں کیا تھا؟ کیا میں نے گھوڑے اور بیل وغیرہ تیری ماتحتی میں نہیں دیئے تھے؟ تو سرداری بھی کرتا اور چنگی بھی وصول کرتا رہا۔ وہ کہے گا ہاں یہ تو ٹھیک ہے میرے رب! اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا (کیا تجھے میری ملاقات کا یقین تھا؟ وہ کہے گا، نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ [فَالْيَوْمَ أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي] پس آج میں بھی (تجھے جہنم میں ڈال کر) بھول جاؤں گا جیسے تو مجھے بھولے رہا)۔ (صحيح مسلم كتاب الزهد)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ذَٰلِكُم بِأَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ آيَاتِ اللَّـهِ هُزُوًا وَغَرَّ‌تْكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۚ فَالْيَوْمَ لَا يُخْرَ‌جُونَ مِنْهَا وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ ﴿٣٥﴾
یہ اس لیے ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی ہنسی اڑائی تھی اور دنیا کی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا، پس آج کے دن نہ تو یہ (دوزخ سے) نکالے جائیں گے اور نہ ان سے عذر و معذرت قبول کیا جائے گا۔ (١)
٣٥۔۱ یعنی اللہ کی آیات و احکام کا استہزاء اور دنیا کے فریب و غرور میں مبتلا رہنا، یہ دو جرم ایسے ہیں جنہوں نے تمہیں عذاب جہنم کا مستحق بنا دیا، اب اس سے نکلنے کا امکان ہے اور نہ اس بات کی ہی امید کہ کسی موقعے پر تمہیں توبہ اور رجوع کا موقعہ دے دیا جائے، اور تم توبہ و معذرت کر کے اللہ کو منا لو۔ لا يُسْتَعْتَبُونَ أَيْ لا يُسْتَرْضَوْنَ وَلا يُطْلَبُ مِنْهُمُ الرُّجُوعُ إِلَى طَاعَةِ اللهِ، لأَنَّهُ يَوْمٌ لا تُقْبَلُ فِيهِ تَوْبَةٌ وَلا تَنْفَعُ فِيهِ مَعْذِرَةٌ. (فتح القدير)

فَلِلَّـهِ الْحَمْدُ رَ‌بِّ السَّمَاوَاتِ وَرَ‌بِّ الْأَرْ‌ضِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ ﴿٣٦﴾
پس اللہ کی تعریف ہے جو آسمانوں اور زمین اور تمام جہان کا پالنہار ہے۔

وَلَهُ الْكِبْرِ‌يَاءُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿٣٧﴾
تمام (بزرگی اور) بڑائی آسمانوں اور زمین میں اسی کی (١) ہے اور وہی غالب اور حکمت والا ہے۔
٣٧۔١ جیسے حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [الْعَظَمَةُ إِزَارِي وَالْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي، فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا أَسْكَنْتُهُ نَارِي] (صحيح مسلم، كتاب البر باب تحريم الكبر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
پارہ 26
سورة الأحقاف

(سورة الأحقاف مکی ہے اور اس میں پینتیس آیتیں ہیں اور چار رکوع ہیں)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

حم ﴿١﴾ تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ ﴿٢﴾
حم (۱) - اس کتاب کا اتارنا اللہ تعالیٰ غالب حکمت والے کی طرف سے ہے۔
۲۔۱ یہ فَوَاتِحُ سُوَرٌ، ان متشابہات میں سے ہیں جن کا علم صرف اللہ کو ہے، اس لیے ان کے معانی و مطالب میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم ان کے دو فائدے بعض مفسرین نے بیان کیے ہیں، جنہیں ہم سورۂ لقمان کے شروع میں بیان کر آئے ہیں۔
 
Top