• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
لہٰذا ایسا نہیں ہوسکتا کہ بغیر جرم کے اللہ تعالیٰ ایک معصوم بچے کو قتل کرا دے ، ابھی جرم واقع نہیں اور آیندہ ہونا بھی یقینی نہیں تھا، بلکہ محض اندیشہ تھا جو ''فخشینا'' کے لفظ سے ظاہر ہے لہٰذا ایک غیر یقینی جرم کے عوض قتل کرنا، کسی طرح سمجھ میں نہیں آسکتا، اور یہ اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کی شان سے بعید ہے حضرت خضر کے الفاظ ملاحظہ فرمائیے '' وما فعلتہ عن امری'' میں نے یہ کام اپنی مرضی سے نہیں کیا بلکہ حکم الٰہی اسی طرح تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ اس کو زندہ رکھ کرماں باپ کو کفر سے نہیں بچا سکتا تھا، کیا اس بچہ میں اتنی زبردست طاقت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے بچپن ہی میں اس کو ہلاک کردیا کہ کہیں جوان ہو کر قابو سے باہر نہ ہو جائے پھر آخر اس میں مصلحت کیا ہے کہ پہلے اس کو پیدا کیا اور پھر تھوڑے ہی عرصہ کے بعد اس کو قتل کرا دیا، اور اپنے محبوب بندوں یعنی اس کے ماں باپ کو صدمہ پہنچایا، اور پھر قتل بھی خفیہ طریقہ پر کرایا گیا، نہ اس کے ماں باپ کو خبر نہ عزیز و اقارب کو اگر اللہ تعالیٰ کو یہ اندیشہ تھا کہ وہ گمراہی کا سبب نے گا تو اس کو پیدا ہی کیوں کیا تھا، آخر اللہ تعالیٰ کو وہ دونوں ماں باپ اتنے عزیز کیوں تھے کہ ان کی گمراہی کے خوف سے ان کے بے گناہ بچے کو قتل کرا دیا، پھر وہ ماں باپ بھی ایمان میں اتنے کمزور تھے کہ آزمائش میں پورے نہ اتر سکتے تھے، اتنی بھی استقامت نہیں تھی کہ وہ اس بچہ کے فتنہ سے بچ جاتے اتنے ضعیف الایمان ماں باپ آخر اللہ کو کیوں اتنے پیارے تھے، دنیا میں سینکڑوں نیک ماں باپ اپنے بچوں کی وجہ سے گمراہ ہوتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کبھی بھی ان کی خاطر ان کی اولاد کو قتل نہیں کراتا، یہ کہاں کا انصاف ہے اللہ تعالیٰ کبھی نا انصافی نہیں کرتا، اس کا قانون سب کے لیے یکساں ہے، پھر ایسا کیوں ہوا، ہم کچھ نہیں کہہ سکتے، برق صاحب غور فرمائیں، اللہ کی مصلحت اللہ ہی جانتا ہے، ہماری عقل کی رسائی وہاں تک نہیں ہوسکتی، حدیث زیر بحث کی اشاعت کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مشورہ سے روکنا منظور تھا، اور لڑکے کو پیدا کرکے ہی قتل کرانا مقدر تھا، مصلحت وہ جانے ہم تو یہ کہتے ہیں '' اٰمنا بہ کل من عند ربنا''
مندرجہ بالا آیات تو میں نے اللہ تعالیٰ کی مصلحت اور ہمارے ظاہری اعتراض کی وضاحت کے لیے پیش کی تھیں، اب میں بتاتا ہوں کہ خود اللہ تبارک و تعالیٰ مشورہ قبول فرماتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِذْھَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی
اے موسیٰ فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکشی میں مبتلا ہے۔
موسیٰ علیہ السلام مشورہ دیتے ہیں:
وَاجْعَلْ لِیْ وَزِیْرًا مِنْ اَھْلِی ۔ ھَارُوْنَ اَخِی اشْدُدُ بِہٖ اَزْرِیْ وَاشْرِکْہُ فِیْ اَمْرِیْ۔ (سورہ طہ)
اے اللہ میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنا دے اورمجھے اس کے ذریعہ قوت عطا فرما، اور اس کو میرے کام میں شریک کردے۔
بلکہ موسیٰ علیہ السلام یہاں تک کہہ گئے:
یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَلَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِل اِلٰی ھَارُوْنَ (شعرآء)
یعنی میرا سینہ تنگ ہوتا ہے میری زبان رکتی ہے اس لیے ہارون کو بھی منصب رسالت دیدے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قد اُویت سولک یا موسی (طہ)
اے موسیٰ تمہاری خواہش پوری کی جاتی ہے۔
