• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
ایک مرتبہ امام اعمش نے طلبہ حدیث سے کہا مجھے حدیث حنظل سے بھی زیادہ کڑی معلوم ہوتی ہے تم جس شخص کے قریب جاتے ہو، اسے جھوٹ بولنے (یعنی احادیث پڑھنے) کی ترغیب دیتے ہو۔ (دو اسلام ص ۶۸)
ازالہ
امام اعمش کے اصل الفاظ یہ ہیں:
لْد رود تموہ حتی صارفی حلقی امر من العلقم ما عطفتم علی احدا لا حما تموہ علی الکذب ۔ (برق اسلام ص ۱۲۵)
یعنی تم نے اس بات کو رد کرکے میرے حلق کو اندرائن سے بھی زیادہ تلخ بنا دیا ہے، تم جس شخص کا رخ کرتے ہو اسے جھوٹ بلوا کر ہی چھوڑتے ہو۔
یعنی اصحاب الحدیث نے ان کی وہ روایت جس میں انہوں نے تدلیس کی تھی رد کردی، تو انہوں نے کہا کیا تحدیث کرکے جھوٹ بولوں، تم تو مجھ سے جھوٹ بلوانا چاہتے ہو، یہ بات مجھے بہت کڑوی معلوم ہوتی ہے، بہرحال اہلحدیث نے تدلیس کی وجہ سے امام اعمش پر اعتراض کیا، تو اس وقت انہوں نے یہ فرمایا کہ جو کچھ ہے وہ یہ ہے میں جھوٹ تو بول نہیں سکتا کہ اپنی بات کی خاطر تحدیث کردوں، اور تم ضد دلا کر ایسا کرنے پر مجبور کرتے ہو (نوٹ: مدلس کی روایت بغیر تحدیث کے ناقابل اعتبار ہوتی ہے) پھر اس کی سند میں احمد بن فضل منکر الحدیث ہے (جامع بیان العلم جلد ۲ ص ۱۳۲) لہٰذا یہ روایت ہی جھوٹی ہے۔
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
سعید القطان نے اپنے بیٹے سے کہا کہ یہ صوفی و زاہد لوگ احادیث کے معاملہ میں سب سے بڑے جھوٹے واقع ہوئے ہیں۔ (دو اسلام ص ۶۹)
ازالہ
یہ تو فن حدیث کی کرامت ہے کہ ان صوفی اور زاہد لوگوں کو بھی نہ چھوڑا، ان کے زہد نے محدثین کو مرعوب نہیں کیا، بلکہ محدثین نے ان کو پوری طرح جکڑ لیا، یہ لوگ زہد و تقویٰ کی وجہ سے مرجع انام ہوسکتے تھے اور ان کی طرف مشکل سے تحریف کا گمان ہوسکتا تھا، لہٰذا یہ لوگ دین کے لیے بڑے خطرناک تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
ابوبکر بن عیاش نے فرمایا تھا (جس کو برق صاحب نے اعتراضا نقل کیا ہے)
خدا کی قسم مجھے فساق سے اتنا خطرہ محسوس نہیں ہوتا، جتنا اہل حدیث سے۔ (دو اسلام ص ۶۹)
ازالہ
یہ مغیرہ کا قول ہے، اس قول کی سند صحیح نہیں، اس کا راوی اسحاق بن ابراہیم وجال ہے (تذکرۃ الموضوعات ص ۲۳۸) لہٰذا یہ روایت جھوٹی ہے۔
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
امام احمد بن حنبل کا قول ہے کہ تین قسم کی احادیث میں بری طرح تحریف ہوچکی ہے، پیش گوئیاں جنگیں اور تفسیری احادیث۔ (دو اسلام ص۶۹)
ازالہ
یہ قول تو کسی طرح ہمارے مخالف نہیں، یہ تو فن حدیث اور تدوین حدیث کی تائید کرتا ہے، محدثین نے مفسرین اور مورخین کی بیان کردہ احادیث کو ذرا بھی وقعت نہیں دی، بلکہ ان کو فن حدیث سے پرکھا تو معلوم ہوا کہ اس میں اکثر محرف اور موضوع ہیں، محدثین کسی سے بھی مرعوب خوں ہوئے، بلکہ احادیث صحیحہ کی تخلیص میں انہوں نے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
باب اول کا خلاصہ

