• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
محمد بن عبدالرحمن کے متعلق امام مالک کی یہ رائے ہے کہ وہ ثقہ نہیں لیکن ابو زرعہ اسے ثقہ سمجھتے ہیں۔ (دو اسلام ص ۱۰۲۔ ۱۰۳)
اس کے بعد برق صاحب نے چار نام اور دئیے ہیں جن کو کسی نے ثقہ کہا اور کسی نے غیر ثقہ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں:
کہاں تک گنوں، سینکڑوں ایسے راوی ہیں، جنہیں ایک جماعت سچا سمجھتی ہے ، اور دوسری جھوٹا ... کس کی سنیں اور کس کی نہ سنیں۔ (دو اسلام ص ۱۰۳)
ازالہ
محدثین اگر کسی شخص کی توثیق میں اختلاف کرتے ہیں تو یہ مختلف حالات کے ماتحت ہوتا ہے۔ مثلاً (۱) ایک امام نے کسی راوی کو جوانی کی حالت میں دیکھا، حفظ و اتقان میں معتمد سمجھا، لہٰذا اس کو ثقہ کہہ دیا دوسرے امام نے اس راوی کو بڑھاپے کی حالت میں دیکھا، حافظہ کمزور ہوچکا تھا، غلطی کرنے لگے تھے، لہٰذا اس امام نے اس کو غیر ثقہ کہہ دیا، اب اس کی جوانی کے ایام میں روایت کردہ حدیث قابل اعتماد ہوگی اور بڑھاپے کی نہیں، تاوقتیکہ دوسرے قرائن سے اس کا ضعف دور نہ کردیا جائے۔
(۲) ایک امام نے کسی راوی کے متعلق کہا کہ فلاں شخص کے حق میں ثقہ ہے، دوسرے امام نے اس کو کسی دوسرے شیخ کے حق میں غیر ثقہ قرار دیا، وجہ اس کی یہ ہے کہ پہلے شیخ کے پاس وہ باقاعدگی سے احادیث حاصل کرتا رہا، برخلاف اس کے دوسرے شیخ کے پاس وہ کافی عرصہ نہ رہ سکا، جو کچھ اس سے حاصل کیا، وہ سرسری مطالعہ تھا۔
(۳) بعض راوی ایسے بھی ہیں، جن کا حافظہ ان کی کتابیں جل جانے کے صدمہ سے خراب ہوگیا، اب اگر ایک محدث اس کو ثقہ کہتا ہے، تو اس کے یہ معنی ہیں کہ کتابیں جلنے سے پہلے وہ بالکل قابل اعتماد تھا اور اس زمانہ میں اس کی روایت کردہ احادیث صحیح تھیں، اور اگر کسی محدث نے اس کو ضعیف کہا تو اس کے یہ معنی ہیں کہ کتابیں جلنے کے بعد وہ قابل اعتماد نہیں رہا، اس کی روایت کردہ احادیث مشکوک ہوگئیں یہ اختلاف بھی کوئی وقیع اختلاف نہیں، تحقیق کرنے سے ہر بات کھل کر سامنے آجاتی ہے، اور کسی قسم کا دھوکا نہیں ہوتا۔
(۴) اگر کسی امام نے کسی راوی کو صادق کہا دوسرے نے غیر ثقہ کہا یہ بھی اختلاف نہیں ہے اس لیے کہ محض صادق ہونے سے ثقہ ہونا لازم نہیں آتا، اس قسم کے اختلافات سے فن حدیث پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا، اگر ہم فرض بھی کرلیں کہ یہ اختلاف وقیع ہے تو اس صورت میں تحقیق سے اس کا فیصلہ ہوگا کہ کس امام سے اس کی جرح یا تعدیل میں غلطی ہوئی، محض اس امام کی غلط فہمی یا غلط اطلاع پر فیصلہ نہ ہوگا اگر فیصلہ کرنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہو، حالانکہ یہ بھی مفروضہ ہے، تو پھر وہ حدیث ضعیف تصور کی جائے گی اس کے ضعف سے صحیح ثابت شدہ احادیث کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، دین کے لوازمات اسی حدیث سے ثابت ہوں گے جو صحیح و ثابت شدہ ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس دین کی حفاظت کا وعدہ کیا ہے، لہٰذا جو چیز صحیح و ثابت ہوگی، وہی