• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِيمٍ ﴿٩٣﴾
تو کھولتے ہوئے گرم پانی کی مہمانی ہے۔

وَتَصْلِيَةُ جَحِيمٍ ﴿٩٤﴾
اور دوزخ میں جانا ہے۔

إِنَّ هَـٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْيَقِينِ ﴿٩٥﴾
یہ خبر سراسر حق اور قطعاً یقینی ہے۔

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَ‌بِّكَ الْعَظِيمِ ﴿٩٦﴾
پس تو اپنے عظیم الشان پروردگار کی تسبیح کر۔ (١)
٩٦۔١ حدیث میں آتا ہے کہ دو کلمے اللہ کو بہت محبوب ہیں، زباں پر ہلکے اور وزن میں بھاری۔ [سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِه سَبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ] (صحيح بخاری و آخری حدیث صحيح مسلم كتاب الذكر، باب فضل التهليل والتسبيح والدعاء)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الحدید

(سورة الحدید مدنی ہے اور اس میں انتیس آیتیں اور چار رکوع ہیں)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

سَبَّحَ لِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿١﴾
آسمانوں اور زمین جو ہے (سب) اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں، (١) وہ زبردست باحکمت ہے۔
١۔١ یہ تسبیح زبان حال سے نہیں، بلکہ زبان مقال سے ہے اسی لیے فرمایا گیا ہے، ﴿وَلَكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ﴾ (بنی إسرائيل: ۴۴) ”تم ان کی تسبیح نہیں سمجھ سکتے“۔ حضرت داود عليہ السلام کے بارے میں آتا ہے کہ ان کے ساتھ پہاڑ بھی تسبیح کرتے تھے۔ (الانبیا: ۷۹) اگر یہ تسبیح حال یا تسبیح دلالت ہوتی تو حضرت داود عليہ السلام کے ساتھ اس کو خاص کرنے کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔

لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ ۖ يُحْيِي وَيُمِيتُ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ‌ ﴿٢﴾
آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے، (١) وہی زندگی دیتا ہے اور موت بھی وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
٢۔١ اس لیے وہ ان میں جس طرح چاہتا ہے تصرف فرماتا ہے، اس کے سوا ان میں کسی کا حکم اور تصرف نہیں چلتا۔ یا مطلب ہے کہ بارش، نباتات اور روزیوں کے سارے خزانے اسی کی ملک میں ہیں۔

هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ‎﴿٣﴾
وہی پہلے ہے اور وہی پیچھے، وہی ﻇاہر ہے اور وہی مخفی، اور وه ہر چیز کو بخوبی جاننے واﻻ ہے۔
٣۔١ وہی اول ہے یعنی اس سے پہلے کچھ نہ تھا، وہی آخر ہے، اس کے بعد کوئی چیز نہیں ہو گی، وہی ظاہر ہے یعنی وہ سب پر غالب ہے، اس پر کوئی غالب نہیں۔ وہی باطن ہے، یعنی باطن کی ساری باتوں کو صرف وہی جانتا ہے یا لوگوں کی نظروں اور عقلوں سے مخفی ہے۔ (فتح القدیر) نبی ﷺ نے اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی الله عنہا کو یہ دعا پڑھنے کی تاکید فرمائی تھی۔ [اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِه، اللَّهُمَّ أَنْتَ الأوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ البَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَاغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ] (صحيح مسلم، كتاب الذكر والدعاء باب ما يقول عند النوم وأخذ المضجع) اس دعا میں، جو ادائیگی قرض کے لیے مسنون ہے، اول و آخر اور ظاہر و باطن کی تفسیر بیان فرما دی گئی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْ‌شِ ۚ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْ‌ضِ وَمَا يَخْرُ‌جُ مِنْهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُ‌جُ فِيهَا ۖ وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ ۚ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ‌ ﴿٤﴾
وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر مستوی (١) ہو گیا۔ اور وہ (خوب) جانتا ہے اس چیز کو جو زمین میں جائے (٢) اور جو اس سے نکلے (٣) اور جو آسماں سے نیچے آئے (٤) اور جو کچھ چڑھ کر اس میں جائے، (٥) اور جہاں کہیں تم ہو وہ تمہارے ساتھ ہے (٦) اور جو تم کر رہے ہو اللہ دیکھ رہا ہے۔
٤۔١ اسی مفہوم کی آیات سورۂ اعراف :۵۴، سورۂ یونس: ۳، اور الم السجدۃ: ۴ وغیرھا من الآیات میں گزر چکی ہیں۔ ان کے حواشی ملاحظہ فرما لیے جائیں۔
٤۔٢ یعنی زمین میں بارش کے جو قطرے اور غلہ جات و میوہ جات کے جو بیج داخل ہوتے ہیں، ان کی کمیت و کیفیت کو وہ جانتا ہے۔
٤۔۳ جو درخت، چاہے وہ پھلوں کے ہوں یا غلوں کے یا زینت و آرائش اور خوشبو والے پھولوں کے بوٹے ہوں، یہ جتنے بھی اور جیسے بھی باہر نکلتے ہیں، سب اللہ کے علم میں ہیں۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ﴿وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لا يَعْلَمُهَا إِلا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلا يَعْلَمُهَا وَلا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الأَرْضِ وَلا رَطْبٍ وَلا يَابِسٍ إِلا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ﴾ (سورة الأنعام: ۵۹) اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں تمام مخفی اشیا کے خزانے، ان کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ کے، اور وہ تمام چیزوں کو جانتاہے جو کچھ خشکی میں اور جو کچھ دریاؤں میں ہیں۔ کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اس کو بھی جانتا ہے، اور کوئی دانہ کوئی زمین کے تاریک حصوں میں نہیں پڑتا اورنہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز گرتی ہے، مگر یہ سب کتاب مبین میں ہیں۔
٤۔٤ بارش، اولے، برف، تقدیر اور وہ احکام، جو فرشتے لے کر اترتے ہیں۔
٤۔٥ فرشتے انسانوں کے جو عمل لے کر چڑھتے ہیں جس طرح حدیث میں آتا ہے کہ اللہ کی طرف رات کے عمل دن سے پہلے اور دن کے عمل رات سے پہلے چڑھتے ہیں۔ (صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب إن الله لا ينام)۔
٤۔٦ یعنی تم خشکی میں ہو یا تری میں، رات ہو یا دن، گھروں میں ہو یا صحراؤں میں، ہر جگہ ہر وقت وہ اپنے علم و بصر کے لحاظ سے تمہارے ساتھ ہے یعنی تمہارے ایک ایک عمل کو دیکھتا ہے، تمہاری ایک ایک بات کو جانتا اور سنتا ہے۔ یہی مضمون سورۂ ھود: ۳، سورۂ رعد: ۱۰ اور دیگر آیات میں بیان کیا گیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَّهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ ۚ وَإِلَى اللَّـهِ تُرْ‌جَعُ الْأُمُورُ‌ ﴿٥﴾
آسمانوں کی اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے۔ اور تمام کام اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔

يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ‌ وَيُولِجُ النَّهَارَ‌ فِي اللَّيْلِ ۚ وَهُوَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ‌ ﴿٦﴾
وہی رات کو دن میں لے جاتا ہے اور وہی دن کو رات میں داخل کر دیتا ہے (١) اور سینوں کے بھیدوں کا وہ پورا عالم ہے۔
٦۔١ یعنی تمام چیزوں کا مالک وہی ہے، وہ جس طرح چاہتا ہے، ان میں تصرف فرماتا ہے، اس کے حکم و تصرف سے کبھی رات لمبی، دن چھوٹا اور کبھی اس کے برعکس دن لمبا اور رات چھوٹی ہو جاتی ہے اور کبھی دونوں برابر۔ اسی طرح کبھی سردی، کبھی گرمی، کبھی بہار اور کبھی خزاں۔ موسموں کا تغیر و تبدل بھی اس کے حکم و مشیت سے ہوتا ہے۔

آمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَ‌سُولِهِ وَأَنفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُم مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ ۖ فَالَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَأَنفَقُوا لَهُمْ أَجْرٌ‌ كَبِيرٌ‌ ﴿٧﴾
اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور اس مال میں سے خرچ کرو جس میں اللہ نے تمہیں (دوسروں کا) جانشین بنایا ہے (١) پس تم میں سے جو ایمان لائیں اور خیرات کریں انہیں بہت بڑا ثواب ملے گا۔
٧۔١ یعنی یہ مال اس سے پہلے کسی دوسرے کے پاس تھا۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تمہارے پاس بھی یہ مال نہیں رہے گا، دوسرے اس کے وارث بنیں گے، اگر تم نے اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کیا تو بعد میں اس کے وارث بننے والے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر کے تم سے زیادہ سعادت حاصل کر سکتے ہیں اور اگر وہ اسے نافرمانی میں خرچ کریں گے تو تم بھی معاونت کے جرم میں ماخوذ ہو سکتے ہو۔ (ابن کثیر) حدیث میں آتا ہے کہ ”انسان کہتا ہے، میرا مال، میرا مال، حالانکہ تیرا مال، ایک تو وہ ہے جو تو نے کھا پی کر فنا کر دیا، دوسرا وہ ہے جسے پہن کر بوسیدہ کر دیا اور تیسرا وہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کر کے آخرت کے لیے ذخیرہ کر لیا۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ سب دوسرے لوگوں کے حصے میں آئے گا“۔ (صحيح مسلم، كتاب الزهد ومسند أحمد ج۴ ص۲۴)

وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ ۙ وَالرَّ‌سُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَ‌بِّكُمْ وَقَدْ أَخَذَ مِيثَاقَكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿٨﴾
تم اللہ پر ایمان کیوں نہیں لاتے؟ حالانکہ خود رسول تمہیں اپنے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے اور اگر تم مومن ہو تو وہ تم سے مضبوط عہد و پیمان بھی لے چکا ہے۔ (١)
٨۔١ ابن کثیر نے اخذ کا فاعل الرسول کو بنایا ہے اور مراد وہ بیعت لی جو رسول ﷺ صحابہ کرام رضی الله عنہم سے لیتے تھے کہ خوشی اور ناخوشی ہر حالت میں سمع و اطاعت کرنی ہے اور امام ابن جریر کے نزدیک اس کا فاعل اللہ ہے اور مراد وہ عہد ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں سے اس وقت لیا تھا جب انہیں آدم عليہ السلام کی پشت سے نکالا تھا، جو عہد الست کہلاتا ہے، جس کا ذکر سورۃ الاعراف: ۱۷۲ میں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
هُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ عَلَىٰ عَبْدِهِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ لِّيُخْرِ‌جَكُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ‌ ۚ وَإِنَّ اللَّـهَ بِكُمْ لَرَ‌ءُوفٌ رَّ‌حِيمٌ ﴿٩﴾
وہ (اللہ) ہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیتیں اتارتا ہے تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے نور کی طرف لے جائے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نرمی کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔

وَمَا لَكُمْ أَلَّا تُنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَلِلَّـهِ مِيرَ‌اثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ ۚ لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ ۚ أُولَـٰئِكَ أَعْظَمُ دَرَ‌جَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّـهُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ‌ ﴿١٠﴾
تمہیں کیا ہو گیا ہے جو تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے؟ دراصل آسمانوں اور زمینوں کی میراث کا مالک (تنہا) اللہ ہی ہے تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے فی سبیل اللہ دیا ہے اور قتال کیا ہے وہ (دوسروں کے) برابر نہیں، (۱) بلکہ ان سے بہت بڑے درجے کے ہیں جنہوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیے۔ (۲) ہاں بھلائی کا وعدہ تو اللہ تعالیٰ کا ان سب سے ہے (۳) جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے۔
١٠۔١ فتح سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک فتح مکہ ہے۔ بعض نے صلح حدیبیہ کو فتح مبین کا مصداق سمجھ کر اسے مراد لیا ہے۔ بہرحال صلح حدیبیہ یا فتح مکہ سے قبل مسلمان تعداد اور قوت کے لحاظ سے بھی کم تر تھے اور مسلمانوں کی مالی حالت بھی بہت کمزور تھی۔ ان حالات میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور جہاد میں حصہ لینا، دونوں کام نہایت مشکل اور بڑے دل گردے کا کام تھا، جب کہ فتح مکہ کے بعد یہ صورت حال بدل گئی۔ مسلمان قوت و تعداد میں بڑھتے چلے گئے اور ان کی مالی حالت بھی پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہو گئی۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے دونوں ادوار کے مسلمانوں کی بابت فرمایا کہ یہ اجر میں برابرنہیں ہو سکتے۔
١٠۔۲ کیونکہ پہلوں کا انفاق اور جہاد، دونوں کام نہایت کٹھن حالات میں ہوئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہل فضل و عزم کو دیگر لوگوں کے مقابلے میں مقدم رکھنا چاہیے۔ اسی لیے اہل سنت کے نزدیک شرف و فضل میں حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سب سے مقدم ہیں، کیونکہ مومن اول بھی وہی ہیں اور منفق اول اور مجاہد اول بھی وہی۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے حضرت صدیق اکبر رضی الله عنہ کواپنی زندگی اور موجودگی میں نماز کے لیے آگے کیا، اور اسی بنیاد پر مومنوں (صحابہ کرام) نے انہیں استحقاق خلافت میں مقدم رکھا رضی الله عنہمْ وَرَضُوا عَنْهُ۔
١٠۔۳ اس میں وضاحت فرما دی کہ صحابہ کرام رضی الله عنہم کے درمیان شرف و فضل میں تفاوت تو ضرور ہے لیکن تفاوت درجات کا مطلب یہ نہیں کہ بعد میں مسلمان ہونے والے صحابہ کرام رضی الله عنہم ایمان و اخلاق کے اعتبار سے بالکل ہی گئے گزرے تھے، جیسا کہ بعض حضرات، حضرت معاویہ رضی الله عنہ، ان کے والد حضرت ابو سفیان رضی الله عنہ اور دیگر بعض ایسے ہی جلیل القدر صحابہ کے بارے میں ہرزہ سرائی یا انہیں طلقاء کہہ کر ان کی تنقیص و اہانت کرتے ہیں۔ نبی ﷺ نے تمام صحابہ کرام رضی الله عنہم کے بارے میں فرمایا ہے کہ [لا تَسُبُّوا أَصْحَابِي] میرے صحابہ پر سب و شتم نہ کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ جتنا سونا بھی اللہ کی راہ میں خرچ کر دے تو وہ میرے صحابی کے خرچ کیے ہوئے ایک مد بلکہ نصف مد کے بھی برابر نہیں۔ (صحيح بخاری، وصحيح مسلم، كتاب فضائل الصحابة)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِ‌ضُ اللَّـهَ قَرْ‌ضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ وَلَهُ أَجْرٌ‌ كَرِ‌يمٌ ﴿١١﴾
کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح قرض دے پھر اللہ تعالیٰ اسے اس کے لیے بڑھاتا چلا جائے اور اس کے لیے پسندیدہ اجر ثابت ہو جائے۔ (۱)
١١۔۱ اللہ کو قرض حسن دینے کا مطلب ہے، اللہ کی راہ میں صدقہ و خیرات کرنا۔ یہ مال، جو انسان اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اللہ ہی کا دیا ہوا ہے، اس کے باوجود اسے قرض قرار دینا، یہ اللہ کا فضل و احسان ہے کہ وہ اس انفاق پر اسی طرح اجر دے گا جس طرح قرض کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَوْمَ تَرَ‌ى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ يَسْعَىٰ نُورُ‌هُم بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِم بُشْرَ‌اكُمُ الْيَوْمَ جَنَّاتٌ تَجْرِ‌ي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ‌ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴿١٢﴾
(قیامت کے) دن تو دیکھے گا کہ ایماندار مردوں اور عورتوں کا نور انکے آگے آگے اور انکے دائیں دوڑ رہا ہو گا (١) آج تمہیں ان جنتوں کی خوشخبری ہے جنکے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں ہمیشہ کی رہائش ہے۔ یہ ہے بڑی کامیابی۔ (٢)