اس باب میں ائمہ دین کے جو اقوال برق صاحب نے نقل فرمائے ہیں ان میں سے اکثر گھڑے ہوئے اور ان پر بہتان ہیں، اور جو صحیح ہیں ان کی وضاحت اوپر کردی گئی ہے برق صاحب نے ان موضوعہ اقوال کو صحیح سمجھا۔ اس لیے نقل فرمایا: بہرحال یہ برق صاحب بھی مانتے ہیں کہ یہ اقوال احادیث صحیحہ کی مخالفت میں نہیں ہیں، بلکہ احادیث موضوعہ کے متعلق ہیں مثلاً تمہید میں ص۲۰ پر وہ لکھتے ہیں: ''اسلام دو ہیں، ایک قرآن کا اسلام جس کی طرف اللہ بلا رہا ہے اور دوسرا وضعی احادیث کا اسلام'' اور پہلے باب میں ص ۵۹ پر لکھتے ہیں '' حاشاد کلا مجھے حدیث سے بغض نہیں، بلکہ ان انسانی اقوال سے ضد ہے، جنہیں یہودیوں زندیقوں اور ہمارے فرقہ باز راہنماؤں نے تراش کر مہبط وحی معلم کی طرف اس لیے منسوب کردیا تھا کہ خدا رسول اور قرآن کا کوئی وقار دنیا میں باقی نہ رہے'' برق صاحب ہم نے تو ان اقوال کو صحیح نہیں مانا، اور اگر آپ مانتے ہیں اور اس سے گھڑی ہوئی احادیث مراد لیتے ہیں، تو خیر ہمارا اس میں حرج بھی کیا ہے، صحیح احادیث کو تو آپ بھی مانتے ہیں، بلکہ آپ کی کتاب کے آخری باب کا عنوان ہی یہ ہے صحیح احادیث کو تسلیم کرنا پڑے گا'' الغرض صحیح احادیث اور موضوع احادیث کے متعلق تو ہمارا آپ کا ایک ہی عقیدہ ہے ، لہٰذا ہم میں اور آپ میں اختلاف ہی کہاں ہے محدثین نے یہی کارنامہ انجام دیا کہ ہر قسم کے کھوٹ سے صحیح احادیث کی تخلیص کردی اور یہودیوں، زندیقوں اور فرقہ باز راہنماؤں نے جو حدیثیں وضع کی تھیں، ان کی حقیقت کو واشگاف کردیا۔ فللہ الحمد
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
باب ۲

'' تدوین حدیث''

غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جمع احادیث کے خلاف تھے۔ (دو اسلام ص ۷۰)
ازالہ
صحابہ کرام جمع احادیث کے خلاف نہیں تھے، مفصل جواب باب اول میں دیا جاچکا ہے، اور متعدد صحابہ کرام کے صحائف کا تذکرہ بھی اسی باب میں کردیا گیا ہے، وہیں ملاحظہ فرمائیں، اتنا تو برق صاحب بھی اعتراف کرتے ہیں کہ تین صحابہ کے پاس کچھ احادیث محفوظ تھیں، وہ تحریر فرماتے ہیں:
صحابہ کرام میں سے صرف تین بزرگ یعنی انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ایسے نظر آتے ہیں، جن کے پاس کچھ احادیث محفوظ تھیں۔ (دو اسلام ص۷۰)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
ابوداؤد میں یہ حدیث ملتی ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا میں آپ کے اقوال لکھ سکتا ہوں تو حضور نے فرمایا نعم انی لا اقوال الاحقا بیشک لکھ لیا کرو، اس لیے کہ میں ہمیشہ سچ بولتا ہوں، حیرت ہے کہ جس ہستی نے کتاب احادیث سے منع فرمایا تھا (مسلم) اور جس کے جلیل القدر جانشین آپ کے ارشاد کی تعمیل میں نہ صرف اپنے مجموعے بلکہ ہر صحابی کے مجموعے ڈھونڈ ڈھونڈ کر فنا کرتے رہے، اسی ہستی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو کتابت کی اجازت کیسے دیدی ، مزید حیرت اس امر پر کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے احادیث جلانے کا حکم دیا تھا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کیوں تعمیل نہ کی، کیا قرآن کی رو سے اولی الامر کی اطاعت فرض نہیں، یا تو ہم یہ تسلیم کریں کہ صحیح مسلم کی حدیث جھوٹی ہے، اور یا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو رسول خدا اور خلفائے اسلام کی حکم عدولی کا ملزم ٹھہرائیں، حضور کے خلفاء کے عمل سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ صحیح مسلم کی حدیث صحیح ہے اور اگر مسلم کی حدیث کو صحیح قرار دیں، تو ابوداؤد والی حدیث وضعی ثابت ہوتی ہے، اور اس لیے ابن عمر رضی اللہ عنہ پر جمع احادیث کا الزام غلط ہے۔ (دو اسلام ص ۷۰۔ ۷۱)