عند اللہ محفوظ ہوگی، اور جو چیز ضعیف ہوگی وہ گویا غیر محفوظ ہوگی، اور عند اللہ دین میں شامل نہ ہوگی، برق صاحب کا یہ نتیجہ نکالنا کہ اگر بعض خبریں غلط ہوں تو گویا سب ہی غلط ہیں، کسی طرح صحیح نہیں، اگر یہ مان لیا جائے تو دنیا کا انتظام درہم برہم ہو جائے، جو غلط ہوگی وہ اس لیے غلط ہوگی کہ اس کا جھوٹ ہونا ثابت ہو جائے گا، اور جو صحیح ہوگی ، وہ اس لیے صحیح ہوگی کہ اس کی صحت کے لیے شواہد ہوں گے، دونوں کو ایک ہی لکڑی سے ہانکنا خلاف عقل و تجربہ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
خلاصہ باب چہارم

برق صاحب نے بعض ائمہ دین پر بعض ائمہ دین کی جرح نقل کرکے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ نہ ائمہ کا اعتبار ہے، نہ ان کی جرح و تعدیل کا ، یہ سارا علم ہی بے کار ہے نہ کوئی عالم ہے نہ کوئی علم وہ لکھتے ہیں:
ائمہ حدیث اور صحابہ کرام کے فتوے ایک دوسرے کے متعلق آپ پڑھ چکے ہیں، تو جو احادیث ان صحابہ، ان ائمہ اور ان دلچسپ راویوں سے ہوتی ہوئی ہم تک پہنچی ہیں انہیں وحی سمجھ کر شور مچانا کہ یہ اسوہ رسول ہے، یہ مفصل ہے اور قرآن مجمل ، یہ شارح ہے، اور قرآن متن کہاں تک جائز ہے۔ (دو اسلام ص ۱۰۳)
صحابہ تو صحابہ ہیں، ان پر اعتماد نہ کرنا ، یا ان کو کاذب، محرف احادیث بیان کرنے والا سمجھنا، قراان کی تصریحات کے خلاف ہے، قرآن کی یہ تصریحات اس باب میں اوپر گزر چکی ہیں اوپر ہم یہ بھی ثابت کرچکے ہیں کہ ائمہ دین کی ائمہ دین پر جرح کے جتنے اقوال ہیں، وہ سب جھوٹ ہیں، یہ بھی پہلے لکھا جا چکا ہے کہ ان میں سے بعض کو برق صاحب نے ائمہ حدیث شمار کیا ہے، حالانکہ وہ ائمہ حدیث نہیں، بلکہ دشمنان دین، کذاب وہ ضاع ہیں، تمام روایتیں جو ائمہ دین کے متعلق بیان ہوئی ہیں، وہ ان لوگوں کی مخترعہ ہیں، جوحدیث اور ائمہ حدیث یعنی اسلام کے دشمن تھے، اور ائمہ حدیث کو بدنام کرکے دین کو بگاڑنا چاہتے تھے، برق صاحب نے ان تمام خرافات کو جمع کردیا، اور یہ تحقیق نہیں کی کہ ان اقوال کی سندوں میں کیسے کیسے دجال پوشیدہ ہیں کاش برق صاحب نے لکھنے سے پہلے تحقیق کرلی ہوتی۔
مذکورہ بالا نتیجہ نکالنے کے باوجود برق صاحب نے اسی باب میں اعتراف کیا ہے کہ:
ائمہ حدیث میں ایسے بزرگ بھی پائے جاتے ہیں، جن پر ملت اسلامیہ کو ہمیشہ ناز رہا ہے، ان کا علمی مقام اتنا بلند اور ان کے ثقافتی کارنامے اتنے عظیم ہیں کہ ہمیں ان پر تنقید کی جرأت ہی نہیں ہوسکتی۔'' (دو اسلام ص ۹۴)
برق صاحب یہی وہ ائمہ حدیث ہیں، جو ہمارے نزدیک بھی ائمہ حدیث ہیں، اور یہ دل چسپ راوی نہیں ہیں، ان ہی کی روایت کردہ احادیث ہیں جن کو ہم مستند سمجھتے ہیں اور ان ہی ائمہ کے واسطے سے جو دین پہنچا، اس کے متعلق اعلان کرتے ہیں کہ یہ وحی ہے، اسوہ رسول ہے، یہ مفصل ہے، اور قرآن مجمل یہ شارح ہے اور قرآن متن، اب بتائیے ہمارا یہ کہنا صحیح ہے یا نہیں؟ آپ یہی جواب دیں گے کہ بے شک صحیح ہے، اس لیے کہ آپ کو خود اعتراف ہے۔
حدیث کا مضمون صحیح ہو، اور ان معنوں میں ہزاروں احادیث صحیح ہیں۔ (دو اسلام ص ۳۴۱)
