• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
دل کے دو حصے ہیں... دل ایک پمپ ہے... یہ صرف گوشت کا ایک لوتھڑا ہے، جو ہاتھ پاؤں کی طرح لذت والم کا احساس نہیں نہیں کرتا، نہ ہی وہ خیر و شر کا محرک، تمام افکار، جذبات، خیالات اور تصورات کا مرکز دماغ ہے ، خیر و شر کی تحریک یہیں پیدا ہوتی ہے ، اور ارادے یہیں بندھتے ہیں اگر جبریل کا مقصد نبع شر کو مٹانا تھا ، تو دماغ کو چیرتا نہ کہ دل کو ... اور دماغ کا مسکن کھوپری ہے، نہ کہ سینہ۔ (دو اسلام ص ۵۔۷۶)
ازالہ
ڈاکٹر سید محمد جمیل اور محمد فاروق قریشی لکھتے ہیں:
دل انسانی جسم میں سرمایہ حیات ہے، اگر کسی چوٹ کی وجہ سے دل کی حرکت بند ہو جائے، تو فوراً موت واقع ہوجاتی ہے۔ (علم الابدان ص ۱۹۲)
ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ دل کی حرکت بند ہو جائے، اور انسان زندہ رہے ، اور اس کا دماغ رنج والم، غصہ و گھبراہٹ وغیرہ کا احساس کرتا رہے، ہاں ایسا ہوتا ہے کہ دماغ بے کار ہو جائے لیکن دل اپنا کام کرتا رہے، اور انسان ایک عرصہ تک زندہ رہے۔
قرآن مجید کی تائید
{ قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللہِ } (البقرۃ)
کون شخص جبریل کا دشمن ہوسکتا ہے ، کیونکہ جبریل تو وہ ہے جس نے یہ قرآن تیرے دل پر اللہ کے حکم سے نازل کیا۔
بتائیے جب تمام افکار، خیالات اور تصورات کا مرکز دماغ ہے، تو قرآن کا نزول دماغ پر ہونا چاہیے تھا، نہ کہ دل پر جب دل کو لذت و الم کا احساس نہیں ہوتا، نہ وہ خیر و شر کا محرک ہے، اور محض گوشت کا ایک لوتھڑا ہے تو اس پر قرآن کا نزول کیا معنی رکھتا ہے، جو اعتراض حدیث پر تھا، وہی قرآن پر ہوگا ہاں اگر تاویل کرکے آیت میں دل کے معنی دماغ کئے جائیں، تو پھر انصافاً بتائیے، کیا اس قسم کی تاویل حدیث میں نہیں ہوسکتی، لیکن اس تاویل سے حقیقت کو نہیں بدلا جاسکتا، کیونکہ دوسری آیت میں اس سے زیادہ صراحت ہے، ارشاد باری ہے:
{ اِنَّ اللہَ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ } (اٰل عمران)
اللہ سینہ کی پوشیدہ باتوں سے واقف ہے۔
ایک اور آیت ملاحظہ فرمائیے:
{ وَاِنَّ رَبَّکَ یَعْلَمْ مَاتِکن صُدُوْرُھُم وَمَا یُعْلِنُوْنَ } (نمل)
اور بے شک تیرا رب جانتا ہے جو ان کے سینہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
اس قسم کی آیات قرآن مجید میں بیسیوں مقامات پر بیان ہوئی ہیں، ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ افکار اور خیالات کا مرکز سینہ ہے، اب بتائیے سینہ میں دل ہے یا دماغ ، ظاہر ہے کہ سینہ میں تو دل ہی ہے، تو پھر مرکز خیال دل ہوا، نہ کہ دماغ کیونکہ دماغ تو کھوپری میں ہے، ایک اور آیت سنیے:
{ لَھُمْ قُلُوْبٌ لَا یَفْقَھُوْنَ بِھَا } (الاعراف)
ان کے پاس دل ہیں لیکن وہ ان کے ذریعہ سمجھتے نہیں۔