اب اس قصہ پر یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ کو پہلے سے علم نہیں تھا کہ یہ کام تنہا موسیٰ علیہ السلام کے بس کا نہیں، اس میں ہارون علیہ السلام کی وزارت اور رسالت کی بھی ضرورت ہے، جب موسیٰ علیہ السلام نے توجہ دلائی اور مشورہ دیا، تو اللہ تعالیٰ کو بھی خیال آیا کہ ہاں ٹھیک ہے، ایسا ہی ہونا چاہیے ہمارا یہ اعتراض محض ظاہری ہے، باطنی مصلحت کو اللہ ہی جانتا ہے کہ ہارون علیہ السلام کو رسول بنانا موسیٰ علیہ السلام کے مشورہ پر کیوں موقوف تھا، اور حدیث زیر بحث کی اشاعت کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مشورہ سے روکنا کیوں ضروری تھا، جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے صحیح مشورہ کو قبول فرما لیتا ہے تو نبی پر کیا اعتراض ہے، اگر وہ اپنے ایک امتی کے مشورے کو قبول فرما لے، لا علمی کا اعتراض نہ اللہ تعالیٰ پر صحیح ہے نہ اس کے رسول پر ( صلی اللہ علیہ وسلم )۔
خلاصہ
حدیث زیر بحث پیش کرکے برق صاحب کا یہ نتیجہ نکالنا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو حدیث بیان کرنے پر مارا تھا۔ کسی طرح صحیح نہیں، نہ یہ صحیح ہے کہ حضرت ابوہریرہ حضرت عمر کے خوف سے حدیث بیان نہیں کرتے تھے بلکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تو خود حدیث کے متلاشی رہتے تھے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اور بقول برق صاحب '' اکڑ کر اور چھاتی تان کر'' ۔ (دو اسلام ص۵۲) احادیث بیان کرتے تھے، سنیے:
اُتی عمر بامرأۃ تشم فقال الشدکم باللہ ھل سمع احد منکم من رسول اللہ ﷺ قال ابوھریرۃ فقمت فقلت یا امیر المومنین انا سمعتہ قال فما سمعتہ قلت سمعتہ یقول لا تشمن ولا تستوشمن۔ (نسائی۔ کتاب الزینۃ جلد دوم)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی جو بدن گودتی تھی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا تم میں کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں کچھ سنا ہے، حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں میں (چھاتی تان کر کھڑا ہوگیا اور میں نے کہا اے امیر المومنین میں نے سنا ہے حضرت عمر نے فرمایا تم نے کیا سنا ہے حضرت ابوہریرہ نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے نہ گودا جائے نہ گدوایا جائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
میرا مطلب یہ نہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس قسم کی احادیث تراشا کرتے تھے، بلکہ یہ ہے کہ یار لوگ گھڑ کر ان کا نام جڑ دیتے تھے۔ (دواسلام ص۵۷۔ ۵۸)
ازالہ
یہ یار لوگ کون تھے؟ اگر واقعی یہ یار لوگ تھے، تو محدثین نے ان کو گرفت میں لے لیا، اور ان کی پوری قلعی کھول دی ہے اور اگر یہ ائمہ دین تھے، تو پھر اعتراض ہی کیا ہے؟
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں :
اور یہ بھی ممکن ہے کہ ابوہریرہ خود بھی روایت میں قدرے غیر محتاط واقع ہوئے ہوں، علامہ ذہبی نے ان کا یہ فقرہ نقل کیا ہے، ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ '' میں نے ایسی ایسی احادیث بیان کی ہیں کہ اگر عمر بن خطاب کے زمانے میں بیان کرتا تو وہ مجھے درے سے پیٹ ڈالتے، کیوں پیٹ ڈالتے سرور کائنات کا اسوہ بیان کرنے پر کیا کوئی مسلمان ایسا کرسکتا ہے، نہیں بلکہ مشتبہ احادیث کی روایت پر۔ (دو اسلام ص ۵۸)
ازالہ
یہ بالکل غلط ہے کہ حضرت ابوہریرہ قدر ے غیرمحتاط تھے، ان کو تمام احادیث حفظ تھیں اور پھر ان کو لکھ بھی رکھا تھا، جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے، وہ حدیث سناتے تھے، اور پھر بتاتے تھے کہ دیکھو یہ اسی طرح میرے پاس لکھی ہوئی بھی ہے، مروان نے ان کا امتحان لیا، ان سے احادیث سنیں اور ان کی لا علمی میں ان کو قلمبند کرالیا پھر ایک سال کے بعد وہی احادیث سنیں، اور ایک شوشہ کا فرق نہ پایا، لہٰذا یہ کہنا کہ وہ قدرے غیر محتاط تھے۔ قطعاً صحیح نہیں ، حضرت ابوہریرہ کے اصل الفاظ یہ ہیں:
لو کنت احدث فی زمان عمر مثل ما احدثکم ضربنی بمخفقۃ (برق اسلام ص۳۶)
اگر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اس کثرت سے حدیث روایت کرتا ، جتنی اب کرتا ہوں تو وہ مجھے درے سے مارتے۔