اس طرح کی ہزارہا احادیث ہمارے پاس موجود ہیں، جو نہ صرف تعلیمات قرآن کے عین مطابق ہیں، بلکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مطہرہ کی مکمل تصویر پیش کرتی ہیں۔ (دو اسلام ص ۳۴۲)
یہ تمام تفاصیل حدیث میں ملتی ہیں، اور یہی وہ بیش بہا سرمایہ ہے جس پہ ہم نازاں ہیں، اور جس سے اب تک کروڑوں غیر مسلم متاثر ہوچکے ہیں۔ (دو اسلام ص ۳۴۳)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
باب ۵
'' حدیث پر ایک مکالمہ''

اس باب میں برق صاحب نے ایک مکالمہ تحریر فرمایا ہے، برق صاحب نے اس مکالمہ میں اپنے لیے حرف '' ب'' استعمال کیا ہے اور جن مولانا سے یہ مکالمہ ہوا، ان کے لیے حرف '' م'' استعمال کیا ہے، معلوم نہیں، یہ مکالمہ فرضی ہے یا واقعی، اگر فرضی ہے تو پھر ظاہر ہے کہ مولانا کے جوابات بھی فرضی ہیں، اور ان کا کمزور ہونا لازمی ہے، اور اگر مکالمہ فرضی نہیں، تو پھر جو مولانا برق صاحب کے ہاں تشریف لائے تھے، وہ برق صاحب کی اصطلاح میں ملا ہوں گے، نہ کہ عالم دین۔
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
برق: وحی کے اصطلاحی معنی کیا ہیں؟
م: پیغام خدا
ب: بہت اچھا ! جب قرآن بھی پیغام خدا ہے، اور حدیث بھی تو پھر کیا وجہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے قرآن کو لکھنے اور محفوظ رکھنے کے لیے تمام تر انسانی وسائل اختیار کیے، لیکن حدیث کو نہ صرف نظر انداز کردیا، بلکہ حضور نے احادیث لکھنے سے منع فرما دیا، اور صدیق و فاروق نے احادیث کو مٹانے اور جلانے کے لیے ہر ممکن تدبیر اختیار کی حدیث اللہ کا پیغام ہو، اور صحابہ اسے جلاتے پھریں، یعنی چہ؟ (دو اسلام ص ۱۰۴۔ ۱۰۵)
ازالہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے حدیث کو لکھنے اور محفوظ رکھنے کے لیے بھی تمام انسانی وسائل اختیار کیے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود احادیث تحریر فرمائیں۔ صحابہ کو لکھنے کا حکم دیا (مفصل جواب، باب اول میں ملاحظہ فرمائیں) احادیث کی حفاظت کے لیے احکام دئیے مثلاً ایک موقعہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
احفظوھن واخبروھن من وراء کم (صحیح بخاری۔ کتاب الایمان)
ان کو محفوظ کرلو، اور اپنے پیچھے رہنے والوں کو بھی مطلع کردو۔
ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا:
لیبلغ الشاھد الغائب فان الشاھد عسی ان یبلغ من ھوا وعی لہ منہ (صحیح بخاری۔ کتاب العلم)
حاضر غائب کو یہ احکام پہنچا دے کیوں کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے، جس کو پہنچایا جائے، وہ پہنچانے والے سے زیادہ محفوظ کرلیتا ہے۔
شاید بعض لوگوں نے احادیث لکھنے سے منع کیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچی تو ارشاد فرمایا:
اکتب فوالذی نفسی بیدہ ما یخرج منہ الا حق (ابوداؤد ج۲، ص۱۵۸)
ضرور لکھا کرو، اس لیے کہ اللہ کی قسم اس منہ سے حق کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا۔
