- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
قُلْ إِنَّ الْمَوْتَ الَّذِي تَفِرُّونَ مِنْهُ فَإِنَّهُ مُلَاقِيكُمْ ۖ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَىٰ عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿٨﴾
کہہ دیجئے! کہ جس موت سے تم بھاگتے پھرتے ہو وہ تو تمہیں پہنچ کر رہے گی پھر تم سب چھپے کھلے کے جاننے والے (اللہ) کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وہ تمہیں تمہارے کیے ہوئے تمام کام بتلا دے گا۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّـهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿٩﴾
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔ (١) یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔
٩۔١ یہ اذان کس طرح دی جائے اس کے الفاظ کیا ہوں؟ یہ قرآن میں کہیں نہیں ہے۔ البتہ حدیث میں ہے جس سے معلوم ہوا کہ حدیث کے بغیر قرآن کو سمجھنا ممکن ہے نہ اس پر عمل کرنا ہی۔ جمعہ کو، جمعہ اس لیے کہتے ہیں کہ اس دن اللہ تعالیٰ ہر چیز کی پیدائش سے فارغ ہو گیا تھا، یوں گویا تمام مخلوقات کا اس دن اجتماع ہو گیا، یا نماز کے لیے لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے اس بنا پر کہتے ہیں۔ (فتح القدیر) فَاسْعَوْا کا مطلب یہ نہیں کہ دوڑ کر آؤ، بلکہ یہ ہے کہ اذان کے فوراً بعد آجاؤ اور کاروبار بند کر دو۔ کیونکہ نماز کے لیے دوڑ کر آنا ممنوع ہے، وقار اور سکینت کے ساتھ آنے کی تاکید کی گئی ہے۔ (صحيح بخاری، كتاب الأذان وصحيح مسلم، كتاب المساجد) بعض حضرات نے ذَرُوا الْبَيْعَ (خرید و فروخت چھوڑ دو) سے استدلال کیا ہے کہ جمعہ صرف شہروں میں فرض ہے، اہل دیہات پر نہیں۔ کیونکہ کاروبار اور خرید و فروخت شہروں میں ہی ہوتی ہے، دیہاتوں میں نہیں۔ حالانکہ اول تو دنیا میں کوئی گاؤں ایسا نہیں جہاں خرید و فروخت اور کاروبار نہ ہوتا ہو، اس لیے یہ دعویٰ ہی خلاف واقعہ ہے۔ دوسرا بیع اور کاروبار سے مطلب، دنیا کے مشاغل ہیں، وہ جیسے بھی اور جس قسم کے بھی ہوں۔ اذان جمعہ کے بعد انہیں ترک کر دیا جائے۔ کیا اہل دیہات کے مشاغل دنیا نہیں ہوتے؟ کیا کھیتی باڑی، کاروبار اور مشاغل دنیا سے مختلف چیز ہے؟
کہہ دیجئے! کہ جس موت سے تم بھاگتے پھرتے ہو وہ تو تمہیں پہنچ کر رہے گی پھر تم سب چھپے کھلے کے جاننے والے (اللہ) کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وہ تمہیں تمہارے کیے ہوئے تمام کام بتلا دے گا۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّـهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿٩﴾
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔ (١) یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔
٩۔١ یہ اذان کس طرح دی جائے اس کے الفاظ کیا ہوں؟ یہ قرآن میں کہیں نہیں ہے۔ البتہ حدیث میں ہے جس سے معلوم ہوا کہ حدیث کے بغیر قرآن کو سمجھنا ممکن ہے نہ اس پر عمل کرنا ہی۔ جمعہ کو، جمعہ اس لیے کہتے ہیں کہ اس دن اللہ تعالیٰ ہر چیز کی پیدائش سے فارغ ہو گیا تھا، یوں گویا تمام مخلوقات کا اس دن اجتماع ہو گیا، یا نماز کے لیے لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے اس بنا پر کہتے ہیں۔ (فتح القدیر) فَاسْعَوْا کا مطلب یہ نہیں کہ دوڑ کر آؤ، بلکہ یہ ہے کہ اذان کے فوراً بعد آجاؤ اور کاروبار بند کر دو۔ کیونکہ نماز کے لیے دوڑ کر آنا ممنوع ہے، وقار اور سکینت کے ساتھ آنے کی تاکید کی گئی ہے۔ (صحيح بخاری، كتاب الأذان وصحيح مسلم، كتاب المساجد) بعض حضرات نے ذَرُوا الْبَيْعَ (خرید و فروخت چھوڑ دو) سے استدلال کیا ہے کہ جمعہ صرف شہروں میں فرض ہے، اہل دیہات پر نہیں۔ کیونکہ کاروبار اور خرید و فروخت شہروں میں ہی ہوتی ہے، دیہاتوں میں نہیں۔ حالانکہ اول تو دنیا میں کوئی گاؤں ایسا نہیں جہاں خرید و فروخت اور کاروبار نہ ہوتا ہو، اس لیے یہ دعویٰ ہی خلاف واقعہ ہے۔ دوسرا بیع اور کاروبار سے مطلب، دنیا کے مشاغل ہیں، وہ جیسے بھی اور جس قسم کے بھی ہوں۔ اذان جمعہ کے بعد انہیں ترک کر دیا جائے۔ کیا اہل دیہات کے مشاغل دنیا نہیں ہوتے؟ کیا کھیتی باڑی، کاروبار اور مشاغل دنیا سے مختلف چیز ہے؟