ازالہ
قرآن میں ہے:
{ قُلْ لَّوْ کَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِکَۃٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْھِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَکًا رَّسُوْلًا } (اسراء)
آپ کہہ دیجیے کہ اگر زمین پر فرشتے اطمینان سے چلتے پھرتے ہوتے یعنی رہتے ہوتے تو ہم آسمان سے فرشتہ کو رسول بنا کر ان پر بھیجتے۔
دوسری جگہ ارشاد خداوندی ہے:
{ وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلاَّ رِجَالًا نُّوْحِیْٓ اِلَیْھِمْ } (الانبیاء)
اور آپ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے وہ آدمی ہی تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔
ان ہر دو آیات سے ثابت ہوا کہ فرشتہ رسول بن کر نہیں آتا، اب مندرجہ ذیل آیات ملاحظہ فرمائیے:
{ اَللہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ } (حج)
اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں میں سے رسولوں کو منتخب فرماتا ہے۔
دوسری جگہ ارشاد ہے:
{ اَلْحَمْدُ لِلہِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا } (فاطر)
سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو آسمانوں کا اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور فرشتوں کو رسول بنانے والا ہے۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ کبھی کوئی فرشتہ رسول بن کر نہیں آیا، لہٰذا ماننا پڑے گا کہ پہلی دو آیتیں صحیح ہیں اور اگر وہ صحیح ہیں، تو غلط فہمی سے کہا جاسکتا ہے کہ آخری دو آیتیں صحیح نہیں، حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے چاروں آیات صحیح ہیں اور موقع و محل کے لحاظ سے ہر ایک ثابت و سچی ہے بالکل یہی حالت ان ہر دو احادیث کی ہے جن کو برق صاحب نے بطور تضاد پیش کرکے ایک کو سچی اور ایک کو جھوٹی کہا ہے، حالانکہ اگر وہ جھوٹی کو سچا کہتے تو زیادہ مناسب تھا، اس لیے کہ مسلمانوں کی متواتر تاریخ اس بات کی زندہ شہادت ہے کہ احادیث ہر زمانہ میں لکھی جاتی رہیں، یہ ساری خرابیاں غلط فہمی کی بنا پر پیدا ہوئی ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کتابت احادیث سے منع فرمایا تھا، بلکہ قرآن کے ساتھ ملا کر لکھنے سے منع فرمایا تھا (مفصل جواب کے لیے باب اول ملاحظہ فرمائیں، باب اول میں یہ بھی ثابت کیا جاچکا ہے کہ صحابہ کرام کے احادیث جلانے کی روایت موضوع یعنی بناوٹی ہے)