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم احادیث لکھنے کا حکم دیا کرتے تھے برق صاحب کو ایک روایت کی بنا پر یہ غلط فہمی ہوئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث لکھنے سے منع فرمایا، حالانکہ آپ نے قرآن کے ساتھ مخلوط کرکے احادیث لکھنے سے منع فرمایا تھا (تفصیل کے لیے باب اول ملاحظہ ہو) یہ بھی صحیح نہیں کہ صحابہ کرام احادیث جھلایا کرتے تھے (تفصیل کے لیے باب اول ملاحظہ فرمائیں)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
م: فلاں عالم، فلاں مجتہد، اور فلاں امام نے حدیث کو وحی خفی کہا ہے، آپ کون ہیں، انکار کرنے ہیں۔ (دو اسلام ص ۱۰۵)
ازالہ
مولانا کا یہ جواب مقلدانہ جواب ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ مولانا جن سے برق صاحب کا مباحثہ ہوا عالم نہیں تھے، بلکہ مقلد محض تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
ب: مجھے سچائی سے معاندت نہیں، بات کو واضح کیجئے اور میں ابھی آپ کا ہم خیال بن جاتا ہوں، اگر حدیث وحی تھی، تو اسے قرآن کے متن میں کیوں شامل نہ کیا گیا، وہ بھی اللہ کا پیغام، یہ بھی اللہ کا پیغام، پھر فرق کیا تھا؟ (دو اسلام ص ۱۰۵)
ازالہ
قرآن متن ہے، اور حدیث شرح ہے، متن اور شرح کو ایک ہی متن میں شامل کرنا مضحکہ خیز ہے کیا یہ بات مضحکہ خیز نہیں کہ تمام قوانین اور فرامین Acts and ordinancerکو دستور Consitution میں شامل کردیا جائے، پھر اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہوگی کہ تمام ذیلی قواعد و ضوابط (Rules and Ragulations) کو جو کسی قانون (Act) یا فرمان (Ordinacne) کے ماتحت وضع کیے جائیں دستور میں شامل کردیا جائے، نہ ایسا ہوا ہے نہ ہوگا، قرآن کی حیثیت بنیادی اصول کی ہے اور حدیث اس کی عملی تشریح اور توضیح ہے، دونوںلازم و ملزوم ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
ب: اللہ نے یہ دو قسم کے پیغامات کا سلسلہ کیوں شروع کیا تھا، کیا اللہ کے خزانے میں الفاظ کی کمی ہوگئی تھی، یا کوئی خاص مصلحت اس دورنگی کی متقاضی تھی۔ (دو اسلام ص ۱۰۵۔ ۱۰۶)
ازالہ
اللہ کی مصلحت تو اللہ ہی جانتا ہے، بہرحال کسی کتاب کی عملی تشریح کے لیے تشریح کے الفاظ کا مخصوص و متعین ہونا کسی کے نزدیک بھی ضروری نہیں، بس صرف اتنا کافی ہے کہ جو تشریح نبی کرے وہ صحیح ہو، اور یہ کام اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ذمہ لے لیا تھا، ارشاد باری ہے:
{ ھُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ مِنْہُ اٰیٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْکِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِھٰتٌ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَآءَالْفِتْنَۃِ وَ ابْتِغَآءَتَاْوِیْلِہٖ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَہٗٓ اِلَّا اللہُ وَالرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِہٖ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ } (اٰل عمران)