مطلب یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بموجب فرمان نبوی کثرت روایت سے روکتے تھے اس لیے کہ سننے والے کو یاد نہیں رہتیں، نہ یہ کہ مطلقاً حدیث کی روایت سے روکتے تھے یہ تو کسی طرح صحیح نہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یا دیگر صحابی مشتبہ احادیث روایت کرتے تھے۔مشتبہ کہنے کی آخر کوئی وجہ تو ہونی چاہیے۔ آخر صحابہ کرام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی اور راوی تھے جن کی وجہ سے روایتیں مشتبہ تھیں کیونکہ یہ چیز عقلاً محال ہے، لہٰذا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مشتبہ حدیثوں کی بناء پر تشدد کرنا صحیح نہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ کسی شخص میں یہ جرأت پیدا نہیں ہونے دیتے تھے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جو چاہے منسوب کردے۔ اور اسی وجہ سے وہ صحابہ کے ساتھ بھی سختی کرتے تھے تاکہ منافقین یا اور لوگوں کو افتراء کا موقع نہ ملے اور وہ عبرت پکڑیں اور یہ سب کچھ حدیث کی تخلیص کے لیے تھا نہ کہ حدیث دشمنی کی خاطر اس کی مثال کے لیے مندرجہ ذیل واقعہ ملاحظہ ہو (اس واقعہ کو برق صاحب نے بھی اعتراضاً ص۵۴ پر نقل فرمایا ہے)
حضرت ابوموسیٰ اشعری حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مکان پر گئے تین دفعہ سلام کیا، لیکن اجازت نہ ملی تو واپس چلے آئے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کسی کام میں مشغول تھے اس لیے اجازت نہ دے سکے، جب کام سے فارغ ہوئے تو کہا بلاؤ، حضرت ابو موسیٰ کو واپس بلایا گیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے واپس چلے جانے کا سبب پوچھا، انہوں نے کہاآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
اذا استادن احدکم ثلاثا فلم یوذن لہ فلیرجع
جب تم میں سے کوئی تین دفعہ اجازت طلب کرے اور اسے اجازت نہ ملے تو واپس چلا آئے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
اقم علیہ البینۃ والا اوجعتک
اس پر گواہ پیش کرو ، ورنہ تمہیں سزا دوں گا۔
حضرت ابو موسیٰ وہاں سے پریشان حالت میں انصار کی ایک مجلس میں پہنچے اور ان سے اس کی تصدیق چاہی، حضرت ابی بن کعب نے فرمایا ان کے ساتھ ہماری قوم کا سب سے چھوٹا آدمی جائے گا (مطلب حضرت ابی بن کعب کا یہ تھا کہ بچہ بچہ کو یہ حدیث حفظ ہے، اس میں تعجب کی کونسی بات ہے) الغرض حضرت ابو سعید خدری ان کے ساتھ آئے اور گواہی دی ، اس وقت حضرت عمر نے بطور افسوس کے فرمایا:
خفی علی ھذا من امر رسول اللہ ﷺ الھانی عنہ الصفق بالاسواق
یہ حدیث مجھ پر پوشیدہ رہی مجھے بازاروں میں خرید و فروخت نے غافل رکھا۔
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے اس موقعہ پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا، یہ حدیث میں نے بھی سنی ہے، پھر فرمایا : اے ابن خطاب
فلا تکونن عذابا علی اصحاب رسول اللہ ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر عذاب مت بنو۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے معذرتاً فرمایا:
سبحان اللہ انما سمعت شیئا فاجبت ان اتثبت (صحیح مسلم باب الاستیذان) لا اکون عذابا علی اصحاب رسول اللہ ﷺ ۔ (ابوداؤد)
سبحان اللہ! میری نیت سختی کی نہیں تھی میں نے ایک حدیث سنی تھی تو میں نے چاہا اس کی تصدیق بھی ہو جائے ، میں اصحاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سخت نہیں ہوں۔
یعنی میری منشا کچھ اور ہی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی منشا کیا تھی، وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی کے الفاظ میں سنیے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی موقعہ پر حضرت ابو موسیٰ سے معذرتاً اور ان کی دلجوئی کی خاطر فرمایا تھا:
انی لم اتھمک ولکن الحدیث عن رسول اللہ ﷺ شدید ولکن خشیت ان ینقول الناس علی رسول اللہ ﷺ ۔ (ابوداؤد، کتاب الادب)
یعنی اے ابو موسیٰ میں تم پر تہمت نہیں لگانا (کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط منسوب کرتے ہو) بلکہ بات یہ ہے کہ آپ کی حدیث بیان کرنا بڑا اہم مسئلہ اور بڑی بھاری بات ہے، (میں نے تو تم پر سختی کرنے کی دھمکی اس لیے دی تھی کہ) مجھے یہ خوف ہوا کہ دوسرے لوگ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹ بات بنا کر منسوب نہ کردیں۔