اس آیت سے بھی معلوم ہوا کہ افکار و تفقہ کا مرکز دل ہے نہ کہ دماغ، اب بتائیے جو اعتراض حدیث پر ہے، وہی قرآن پر ہوگا، قرآن میں اس قسم کی آیات بار بار آتی ہیں، لیکن کہیں بھی دماغ کا لفظ استعمال نہیں ہوا، پھر اس دل کی جگہ بھی اللہ تعالیٰ نے اتنے واضح طریقہ پر متعین فرما دی کہ جس سے تمام تاویلات کا سدباب ہوگیا، سنیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَکُوْنَ لَھُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِھَآ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِھَا فَاِنَّھَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَ لٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ } (حج)
یہ لوگ زمین کی سیر و سیاحت کیوں نہیں کرتے تاکہ ان کے دل ایسے ہو جائیں کہ اس کے ذریعہ عقل حاصل کرسکیں یا کان ایسے ہو جائیں جن سے سن سکیں کیونکہ نہ سمجھنے والوں کی آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں کے اندر ہوتے ہیں۔
کتنی واضح آیت ہے، اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوا کہ عقل و افکار کا مرکز دل ہے، نہ کہ دماغ اور یہ کہ دل سینہ میں ہے، نہ کہ کھوپری میں، اس آیت کی موجودگی میں حدیث پر اعتراض لا یعنی ہے کیا ان آیات کو پڑھ کر نعوذ باللہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا رسول اور جبریل ہرسہ دل و دماغ کی ساخت اور ان کے اعمال سے نا آشنا تھے، ہرگز نہیں درحقیقت بات یہی ہے اور قرآن و حدیث کی روشنی میں ہمارا ایمان بھی یہی ہے کہ دل ہی عقل و سمجھ، جذبات و تصورات کا مرکز ہے، جدید سائنس نے جو کچھ کہا ہے، اس پر ہمارا ایمان نہیں، اس یقینی علم کی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ صحیح نہیں، کیونکہ بارہا ایسا ہوچکا ہے کہ سائنس کی دنیا میں اصول بنے، اور بگڑے ، ایک عرصہ تک تسلیم کئے گئے، اور پھرمسترد کردئیے گئے، اگر سائنس کا بیان صحیح بھی تسلیم کرلیا جائے، تب بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ دماغ محض ذریعہ اور آلہ ہے، جس طرح کان، آنکھ، ناک دماغ کے لیے آلات کا کام دیتے ہیں، بالکل اسی طرح دماغ دل کے لیے آلہ کا کام کرتا ہے، دماغ کے ذریعہ احساسات دل کی طرف منتقل ہوتے ہیں اور دل کے اندر جو روحانی قوت موجود ہوتی ہے، وہ ان کا ادراک کرتی ہے، اگر بظاہر دل ایک لوتھڑا ہے ، تو دماغ بھی بظاہر ایک گودے کے سوا اور کچھ نہیں، اگر وہ ادراک نہیں کرسکتا، تو یہ کیسے کرسکتا ہے، اور اگر یہ کر سکتا ہے تو اس کے کرنے پر تعجب کیوں؟ دل کی روحانی قوت دماغی آلات پر حکومت کرتی ہے اور غالباً اسی وجہ سے دل کو تمام اعضاء کا بادشاہ تسلیم کیا گیا ہے، اصل حقیقت تو اللہ ہی جانتا ہے۔ ہوسکتا ہے مستقبل قریب میں سائنس کے ذریعہ اس سلسلہ میں مزید انکشافات ہوں، اور اصل حقیقت سامنے آجائے، سائنس کے مزعومات سے فوراً مرعوب ہوجانا شکست خوردہ ذہنیت ہے، سائنس تو خود سرگردانی کے عالم میں پھر پھرا کر بالآخر شریعت کی مطابقت کرتی ہے۔ درآیندہ بھی ان شاء اللہ ایسا ہی ہوتا رہے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
حدیث مذکور اور مزید غلط فہمیاں