وہ اللہ ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی اس کتاب میں بعض آیات محکم ہیں اور بعض متشابہ۔ پس جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ ان آیات کے پیچھے پڑتے ہیں جو متشابہ ہیں تاکہ اس کے ذریعہ فتنہ برپا کریں اور خود ان کے معانی متعین کریں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان آیات کے معانی سوا اللہ کے کوئی نہیں جانتا، ہاں جن لوگوں کو علم میں رسوخ ہے، وہ تو صرف اس طرح کہہ دیتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے، ہر دو قسم کی آیات ہمارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہیں، اور عقلمندوں کے علاوہ دوسرے لوگ نصیحت حاصل کرتے بھی نہیں۔
مندرجہ بالا آیت سے ثابت ہوا کہ قرآن میں دو قسم کی آیات ہیں محکم اور متشابہ محکم کے معنی لوگ جانتے ہیں لیکن متشابہ کے معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور جو شخص ان آیات کے معانی کی جستجو کرتا ہے وہ فتنہ پرور ہے، اس کے دل میں کجی ہے، یہاں بھی یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ کا ان دو رنگی آیات بھیجنے سے کیا مقصد تھا؟ کیا اللہ تعالیٰ کے خزانہ میں آیات محکمات کی کمی تھی؟ آخر کیا بات تھی، جو اس قسم کی آیات نازل فرما دیں، جو انسانوں کے مطلب کی نہیں، انسان ان کا مطلب نہیں سمجھتے، لہٰذا وہ ان کے لیے بیکار ہیں، تو پھر ان کے نزول سے فائدہ؟ ان سوالات کا جواب بس ایک ہی ہے کہ '' ہم ان پر ایمان لائے، سب اللہ کی طرف سے ہیں'' ہم نہیں جانتے کہ ان کے نزول میں کیا مصلحت ہے، مصلحت اللہ ہی جانتا ہے، بالکل اسی طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ قرآن وحی جلی ہے، اور حدیث وحی خفی، ہم دونوں پر ایمان لائے، دونوں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہیں ہم نہیں جانتے کہ جلی اور خفی کی تقسیم میں کیا مصلحت ہے، مصلحت اللہ ہی جانتا ہے اور بس اگر اب بھی ہم مصلحت کی جستجو کے در پے ہوں گے تو پھر جو اعتراض حدیث پر ہے، وہی قرآن پر ہوگا۔ (نعوذ باللہ)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
قرآن کے متعلق اللہ کا یہ ارشاد موجود ہے :
{ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ }
یہ ذکر اور یہ ہدایت ہم نے نازل کی اور ہم اس کی حفاظت کریں گے۔ (دو اسلام ) ؎
ازالہ
یہ ارشاد قرآن کے متعلق نہیں، بلکہ ذکر کے متعلق ہے، ذکر کے معنی ہیں نصیحت کیونکر نصیحت میں حدیث بھی شامل ہے،لہٰذا اللہ تعالیٰ حدیث کا بھی محافظ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
قرآن کی ایسی حفاظت ہوئی کہ تمام عالم نے ہماری کتاب کی صحت پر شہادت دی، لیکن حدیث توبہ ہی بھلی، اس کا تو وہ ستیاناس ہوا کہ اس سے زیادہ محرف ، بریدہ، تراشیدہ اور مسخ شدہ لٹریچر دنیا کے صفحے پر موجود نہیں۔ (دو اسلام ص ۱۰۸)
ازالہ
