• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الکافرون

(سورہ کافرون مکی ہے اور اس میں چھ آیات ہیں۔ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طواف کی دو رکعتوں اور فجر اور مغرت کی سنتوں میں قل یٰٓایھا الکٰفرون اور سورہ اخلاص پڑھتے تھے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ رات کو سوتے وقت، یہ سورت پڑھ کر سوؤ گے تو شرک سے بری قرار پاؤ گے۔ (مسند احمد، ترمذی، ابوداود، مجمع الزوائد) بعض روایت میں خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بھی یہ بتلایا گیا ہے۔ (ابن کثیر))

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُ‌ونَ ﴿١﴾
آپ کہہ دیجئے کہ اے کافرو! (١)
١۔١ الْكَافِرُونَ میں الف لام جنس کے لیے ہے۔ لیکن یہاں بطور خاص صرف ان کافروں سے خطاب ہے جن کی بابت اللہ کو علم تھا کہ ان کا خاتمہ کفر و شرک پر ہو گا۔ کیوں کہ اس سورت کے نزول کے بعد کئی مشرک مسلمان ہوئے اور انہوں نے اللہ کی عبادت کی۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ ﴿٢﴾
نہ میں عبادت کرتا ہوں اس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو۔

وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ﴿٣﴾
نہ تم عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔

وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ ﴿٤﴾
اور نہ میں عبادت کروں گا جسکی تم عبادت کرتے ہو۔

وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ﴿٥﴾
اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں۔ (١)
٥-۱ بعض نے پہلی آیت کو حال کے اور دوسری کو استقبال کے مفہوم میں لیا ہے، لیکن امام شوکانی نے کہا ہے کہ ان تکلفات کی ضرورت نہیں ہے۔ تاکید کے لیے تکرار، عربی زبان کا عام اسلوب ہے، جسے قرآن کریم میں کئی جگہ اختیار کیا گیا ہے۔ جیسے سورۂ رحمٰن، سورۂ مرسلات میں ہے۔ اسی طرح یہاں بھی تاکید کے لیے یہ جملہ دہرایا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ کبھی ممکن نہیں کہ میں توحید کا راستہ چھوڑ کر شرک کا راستہ اختیار کر لوں، جیسا کہ تم چاہتے ہو۔ اور اگر اللہ نے تمہاری قسمت میں ہدایت نہیں لکھی ہے، تو تم بھی اس توحید اور عبادت الٰہی سے محروم ہی رہو گے۔ یہ بات اس وقت فرمائی گئی، جب کفار نے یہ تجویز پیش کی کہ ایک سال ہم آپ ﷺ کے معبود کی اور ایک سال آپ ﷺ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ ﴿٦﴾
تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے۔ (١)
٦۔۱ یعنی اگر تم اپنے دین پر راضی ہو اور اسے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہو، تو میں اپنے دین پر راضی ہوں، میں اسے کیوں چھوڑوں؟ ﴿لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ﴾ (القصص: ۵۵)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة النصر

(سورہ نصر مکی ہے اور اس میں تین آیتیں ہیں۔ نزول کے اعتبار سے یہ اخری سورت ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب التفسیر) جس وقت یہ سورت نازل ہوئی تو بعض صحابہ رضی اللہ سمجھ گئے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری وقت آ گیا ہے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح و تحمید اور استغفار کا حکم دیا گیا ہے جیسے حضرت ابن عباس اور حضرت عمر رضی اللہ عنھما کا واقعہ صحیح بخاری میں ہے۔ (تفسیر سورۃ النصر))

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

إِذَا جَاءَ نَصْرُ‌ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ ﴿١﴾
جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے۔

