سورة الحدید
(سورة الحدید مدنی ہے اور اس میں انتیس آیتیں اور چار رکوع ہیں)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
سَبَّحَ لِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿١﴾
آسمانوں اور زمین جو ہے (سب) اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں، (١) وہ زبردست باحکمت ہے۔
١۔١ یہ تسبیح زبان حال سے نہیں، بلکہ زبان مقال سے ہے اسی لیے فرمایا گیا ہے، ﴿وَلَكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ﴾ (بنی إسرائيل: ۴۴) ”تم ان کی تسبیح نہیں سمجھ سکتے“۔ حضرت داود عليہ السلام کے بارے میں آتا ہے کہ ان کے ساتھ پہاڑ بھی تسبیح کرتے تھے۔ (الانبیا: ۷۹) اگر یہ تسبیح حال یا تسبیح دلالت ہوتی تو حضرت داود عليہ السلام کے ساتھ اس کو خاص کرنے کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔
لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ يُحْيِي وَيُمِيتُ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿٢﴾
آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے، (١) وہی زندگی دیتا ہے اور موت بھی وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
٢۔١ اس لیے وہ ان میں جس طرح چاہتا ہے تصرف فرماتا ہے، اس کے سوا ان میں کسی کا حکم اور تصرف نہیں چلتا۔ یا مطلب ہے کہ بارش، نباتات اور روزیوں کے سارے خزانے اسی کی ملک میں ہیں۔
هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴿٣﴾
وہی پہلے ہے اور وہی پیچھے، وہی ﻇاہر ہے اور وہی مخفی، اور وه ہر چیز کو بخوبی جاننے واﻻ ہے۔
٣۔١ وہی اول ہے یعنی اس سے پہلے کچھ نہ تھا، وہی آخر ہے، اس کے بعد کوئی چیز نہیں ہو گی، وہی ظاہر ہے یعنی وہ سب پر غالب ہے، اس پر کوئی غالب نہیں۔ وہی باطن ہے، یعنی باطن کی ساری باتوں کو صرف وہی جانتا ہے یا لوگوں کی نظروں اور عقلوں سے مخفی ہے۔ (فتح القدیر) نبی ﷺ نے اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی الله عنہا کو یہ دعا پڑھنے کی تاکید فرمائی تھی۔ [اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِه، اللَّهُمَّ أَنْتَ الأوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ البَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَاغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ] (صحيح مسلم، كتاب الذكر والدعاء باب ما يقول عند النوم وأخذ المضجع) اس دعا میں، جو ادائیگی قرض کے لیے مسنون ہے، اول و آخر اور ظاہر و باطن کی تفسیر بیان فرما دی گئی ہے۔