١٢۔١ یہ عرصہ محشر میں پل صراط میں ہو گا، یہ نور ان کے ایمان اور عمل صالح کا صلہ ہو گا، جس کی روشنی میں وہ جنت کا راستہ آسانی سے طے کر لیں گے۔ امام ابن کثیر اور امام ابن جریر وغیرہ نے ﴿وَبِأَيْمَانِهِمْ﴾ کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ ان کے دائیں ہاتھوں میں ان کے اعمال نامے ہوں گے۔
١٢۔٢ یہ وہ فرشتے کہیں گے جو ان کے استقبال اور پیشوائی کے لیے وہاں ہوں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَوْمَ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ لِلَّذِينَ آمَنُوا انظُرُ‌ونَا نَقْتَبِسْ مِن نُّورِ‌كُمْ قِيلَ ارْ‌جِعُوا وَرَ‌اءَكُمْ فَالْتَمِسُوا نُورً‌ا فَضُرِ‌بَ بَيْنَهُم بِسُورٍ‌ لَّهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّ‌حْمَةُ وَظَاهِرُ‌هُ مِن قِبَلِهِ الْعَذَابُ ﴿١٣﴾
اس دن منافق مرد و عورت ایمانداروں سے کہیں گے کہ ہمارا انتظار تو کرو کہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کر لیں۔ (١) جواب دیا جائے گا کہ تم اپنے پیچھے لوٹ جاؤ (٢) اور روشنی تلاش کرو۔ پھر ان کے اور ان کے درمیان (٣) ایک دیوار حائل کر دی جائے گی جس میں دروازہ بھی ہو گا۔ اس کے اندرونی حصہ میں تو رحمت ہو گی (٤) اور باہر کی طرف عذاب ہو گا۔ (٥)
١٣۔١ یہ منافقین کچھ فاصلے تک اہل ایمان کے ساتھ ان کی روشنی میں چلیں گے، پھر اللہ تعالیٰ منافقین پر اندھیرا مسلط فرما ئے گا، اس وقت وہ اہل ایمان سے یہ کہیں گے۔
١٣۔٢ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جا کر اسی طرح ایمان اور عمل صالح کی پونجی لے کر آؤ، جس طرح ہم لائے ہیں۔ یا استہزا کے طور پراہل ایمان کہیں گے کہ پیچھے جہاں سے ہم یہ نور لائے تھے وہیں جا کر اسے تلاش کرو۔
١٣۔٣ یعنی مومنین اور منافقین کے درمیان۔
١٣۔٤ اس سے مراد جنت ہے جس میں اہل ایمان داخل ہو چکے ہوں گے۔
١٣۔٥ یہ وہ حصہ ہے جس میں جہنم ہو گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يُنَادُونَهُمْ أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ ۖ قَالُوا بَلَىٰ وَلَـٰكِنَّكُمْ فَتَنتُمْ أَنفُسَكُمْ وَتَرَ‌بَّصْتُمْ وَارْ‌تَبْتُمْ وَغَرَّ‌تْكُمُ الْأَمَانِيُّ حَتَّىٰ جَاءَ أَمْرُ‌ اللَّـهِ وَغَرَّ‌كُم بِاللَّـهِ الْغَرُ‌ورُ‌ ﴿١٤﴾
یہ چلا چلا کر ان سے کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے (١) وہ کہیں گے ہاں تھے تو سہی لیکن تم نے اپنے آپکو فتنہ میں پھنسا رکھا (٢) تھا اور وہ انتظار میں ہی رہے (٣) اور شک و شبہ کرتے رہے (٤) اور تمہیں تمہاری فضول تمناؤں نے دھوکے میں ہی رکھا (۵) یہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچا ( ٦) اور تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے والے نے دھوکے میں ہی رکھا۔ (۷)
١٤۔١ یعنی دیوار حائل ہونے پر منافقین مسلمانوں سے کہیں گے کہ دنیا میں ہم تمہارے ساتھ نمازیں نہیں پڑھتے تھے، اور جہاد وغیرہ میں حصہ نہیں لیتے تھے؟
١٤۔٢ کہ تم نے اپنے دلوں میں کفر اور نفاق چھپا رکھا تھا۔
١٤۔٣ کہ شاید مسلمان کسی گردش کا شکار ہو جائیں۔
١٤۔٤ دین کے معاملے میں، اسی لیے قرآن کو مانا نہ دلائل و معجزات کو۔
۱٤۔۵ جس میں تمہیں شیطان نے مبتلا کیے رکھا۔
۱٤۔٦ یعنی تمہیں موت آگئی، یا مسلمان بالآخر غالب رہے اور تمہاری آرزوں پر پانی پھر گیا۔
۱٤۔۷ یعنی اللہ کے حلم اور اس کے قانون امہال کی وجہ سے تمہیں شیطان نے دھوکے میں ڈالے رکھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَالْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنكُمْ فِدْيَةٌ وَلَا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا ۚ مَأْوَاكُمُ النَّارُ‌ ۖ هِيَ مَوْلَاكُمْ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ‌ ﴿١٥﴾
الغرض، آج تم سے نہ فدیہ (اور نہ بدلہ) قبول کیا جائے گا اور نہ کافروں سے تم (سب) کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ وہی تمہاری رفیق ہے (۱) اور وہ برا ٹھکانا ہے۔
۱۵۔۱ مولیٰ اسے کہتے ہیں جو کسی کے کاموں کا متولی یعنی ذمے دار بنے۔ گویا اب جہنم ہی اس بات کی ذمے دار ہے کہ انہیں سخت سے سخت تر عذاب کا مزا چکھائے۔ بعض کہتے ہیں کہ ہمیشہ ساتھ رہنے والے کو بھی مولیٰ کہہ لیتے ہیں، یعنی اب جہنم کی آگ ہی ان کی ہمیشہ کی ساتھی اور رفیق ہو گی۔ بعض کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جہنم کو بھی عقل و شعور عطا فرمائے گا پس وہ کافروں کے خلاف غیظ و غضب کا اظہار کرے گی۔ یعنی ان کی والی بنے گی اور انہیں عذاب الیم سے دوچار کرے گی۔
 
Top