وَرَ‌أَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّـهِ أَفْوَاجًا ﴿٢﴾
اور تو لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق آتا دیکھ لے۔ (١)
٢۔١ اللہ کی مدد کا مطلب، اسلام اور مسلمانوں کا کفر اور کافروں پر غلبہ ہے، اور فتح سے مراد فتح مکہ ہے، جو نبی ﷺ کا مولد و مسکن تھا، لیکن کافروں نے آپ ﷺ کو اور صحابہ کرام رضی الله عنہم کو وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا تھا، چنانچہ جب ۸ ہجری میں یہ مکہ فتح ہو گیا تو لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے شروع ہو گئے، جب کہ اس سے قبل ایک ایک دو دو فرد مسلمان ہوتے تھے۔ فتح مکہ سے لوگوں پر یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ آپ ﷺ اللہ کے سچے پیغمبر ہیں اور دین اسلام دین حق ہے، جس کے بغیر اب نجات اخروی ممکن نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب ایسا ہو تو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَ‌بِّكَ وَاسْتَغْفِرْ‌هُ ۚ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا ﴿٣﴾
تو اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت کی دعا مانگ، بیشک وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ (١)
٣۔١ یعنی یہ سمجھ لے کہ تبلیغ رسالت اور احقاق حق کا فرض، جو تیرے ذمے تھا، پورا ہو گیا اور اب تیرا دنیا سے کوچ کرنے کا مرحلہ قریب آ گیا ہے، اس لیے حمد و تسبیح الٰہی اور استفغار کا خوب اہتمام کر۔ اس سے معلوم ہوا کہ زندگی کے آخری ایام میں ان چیزوں کا اہتمام کثرت سے کرنا چاہئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة تَبَّتْ

(سورہ تبت مکی ہے اور اس میں پانچ آیتیں ہیں۔ اسے سورۃ المسد بھی کہتے ہیں۔ اس کی شان نزول میں آتا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ اپنے رشتہ داروں کو انذار و تبلیغ کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پہاڑی پر چڑھ کر یا صباحاہ! کی آواز لگائی۔ اس طرح کی آواز خطرے کی علامت سمجھی جاتی ہے، چنانچہ اس آواز پر لوگ اکٹھے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ذرا بتلاؤ، اگر میں تمہیں خبر دوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر ایک گھڑ سوار لشکر ہے جو تم پر حملہ آور ہوا چاہتا ہے، تو تم میری تصدیق کرو گے؟ انہوں نے کہا، کیوں نہیں۔ ہم نے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا نہیں پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں تمہیں ایک بڑے عذاب سے ڈرانے آیا ہوں۔ (اگر تم کفر و شرک میں مبتلا رہے) یہ سن کر ابو لہب نے کہا تباً لک! تیرے لیے ہلاکت ہو، کیا تو نے ہمیں اس لیے جمع کیا تھا؟ جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورۃ نازل فرما دی۔ (صحیح بخاری، تفسیر سورۃ تبت) ابو لہب کا اصل نام عبد العزیٰ تھا، اپنے حسن جمال اور چہرے کی سرخی کی وجہ سے اسے ابو لہب (شعلہ فروزاں) کہا جاتا تھا۔ علاوہ ازیں اپنے انجام کے اعتبار سے بھی اسے جہنم کی آگ کا ایندھن بننا تھا۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی چچا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شدید دشمن تھا اور اس کی بیوی ام جمیل بنت حرب بھی دشمنی میں اپنے خاوند سے کم نہ تھی۔)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے.

