• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ ﴿٣﴾
(اور) محنت کرنے والے تھکے ہوئے ہوں گے۔ (١)
٣۔١ نَاصِبَةٌ کے معنی ہیں، تھک کر چور ہو جانا۔ یعنی انہیں اتنا پر مشقت عذاب ہو گا کہ اس سے ان کا سخت برا حال ہو گا۔ اس کا ایک دوسرا مفہوم یہ ہے کہ دنیا میں عمل کرکر کے تھکے ہوئے ہوں گے یعنی بہت عمل کرتے رہے ہوں گے۔ لیکن وہ عمل باطل مذہب کے مطابق یا بدعات پر مبنی ہوں گے، اس لیے "عبادات" اور "اعمال شاقہ" کے باوجود جہنم میں جائیں گے۔ چنانچہ اسی مفہوم کی رو سے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما نے عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ سے نصاریٰ مراد لیے ہیں (صحيح البخاری تفسير سورة غاشية)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تَصْلَىٰ نَارً‌ا حَامِيَةً ﴿٤﴾
وہ دہکتی ہوئی آگ میں جائیں گے۔

تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ ﴿٥﴾
اور نہایت گرم چشمے کا پانی ان کو پلایا جائے گا۔ (۱)
یہاں وہ سخت کھولتا ہوا پانی مراد ہے جس کی گرمی انتہاء کو پہنچی ہوئی ہو۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِ‌يعٍ ﴿٦﴾
ان کے لیے سوائے کانٹے دار درختوں کے اور کچھ کھانا نہ ہو گا۔ (۱)
٦-۱ یہ ایک کانٹے دار درخت ہوتا ہے جسے خشک ہونے پر جانور بھی کھانا پسند نہیں کرتے۔ بہرحال یہ بھی زقوم کی طرح ایک نہایت تلخ، بدمزہ اور ناپاک ترین کھانا ہو گا، جو جزو بدن بنے گا، نہ اس سے بھوک ہی مٹے گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ ﴿٧﴾
جو نہ موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔

وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌ ﴿٨﴾
بہت سے چہرے اس دن تر و تازہ اور (آسودہ) حال ہوں گے۔

لِّسَعْيِهَا رَ‌اضِيَةٌ ﴿٩﴾
اپنی کوشش پر خوش ہوں گے۔

فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ ﴿١٠﴾
بلند و بالا جنتوں میں ہوں گے۔

