• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
(۳) { لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ } (الاحزاب)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔
اگر یہ نمونہ قرآن ہے تو پھر رسول اللہ کہنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بھول سے قرآن کی جگہ رسول اللہ کردیا ، نعوذ باللہ منہ
(۴) { فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَاشَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَایَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا } (نساء)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کی قسم لوگ ہرگز مومن نہیں ہوسکتے جب تک وہ اپنے تمام اختلافات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاکم نہ مان لیں پھر جو فیصلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کریں اس سے اپنے دل میں تنگی محسوس نہ کریں بلکہ اس کو بسر و چشم قبول کریں۔
اتباع سنت اور اطاعت رسول کا اس سے زیادہ واضح حکم اور کیا ہوسکتا ہے کیا یہاں بھی ضمیر مخاطب سے مراد قرآن ہے؟ اگر ہے، تو پھر یہ کہنا حق بجانب ہے کہ اللہ تعالیٰ صاف صاف حکم دینے کے بجائے الجھن میں مبتلا کرتا ہے؟ نعوذ باللہ
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
(۵) { اِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْٓا اِلَی اللہِ وَرَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا } (نور)
مومنین کا تو یہ قول ہونا چاہیے کہ جب انہیں اللہ اور رسول کی طرف بلایا جائے تاکہ وہ فیصلہ کرے ان کے معاملات میں تو کہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔
(۶) { وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اللہُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْکَ صُدُوْدًا } (نساء)
اور جب ان سے کہا جائے آؤ اللہ کی نازل کردہ شریعت کی طرف اور رسول کی طرف تو آپ دیکھیں گے کہ منافق آپ سے منہ پھیر لیں گے۔
اگر اس آیت میں '' الی ما انزل اللہ'' اور '' اِلَی الرَّسُوْلِ'' کے درمیان '' واؤ'' تفسیری ہے، تو معاملہ صاف ہے کہ '' ما انزل اللہ '' سے مراد رسول ہے، یعنی جو کچھ رسول کہے، وہ سب '' ما انزل اللہ'' (اللہ کی طرف سے نازل شدہ) ہے، اور اگر '' واؤ'' محض عطف کے لیے ہے تو پھر '' ما انزل اللہ'' کی طرف بلانے کے ساتھ ساتھ رسول کی طرف بلانا یہی ہے کہ جو کچھ رسول فیصلہ کرے، وہ بھی ماننا ہوگا، اور اسی کا نام اتباع حدیث ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
(۷) { وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ فَسَاَکْتُبُھَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَ ۔ اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ } (الاعراف)
میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے اور رحمت کو میں ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں زکوٰۃ دیتے ہیں اور ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں یعنی وہ لوگ جو رسول نبی امی کی پیروی کرتے ہیں۔
اتباع سنت کی اس آیت میں کتنی واضح دلیل ہے۔
{ وَاَنْزَلَ اللہُ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ عَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَم } (نساء)
اور اللہ نے آپ پر کتاب نازل فرمائی اور حکمت نازل کی اور وہ باتیں سکھائیں جو آپ نہیں جانتے تھے۔
اس آیت میں کتاب کے علاوہ ایک اور چیز کے نزول کی خبر ہے، اور یہ حکمت یعنی سنت ہے، جو لوگ یہاں '' واؤ'' کو تفسیری کہتے ہیں، وہ صحیح نہیں، اس لیے کہ اس صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ نے آپ پر کتاب نازل کی، یعنی حکمت نازل کی، یعنی وہ باتیں سکھائیں جو آپ نہیں جانتے تھے بار بار واو تفسیری کا آنا بلاغت کے منافی ہے، لہٰذا یہاں '' واؤ'' برائے عطف ہے، ابراہیم علیہ السلام دعا کرتے ہیں:
{ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ وَ یُعَلِّمُھُمْ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْھِمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ } (البقرۃ)
اے ہمارے رب ان لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول مبعوث فرما جو ان کو تیری آیتیں سنائے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور انہیں پاک کرے بے شک تو عزیز و حکیم ہے۔
اس آیت میں اگر واو کو تفسیری مانا جائے تو یہ لازم آئے گا کہ اللہ تعالیٰ بھی تفسیر کا محتاج ہے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کو ابراہیم علیہ السلام کا منشا سمجھنے میں دھوکا ہوسکتا تھا، لہٰذا انہوں نے تفسیر کردی اور یہ باطل ہے، پس ثابت ہوا کہ کتاب و حکمت دو چیزیں ہیں، اور دونوں نازل ہوئی ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
پرویز صاحب بھی جو بہت زیادہ واو تفسیری کی طرف مائل ہیں، اس آیت میں واو کو تفسیری شمار نہیں کرتے، ان کا ترجمہ درج ذیل ہے کہ:
اللہ نے تم پر کتاب و حکمت نازل کردی ہے، اور وہ باتیں سکھا دی ہیں جو تم نہیں جانتے تھے۔ (معارف القرآن ج۱، ص۱۸۴)
اگر بالفرض محال کتاب و حکمت ایک ہی چیز ہے تو پھر '' وَعَلَمَکَ مَالَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ '' کے دوسری چیز ہونے میں تو کوئی شبہ نہیں، اور یہی چیز حدیث ہے۔
(۸) { وَ یُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبٰٓئِثَ } (الاعراف)
رسول ان کے لیے پاک چیزیں حلال کرتا ہے اور ان پر خبیث چیزوں کو حرام کرتا ہے۔
اس آیت میں تحریم و تحلیل کو رسول کا فعل بتایا گیا ہے نہ کہ قرآن کا گائے کے پیشاب کو بعض لوگ اب بھی پاک سمجھتے ہیں، اسے پیتے ہیں، کیا ایسے لوگوں کو اگر وہ مسلمان ہو جائیں، پیشاب پینے کی اجازت ہوگی، اگر نہیں تو کیا قرآن سے ثابت کیا جاسکتا ہے کہ پیشاب حرام ہے، ہرگز نہیں یہ رسول ہی ہے، جس نے حکم دیا '' استزھوا عن البول'' یعنی پیشاب سے بچو اور اس طرح پیشاب کو حرام کردیا، گدھے ، کتے، بلی وغیرہ مختلف جانوروں کو حرام قرار دیا، ورنہ قرآن کی رو سے تو یہ سب چیزیں حلال کی جاسکتی ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
(۹) { وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللہُ وَرَسُوْلُہٗ اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ وَمَنْ یَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًا } (الاحزاب)
کسی مومن مرد یا عورت کو حلال نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملہ میں فیصلہ کردیں تو پھر ان کو اس معاملہ میں اختیار باقی رہے اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی وہ کھلی گمراہی میں پڑ گیا۔
(۱۰) { اٰمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللہِ وَکَلِمٰتِہٖ وَاتَّبِعُوْہُ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْن } (الاعراف)
اللہ اور اس کے رسول نبی امی پر ایمان لاؤ جو خود بھی اللہ اور اللہ تعالیٰ کے کلمات پر ایمان لاتا ہے، اور اس کا اتباع کرو تاکہ تمہیں ہدایت مل جائے۔
اتباع رسول کی کتنی واضح آیت ہے، اسی اتباع رسول کا نام سنت یا حدیث ہے۔
(۱۱) { قُلْ اَطِیعُوا اللہَ وَاَطِیعُوا الرَّسُوْلَ فَاِنْ تَوَلَّوا فَاِنَّمَا عَلَیْہِ مَّا حُمِّلَ وَعَلَیْکُمْ مَا حُمِّلْتُمْ وَاِنْ تُطِیعُوْہُ تَہْتَدُوْا وَمَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ } (نور)
آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو پھر اگر تم منہ موڑو تو رسول اپنے فرائض کا ذمہ دار ہے اور تم اپنے فرائض کے ذمہ دار ہو۔ اور اگر تم اس کی اطاعت کرو گے تو تمہیں ہدایت مل جائے گی اور رسول کے ذمہ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ علی الاعلان پہنچا دینا۔