قرآن کی رو سے اولی الامر کی اطاعت فرض ضرور ہے، لیکن اختلاف کی حالت میں قرآن ہی حکم دیتا ہے کہ اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو یعنی غلط بات میں اولی الامر کی اطاعت فرض نہیں، اللہ ہی نے حکم دیا ہے { طاعۃ معروفۃ} (النور) یعنی معروف بات ہی میں اطاعت کی جائے اور یہ چونکہ غیر معروف بات تھی، لہٰذا تعمیل نہ کرنا کوئی تعجب کی بات نہیں، پھر یہ بھی غلط ہے کہ اولو الامر میں سے کسی نے احادیث جلانے کا حکم دیا ہو، یہ روایت ہی جعلی ہے تو اولو الامر کی اطاعت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ پر جمع احادیث کا الزام غلط ہے، اور خود ہی اس سے پہلے تحریر فرما چکے ہیں، کہ تین بزرگوں کے پاس احادیث محفوظ تھیں، ان تین بزرگوں میں انہوں نے ابن عمرو کا نام بھی شامل کیا ہے، معلوم نہیں دونوں باتوں میں سے کون سی بات صحیح ہے اور کونسی غلط، برق صاحب کا پہلا کلام تو کسی طرح بھی صحیح نہیں ہوسکتا، اس لیے کہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ کا صحیفہ صادقہ مشہور ہے ، جو ان کے پڑپوتے تک منتقل ہوتا ہوا، محدثین کو ملا، ان کے پڑپوتے عمرو بن شعیب اس صحیفہ کو سامنے رکھ کر احادیث بیان کرتے تھے اس صحیفہ کا ذکر متواتر ہے، اور اس کا انکار غلط فہمی ہے یا لا علمی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
خلاصہ
صحیح مسلم کی حدیث سے قرآن و حدیث کو یکجا لکھنے کی ممانعت ہے اور سنن ابوداؤد کی حدیث میں احادیث کو علیحدہ لکھنے کی اجازت، لہٰذا دونوں میں کوئی تضاد نہیں، اور دونوں صحیح ہیں مزید برآں کتابت حدیث کی احادیث متواتر ہیں، اور اس لحاظ سے قطعی الصحت ہیں۔
انتباہ: دو اسلام میں غالباً کتابت کی غلطی سے بار بار '' ابن عمر رضی اللہ عنہ '' طبع ہوگیا ہے، حالانکہ صحیح '' ابن عمرو رضی اللہ عنہ '' ہے۔
غلط فہمی
ترمذی کے مجموعہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے متعلق لکھا ہے کہ آپ احادیث لکھ لیا کرتے تھے لیکن صحیح بخاری میں خود ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ روایت موجود ہے کہ :
تمام صحابہ میں صرف عبداللہ بن عمر کی روایات مجھ سے زیادہ تھیں، اس لیے کہ وہ احادیث لکھ لیا کرتے تھے، اور میں نہیں لکھا کرتا تھا۔
چونکہ امام بخاری کی صحیح ترمذی سے زیادہ قابل اعتماد ہے ، اس لیے ترمذی کے بیان کو ہم صحیح قرار نہیں دے سکتے۔ (دو اسلام ص ۷۱)
ازالہ
برق صاحب کو یہاں دو غلط فہمیاں ہوئیں:
اول: ترمذی میں ہے کہ آپ احادیث لکھ لیا کرتے تھے، حالانکہ ترمذی میں ایسی کوئی عبارت نہیں ہے، دوسری کتابوں میں ضرور ہے۔
دوم: برق صاحب نے صحیح بخاری کی حدیث کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی کتابت حدیث کی روایت کے خلاف سمجھا ہے، حالانکہ دونوں روایتوں میں مختلف زمانوں کا ذکر ہے، عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ عہد رسالت میں لکھا کرتے تھے، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ عہد رسالت میں نہیں لکھتے تھے، یہ ہے بخاری کی روایت کا مفہوم لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ابوہریرہ بھی لکھنے لگے تھے، یہ ہے دوسری روایت کا مفہوم (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی تحریرکردہ کتب احادیث کی مفصل معلومات کے لیے باب اول ملاحظہ فرمائیں)۔
