• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارً‌ا ﴿١٤﴾
حالانکہ اس نے تمہیں طرح طرح سے (١) پیدا کیا ہے۔
١٤۔١ پہلے نطفہ، پھر علقہ، پھر مضغہ، پھر عظام اور لحم اور پھر خلق تام، جیسا کہ سورہ انبیاء: ۵، المؤمنون: ۱۴ اور المؤمن: ۶۷ وغیرھا میں تفصیل گزری۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَلَمْ تَرَ‌وْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّـهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا ﴿١٥﴾
کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے کس طرح سات آسمان پیدا کر دیئے ہیں۔ (۱)
۱۵۔۱ جو اس کی قدرت اور کمال صناعت پر دلالت کرتے ہیں اور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عبادت کے لائق صرف وہی ایک اللہ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَجَعَلَ الْقَمَرَ‌ فِيهِنَّ نُورً‌ا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَ‌اجًا ﴿١٦﴾
اور ان میں چاند کو خوب جگمگاتا بنایا ہے (١) اور سورج کو روشن چراغ بنایا ہے۔ (٢)
١٦۔١ جو روئے زمین کو منور کرنے والا اور اس کے ماتھے کا جھومر ہے۔
١٦۔٢ تاکہ اس کی روشنی میں انسان معاش کے لیے، جو انسانوں کی انتہائی ناگزیر ضرورت ہے، کسب و محنت کر سکے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاللَّـهُ أَنبَتَكُم مِّنَ الْأَرْ‌ضِ نَبَاتًا ﴿١٧﴾
اور تم کو زمین سے ایک (خاص اہتمام سے) اگایا ہے (١) (اور پیدا کیا ہے)
١٧۔١ یعنی تمہارے باپ آدم علیہ السلام کو، جنہیں مٹی سے بنایا گیا اور پھر اس میں اللہ نے روح پھونکی۔ یا اگر تمام انسانوں کو مخاطب سمجھا جائے، تو مطلب ہو گا کہ تم جس نطفے سے پیدا ہوتے ہو وہ اسی خوراک سے بنتا ہے جو زمین سے حاصل ہوتی ہے، اس اعتبار سے سب کی پیدائش کی اصل زمین ہی قرار پائی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِ‌جُكُمْ إِخْرَ‌اجًا ﴿١٨﴾
پھر تمہیں اسی میں لوٹا لے جائے گا اور (ایک خاص طریقہ) سے پھر نکالے گا۔ (١)
١٨۔١ یعنی مر کر، پھر اسی مٹی میں دفن ہونا ہے اور پھر قیامت والے دن اسی زمین سے تمہیں زندہ کرکے نکالا جائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاللَّـهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْ‌ضَ بِسَاطًا ﴿١٩﴾
اور تمہارے لیے زمین کو اللہ تعالیٰ نے فرش بنا دیا ہے۔ (۱)
۱۹۔۱ یعنی اسے فرش کی طرح بچھا دیا ہے، تم اس پر اسی طرح چلتے پھرتے ہو، جیسے اپنے گھر میں بچھے ہوئے فرش پر چلتے اور اٹھتے بیٹھتے ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لِّتَسْلُكُوا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا ﴿٢٠﴾
تاکہ تم اس کی کشادہ راہوں میں چلو پھرو۔ (۱)
۲۰۔۱ سُبُلٌ، سَبِیلٌ کی جمع ہے اور فِجَاجٌ، فَجٌّ (کشادہ راستہ) کی جمع ہے۔ یعنی اس زمین پر اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے کشادہ راستے بنا دیے ہیں تاکہ انسان آسانی کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ، ایک شہر سے دوسرے شہر یا ایک ملک سے دوسرے ملک میں جا سکے۔ اس لیے یہ راستے بھی انسان کی کاروباری اور تمدنی ضرورت ہے، جس کا انتظام کرکے اللہ نے انسانوں پر ایک احسان عظیم کیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالَ نُوحٌ رَّ‌بِّ إِنَّهُمْ عَصَوْنِي وَاتَّبَعُوا مَن لَّمْ يَزِدْهُ مَالُهُ وَوَلَدُهُ إِلَّا خَسَارً‌ا ﴿٢١﴾
نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار! ان لوگوں نے میری تو نافرمانی کی (١) اور ایسوں کی فرمانبرداری کی جن کے مال و اولاد نے ان کو (یقیناً) نقصان ہی میں بڑھایا ہے۔ (١)
٢١۔١ یعنی میری نافرمانی پر اڑے ہوئے ہیں اور میری دعوت پر لبیک نہیں کہہ رہے ہیں۔
٢١۔٢ یعنی ان کے اصاغر نے اپنے بڑوں اور صاحب ثروت ہی کی پیروی کی جن کے مال و اولاد نے انہیں دنیا اور آخرت کے خسارے میں ہی بڑھایا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَكَرُ‌وا مَكْرً‌ا كُبَّارً‌ا ﴿٢٢﴾
اور ان لوگوں نے بڑا سخت فریب کیا۔ (۱)
۲۲۔۱ یہ مکر یا فریب کیا تھا؟ بعض کہتے ہیں، ان کا بعض لوگوں کو حضرت نوح علیہ السلام کے قتل پر ابھارنا تھا، بعض کہتے ہیں کہ مال و اولاد کی وجہ سے جس فریب نفس کا وہ شکار ہوئے، حتی کہ بعض نے کہا کہ اگر یہ حق پر نہ ہوتے تو ان کو یہ نعمتیں میسر کیوں میسر آتیں؟ بعض کے نزدیک ان کے بڑوں کا یہ کہنا تھا کہ تم اپنے معبودوں کی عبادت مت چھوڑنا، بعض کے نزدیک ان کا کفر ہی، بڑا مکر تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَالُوا لَا تَذَرُ‌نَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُ‌نَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرً‌ا ﴿٢٣﴾
اور کہا انہوں نے کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو (چھوڑنا) (١)
٢٣۔١ یہ قوم نوح عليہ السلام کے وہ لوگ تھے جن کی وہ عبادت کرتے تھے اور ان کی اتنی شہرت ہوئی کہ عرب میں بھی ان کی پوجا ہوتی رہی، چنانچہ وَدًّ، دومة الجندل میں قبیلہ کلب کا، سواع ساحل بحر کے قبیلہ ھذیل کا، یغوث سبا کے قریب جرف جگہ میں مراد اور بنی غطیف کا، یعوق، ہمدان قبیلے کا اور نسر، حمیر قبیلہ ذوالکلاع کا معبود رہا۔ (ابن کثیر و فتح القدیر) یہ پانچوں قوم نوح عليہ السلام کے نیک آدمیوں کے نام تھے، جب یہ مر گئے تو شیطان نے ان کے عقیدت مندوں کو کہا کہ ان کی تصویریں بنا کر تم اپنے گھروں اور دکانوں میں رکھ لو تاکہ ان کی یاد تازہ رہے اور ان کے تصور سے تم بھی ان کی طرح نیکیاں کرتے رہو۔ جب یہ تصویریں بنا کر رکھنے والے فوت ہو گئے تو شیطان نے ان کی نسلوں کو یہ کہہ کر کہ شرک میں ملوث کر دیا کہ تمہارے آباء تو ان کی عبادت کرتے تھے جن کی تصویریں تمہارے گھروں میں لٹک رہی ہیں، چنانچہ انہوں نے ان کی پوجا شروع کر دی (صحیح بخاری، تفسیر سورة نوح)
 
Top