یہ آیت کتنی واضح ہے کہ ہدایت کا کوئی راستہ نہیں، سوائے اطاعت رسول کے ، اطاعت رسول کرو گے، ورنہ نہیں، پھر شروع آیت میں اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول کو علیحدہ علیحدہ بیان کیا گیا ہے، جس سے صاف ظاہر ہے کہ آیت میں اللہ اور رسول کی اطاعت سے مرکز ملت کی اطاعت مراد نہیں، جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جہاں اللہ و رسول کے الفاظ ساتھ ساتھ آتے ہیں، وہاں ان سے مراد مرکز ملت ہوتا ہے، پھر آیت مذکورہ میں آگے چل کر اطاعت الٰہی کو اڑا کر پورا زور طاعت رسول پر دیا جا رہا ہے، اور کیوں نہ ہو جب کہ اطاعت رسول ہی اطاعت الٰہی کی بنیاد ہو، اگر اطاعت رسول نہیں تو اطاعت الٰہی بھی نہیں، اسی لیے فرمایا:
{ وَمَنْ یُطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ } (النساء)
جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
اگر رسول کی اطاعت سے مراد قرآن کی اطاعت ہے یا مرکز ملت کی اطاعت ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ کو یہ دونوں الفاظ معلوم نہیں تھے کہ بار بار رسول کا لفظ تو استعمال کرتا ہے اور جو اصل مطاع ہے اس کے نام کو ترک کردیتا ہے۔ الغرض اس قسم کی بہت سی آیات ہیں جن سے اتباع رسول لازمی ثابت ہوتا ہے اور یہ چیز ضمناً نہیں بلکہ صراحتاً ہے۔ اطاعت رسول فرض ہے۔ اور اطاعت اور اتباع کے لیے رسول کے اقوال اور افعال کا ہونا لازمی ہے۔ ورنہ بغیر اقوال اور افعال رسول کے اطاعت اور اتباع ناممکن ہے پس ثابت ہوا کہ اقوال اور افعال رسول یعنی احادیث کی اطاعت و پیروی ازروئے قرآن فرض ہے۔
اب برق صاحب ہمیں بتائیں کہ اتباع رسول یعنی احادیث کو جزو ایمان ہم بنا رہے ہیں یا اللہ تعالیٰ اور تو اور خود برق صاحب بھی احادیث کے جزو ایمان ہونے کے قائل و معترف ہیں لہٰذا اس بحث کا خاتمہ ان ہی کے الفاظ پر کیا جاتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
برق صاحب فرماتے ہیں:
اقوال رسول کا دستیاب ہونا بے حد دشوار ہے، اگر اقوال رسول مل جاتے تو مجھے یقین ہے کہ ہر لفظ قرآن حکیم کی تشریح ہوتا اور قرآن پہ ایمان لاتے ہی وہ ہمارے دائرہ ایمان میں داخل ہو جاتے۔ (دو اسلام ص ۱۱۱)
مذکورہ بالا عبارت سے ظاہر ہے کہ اقوال رسول کو جزو ایمان بنانے میں برق صاحب بھی ہمارے ہمنوا ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ان کے نزدیک اقوال رسول کا دستیاب ہونا بے حد دشوار ہے اور ہمارے نزدیک بے حد آسان۔ اب ہم بتاتے ہیں کہ اقوال رسول دستیاب ہونا کس طرح آسان ہے اور وہ کہاں ۔ برق صاحب یہ اقوال رسول جن کو آپ جزو ایمان بنانے کی فکر میں ہیں آپ سے دور نہیں۔ بلکہ آپ کے بہت ہی قریب ہیں۔ آپ ہی تحریر فرماتے ہیں:
کہ صحیح احادیث کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ (دو اسلام ص ۳۴۱)
اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ یہ صحیح احادیث آپ کو کہاں سے مل گئیں، ان کا کوئی وجود تھا جب ہی تو آپ کو دستیاب ہوگئیں، اور جب دستیاب ہوگئیں، تو اب ان کو جزو ایمان بنانے سے کیا امر مانع ہے، صحیح احادیث کے وجود کو آپ نے آگے چل کر پھر تسلیم کیا ہے، آپ لکھتے ہیں:
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی صحیح حدیث موجود ہی نہیں۔ (دو اسلام ص ۳۴۱)
لیجئے اب تو فیصلہ ہوگیا ، صحیح احادیث کے وجود کے آپ بھی معترف ہیں، لہٰذا یہ صحیح احادیث تو یقینا بقول آپ کے دائرہ ایمان میں شامل ہوگئی ہوں گی، اس کے آگے برق صاحب رقم طراز ہیں۔