برق صاحب کی عبارتوں میں یہاں بھی تضاد ہے، پہلے آپ لکھ چکے ہیں کہ ابوہریرہ کے پاس کچھ احادیث محفوظ تھیں اور یہاں فرماتے ہیں کہ ترمذی کے بیان کو ہم صحیح قرار نہیں دے سکتے، یعنی ابوہریرہ احادیث نہیں لکھتے تھے، معلوم نہیں، یہ صحیح و غلط کی آمیزش ان کی کتاب میں کس طرح آگئی، غالباً غلط فہمی اور عدم تحقیق کی بنا پر ایسا ہوا ہے ، صحیح یہی ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس احادیث محفوظ و مکتوب تھیں، جیسا کہ برق صاحب نے ص۷۰ پر تسلیم کیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
حضرت انس رضی اللہ عنہ کے متعلق برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
آپ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص تھے، اور عمر میں بہت چھوٹے، یعنی جب حضور مدینہ میں تشریف لائے تھے تو انس رضی اللہ عنہ کی عمر صرف ساڑھے نو برس تھی ، اور رحلت رسول کے وقت تقریباً بیس برس، اپنے اردگرد نظر ڈال کر دیکھئے اور اندازہ لگائیے کہ کیا کوئی لڑکا اٹھارہ انیس برس کی عمر تک کسی قسم کی کوئی ذمہ داری محسوس کرسکتا ہے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا کام تھا، حرم نبوی اور ذات نبوی کی خدمت، دن کا بیشتر حصہ خرید و فروخت ، لین دین، جھاڑ پھونک میں گزر جاتا تھا، کچھ فرصت ملتی، تو قرآن شریف یاد کیا کرتے تھے وہ ارشادات نبوی ضرور سنتے ہوں گے، لیکن لڑکپن کا زمانہ تھا، انہیں کیا پڑی تھی کہ ہر ارشاد اور ہر واقعہ تمام جزئیات کے ساتھ یاد کرتے پھرتے، واقعہ سامنے آیا اور گزر گیا، کچھ یاد رہا ، اور کچھ بھول گیا، کوئی بات کان سے ٹکرائی، اور پھر کام میں لگ گئے، لیکن جب حضور کی رحلت کے بعد لوگ قرآن کو چھوڑ کر احادیث کے پیچھے پڑ گئے، اور راویان حدیث کی منزلت بڑھ گئی، تو آپ نے بھی بھولے بسرے واقعات اور گوش گزشتہ ارشادات کا جائزہ لینا شروع کیا، ممکن ہے کوئی ارشاد بالفاظ یاد رہا ہو، اور بعض دیگر کا خاکہ خود مکمل کرلیا ہو۔ (دو اسلام ص ۷۲)
ازالہ
اس کا جواب برق صاحب نے خود آگے چل کر دے دیا ہے، برق صاحب فرماتے ہیں:
گزشتہ ۴۷ برس میں مجھے ایک آدمی بھی ایسا نہیں ملا جو رنگ آمیزی مبالغہ اور دیگر سخن گسترانہ عیوب سے پاک ہو، میں خود ان عیوب سے مبرا نہیں، اور آج کہ میری عمر ۴۷ سے کچھ اوپر ہوچکی ہے، علم کی کئی منازل طے کرچکا ہوں، متانت، حقیقت اور واقعیت کی قدر و قیمت سے آگاہ ہوں، پھر بھی داستاں سرائی مبالغہ اور رنگ آمیزی سے پوری طرح نہیں بچ سکا۔ (دو اسلام ص ۱۲۱)
الغرض حضرت انس کے متعلق برق صاحب نے جو کچھ تحریر فرمایا، اس میں عبارت آرائی اور رنگ آمیزی کے سوا کچھ نہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں نہ کوئی خرید و فروخت ہوتی تھی، نہ لین دین، نہ جھاڑ پھونک آپ کی زندگی بہت سادہ تھی، نہ آپ تاجر تھے نہ ساہو کار، نہ آپ کے پاس کوئی محل تھا جس کی جھاڑ پھونک کے لیے کافی وقت درکار ہوتا، برق صاحب صحابہ کرام کے متعلق اس قسم کی رکیک عبارت مناسب نہیں، آپ اپنے زمانہ کے نوجوانوں پر عہد رسالت کے نوجوانوں کو قیاس نہ کیجئے، اگر