• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِي أَخْرَ‌جَ الْمَرْ‌عَىٰ ﴿٤﴾
اور جس نے تازہ گھاس پیدا کی۔ (۱)
٤۔۱ جسے جانور چرتے ہیں۔

فَجَعَلَهُ غُثَاءً أَحْوَىٰ ﴿٥﴾
پھر اس نے اس کو (سکھا کر) سیاہ کوڑا کر دیا۔ (۱)
۵۔۱ گھاس خشک ہو جائے تو اسے غُثَاءً کہتے ہیں، أَحْوَى سیاہ کر دیا۔ یعنی تازہ اور شاداب گھاس کو ہم سکھا کر سیاہ کوڑا بھی کر دیتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سَنُقْرِ‌ئُكَ فَلَا تَنسَىٰ ﴿٦﴾
ہم تجھے پڑھائیں گے پھر تو نہ بھولے گا۔ (١)
٦۔١ حضرت جبرائیل عليہ السلام وحی لے کر آتے تو آپ اسے جلدی جلدی پڑھتے تاکہ بھول نہ جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اس طرح جلدی نہ کریں۔ نازل شدہ وحی ہم آپ کو پڑھوائیں گے یعنی آپ کی زبان پر جاری کر دیں گے، پس آپ اسے بھولیں گے نہیں۔ مگر جسے اللہ چاہے گا، لیکن اللہ نے ایسا نہیں چاہا، اس لیے آپ کو سب کچھ یاد ہی رہا۔ بعض نے کہا کہ اس کا مفہوم ہے کہ جن کو اللہ منسوخ کرنا چاہے گا وہ آپ کو بھلوا دے گا۔ (فتح القدیر)


إِلَّا مَا شَاءَ اللَّـهُ ۚ إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ‌ وَمَا يَخْفَىٰ ﴿٧﴾
مگر جو کچھ اللہ چاہے۔ وہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔ (۱)
۷۔۱ یہ عام ہے، جہر قرآن کا وہ حصہ بھی ہے جسے رسول اللہ ﷺ یاد کر لیں، اور جو آپ کے سینے سے محو کر دیا جائے، وہ مخفی ہے۔ اس طرح جہر اونچی آواز سے پڑھے، خفی پست آواز سے پڑھے۔ خفی، چھپ کر عمل کرے اور جہر ظاہر، ان سب کو اللہ جانتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَنُيَسِّرُ‌كَ لِلْيُسْرَ‌ىٰ ﴿٨﴾
ہم آپ کے لیے آسانی پیدا کر دیں گے۔ (١)
٨۔١ یہ بھی عام ہے۔ مثلاً آپ پر وحی آسان کر دیں گے تاکہ اس کو یاد کرنا اور اس پر عمل کرنا آسان ہو جائے۔ ہم آپ کی اس طریقے کی طرف رہنمائی کریں گے جو آسان ہو گا۔ ہم جنت والا عمل آپ کے لیے آسان کر دیں گے، ہم آپ کے لیے ایسے افعال و اقوال آسان کر دیں گے جن میں خیر ہو اور ہم آپ کے لیے ایسی شریعت مقرر کریں گے، جو سہل، مستقیم اور معتدل ہو گی، جس میں کوئی کجی، عسر اور تنگی نہیں ہو گی۔

فَذَكِّرْ‌ إِن نَّفَعَتِ الذِّكْرَ‌ىٰ ﴿٩﴾
تو آپ نصیحت کرتے رہیں اگر نصیحت کچھ فائدہ دے۔ (۱)
۹۔۱ یعنی وعظ و نصیحت وہاں کریں جہاں محسوس ہو کہ فائدہ مند ہو گی۔ یہ وعظ و نصیحت اور تعلیم کے لیے ایک اصول اور ادب بیان فرما دیا۔ (ابن کثیر) امام شوکانی کے نزدیک مفہوم یہ ہے کہ آپ نصیحت کرتے رہیں، چاہے فائدہ دے یا نہ دے۔ کیونکہ انذار و تبلیغ دونوں صورتوں میں آپ کے لیے ضروری تھی۔ یعنی أَوْ لَمْ تَنْفَعْ یہاں محذوف ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سَيَذَّكَّرُ‌ مَن يَخْشَىٰ ﴿١٠﴾
ڈرنے والا تو نصیحت لے گا۔ (۱)
١٠-۱ یعنی آپ کی نصیحت سے وہ یقیناً عبرت حاصل کریں گے جن کے دلوں میں اللہ کا خوف ہو گا، ان میں خشیت الہیٰ اور اپنی اصلاح کا جذبہ مزید قوی ہو جائے گا۔

وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى ﴿١١﴾
(ہاں) بد بخت اس سے گریز کرے گا۔ (۱)
۱۱۔۱ یعنی اس نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے کیوں کہ ان کا کفر پر اصرار اللہ کی معصیتوں میں انہماک جاری رہتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
الَّذِي يَصْلَى النَّارَ‌ الْكُبْرَ‌ىٰ ﴿١٢﴾
جو بڑی آگ میں جائے گا۔

ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ ﴿١٣﴾
جہاں پھر نہ مرے گا نہ جئے گا (بلکہ حالت نزع میں پڑا رہے گا)۔ (۱)
۱۳۔۱ ان کے برعکس جو لوگ صرف اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے کے لیے عارضی طور پر جہنم میں رہ گئے ہوں گے انہیں اللہ تعالیٰ ایک طرح کی موت دے دے گا۔ حتیٰ کہ وہ آگ میں جل کر کوئلہ ہو جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ انبیاء وغیرہ کی سفارش سے ان کو گروہوں کی شکل میں نکالے گا، ان کو جنت کی نہر میں ڈالا جائے گا، جنتی بھی ان پر پانی ڈالیں گے، جس سے وہ اس طرح جی اٹھیں گے جیسے سیلاب کے کوڑے پردانہ اگ آتا ہے ۔ (صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب إثبات الشفاعة وإخراج الموحدين من النار)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ ﴿١٤﴾
بیشک اس نے فلاح پا لی جو پاک ہو گیا۔ (١)
١٤۔١ جنہوں نے اپنے نفس کو اخلاق رذیلہ سے اور دلوں کو شرک و معصیت کی آلودگی سے پاک کر لیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَذَكَرَ‌ اسْمَ رَ‌بِّهِ فَصَلَّىٰ ﴿١٥﴾
اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پرھتا رہا۔

بَلْ تُؤْثِرُ‌ونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ﴿١٦﴾
لیکن تم تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔

وَالْآخِرَ‌ةُ خَيْرٌ‌ وَأَبْقَىٰ ﴿١٧﴾
اور آخرت بہت بہتر اور بہت بقا والی ہے۔ (١)
١٧۔١ کیوں کہ دنیا اور اس کی ہر چیز فانی ہے، جب کہ آخرت کی زندگی دائمی اور ابدی ہے، اس لیے عاقل فانی چیز کو باقی رہنے والی پر ترجیح نہیں دیتا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ هَـٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُولَىٰ ﴿١٨﴾
یہ باتیں پہلی کتابوں میں بھی ہیں۔

صُحُفِ إِبْرَ‌اهِيمَ وَمُوسَىٰ ﴿١٩﴾
(یعنی) ابراہیم اور موسیٰ کی کتابوں میں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الغاشیة

(سورہ غاشیہ مکی ہے اور اس میں چھبیس آیتیں ہیں۔ بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز میں سورہ جمعہ کے ساتھ سورہ غاشیہ بھی پڑھتے تھے۔ موطا امام مالک)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ ﴿١﴾
کیا تجھے بھی چھپا لینے والی (قیامت) کی خبر پہنچی ہے۔ (١)
١۔١ هَلْ بمعنی قَدْ ہے۔ غَاشِيَةٌ سے مراد قیامت ہے۔ اس لیے کہ اس کی ہولناکیاں تمام مخلوق کو ڈھانک لیں گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ ﴿٢﴾
اس دن بہت سے چہرے ذلیل ہوں گے۔ (۱)
٤۔۱ یعنی کافروں کے چہرے۔ خَاشِعَةٌ جھکے ہوئے، پست اور ذلیل۔ جیسے، نمازی، نماز کی حالت میں اللہ کے سامنے عاجزی اور تذلل سے جھکا ہوتا ہے۔
 
Top