اس حدیث پر برق صاحب نے تین مادی اعتراض کیے ہیں، ان کا جواب اتنا ہی کافی ہے کہ '' فعال لما یرید '' (اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے) روحانی باتوں کو مادی ترازو میں تولنا، کوئی مناسب فعل نہیں، بہرحال برق صاحب کا پہلا اعتراض یہ ہے کہ '' جب خطا کاری کی استعداد ہی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محروم کردیا گیا، تو پھر آپ کی تقدس مآب زندگی کوئی قابل فخر چیز نہیں، میں کہتا ہوں کہ حدیث میں جس چیز کو شیطان کا حصہ بتایا گیا ہے، اس کو دل میں واپس نہ لانے کا حدیث میں کوئی ذکر نہیں ہے، لہٰذا اعتراض کالعدم ہے، اب ذرا قرآن کا مطالعہ کیجئے، ارشاد باری ہے:
{ وَ لَقَدْ ھَمَّتْ بِہٖ وَ ھَمَّ بِھَا لَوْ لَآ اَنْ رَّاٰ بُرْھَانَ رَبِّہٖ کَذٰلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوْٓءَوَ الْفَحْشَآءَاِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ } (یوسف)
اور بے شک اس عورت نے یوسف علیہ السلام سے بدفعلی کا ارادہ کیا تھا، اور اگر وہ رب کی برہان کو نہ دیکھتے تو وہ بھی اس عورت سے بدفعلی کا ارادہ کرلیتے، یہ اس لیے ہوا کہ ہمیں یوسف علیہ السلام کو برائی اور بے حیائی سے بچانا ہی مقصود تھا بے شک وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے تھے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ یوسف علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے کسی ذریعہ سے بچا لیا، اور جب بے حیائی سے بچانے کا ذریعہ خود اللہ تعالیٰ نے مہیا فرمایا، تو پھر یوسف علیہ السلام کی مقدس و مطہر باعصمت زندگی کوئی قابل فخر چیز نہیں رہی، اسی سورت میں آگے ارشاد ہوتا ہے:
{ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ } (یوسف)
بے شک نفس برائی کا حکم دیتا ہے مگر جس پر میرے رب کا رحم و کرم ہو جائے۔
گویا برائی سے بچنا بھی اللہ کے رحم و کرم پر موقوف ہے۔ اب اگر کوئی شخص برائی سے بچ جائے، تو اس آیت کی رو سے اس نے کون سا کمال کیا کہ جس پر فخر کیا جائے۔
برق صاحب کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ '' اللہ ماں کے پیٹ ہی میں ایسی ساخت بنا سکتا تھا کہ گناہ کا ارادہ ہی پیدا نہ ہو۔'' میں کہتا ہوں، شق صدر سے ساخت میں تبدیلی ہی کہاں ہوئی، لہٰذا اعتراض مندفع ہے، اب قرآن کی سنیے، وہ کیا کہتا ہے، اللہ تعالیٰ نے حضرت خضر کے ذریعہ ایک لڑکے کو محض اس لیے قتل کرا دیا کہ کہیں بڑا ہو کر اپنے نیک ماں باپ کو سرکشی میں مبتلا نہ کردے۔ آیت ملاحظہ فرمائیے:
{ وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَکَانَ اَبَوٰہُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَآ اَنْ یُّرْھِقَھُمَا طُغْیَانًا وَّ کُفْرًا } (کھف)
اور لڑکے کو اس لیے قتل کیا کہ اس کے ماں باپ مومن تھے، ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ ان دونوں کو سرکسی اور کفر میں مبتلا نہ کردے۔
کیا اس واقعہ پر یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ ایسے بچے کو پیدا کرنے ہی کی کیا ضرورت تھی، جس کو قتل کرانا مقصود تھا، پھر ان ماں باپ کی مقدس زندگی کس طرح قابل فخر و ستائش سمجھی جاسکتی ہے، جب کہ گناہ میں مبتلا کرنے والی چیز ہی کو نیست و نابود کردیا گیا، گناہ کا سبب ہی باقی نہ رہا، تو پھر ماں باپ کا گناہ نہ کرنا کوئی تعجب کی بات نہیں، نہ معلوم بغیر آزمائش کے اللہ تعالیٰ ان پر ایسا مہربان کیوں تھا کہ ان کے ننھے معصوم بچے کو قتل کرا دیا، اللہ ایسے اعتراضات سے محفوظ رکھے کہ جن کی زد سے نہ قرآن بچ سکے، نہ حدیث '' نعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔''