مقابلہ ہی کرنا ہے، تو ان کی شان اسلام اور قوت ایمان کا مقابلہ ہماری شان اسلام اور قوت ایمان سے کیجئے، پھر دیکھئے کتنا بڑا فرق نظر آئے گا اور اس وقت آپ کو محسوس ہوگا کہ ان نوجوانوں کے ایمان کے مقابلہ میں ہمارے بڑے سے بڑے بزرگ عالم باعمل متقی پرہیزگار کا ایمان ہیچ ہے، آپ کی یہ عبارت '' یاد کرتے پھرتے'' کس قدر نامناسب ہے آپ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ ''انہیں کیا پڑی تھی کہ یاد کرتے'' پھر '' انہیں کیا پڑی تھی'' یہ جملہ بھی ایک صحابی جلیل کے متعلق قطعاً نازیبا ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ گویا وہ علوم دینی سے بے پرواہ تھی۔ دینی علوم کی ان کے نزدیک کوئی وقعت نہیں تھی کہ صحبت رسول میں رہ کر اسے حاصل کرتے، پھر یہ واقعہ کے بھی خلاف ہے انہوں نے احادیث یاد ہی نہیں کیں، بلکہ ان کو محفوظ تک کرلیا تھا، اور صرف محفوظ ہی نہیں کیا تھا، بلکہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کرکے ان کی توثیق بھی کرلی تھی، سعید بن ہلال کا بیان ہے:
کنا اذا اکثرنا علی انس بن مالک رضی اللہ عنہ فاخرج الینا محالا عندہ فقال ھذہ سمعتھا من النبی ﷺ فکتبتھا وعرضتھا علیہ۔ (مستدرک حاکم)
ہم جب حضرت انس سے زیادہ پوچھ گچھ کرتے تو وہ اپنے پاس سے ایک دفتر نکالتے اور فرماتے یہ ہیں وہ حدیثیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنی ہیں اور میں نے آپ کی حیات مقدسہ میں ان کو لکھا اور لکھ کر آپ پر پیش کیا۔ (خالص اسلام مصنفہ مولانا محمد داؤد راز ص ۲۷)
برق صاحب نے اپنی کتاب کے ص۷۰ پر خود بھی تسلیم کیا ہے کہ انس رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ احادیث محفوظ تھیں۔
برق صاحب! آپ ہمیں اندازہ لگانے کی دعوت دیتے ہیں، لیکن خدارا آپ بھی تو اندازہ لگائیے، اس زمانہ میں جب کہ لوگوں کی قوت حافظہ بہت کم ہوگئی ہے، بیس سال کی عمر میں، ایم اے، اور ایم ایس سی پاس کرنے کی بہت سی مثالیں موجود ہیں، اور ایف اے اور بی اے کرنے والوں کی تعداد شمار سے باہر ہے، لیکن اس عہد مبارک میں جب کہ حافظے بہت قوی تھے، بیس سال کی عمر میں حضرت انس کا اپنے محبوب، جان ایمان، جان ملت، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو محفوظ کرنا اتنا بعید ہے کہ آج اس پر تعجب ہی کا اظہار نہیں ہو رہا بلکہ اسے ناممکن سمجھا جا رہا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
بہرحال جو احادیث آپ (حضرت انس رضی اللہ عنہ ) سے مروی ہیں، ان کی تعداد ۱۲۸۶ ہے، جن میں سے ۱۶۸ کی صحت پر ائمہ حدیث کا اتفاق ہے، اور باقی ۱۱۱۸ کو ناقابل توجہ سمجھا جانا ہے، امام بخاری نے ان متفقہ احادیث میں سے صرف ۸۳ نقل کی ہیں، مسلم نے ۷۱ اور باقی کو مشکوک سمجھ کر نظر انداز کردیا۔ (دو اسلام ص ۷۲)
ازالہ
اس ضمن میں دو غلط فہمیاں برق صاحب سے ہوئی ہیں:
اول: برق صاحب کا خیال ہے کہ جو احادیث مشکوک ہیں، ان میں شک کی وجہ خود حضرت انس ہیں، حالانکہ یہ صحیح نہیں، جن احادیث کی صحت مشکوک ہے، اس کی وجہ یہ نہیں کہ حضرت انس نے غلط احادیث بیان کیں'' حاشا وکلا'' ضعف کی وجہ نیچے کے راوی ہیں نہ کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ ۔