یعنی لوگ عبرت پکڑیں گے کہ جب صحابہ کرام پر اس معاملہ میں سختی ہوتی ہے تو ہمارا تو نہ معلوم کیا حال ہوگا، کیا سزا ملے گی، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کیوں سختی کرتے تھے، اس لیے نہیں کہ وہ حدیث کو حجت نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس لیے کہ جو بات بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ہو، وہ پورے طریقہ سے ثابت شدہ اور قطعی ہو، ایسا نہ ہو کہ کسی ڈھیل کی بنا پر ہر کس و ناکس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹ بات منسوب کردے، اور اسے یہ خیال و ڈر بھی نہ ہو، کہ گواہی کی ضرورت پیش آئے گی، اور ثبوت مہیا کرنا پڑے گا، اس حدیث کی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ تک کسی شخص کو حدیث بنانے کی جرأت نہیں ہوئی، لہٰذا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں گھڑی ہوئی حدیث کا وجود یا مشتبہ احادیث کا پایا جانا محض وہم ہے، اور بعد میں بلکہ بہت بعد میں جن لوگوں نے حدیثیں بنائیں وہ بچ کر نہیں نکل سکے، فن حدیث نے پوری طرح ان کا تعاقب کیا اور ان کو اپنی گرفت میں لے لیا، برق صاحب یہ ہیں صحیح احادیث جن کو اوپر نقل کیا گیا، اور یہ ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا طرز اور اہتمام تحفظ حدیث، ہم تو صحیح احادیث پیش کرکے آپ کی غلط فہمی کو دور کرتے ہیں، اور آپ محض تاریخی اقتباسات پیش کرتے رہتے ہیں، جن کا کوئی اعتبار نہیں، جیسا کہ ہم نے پہلے ہر حوالہ کو موضوع اور جھوٹ ثابت کردیا، بخاری و مسلم کی احادیث کے مقابلہ میں تذکرۃ الحفاظ یا اسی قسم کی دوسری کتابوں کے حوالے جن کی سند میں مفتری و مجہول راوی ہوں کسی طرح زیبا نہیں، اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ حضرت ابوہریرہ نے (بشرطیکہ یہ قول ان کا تسلیم کرلیا جائے) کیوں یہ گمان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجھے مارتے، اس لیے کہ ان کے سامنے یہ واقعہ موجود تھا اور وہ ڈرتے تھے کہ کہیں حدیث بیان کروں، اور گواہ نہ ملے تو ممکن ہے کہ سزا ملے، حالانکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا منشا مارنا نہیں تھا، بلکہ حدیث کی حفاظت کے لیے لوگوں کو ہشیار کرنا تھا، جیسا کہ حضرت ابی بن کعب اور حضرت ابو موسیٰ کو جو مذکورہ بالا جوابات انہوں نے دئیے ان سے ظاہر ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
(ہمارے موجودہ علما میں) ایک دو خرابیاں بھی ہیں (اول) کہ ملکہ تنقید سے بے بہرہ ہونے کی وجہ سے وہ صحیح و غلط میں تمیز نہیں کرسکتے۔ (دوم) اسلاف پرستی اور اندھی تقلید کے امراض میں مبتلا ہیں۔ (دو اسلام ص ۵۹)
ازالہ
یہ غلط ہے کہ ملکہ تنقید سے علماء بالکل بے بہرہ ہیں، ماضی قریب میں ایسے لوگ گزر چکے ہیں جن کو فن تنقید میں کافی مہارت تھی، مثلاً امام شوکانی، سید نذیر حسین صاحب محدث دہلوی ، مولانا شمس الحق صاحب مصنف عون المعبود مولانا عبدالرحمن صاحب مبارکپوری وغیرہ وغیرہ،اور جو خود برق صاحب کے ہم عصر مشہور محدث احمد محمد شاکر، احمد عبدالرحمن البناء الشہیر بالساعاتی، اور مولانا شرف الدین صاحب محدث دہلوی، مؤخر الذکر محدث نے آپ جیسے ایک صاحب کی پیش کردہ تمام روایتوں کو ناقدانہ نظر سے دیکھ کر ان کی حقیقت سے لوگوں کو روشناس کرایا، ان کی مایہ ناز کتاب '' برق اسلام'' اس کا زندہ ثبوت ہے، اور بھی بہت سے علماء جو ابھی موجود ہیں سندوں پر ناقدانہ نظر ڈال سکتے ہیں، بلکہ ڈالتے رہتے ہیں، یہ دوسری بات ہے کہ برق صاحب کو ان کا علم نہ ہو۔
یہ بھی غلط ہے کہ ہمارے تمام علماء اسلاف پرستی اور اندھی تقلید کے امراض میں مبتلا ہیں، بلکہ ایسے بہت سے علماء موجود ہیں، اور موجود رہے ہیں، جو اندھی تقلید سے کلیتہ بیزار ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
شیخ عبدالحق دہلوی لاکھ چلائیں کہ صحاح میں انسانی اقوال کی آمیزش ہے۔ (دو اسلام ص۵۹)
ازالہ