arb]تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ ﴿١﴾[/arb]
ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ (خود) ہلاک ہو گیا۔ (١)
١۔١ يَدَا، يَدٌ (ہاتھ) کا تثنیہ ہے، مراد اس سے اس کا نفس ہے، جز بول کر کل مراد لیا گیا ہے یعنی ہلاک و برباد ہو جائے۔ یہ بد دعا ان الفاظ کے جواب میں ہے جو اس نے نبی ﷺ کے متعلق غصے اور عداوت میں بولے تھے۔ وَتَبَّ (اور وہ ہلاک ہو گیا) یہ خبر ہے یعنی بد دعا کے ساتھ ہی اللہ نے اس کی ہلاکت اور بربادی کی خبر بھی دے دی۔ چنانچہ جنگ بدر کے چند روز بعد یہ عدسیہ بیماری میں مبتلا ہوا، جس میں طاعون کی طرح گلٹی سی نکلتی ہے، اسی میں اس کی موت واقع ہو گئی۔ تین دن تک اس کی لاش یوں ہی پڑی رہی، حتیٰ کہ سخت بدبودار ہو گئی۔ بالآخر اس کے لڑکوں نے بیماری کے پھیلنے اور عار کے خوف سے، اس کے جسم پر دور سے ہی پتھر اور مٹی ڈال کر اسے دفنا دیا۔ (ایسر التفاسیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ ﴿٢﴾
نہ تو اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی۔ (١)
۲۔۱ کمائی میں اس کی رئیسانہ حیثیت اور جاہ و منصب اور اس کی اولاد بھی شامل ہے۔ یعنی جب اللہ کی گرفت آئی تو کوئی چیز اس کے کام نہ آئی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سَيَصْلَىٰ نَارً‌ا ذَاتَ لَهَبٍ ﴿٣﴾
وہ عنقریب بھڑکنے والی آگ میں جائے گا۔

وَامْرَ‌أَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ ﴿٤﴾
اور اس کی بیوی بھی (جائے گی) جو لکڑیاں ڈھونے والی ہے۔ (١)
٤۔١ یعنی جہنم میں یہ اپنے خاوند کی آگ پر لکڑیاں لا لا کر ڈالے گی، تاکہ آگ مزید بھڑکے۔ یہ اللہ کی طرف سے ہو گا، یعنی جس طرح یہ دنیا میں اپنے خاوند کی، اس کے کفر و عناد میں، مددگار تھی، آخرت میں بھی عذاب میں اس کی مدد گار ہو گی۔ (ابن کثیر) بعض کہتے ہیں کہ وہ کانٹے دار جھاڑیاں ڈھو ڈھو کر لاتی اور نبی ﷺ کے راستے میں لا کر بچھا دیتی تھی۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اس کی چغل خوری کی عادت کی طرف اشارہ ہے۔ چغل خوری کے لیے یہ عربی محاورہ ہے۔ یہ کفار قریش کے پاس جا کر نبی ﷺ کی غیبت کرتی اور انہیں آپ ﷺ کی عداوت پر اکساتی تھی۔ (فتح الباری)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِّن مَّسَدٍ ﴿٥﴾
اس کی گردن میں پوست کھجور کی بٹی ہوئی رسی ہو گی۔ (١)
۱-۱ جِيدٌ گردن۔ مَسَدٌ، مضبوط بٹی ہوئی رسی۔ وہ مونج کی یا کھجور کی پوست کی ہو یا آہنی تاروں کی۔ جیسا کہ مختلف لوگوں نے اس کا ترجمہ کیا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ وہ دنیا میں ڈالے رکھتی تھی جسے بیان کیا گیا ہے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جہنم میں اس کے گلے میں جو طوق ہو گا، وہ آہنی تاروں سے بٹا ہوا ہو گا۔ مَسَدٌ سے تشبیہ، اس کی شدت اور مضبوطی کو واضح کرنے کے لیے دی گئی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الإخلاص

(سورہ اخلاص مکی ہے اور اس میں چار آیتیں ہیں۔ یہ مختصر سی سورت بڑی فضیلت کی حامل ہے، اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ثلث (ایک تہائی ۱/۳) قرآن قرار دیا ہے اور اسے رات کو پڑھنے کی ترغیب دی ہے۔ (بخاری، کتاب التوحید) بعض صحابہ رضی اللہ ہر رکعت میں دیگر سورتوں کے ساتھ اسے بھی ضرور پڑھتے تھے، جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا "تمہاری اس کے ساتھ محبت تمہیں جنت میں داخل کر دے گی" (بخاری، کتاب التوحید) اس کا سبب نزول یہ بیان کیا گیا ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اپنے رب کا نسب بیان کرو۔ (مسند احمد))

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ ﴿١﴾
آپ کہہ دیجئے کہ وہ اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے۔

اللَّـهُ الصَّمَدُ ﴿٢﴾
اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے۔ (١)
٢۔١ یعنی سب اس کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں۔
 
Top