حدیث کی بھی ایسی ہی حفاظت ہوئی اور تمام عالم نے اس کی صحت کی شہادت دی، ہاں اگر برق صاحب چند لوگوں کے اقوال سے معارضہ کریں، تو پھر چند لوگوں کے اقوال سے ہم بھی معارضہ کرسکتے ہیں، معاندین کو چھوڑئیے خود مسلمانوں کی ایک بہت بڑی جماعت قرآن میں تحریف کی قائل ہے، ملاحظہ ہو کتاب فصل الخطاب فی اثبات تحریف کلام رب الارباب ص۳۰ ، الفاظ یہ ہیں:
قد اطبقوا علی صحۃ الاخبار المستفیضۃ بلی المتوا ترالاادلۃ بصریحھا علی وقوع التحریف فی القران۔
یعنی تواتر سے ثابت ہے کہ قرآن مجید میں تحریف ہوئی ہے۔
اصول کافی میں ہے:
ان القران الذی جاء بہ جبرئیل علیہ السلام الی محمد ﷺ سبعۃ عشرۃ الف اٰیۃ (باب النوادر ، ص۶۷۱)
یعنی وہ قرآن جس کو جبریل علیہ السلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تھے سترہ ہزار آیتوں پر مشتمل تھا۔
اور اب موجودہ قرآن میں سات ہزار سے کچھ زائد آیتیں ہیں، الغرض یہی مضمون تحریف قرآن کتاب احتجاج طبرسی، تفسیر قمی، تفسیر عیاشی وغیرہ میں موجود ہے۔ (برق اسلام ص ۶۱ ملخصاً)
احادیث کے اولین محافظ خود صحابہ کرام ہیں، پھر ائمہ دین ہیں، احادیث کی حفاظت بالکل قرآن کی طرح ہوتی رہی، بلکہ جن احادیث کا تعلق عمل سے ہے، ان کی حفاظت تو قرآن سے بھی زیادہ ہوئی اور وہ قرآن سے زیادہ محفوظ ہیں، اس موضوع پر تمہید میں مفصل لکھا جا چکا ہے، وہیں ملاحظہ فرمائیں:
مولانا محمد علی جوہر نے سچ فرمایا تھا کہ:
قرآن پاک تو قرآن پاک ہے دوسرے صحائف ہماری کتب حدیث کی تحقیق اور صحت و حفاظت کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ (خالص اسلام ص ۱۴۵)
محدثین نے اس سلسلہ میں اس وجہ درجہ دیانتداری ، حق گوئی اور تحقیق سے کام لیا کہ یہ کارنامہ آج اسلام کے مفاخر میں سے ہے، ولیم میور جیسا متعصب شخص بھی اس کی داد دینے بغیر نہ رہ سکا، جان ڈیون پورٹ، اپنی کتاب '' اپولوجی فور محمد'' میں لکھتا ہے:
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تمام مقنتین اور فاتحوں میں ایک بھی ایسا نہیں جس کے وقائع عمری محمد کے وقائع عمری سے زیادہ مفصل اور سچے ہوں۔
ریورنڈا سمتھ لکھتا ہے:
کوئی شخص نہ اس میں دھوکا کھا سکتا ہے، نہ دوسرے کو دھوکا دے سکتا ہے، یہاں پورے دن کی روشنی ہے، جو ہر چیز پر پڑ رہی ہے، اور ہر ایک تک پہنچ رہی ہے۔ (تاریخ جمع القرآن والحدیث، مولفہ مولینا ابو القاسم صاحب سیف بنارسی)
غرض یہ کہ ایک عالم گواہ ہے کہ احادیث محفوظ ہیں اور اس عالم میں ہمارے برق صاحب بھی شامل ہیں، برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
(۱) صحیح احادیث کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ (دو اسلام ص ۳۴۱)
(۲) دوم : کہ حدیث کا مضمون صحیح ہو، اور ان معنوں میں ہزاروں احادیث صحیح ہیں۔ (دو اسلام ص ۳۴۱)
(۳) اس طرح کی ہزارہا احادیث ہمارے پاس موجود ہیں، جو نہ صرف تعلیمات قرآن کے عین مطابق ہیں بلکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مطہرہ کی مکمل تصویر پیش کرتی ہیں۔ (دو اسلام ص ۳۴۲)
(۴) یہ تمام تفاصیل حدیث میں ملتی ہیں، اور یہی وہ بیش بہا سرمایہ ہے جس پہ ہم نازاں ہیں۔ (دو اسلام ص ۳۴۳)