لَّا تَسْمَعُ فِيهَا لَاغِيَةً ﴿١١﴾
جہاں کوئی بیہودہ بات نہیں سنیں گے۔

فِيهَا عَيْنٌ جَارِ‌يَةٌ ﴿١٢﴾
جہاں بہتا ہوا چشمہ ہو گا۔

فِيهَا سُرُ‌رٌ‌ مَّرْ‌فُوعَةٌ ﴿١٣﴾
(اور) اس میں اونچے اونچے تخت ہوں گے۔

وَأَكْوَابٌ مَّوْضُوعَةٌ ﴿١٤﴾
اور آبخورے رکھے ہوئے (ہوں گے)۔

وَنَمَارِ‌قُ مَصْفُوفَةٌ ﴿١٥﴾
اور ایک قطار میں لگے ہوئے تکیے ہوں گے۔

وَزَرَ‌ابِيُّ مَبْثُوثَةٌ ﴿١٦﴾
اور مخملی مسندیں پھیلی پڑی ہوں گی۔
۱۶-۱ یہ اہل جنت کا تذکرہ ہے، جو جہنمیوں کے برعکس نہایت آسودہ حال اور ہر قسم کی آسائشوں سے بہرہ ور ہوں گے۔ عَيْنٌ بطور جنس کے ہے یعنی متعدد چشمے ہوں گے۔ نَمَارِقُ بمعنی وَسَائِدَ (تکیے) ہے زَرَابِيُّ مسندیں، قالین اور گدے بستر مَبْثُوثَةٌ پھیلی ہوئی۔ یعنی یہ مسندیں جگہ جگہ بچھی ہوئی ہوں گی۔ اہل جنت جہاں آرام کرنا چاہیں گے، کر سکیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَفَلَا يَنظُرُ‌ونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ ﴿١٧﴾
کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح پیدا کیے گئے ہیں۔ (١)
١٧۔١ اونٹ عرب میں عام تھے اور ان عربوں کی غالب سواری یہی تھی، اس لیے اللہ نے اسی کا ذکر کر کے فرمایا کہ اس کی خلقت پر غور کرو، اللہ نے اسے کتنا بڑا وجود عطا کیا ہے اور کتنی قوت و طاقت اس کے اندر رکھی ہے۔ اس کے باوجود وہ تمہارے لیے نرم اور تابع ہے، تم اس پر جتنا چاہو بوجھ لاد دو، وہ انکار نہیں کرے گا، تمہارا ماتحت ہو کر رہے گا۔ علاوہ ازیں اس کا گوشت تمہارے کھانے کے، اس کا دودھ تمہارے پینے کے اور اس کی اون، گرمی حاصل کرنے کے کام آتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِلَى السَّمَاءِ كَيْفَ رُ‌فِعَتْ ﴿١٨﴾
اور آسمان کو کہ کس طرح اونچا کیا گیا ہے۔ (۱)
۱۸۔۱ یعنی آسمان کتنی بلندی پر ہے، پانچ سو سال کی مسافت پر، پھر بھی بغیر ستون کے وہ کھڑا ہے۔ اس میں کوئی شگاف اور کجی بھی نہیں ہے۔ نیز ہم نے اسے ستاروں سے مزین کیا ہوا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ ﴿١٩﴾
اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح گاڑ دیئے گئے ہیں۔ (۱)
۱۹۔۱ یعنی کس طرح انہیں زمین پر میخوں کی طرح گاڑ دیا گیا ہے تاکہ زمین حرکت نہ کرے۔ نیز ان میں جو معدنیات اور دیگر منافع ہیں، وہ اس کے علاوہ ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِلَى الْأَرْ‌ضِ كَيْفَ سُطِحَتْ ﴿٢٠﴾
اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی ہے۔ (۱)
۲۰۔۱ یعنی کس طرح اسے ہموار کرکے انسان کے رہنے کے قابل بنایا ہے، وہ اس پر چلتا پھرتا، کاروبار کرتا اور فلک بوس عمارتیں تعمیر کرتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَذَكِّرْ‌ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ‌ ﴿٢١﴾
پس آپ نصیحت کر دیا کریں (کیونکہ) آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں۔ (١)
٢١۔١ یعنی آپ کا کام صرف تذکیر اور تبلیغ و دعوت ہے، اس کے علاوہ یا اس سے بڑھ کر نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ‌ ﴿٢٢﴾
آپ کچھ ان پر داروغہ نہیں ہیں۔ (١)
٢٢-۱ کہ انہیں ایمان لانے پر مجبور کریں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ ہجرت سے قبل کا حکم ہے جو آیت سیف سے منسوخ ہو گیا، کیوں کہ اس کے بعد نبی ﷺ نے فرمایا۔ [أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لا إِلَهَ إِلا اللهُ فَإِذَا قَالُوهَا، عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلا بِحَقِّهَا؛ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ]۔ (صحيح بخاری، باب وجوب الزكاة مسلم كتاب الإيمان، باب الأمر بقتال الناس حتى يقولوا...) ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لیں۔ جب وہ یہ اقرار کر لیں گے تو انہوں نے مجھ سے اپنے خونوں اور مالوں کو بچا لیا۔ سوائے حق اسلام کے، (جو اگر ہمارے علم میں نہ آیا تو) ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے“۔

إِلَّا مَن تَوَلَّىٰ وَكَفَرَ‌ ﴿٢٣﴾
ہاں! جو شخص روگردانی کرے اور کفر کرے۔

فَيُعَذِّبُهُ اللَّـهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَ‌ ﴿٢٤﴾
اسے اللہ بہت بڑا عذاب دے گا۔ (۱)
۱۔۱ یعنی جہنم کا دائمی عذاب۔
 
Top