یہ کس نے کہا ہے کہ صحاح میں صرف احادیث ہیں، نہیں بلکہ دوسروں کے اقوال بھی ہیں، مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ صحیح احادیث کے متن میں اقوال کی آمیزش ہے، یہ قطعاً غلط ہے۔
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
علامہ ابن حجر ہزار کہیں کہ صحیح بخاری کی چالیس احادیث جھوٹی ہیں۔ (دو اسلام ص ۵۹)
ازالہ
یہ بالکل جھوٹ ہے علامہ ابن حجر نے یہ کہیں نہیں کہا جس شخص نے ایسی عبارت نقل کی ہے، اس نے یا تو دھوکہ دیا ہے یا دھوکا کھایا ہے، ابن حجر کا حاشا وکلا ایسا کوئی قول نہیں، ابن حجر تو صحیح بخاری کی ہر حدیث کو قطعی الصحت سمجھتے ہیں۔ (فیض الباری شرح صحیح بخاری جلد اول ص ۴۵)
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
شیخ حمید الدین فراہی بے شک کہتے پھریں میں نے صحاح میں ایسی احادیث دیکھیں جو قرآن کا صفایا کردیتی ہیں، ہم اس عقیدہ سے پناہ مانگتے ہیں کہ کلام رسول، کلام خدا کو منسوخ کرسکتا ہے۔ (دو اسلام ص ۶۰)
ازالہ
فراہی صاحب نے جو کچھ لکھا ، وہ بالکل غلط ہے، وہ حدیث کو سمجھے ہی نہیں، اور اسی لیے انہوں نے اس کو قرآن کے خلاف سمجھا، پھر فراہی صاحب خود نہ محدث ہیں، نہ صحیح العقیدہ، لہٰذا ان کا قول ساقط الاعتبار ہے، صحاح میں کوئی صحیح حدیث ایسی نہیں جو قرآن کے خلاف ہو، یا قرآن کی کسی آیت کو منسوخ کرتی ہو، مزید براں فراہی صاحب کا کلام رسول اور کلام خدا کو علیحدہ سمجھنا بھی غلطی ہے، کلام رسول بھی اصل میں حکم خدا ہی ہے، حکم خدا سے حکم کا منسوخ ہونا کوئی مستبعد امر نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
ایک مرتبہ صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے التجا کی حد ثنا (کوئی حدیث بیان فرمائیے تو جھٹ یہ آیت نازل ہوئی { اَللہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ کِتَابًا} اللہ نے قرآن نازل کیا ہے اور یہی بہترین حدیث ہے، دوبارہ کہا حدثنا شیئا دون القران (قرآن کے بغیر کوئی اور بات سنائیے) تو سورہ یوسف اترنے لگی۔ (دوم اسلام ص ۶۰)
ازالہ
یہ قصہ سنداً صحیح نہیں، پھر اصل الفاظ بھی یہ نہیں، بلکہ اس طرح ہیں '' حدثنا فوق الحدیث ودون القران'' یعنی حدیث و قرآن کے علاوہ کچھ سنائیے (تفسیر ابن کثیر جلد ۳ ص ۴۶۷) اس روایت کے کذب ہونے پر اور بھی چند وجوہ ہیں:
اول: سورہ یوسف مکی سورۃ ہے، اس زمانہ میں حدیث بیان کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس زمانہ میں تو شرک و توحید ، کفر و ایمان کی ہنگامہ خیز کش مکش جاری تھی، کسے ہوش تھا کہ توحید کے علاوہ کسی اور چیز کی معلومات کا مطالبہ کرتا، رفاعہ بن رافع کہتے ہیں کہ میں مکہ ہی میں مسلمان ہوا تھا، اور یہ سورت میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وہاں ہی سنی تھی، لوگ مجھے اسلام لانے کی وجہ سے دیوانہ سمجھنے لگے۔ (احسن التفاسیر)
دوم: اس قصہ کے جھوٹ ہونے کی یہ بھی ایک وجہ ہے کہ سورہ یوسف کا شان نزول ہی یہ نہیں جو اس قصہ میں بیان ہوا ہے بلکہ یہود کے بہکانے سے کفار مکہ نے سوال کیا کہ یعقوب علیہ السلام تو ملک شام میں رہاکرتے تھے، پھر ان کی اولاد مصر میں کیسے پہنچ گئی، اس سوال کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف نازل فرمائی۔ (تفسیر احسن التفاسیر)
غلط فہمی
برق صاحب نے حضرت سفیان ثوری، امام سفیان بن عینیہ اور بکر بن حماد شاعر کے اقوال نقل کئے ہیں جن کا مضمون واحد ہے اور وہ یہ ہے کہ ' 'حدیث اچھی چیز نہیں، اگر اچھی ہوتی تو اچھی چیزوں کی طرح کم ہوتی جاتی، لیکن یہ تو بڑھ رہی ہے، لہٰذا بری چیز ہے۔'' (دو اسلام ملخصاً ص۶۱)
ازالہ
(۱) حضرت سفیان ثوری کی طرف جو قول منسوب ہے، وہ بالکل کذب و افتراء ہے، اس کی سند میں ابراہیم بن نعمان مجہول ہے ، دوسرا راوی محمد بن علی بن مروان بھی مجہول ہے، تیسرا راوی علی بن جمیل رتی کذاب ہے، جو جھوٹی روایتیں نقل کیا کرتا تھا (برق اسلام ص۶۸) سفیان ثوری سے حدیث اور اصحاب الحدیث کی تعریف میں متعدد اور باسند اقوال منقول ہیں، جن کا نقل کرنا طوالت سے خالی نہیں، تفصیل کے لیے برق اسلام ملاحظہ فرمائیں، سفیان ثوری بہت بڑے محدث ہیں، اور حدیث ہی کی وجہ سے ان کی عزت ہے۔