برق صاحب کا تیسرا اعتراض یہ ہے کہ پانی سے مرکز گناہ کو دھونا بھی عجیب و غریب ہے، دھونے سے گناہ کیسے ختم ہو جائیں گے، اس کا جواب اوپر دے چکا ہوں کہ روحانیات میں مادی اعتراض کی کوئی حقیقت نہیں، پھر حدیث میں یہ کہاں ہے کہ وہ حصہ اس لیے دھویا گیا کہ آیندہ اس سے گناہ سرزد نہ ہوں، یا گزشتہ گناہ مٹ جائیں، حدیث میں اس شیطانی حصہ کو دھونے کا ذکر نہیں ہے، بلکہ دل کو دھونے کا ذکر ہے، حدیث کی اصل عبارت اور اس کا ترجمہ حسب ذیل ہے :
شق عن قلبہ فاستخرج منہ علقۃ فقال ھذا حظا لشیطان منک ثم غسلہ فی طست من ذھب بماء زمزم ثم لامہ و اعادہ فی مکانہ۔ (صحیح مسلم)
حضرت جبریل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو ایک جانب سے چیرا اور اس میں سے ایک علقہ نکالا اور کہا یہ آپ کے دل میں شیطان کا حصہ ہے، پھر دل کو سونے کے لگن میں آب زمزم سے دھویا پھر اس کو شگاف سے ملا دیا، پھر اس کو اس کی جگہ پر رکھ دیا۔
یہی وہ دل ہے، جس کو مستقبل میں مہبط وحی بننا تھا، لہٰذا اس کی نورانیت کے لیے پہلے سے انتظامات ہو رہے تھے، ان انتظامات سے اللہ کی کیا مصلحت تھی، اللہ ہی خوب جانتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
مغیرہ شعبی، اعمش اور قاسم جیسے علمائے تابعین جمع احادیث کو ناجائز سمجھتے رہے۔ (دو اسلام ص ۷۸)
ازالہ
یہ روایتیں سراسر باطل اور افترا ہیں:
امام شعبی کی روایت کے دو طریق ہیں۔ اول میں عبداللہ بن یحییٰ اور عمر بن محمد جمحی مجہول ہیں، اور علی بن عبدالعزیز اور محمد بن فضیل مجروح ہیں۔ اور ابو غسان کئی ہیں، بعض نامقبول اور لاپتہ ہیں، دوسرے طریق میں عبدالواراث بن سفیان مجہول ہے، اور محمد بن فضیل جو پہلے طریق میں بھی ہے مجروح ہے۔ (برق سلام ص ۱۰۷)
مغیرہ اور اعمش کی روایت میں عبدالرحمن بن یحییٰ اور عمرو بن محمد جمحی مجہول ہیں، اور علی بن عبدالعزیز مجروح ہے (برق اسلام مصنفہ ابو سعید شرف الدین صاحب محدث دہلوی ص ۱۰۷)
قاسم کی روایت میں احمد بن عبداللہ بن محمد بن علی اور عبداللہ بن یونس مجہول ہیں۔ (برق اسلام ص ۱۰۷)
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
جن احادیث کو مشتبہ سمجھ کر فاروق و صدیق جلا رہے تھے، وہ اڑھائی سو برس بعد کیسے صحیح بن سکتی تھیں۔ (دو اسلام ص ۷۹)
ازالہ
صدیقی اور فاروقی دور میں ہرگز ایسا نہیں ہوا، جو روایت بیان کی جاتی ہے، وہ سراسر کذب و افتراء ہے، تفصیل کے لیے باب اول ملاحظہ ہو:
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
علامہ محمد طاہر گجراتی نے اپنی مشہور تصنیف '' قانون الاخبار الموضوعہ والرجال الضعفاً'' میں تقریباً دو ہزار ایسے اشخاص کے نام دئیے ہیں، جو زندگی بھر احادیث گھڑتے رہے۔ (دو اسلام ص ۷۹)
ازالہ