برق صاحب! جس بیش بہا سرمایہ پر آپ نازاں ہیں، اسی پر ہم نازاں ہیں، کیا یہ بیش بہا سرمایہ محرف ہے، ہرگز نہیں، فللہ الحمد۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
اللہ نے رسول کریم کو جو کتاب بذریعہ وحی عطا کی تھی، اس کا نام قرآن ہے نہ کہ صحیح بخاری ملاحظہ ہوں یہ آیات { اَوْ حَیْنَا اِلَیْکَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ} (یوسف) ہم نے جو کتاب بذریعہ وحی تم کو عطا کی ہے، اس کا نام قرآن ہے۔ (دو اسلام ص ۱۰۸)
ازالہ
سورہ یوسف کی مذکورہ بالا آیت آپ نے پوری نقل فرمائی، نہ ترجمہ ہی صحیح کیا ہے، پوری آیت اس طرح ہے:
{ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَآ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ ھٰذَا الْقُرْاٰن } (یوسف)
ہم آپ کو ایک بہترین قصہ سناتے ہیں اس وحی کے ساتھ جو اس قرآن کی صورت میں بھیجی گئی ہے۔
یعنی یہ قصہ قرآن کے علاوہ ہے، اور قرآن کے ساتھ اس کو بھی نازل کردیا گیا ہے، غالباً اسی وجہ سے فرقہ میمونیہ، سورہ یوسف کو قرآن میں شمار نہیں کرتا، اس کے باوجود برق صاحب لکھتے ہیں کہ ایک عالم اس کی صحت پر گواہ ہے، اگر بایں ہمہ قرآن کے متعلق یہ بات کہی جاسکتی ہے،تو حدیث کے متعلق بھی یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ '' صحیح بخاری'' کی صحت پر ایک عالم گواہ ہے۔
یہ تو صحیح ہے کہ قرآن بذریعہ وحی نازل ہوا لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ قرآن کے علاوہ وحی نہیں آتی تھی۔ نہ مذکورہ بالا آیت کا یہ مفہوم ہے۔ قرآن وحی ہے۔ اور قرآن ہی وحی ہے۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ قرآن میں ایسی کوئی آیت نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ '' قرآن ہی وحی ہے'' اور جب یہ نہیں تو پھر قرآن بھی وحی ہے اور دوسری چیز بھی وحی ہوسکتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
کیا سارے قرآن میں حدیث کا ضمناً بھی کہیں ذکر ہے اگر نہیں تو آپ اسے ہمارے ایمان کا جزو کیسے بنا رہے ہیں۔ (دو اسلام ص ۱۰۹)
ازالہ
حدیث کا ذکر قرآن میں جگہ جگہ ہے۔ چند آیات ملاحظہ فرمائیے:
(۱){ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ } ( اٰل عمران)
کہہ دیجیے کہ اگر تم کو اللہ تعالیٰ سے محبت ہے تومیری اتباع کرو۔
(۲){ وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْھَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ } (البقرۃ)
اور جس قبلہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں وہ ہم نے اس لیے مقرر کیا ہے کہ ہم یہ معلوم کریں کہ اتباع رسول کون کرتا ہے۔
پہلے قبلہ کی طرف منہ کرنے کا حکم سارے قرآن میں کہیں نہیں، پھر بھی اللہ تعالیٰ اس حکم کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے، اس آیت میں حدیث کے من جانب اللہ ہونے کا کھلا ثبوت ہے، تحویل قبلہ کا حکم اس لیے دیا جا رہا ہے کہ متبعین ممتاز ہو جائیں، آیت سے اتباع رسول کی اہمیت ظاہر ہے، یہی اتباع رسول ہے جس کو سنت کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
 
Top