(۲) امام سفیان بن عینیہ کی طرف جو قول منسوب ہے، وہ بھی کذب و افترا ہے، اس کی سند میں عبداللہ بن محمد بن یوسف اور یحییٰ بن مالک مجروح ہیں، محمد بن سلیمان بن ابی الشریف اور زکریا قطان مجہول غیر معتبر ہیں اور محمد بن موسیٰ کئی ہیں، معلوم نہیں یہ کون سے ہیں، گویا تمام سلسلہ رواۃ ہی داہی تباہی ہے۔ (برق اسلام ص ۷۷) سفیان بن عینیہ بھی بہت بڑے محدث ہیں اور حدیث کے ائمہ میں سے ہیں۔
(۳) بکر بن حماد شاعر کے قول کی ہمیں پرواہ نہیں اگر وہ صحیح بھی ہو، تو بفجوائے آیت کریمہ
{ وَالشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُہُمُ الْغَاوٗنَ ۔ اَلَمْ تَرَ اَنَّہُمْ فِیْ کُلِّ وَادٍ یَّہِیْمُوْنَ } (الشعراء)
شعرا کی پیروی کرنے والے گمراہ ہیں، شعراء ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔
گمراہی اور ضلالت ہے پھر یہ قول کہ '' خیرکم ہوتی جاتی ہے اور برائی بڑھتی رہتی ہے۔'' کلیتہً صحیح نہیں، اللہ فرماتا ہے:
{ قُلْ جَآءَالْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا } (بنی اسرائیل)
کہہ دیجئے کہ حق آگیا باطل مٹ گیا، اور باطل مٹنے ہی کے لیے ہے۔
جو خیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نازل ہوئی وہ بڑھتے بڑھتے کمال کو پہنچ گئی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان کا زیادہ ہوتے رہنا خود قرآن سے ثابت ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
بشر بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے ابو خالد الاحمر الکوفی (وفات ۱۹۶ھ) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایسا زمانہ بھی آرہا ہے کہ لوگ قرآن شریف کو ایک طرف رکھ دیں گے اور احادیث کی تلاش میں نکل پڑیں گے۔'' (دو اسلام ص ۶۳)
ازالہ
یہ قول بھی جھوٹ اور بہتان ہے اس کی سند میں دو راوی مجروح ہیں، ایک عبداللہ بن محمد عبدالمومن اس کا ضبط روایت بھی نہایت خراب تھا، اس کی ہجو بھی کہی گئی ہے۔ دوسرا راوی عبدالباقی ہے اس نام کے دو شخص ہیں ایک ضعیف خطا کار، دوسرا زندیق، بدمعاش۔ (برق اسلام ص۶۳)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
آگے چل کر برق صاحب اور ادو وظائف اور اللہ کے ذکر کے فضائل پر اعتراض کرتے ہوئے ایک حدیث نقل فرماتے ہیں، جو مندرجہ ذیل ہے:
جو شخص دن میں سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ کا ورد کرے گا، اس کی تمام سیاہ کاریاں معاف ہو جائیں گی، خواہ وہ سمندر کے جھاگ سے بھی زیادہ ہوں۔ (دو اسلام ص ۶۳)
ازالہ
اس غلط فہمی کے کئی جواب ہیں۔
پہلا جواب: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{ وَمِنْ کُلِّ شَیْئٍ خَلَقْنَا زَوْجِیْنِ } (ذاریات)
ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کیے ہیں۔
یعنی اچھے اور برے اگر زہر پیدا کیا ہے تو ساتھ ہی تریاق بھی پیدا کیا ہے، اگر ہمارے دشمن جراثیم پیدا کیے ہیں، تو ساتھ ہی ان کی مدافعت کرنے والے اور ان کو فنا کے گھاٹ اتارنے والے جراثیم بھی پیدا کیے ہیں، کروڑوں نقصاں رساں جراثیم ہمارے جسم پرہر لحظہ حملہ کرتے رہتے ہیں، لیکن ہمارے جسم کے نفع بخش جراثیم ان کو پسپا کرکے ہلاک کردیتے ہیں، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ضرر رساں جراثیم کا غلبہ ہوتا ہے، اور ہم بیمار ہو جاتے ہیں، پھر ان ضرر رساں جراثیم کے غلبہ کو توڑنے کے لیے دو استعمال کرنی پڑتی ہے۔ غرض یہ کہ ساری کائنات میں یہی چیز کار فرما ہے، ایک ضد دوسری ضد کو فنا کرتی رہتی ہے، یہی حال خیر و شر کا ہے، کبھی شر کا غلبہ ہوتا ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے:
{ ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی }
یعنی لوگوں کی بد اعمالی کی وجہ سے بحر و بر میں فساد کا غلبہ ہوگیا۔
اسی طرح حدیث میں ہے، حضرت حذیفہ پوچھتے ہیں:
انا کنا فی جاھلیۃ و شر فجاء نا اللہ بھذا الخیر فھل بعد ھذا لخیرمن شرقال نعم (متفق علیہ)