دو ہزار کی تعداد صحیح نہیں کتاب مذکور میں تقریباً ایک ہزار راویوں کا حال ہے، جن میں سے اکثر ضعیف ہیں، اور صرف چند ایسے ہیں جو احادیث گھڑتے تھے، کتاب کا نام جو برق صاحب نے تحریر فرمایا ہے اس سے بھی ظاہر ہے کہ اس میں ضعیف راویوں کا حال بھی ہے، یعنی ایسے راویوں کا بھی حال ہے، جو صادق تو تھے لیکن کمزور حافظہ تھے، برق صاحب نے نہ تو راویوں کو گنا، نہ یہ دیکھا کہ اس میں گھڑنے والوں ہی کا حال نہیں ہے، بلکہ اوروں کا بھی تذکرہ ہے، ایک ہزار کے دو ہزار سمجھ لیے، اور ضعفاء کو وضاع سمجھ لیا۔
غلط فہمی
برق صاحب نے چند واضعین حدیث کے نام لکھ کر یہ شبہ وارد کیا ہے کہ ان کی وضع کردہ احادیث صحاح ستہ میں داخل ہوگئیں۔ (دو اسلام ص ۷۹)
ازالہ
جن واضعین کے نام برق صاحب نے لکھے ہیں، ان سے کوئی روایت صحاح ستہ میں نہیں ہے اور اگر بالفرض محال ہوتی بھی تو اس متن کے ساتھ اس کی سند میں اس واضع کا نام بھی موجود ہوتا، تو پھر بتائیے، دھوکا کیسے ہوسکتا تھا؟ اس کا نام آتے ہی، وہ حدیث ، حدیث نہیں رہتی جن کتب میں ایسی احادیث جمع کی گئی ہیں، وہاں ان گھڑنے والوں کے نام بھی موجود ہیں، لہٰذا کوئی شخص ان کی جعل سازی سے دھوکا نہیں کھا سکتا، برق صاحب یاد رکھئے محدثین اس حدیث پر فنی بحث ہی نہیں کرتے، جو موضوع ہوتی ہے، محدثین تو صحیح سند سے ثابت شدہ متن کی تحقیق میں اپنا سارا زور خرچ کرتے ہیں، موضوع حدیث کا تو مقام ہی علیحدہ ہے، آپ دونوں کو خلط ملط کیوں کر رہے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
صحاح ستہ میں بعض ایسی احادیث راہ پاچکی ہیں، جو نہ صرف قرآن سے متصادم ہوتی ہیں، بلکہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے بلند علم، عظیم المرتبت شخصیت اور بے مثال کردار کے سخت اضافی ہیں۔ (دو اسلام ص ۷۹)
ازالہ
صحاح ستہ میں ایسی کوئی صحیح حدیث نہیں اگر غلط فہمی سے کسی صحیح حدیث کا ایسا مطلب لے لیا جائے تو پھر یہ تو قرآن کی آیات سے بھی ممکن ہے، جہاں برق صاحب تفصیل کریں گے، وہیں ہم بھی اس قسم کی آیات کی مثالیں دیں گے۔
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
مولانا عبید اللہ سندھی نے فرمایا تھا، میں ایک یورپین نو مسلم کو کتاب بخاری کیوں نہیں پڑھا سکتا، اس کی وجہ میں مجلس عام میں نہیں بتا سکتا۔ (دو اسلام ص ۷۹۔ ۸۰)
ازالہ
اول تو معلوم نہیں کہ مولانا عبید اللہ سندھی کا یہ قول ان کی کس کتاب میں ہے، صرف رسالۃ الفرقان کا حوالہ اس کے ثبوت کے لیے کافی نہیں، دوم مولانا عبید اللہ سندھی کا شمار ذی علم ہستیوں میں نہیں لہٰذا اگر وہ صحیح بخاری کو نہ سمجھ سکے ہوں تو کوئی تعجب کی بات نہیں، اس لیے ان کا قول کوئی وقعت نہیں رکھتا۔ ہاں اگر آپ علامہ ابو الحسن سندھی یا علامہ محمد حیات سندھی کا کوئی قول پیش فرماتے تو وہ کسی حد تک قابل اعتنا ہوسکتا تھا۔
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
احادیث تراشی میں بڑے بڑے '' بزرگان قوم'' شامل تھے۔ (دو اسلام ص ۸۰۔ ۸۴)
ازالہ
برق صاحب ان کو بزرگان قوم کہتا ہے، عوام جو چاہیں کہیں کسی کو علامہ کہہ دیں اور کسی کو قاضی کہہ دیں، مگر محدثین کی فہرست میں یہ لوگ بزرگان قوم میں شمار نہیں ہوتے بلکہ مشہور کذابین کی فہرست میں داخل ہیں، لہٰذا صحیح احادیث ان کے وجود سے پاک ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
