- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ ۚ وَلِلَّـهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَـٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٨﴾
یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم اب لوٹ کر مدینہ جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلت والے کو نکال دے گا۔ (١) سنو! عزت تو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اور ایمانداروں کے لیے ہے (۲) لیکن یہ منافق جانتے نہیں۔ (۳)
٨۔١ اس کا کہنے والا رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی تھا، عزت والے سے اس کی مراد تھی، وہ خود اور اس کے رفقاء اور ذلت والے سے (نعوذ باللہ) رسول اللہ ﷺ اور مسلمان۔
۸۔۲ یعنی عزت اور غلبہ صرف ایک اللہ کے لیے ہے اور پھر وہ اپنی طرف سے جس کو چاہے عزت و غلبہ عطا فرما دے۔ چنانچہ وہ اپنے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کو عزت اور سرفرازیاں عطا فرماتا ہے نہ کہ ان کو جو اس کے نافرمان ہوں۔ یہ منافقین کے قول کی تردید فرمائی کہ عزتوں کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے اور معزز بھی وہی ہے جسے وہ معزز سمجھے، نہ کہ وہ جو اپنے آپ کو معزز یا اہل دنیا جس کو معزز سمجھیں اور اللہ کے ہاں معزز صرف اور صرف اہل ایمان ہوں گے، کافر اور اہل نفاق نہیں۔
۸۔۳ اس لیے ایسے کام نہیں کرتے جو ان کے لیے مفید ہیں اور ان چیزوں سے نہیں بچتے جو ان کے لیے نقصان دہ ہیں۔
یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم اب لوٹ کر مدینہ جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلت والے کو نکال دے گا۔ (١) سنو! عزت تو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اور ایمانداروں کے لیے ہے (۲) لیکن یہ منافق جانتے نہیں۔ (۳)
٨۔١ اس کا کہنے والا رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی تھا، عزت والے سے اس کی مراد تھی، وہ خود اور اس کے رفقاء اور ذلت والے سے (نعوذ باللہ) رسول اللہ ﷺ اور مسلمان۔
۸۔۲ یعنی عزت اور غلبہ صرف ایک اللہ کے لیے ہے اور پھر وہ اپنی طرف سے جس کو چاہے عزت و غلبہ عطا فرما دے۔ چنانچہ وہ اپنے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کو عزت اور سرفرازیاں عطا فرماتا ہے نہ کہ ان کو جو اس کے نافرمان ہوں۔ یہ منافقین کے قول کی تردید فرمائی کہ عزتوں کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے اور معزز بھی وہی ہے جسے وہ معزز سمجھے، نہ کہ وہ جو اپنے آپ کو معزز یا اہل دنیا جس کو معزز سمجھیں اور اللہ کے ہاں معزز صرف اور صرف اہل ایمان ہوں گے، کافر اور اہل نفاق نہیں۔
۸۔۳ اس لیے ایسے کام نہیں کرتے جو ان کے لیے مفید ہیں اور ان چیزوں سے نہیں بچتے جو ان کے لیے نقصان دہ ہیں۔