دوم: برق صاحب کی دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی صحیح احادیث کی تعداد ۱۶۸ بتائی ہے، حالانکہ یہ ان احادیث کی تعداد ہے، جو بخاری اور مسلم میں مشترک ہیں اصل الفاظ ملاحظہ ہوں۔
لہ الف ومانتا حدیث و ستۃ وثمانون اتفقا علی مائۃ وثمانیۃ وستین و انفرد البخاری بثلاثہ و ثانین ومسلم باحدی وسبعین۔ (نسائی رحیمی وھلی برحاشیہ ص۲۵، ج۱)
یعنی حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ احادیث کی تعداد ۱۲۸۶ ہے، جن میں سے ۱۶۸ بخاری و مسلم کی متفق علیہ احادیث ہیں، ۸۳ صرف بخاری میں ہیں اور ۷۱ صرف مسلم ہیں۔
اس عبار سے واضح ہوگیا کہ امام بخاری نے ۱۶۸ میں ہے ۸۳ نقل نہیں کی ہیں، بلکہ ۱۶۸x۸۳=۲۵۱ نقل کی ہیں، اسی طرح امام مسلم نے ۱۶۸x۷۱=۳۲۲ گویا بخاری ومسلم میں حضرت انس کی احادیث کی تعداد ۱۶۸ x۸۳x۷۱=۳۲۲ ہے، پھر امام بخاری و امام مسلم نے جن احادیث کو اپنی کتاب میں درج نہیں کیا، اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ سب مشکوک ہیں، بلکہ اس کی دو بڑی وجہیں حسب ذیل ہیں:
اول: بعض احادیث صحیح ہوتی ہیں لیکن امام بخاری و امام مسلم کے سخت شرائط کی متحمل نہیں ہوتیں۔
دوم: بعض صحیح احادیث کو کتاب کی طوالت کے خیال سے نظر انداز کردیتے ہیں، امام بخاری فرماتے ہیں:
وترکت کثیرا من الصحاح حتی لا یطول الکتاب ۔ (نصرۃ الباری ص۷۰ بحوالہ مقدمہ فتح الباری ومقدمہ ابن صلاح وغیرھا )
یعنی میں نے کتاب کے طویل ہو جانے کے خیال سے بہت سی صحیح احادیث کو چھوڑ دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
اتنی کانٹ چھانٹ کے بعد آپ کی بعض احادیث بدستور محل نظر ہیں، مثلاً عتبان بن مالک کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضور سے التماس کی کہ وہ میرے گھر میں آکر نماز پڑھیں، آپ نے یہ التجا قبول فرمائی، آپ کے ہمراہ چند صحابہ بھی تشریف لائے، صحابہ نے منافقین کا ذکر چھیڑ دیا وہ کہنے لگے، کتنا اچھا ہو، اگر حضور مالک بن وخشم (منافق) کی ہلاکت کی دعا کریں، حضور نے فرمایا کیا وہ کلمہ نہیں پڑھتا؟ صحابہ نے کہا، زبان سے تو پڑھتا ہے لیکن اس کا دل بے ایمان ہے، فرمایا: جو شخص کلمہ پڑھتا ہے، وہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث عجیب معلوم ہوئی۔ چنانچہ میں نے اپنے بیٹے کو کہا کہ لکھ لے اور اس نے لکھ لی۔ (صحیح مسلم کتاب الایمان اگر ابن وخشم واقعی منافق تھا، اور اتنے صحابہ کی شہادت کو غلط سمجھنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، اور خود حضور نے بھی اس کی تردید نہیں فرمائی، تو پھر اس کی مغفرت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ (دو اسلام ص ۷۲۔ ۷۳)
ازالہ
برق صاحب کو غلط فہمی ہوئی۔ کاش وہ حدیث کا گہرا مطالعہ کرتے، حدیث میں تو موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے منافق ہونے کی تردید فرمائی۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