باب ۳

چند عجیب راوی و صحابہ

غلط فہمی
برق صاحب نے صفحہ ۸۷ پر ایک موضوع حدیث جماع کے بعد غسل کرنے کی فضیلت میں نقل کی ہے، اور صفحہ ۸۸ پر ایک موضوع حدیث کلمہ پڑھنے کی فضیلت میں نقل کی ہے، اور ان دونوں احادیث پر تعجب کا اظہار کیا ہے۔
ازالہ
برق صاحب! آپ کو تعجب کس پر ہے، گھڑنے والے پر یا محدثین پر، اگر گھڑنے والے پر ہے تو ہم بھی آپ کے شریک ہیں، اور اگر محدثین پر ہے، تو میں آپ کو بتاتا ہوں کہ محدثین نے تو بہت پہلے ان کو جعلی کہہ دیا تھا، آپ تو آج ان کا مذاق اڑا رہے ہیں، لیکن محدثین نے بڑی متانت سے پہلے ہی دن ان کی حقیقت کا انکشاف کردیا تھا، لہٰذا محدثین پر تعجب کرنا خود تعجب خیز ہے۔
غلط فہمی
آگے چل کر برق صاحب نے چند جھوٹوں کا تذکرہ کیا ہے کہ ان لوگوں نے کئی سو سال بعد صحابی ہونے کا دعوی کیا، مثلاً قیس بن تمیم، سرباتک، جبیر بن حرب، ابو عبداللہ محمد الصقلی، حبفر بن نسطور بابا رتن ہندی، ان لوگوں کا ذکر کرنے سے پہلے برق صاحب لکھتے ہیں:
اب ذرا سوانح میں ان کی حقیقت نگاری کا نمونہ ملاحظہ فرمائیے۔ (دو اسلام ص ۸۸)
آگے چل کر سر باتک کے سلسلہ میں لکھتے ہیں:
حیرت ہے کہ جب اسحاق بن ابراہیم ۷۰۰ھ کے قریب سر باتک سے ملاتی ہوا تھا، تو اس کی عمر سات سو ستر برس تھی، اور ۳۳۳ھ یعنی ۳۶۸ برس پہلے اس کی عمر ۸۹۴ سال تھی، ریاضی کے ان '' محدثانہ نکات'' کو ہم جیسے بے علم کیا سمجھیں۔ (دو اسلام ص۹۰)
ازالہ
برق صاحب یہ حقیقت نگاری محدثین کی نہیں ہے بلکہ دجالین و کذابین کی ہے محدثین نے بہت پہلے ہی ان کو کذابین کی فہرست میں شمار کیا ہے، ان سب لوگوں کا مفصل حال آپ کو تذکرۃ الموضوعات صفحہ ۱۰۲ تا صفحہ ۱۰۸ میں ملے گا، ریاضی کی یہ غلطیاں افسوس ہے کہ آپ ان کو محدثین طرف منسوب کر رہے ہیں، حالانکہ محدثین کا ان سے کوئی تعلق نہیں، ریاضی اور ان جیسی دیگر غلطیوں کا ذکر محدثین نے کیا ہے، لیکن ان کے علاوہ محدثین کے پاس ایسا زبردست معیار ہے، جس کی بنیاد پر وہ آنکھ بند کرکے ان مدعیان صحبت نبوی کے کذب پر قسم کھا سکتے ہیں، اور اسی معیار پر رکھ کر محدثین نے ان کے کذاب ہونے کی صراحت کی ہے۔
دوم: ایک بات اور یاد رکھئے وہ یہ کہ یہ دجال سب کے سب تدوین حدیث کے دور کے بعد ظاہر ہوئے، لہٰذا حدیث کے معتبر دوادین ان کی من گھڑت خرافات سے مبرا ہیں۔ محدثین کا وہ زبردست معیار جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے، یہ صحیح حدیث ہے، جو درج ذیل ہے، وفات سے کچھ دن پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ارأیتکم لیلتکم ھذہ فان رأس مائۃ سنۃ منھا لا یبقی ممن ھو علی ظھو الارض احد۔ (صحیح بخاری)
یعنی آج کی رات سے سو سال ختم ہونے تک روئے زمین پر جتنے انسان اس وقت موجود ہیں ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا۔
پس اس معیار پر مدعیان صحبت نبوی پورے نہیں اترتے، لہٰذا محدثین نے فوراً انہیں کذاب کہہ دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب لکھتے ہیں:
علامہ ذہبی میزان میں لکھتے ہیں کہ بابا رتن ہندی کی وفات ۶۳۲ھ یہ ۱۲۳۸ ء میں ہوئی تھی لیکن محدثین کی ایک خاص تعداد اسے صحابی سمجھ کر اس کی احادیث روایت کرتی ہے، جب علامہ ذہبی نے باب رتن کی روایات کو جھوٹا قرار دیا، تو قاموس کے مصنف علامہ مجد الدین فیروز آبادی (وفات ۸۱۴ھ) کو اس قدر صدمہ پہنچا کہ انہوں نے علامہ ذہبی سے تمام تعلقات توڑ لیے۔ (دو اسلام ص ۹۱)
ازالہ
یہ بات قطعاً صحیح نہیں کہ محدثین کی ایک خاص تعداد بابا رتن کو صحابی سمجھ کر اس کی احادیث روایت کرتی ہے، ہاں ملفوظات خواجگاں کو اگر آپ کتب حدیث سمجھ بیٹھے ہیں، تو پھر بات ہی دوسری ہے محدثین کے نزدیک تو یہ ملفوظات بھی خرافات سے مملو ہیں، پھر یہ ملفوظات بہت بعد کی پیداوار ہیں ، محدثین سے ان کا کوئی تعلق نہیں، بابا رتن خود دور تدوین حدیث کے بہت عرصہ بعد ظاہر ہوا تھا، لہٰذا اس سے محدثین کا حدیث روایت کرنا عقلاً محال ہے، متاخرین نے جہاں ان لوگوں کی تردید کی ہے، وہیں سے برق صاحب یہ افسانے نقل فرما رہے ہیں، اور حیرت ہے کہ تردید کرنے والوں کو ان چیزوں کا ماننے والا سمجھ رہے ہیں، پھر یہ بھی غلط ہے کہ علامہ مجدالدین نے علامہ ذہبی سے تمام تعلقات توڑ لیے تھے، برق صاحب نے بے حوالہ اس کو نقل کیا ہے، یہ بھی صحیح نہیں کہ علامہ مجدالدین نے بابا رتن کو صحابی تسلیم کیا، ایک طرف تو برق صاحب جامعین حدیث کا تذکرہ کرتے ہیں۔ اور نام لیتے ہیں علامہ مجدالدین کا حالانکہ علامہ مجدالدین جامعین حدیث میں سے نہیں ہیں، اور نہ تدوین حدیث سے ان کا کوئی تعلق ہے، اصل واقعہ صرف اتنا ہے کہ علامہ ذہبی نے رتن کے وجود پر تردد کا اظہار کیا، تو علامہ مجد الدین نے اس تردد کا انکار کیا، اور کہا ایسا شخص یقینا ہوا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ علامہ مجد الدین نے اس کے دعوی صحابیت میں اس کو سچا سمجھا، تذکرۃ الموضوعات میں جہاں سے برق صاحب نے یہ چیزیں نقل کی ہیں، اس چیز کی وضاحت موجود ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:
قال ابن حجر رأیت شیخنا مجد الدین صاحب القاموس ینکر علی الذھبی انکارہ وجود رتن و ذکرانہ دخل فی ضیعۃ فی الھند ووجد فیھا من لا یحصی کثرۃ ینقلون قصۃ رتن عن اباء ھم واسلافھم قلت ھو لم یجزم بعدم بل تردد قال والظاھر انہ کان طویل العر فادعی وتمادی علیہ حتی اشتھر ولو کان صادقا لا شتھر فی المائۃ الثانیۃ او الثالثۃ ولکن لم ینقل عنہ شئی الا فی اٰخر المائۃ السادسہ ثم فی اوائل السابقۃ قبل موتہ ( تذکرۃ الموضوعات ص۱۰۶۔ ۱۰۷)
علامہ ابن حجر کہتے ہیں کہ ہمارے استاد مجدالدین نے علامہ ذہبی کے رتن کے وجود کو انکار کی تردید کی ہے وہ کہتے تھے کہ میں ہندوستان کی ایک بستی میں گیا تو مجھے لا تعداد ایسے آدمی ملے جو اپنے آباؤ اسلاف سے رتن کا قصہ روایت کرتے تھے۔ میں کہتا ہوں علامہ ذہبی نے رتن کے وجود کا انکار نہیں کیا بلکہ تردد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی عمر طویل تھی لہٰذا اس نے صحابی ہونے کا دعویٰ کردیا۔ حتیٰ کہ وہ مشہور ہوگیا۔ اگر وہ سچا ہوتا تو دوسری یا تیسری صدی ہجری میں بھی مشہور ہوتا۔ لیکن اس سے کوئی چیز نقل نہیں ہوئی۔ مگر چھٹی صدی کے آخر میں پھر ساتوں صدی کے شروع میں اس کی موت سے کچھ عرصہ پہلے۔