یعنی اے اللہ کے رسول! ہم جاہلیت اور شر میں تھے پھر اللہ نے یہ خیر نہ بھیج دی تو کہا اس خیر کے بعد بھی شر ہوگی فرمایا ہاں۔
اور کبھی خیر کا غلبہ ہوتا ہے جیسا کہ حدیث بالا میں ہے اور جیسا کہ قرآن میں ہے:
{ قُلْ جَاءَ الْحَقَّ وَزھَقَ الْبَاطِل } (بنی اسرائیل)
کہہ دے حق آگیا باطل مٹ گیا۔
بالکل یہی حالت گناہ اور ثواب کی ہے، گناہ بھی ہوتے رہتے ہیں، اور ثواب بھی ہوتا رہتا ہے اور ان دونوں کا تصادم شائع و ذرائع ہے، کبھی گناہ کا غلبہ ہو جاتا ہے، اور نیکیاں پسپا ہو جاتی ہیں اور کبھی نیکیاں غالب ہوتی ہیں اور برائیاں دفع ہو جاتی ہیں، ایک دوسرے کی ضد ہے اور ایک دوسرے کے فنا کا سبب بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک گناہ سارے نیک اعمال ختم کردیتا ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{ لَئِنْ اَشْرَکْتَ لِیَحَبِطَنَّ عَمَلُکَ }
یعنی اگر تم نے شرک کیا تو تمہارے سارے اعمال ضائع کردئیے جائیں گے۔
دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{ يٰٓاَيُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْٓا اَعْمَالَکُمْ }
اے ایمان والو! اللہ اور رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے اعمال کو ضائع مت کرو۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ اور رسول کی نافرمانی سارے نیک اعمال کا خاتمہ کردیتی ہے، اسی طرحی حدیث میں ہے:
من ترک صلوۃ العصر فقد حبط عملہ (صحیح بخاری)
جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی اس کے تمام اعمال ضائع ہوگئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
ایک اور حدیث میں ہے:
ان الحد یا کل الحسنات کما تاکل النار الحطب (ابوداؤد)
بے شک حد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو۔
مندرجہ بالا آیات و حدیث سے ثابت ہوا کہ بعض گناہ تمام نیکیوں کو برباد کردیتے ہیں۔
بعض گناہ ایسے بھی ہیں جو خاص قسم کی نیکیوں کو برباد کردیتے ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{ َا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِکُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰی } (بقرہ)
یعنی احسان اور اذیت سے اپنے صدقات کو ضائع مت کرو۔
مطلب یہ کہ جو شخص کسی کو کچھ خیرات دے اور پھر اس پر احسان بھی رکھے یا اس خیرات کی وجہ سے خیرات لینے والے کو کسی قسم کی تکلیف پہنچائے تو اس کا خیرات کرنا اس کے لیے مفید نہ ہوگا، بلکہ اس کی خیرات ضائع کردی جائے گی، اس آیت سے معلوم ہوا کہ احسان اور اذیت سے صدقات کالعدم ہو جاتے ہیں۔
جس طرح گناہ نیکیوں کو ضائع کرتے رہتے ہیں، اسی طرح نیکیاں بھی گناہوں کو فنا کرتی رہتی ہیں، جیسا کہ برق صاحب کی وارد کردہ حدیث میں ہے، اور یہ چیز قرآن سے ثابت ہے، مثلا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا۔ یُّصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ وَ یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ } (احزاب)
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچی بات کہو، اللہ تمہارے اعمال کی اصلاح کردے گا، اور تمہارے گناہ معاف کردے گا۔
اس آیت میں صرف اللہ سے ڈر کر سچ کہہ دینے کو مغفرت ذنوب کا سبب بنا دیا۔
نیکیاں گناہوں کو فناہ کردیتی ہیں، قرآن کا اٹل قانون۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ } (ھود)
بے شک نیکیاں برائیوں کو فنا کردیتی ہیں۔
دوسری آیت: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{ اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا ھِیَ وَ اِنْ تُخْفُوْھَا وَ تُؤْتُوْھَا الْفُقَرَآءَفَھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَ یُکَفِّرُ عَنْکُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِکُمْ } (البقرہ)
اگر تم علانیہ خیرات کرو تو یہ بھی اچھا ہے اور اگر چھپا کر فقراء کو دو تو یہ بہتر ہے اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف فرما دے گا۔
تیسری آیت:
{ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَتَّقُوا اللہَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا وَّ یُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَ یَغْفِرْلَکُمْ وَ اللہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ } (انفال)
اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرو تو اللہ تمہارے لیے ایک فرقان مقرر کردے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا اور تم کو بخش دے گا بیشک اللہ بڑے فضل والا ہے۔
چوتھی آیت:
{ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُکَفِّرَنَّ عَنْھُمْ سَیِّاٰتِھِمْ } (عنکبوت)
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ہم ان کے گناہ معاف کردیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
پانچویں آیت:
{ اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْہُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِہِمْ فِیْٓ اَصْحٰبِ الْجَنَّۃِ } (الاحقاف)
ہم مسلمانوں کے نیک کاموں کو قبول کرتے ہیں اور گناہوں کو معاف کردیتے ہیں یہ جنت والوں میں سے ہیں۔
چھٹی آیت:
{ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَیُدْخِلْکُمْ جَنّٰتٍ } (الصف)
تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو، اللہ کے راستہ میں جان و مال سے جہاد کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سمجھو، اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا اور تمہیں جنت میں داخل کردے گا۔
ساتویں آیت:
{ وَمَنْ یَّتَّقِ اللہَ یُکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّاٰتِہٖ وَیُعْظِمْ لَہٗٓ اَجْرًا } (طلاق)
'' اور جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے گناہ معاف کردے گا اور اس کو بہت بڑا اجر دے گا۔ ''
آٹھویں آیت:
{ مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًام بَعْدَ سُوْٓئٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ } (نمل)
جس نے گناہ کیا اور گناہ کے بعد اس کی جگہ نیکی کی تو میں معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہوں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
گناہ کون سے معاف ہوتے ہیں
حدیث مذکور جس کو مورد اعتراض سمجھا گیا ہے ، اس میں جن گناہوں کی مغفرت کا ذکر ہے، وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں صغیرہ گناہ ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{ اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ اِنَّ رَبَّکَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَۃِ } (نجم)
جو لوگ بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں سوائے اس کے کہ کچھ ہلکے ہلکے گناہ سرزد ہو جائیں تو بے شک تیرا رب بڑی وسیع مغفرت والا ہے۔
دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{ اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَآئِرَ مَا تُنْھَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ } (نساء)
اگر تم بڑے گناہوں سے بچتے رہے تو اللہ تعالیٰ تمہارے سب گناہ معاف کردے گا۔
دیکھئے اس آیت میں تمام گناہوں کی مغفرت کا بیان ہے ، خواہ وہ سمندر کے جھاگ سے بھی زیادہ ہوں، پھر یہ کہ ان آیات میں صرف بڑے گناہوں سے بچنے کو صغائر کی مغفرت کا سبب بتایا ہے، اور جہاں بڑے گناہوں سے بچ کر کوئی نیکی بھی کر لی جائے، مثلاً روزانہ سو مرتبہ '' سبحان اللہ و بحمدہ'' پڑھ لیا جائے تو کیا تعجب ہے کہ تمام صغیرہ گناہ معاف ہو جائیں، غالباً اب حدیث کا مطلب سمجھ میں آگیا ہوگا، قرآن تو بغیر نیکی کے سب گناہ معاف کرنے کی خوشخبری سناتا ہے، اور حدیث میں اس سے کچھ زاید ہی ہے یعنی تسبیح و تحمید، اگر حدیث پر اعتراض ہوسکتا ہے تو قرآن پر نعوذ باللہ اس سے زیادہ اعتراض ہونے کی گنجائش ہے، لیکن یہ صرف غلط فہمی ہوتی ہے، حقیقت کچھ اور ہے اور قرآن و حدیث کو صحیح طور پر نہ سمجھنا ہی ایسی غلط فہمیوں کا باعث ہوا کرتا ہے۔
 
Top