فقال بعضھم ذلک منافق لا یحب اللہ ورسولہ فقال رسول اللہ ﷺ لا تقل ذلک الا تراہ قد قال لا الہ الا اللہ یرید بذلک وجہ اللہ قال اللہ ورسولہ اعلم قال فانا نری وجھہ ونصیحتہ الی المنافقین قال رسول اللہ ﷺ فان اللہ قد حرم علی النار من قال لا الہ الا اللہ یبتغی بذلک وجہ اللہ (بخاری باب المساجد فی البیوت)
ایک شخص نے کہا مالک بن وخشم منافق ہے اللہ اور رسول سے محبت نہیں کرتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مت کہو، کیا تم کہ نہیں معلوم کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر لا الہ الا اللہ پڑھا ہے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جملہ اس کے نفاق کی صریح تردید ہے کیونکہ منافق کا کلمہ پڑھنا اللہ کی خوشنودی کے لیے نہیں ہوتا) اس شخص نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے (یعنی ہم نے تو اپنے علم کی بنا پر کہا تھا اور وہ یہ کہ) ہم دیکھتے ہیں کہ وہ منافقین سے میل جول رکھتا ہے اور ان کی خیر خواہی کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس نے اللہ کو خوش کرنے کے لیے لا الہ الا للہ کہا وہ دوزخ پر حرام ہے (یعنی صرف ظاہری باتوں سے اس کے قلبی ایمان کی نفی نہیں ہوسکتی) ۔
الغرض حضرت انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بالکل صحیح ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
دوسری غلط فہمی برق صاحب کو یہ ہوئی کہ وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کو اس حدیث کا براہِ راست راوی سمجھ بیٹھے، حالانکہ انہوں نے خود یہ روایت عتبان بن مالک سے سنی تھی۔
تیسری غلط فہمی یہ ہوئی کہ انہوں نے '' اعجبنی'' کے معنی '' مجھے عجیب معلوم ہوئی'' کئے ، حالانکہ اس کے صحیح معنی یہ ہیں کہ '' مجھے بہت اچھی معلوم ہوئی، مجھے بہت پسند آئی۔''
انتباہ
حضرت انس نے اپنے بیٹے سے کہا اس حدیث کو لکھ لو، اس سے یہ ثابت ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں احادیث لکھی جاتی تھیں، اور وہ اپنے بیٹوں کو لکھنے کا حکم دیتے تھے (تفصیل کے لیے باب اول ملاحظہ فرمائیے)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
ایک اور حدیث ملاحظہ ہو۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ آپ کے پاس جبریل آیا، آپ کو پکڑا، زمین پر گرایا، سینہ چیر کو دل نکالا، پھر دل کو چیرا، اور ایک ٹکڑے کے متعلق کہا کہ یہ شیطان والا حصہ ہے، اس حصہ کو سونے کے طشت میں آب زمزم سے دھویا، پھر دوسرے ٹکڑے کے ساتھ جوڑ کر دوبارہ سینہ میں رکھ دیا۔ یہ حدیث کئی طرح سے مشکوک ہے۔
اول جب بچپن میں حضور بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، تو حضرت انس کہاں تھے؟ آپ ایک ایسے واقعہ کے عینی شاہد بنے ہوئے ہیں، جو آپ کی پیدائش سے قریباً چھتیس برس پہلے ہوا تھا۔ (دو اسلام ص ۷۵)
ازالہ
حضرت انس نے یہ کہاں کہا ہے کہ میں اس واقعہ کو دیکھ رہا تھا، آخر یہ کن الفاظ کا ترجمہ یا مفہوم ہے، انہوں نے اس واقعہ کو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو، یا کسی صحابی سے سنا ہو، ہر دو صورت میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔
 
Top