عبارت بالا سے ظاہر ہے کہ علامہ ذہبی نے ایک زبردست معقول دلیل سے بابا رتن کے کذاب ہونے کا ثبوت دیا۔ علامہ مجدالدین کو غلط فہمی ہوئی کہ وہ یہ سمجھ گئے کہ علامہ ذہبی اس کے وجود کے منکر ہیں۔ لہٰذا انہوں نے تردیداً کہا کہ وجود تو ضرور تھا، اس لیے کہ لا تعداد لوگ اس کے وجود کی شہادت دیتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
خلاصہ باب سوم

الغرض بعض جاہل لاؤں نے ان مدعیان صحابیت کے دعویٰ کو سچ سمجھ لیا ہو، تو دوسری بات ہے، شارحین حدیث یا متاخرین محدثین نے ان کی تکذیب کی، اور ان پر سخت تنقید کی، اور یہ برق صاحب کو بھی تسلیم ہے، برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
بحمد اللہ کہ اسلام میں کچھ محققین بھی ہو گزرے تھے، جنہوں نے ایسے تمام واقعات پر سخت تنقید کی ہے فجواھم اللہ احسن الجزاء۔ (دو اسلام ص ۹۰)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
باب ۴

کچھ ائمہ حدیث اور معتبر راویوں کے متعلق

غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
''حضرت عائشہ فرماتی ہیں حضرت انس اور حضرت ابو سعید خدری حدیث رسول سے محض ناواقف ہیں۔ اس لیے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔'' (دو اسلام ص ۹۴)
ازالہ
یہ قول حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا پر افتراء محض ہے، اس کی سند منقطع ہے (جامع بیان العلم جلد ۲، ص ۱۵۴) پھر یہ عقلاً بھی محال ہے، اس لیے کہ ان ہر دو صحابیوں کی عمر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے یقینا زیادہ تھی، لہٰذا وہ کم سنی کا اعتراض نہیں کرسکتیں۔
دوم یہ کہ ان دونوں صحابیوں کی عمر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ۲۰ سال سے کچھ زاید ہی تھی اور یہ عمر اتنی کم نہیں ہے کہ احادیث کی حفاظت نہ ہوسکے، اس عمر میں تو آج کل ایم اے، اور ایم ایس سی پاس کر لیتے ہیں اور سات سات، آٹھ آٹھ برس کے بچے پورا قرآن حفظ کر لیتے ہیں، تو اس زمانہ میں جب کہ حافظہ کئی گنا تھا، احادیث کو محفوظ کر لینا کیا بعید ہے، یہی ابو سعید خدری ہیں، جن کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کے ساتھ حدیث کی تصدیق کرنے کے لیے حضرت عمر رضی اللہ کی خدمت میں روانہ کیا تھا، اور یہ کہہ کر روانہ کیا تھا، کہ ہماری قوم کا سب سے چھوٹا آدمی اس کی تصدیق کرنے جائے گا، اس نوجوان کو وہ حدیث معلوم تھی جو حضرت عمر رضی اللہ کو معلوم نہ تھی یہ وہ نوجوان ہے جس پر حضرت عمر رضی اللہ نے اعتماد کیا تھا، اور اس کی شہادت کو تسلیم کیا تھا (تفصیل کے لیے باب اول ملاحظہ ہو) اور حضرت انس وہ نوجوان صحابی ہیں، جن کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تحصیلدار بناکر بحرین روانہ کیا تھا (صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ) ان نوجوان صحابیوں پر حضرت ابوبکر رضی اللہ اور حضرت عمر رضی اللہ تو اعتماد کریں اور آپ ان پر اعتماد نہ کریں، یہ کس قدر حیرت کا مقام ہے۔
 
Top