صحیح حدیث کے دو مفہوم ہیں، اول یہ کہ کسی حدیث کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف صحیح ہو، یعنی ہم بہ دلائل ثابت کرسکیں کہ یہ قول حضور کی زبان مبارک سے واقعی نکلا، ان معنوں میں کوئی حدیث یقینی طور پر صحیح نہیں، البتہ ظن غالب یہ ہے کہ بعض اقوال صحیح ہوں گے ، دوم کہ احادیث کا مضمون صحیح ہو، اور ان معنوں میں ہزاروں احادیث صحیح ہیں۔ (دو اسلام ص ۳۴۱)
اس عبارت میں برق صاحب نے صحیح احادیث کے وجود کو تسلیم کیا ہے، بعض کو ظن غالب سے اور بعض کو یقینا اگرچہ اصل مطلوب و مقصود تو مفہوم ہی ہے، جب مفہوم ثابت ہوگیا، تو وہ مفہوم قرآن کریم کی تشریح ہوگیا، اور اس اعتبار سے قرآن پر ایمان لاتے ہی وہ مفہوم دائرہ ایمان میں شامل ہوگیا، برق صاحب نے مذکورہ بالا عبارت میں بعض احادیث کو با اعتبار الفاظ یقینا صحیح تسلیم نہیں کیا، بلکہ ظن غالب کے طور پر صحیح تسلیم کیا۔ اس چیز سے ہمیں تھوڑا سا اختلاف ہے، بعض نہیں بلکہ بہت سی احادیث باعتبار الفاظ کے بھی یقینا صحیح ہیں، اور ان کے صحیح ہونے پر فن حدیث میں کافی دلائل موجود ہیں۔
خلاصہ
مذکورہ بالا بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن اور خود برق صاحب کی تحریر سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ صحیح احادیث جزو ایمان ہیں۔ فللہ الحمد
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
اگر حدیث پر ایمان لانا ایسا ہی ضروری تھا، تو جس خدا نے لاکھوں انبیاء سینکڑوں صحائف اورکروڑوں ملائکہ پہ ایمان لانے کا بیسیوں مرتبہ حکم دیا تھا کہ وہ حدیث پر ایمان لانے کا حکم نہیں دے سکتا تھا، اگر اللہ نے اس چیز کو قابل ایمان نہیں سمجھا تو آپ کون ہیں ہمیں حدیثوں پہ ایمان لانے کا حکم دینے والے۔ (دو اسلام ص۱۰۹)
ازالہ
اللہ تعالیٰ نے کتاب پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے، اور کتاب میں قرآن اور حدیث یعنی پوری شریعت شامل ہے، ان تمام آیتوں میں جن میں کتابوں پر ایمان لانے کا ذکر ہے، قرآن کا نام نہیں ہے بلکہ کتاب یا ما انزل اللہ کے الفاظ ہیں، تفصیل کے لیے تمہید ملاحظہ فرمائیں۔
دوم: حدیثوں پر ایمان لانے کا حکم دینے والے ہم نہیں ہیں، بلکہ خود اللہ تعالیٰ ہے، اور آپ خود اس کے معترف ہیں، یہ آپ ہی کے الفاظ ہیں:
قرآن پہ ایمان لاتے ہی وہ ہمارے دائرہ ایمان میں شامل ہو جاتے۔ (دو اسلام ص ۱۱۱)
اب آپ کے لیے صرف ایک ہی الجھن باقی رہ جاتی ہے کہ ایسے اقوال ملیں کہاں سے تو یہ مشکل آپ نے خود ہی حل کردی ہے،اور ان احادیث کی نشاندہی فرما دی ہے، تفصیل کے لیے ازالہ ما قبل ملاحظہ فرمائیے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
م: اور آپ کے پاس '' وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی''... کا کیا جواب ہے؟
ب: آیت کا مفہوم نہایت صاف ہے کہ قرآن رسول کی خواہشات کا آئینہ دار نہیں،بلکہ وہ اللہ کا پیغام ہے، مطلب یہ کہ قرآن رسول کی تصنیف نہیں کہ جو جی میں آیا اس کے مطابق آیات تیار کرلیں '' وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی''بلکہ وہ ہمارا پیغام ہے جو ہماری مشیت کی ترجمانی کر رہا ہے، '' اِنْ ھُوَ اِلاَّ وَحیٌ یُوْحٰی''۔ (دو اسلام ص ۱۰۹)
ازالہ
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
اگر اقوال رسول مل جاتے تو مجھے یقین ہے کہ ہر لفظ قرآن حکیم کی تشریح ہوتا، اور قرآن پہ ایمان لاتے ہی وہ ہمارے دائرہ ایمان میں شامل ہو جاتے۔ (دو اسلام ۱۱۱)
اس عبارت سے دو باتیں ثابت ہوئیں:
اول: قول رسول قرآن حکیم کی تشریح ہوتا ہے۔
دوم: رسول کا قول دائرہ ایمان میں شامل ہے۔
اب سوا ل یہ ہے کہ ایک بشر کے اقوال کو یہ اہمیت کیوں؟ کہ اس کا قول قرآن حکیم کی تشریح ہو، اور ایسا ہر قول دائرہ، ایمان میں شامل ہو؟ اس سوال کا ایک ہی جواب ہے، اور وہ یہ کہ وہ بشر اللہ کا رسول ہے، اور جو کچھ تشریح کرتا ہے، من جانب اللہ وحی ہوتی ہے، یہ تشریح بھی اس کی طرف سے نہیں ہوتی، بلکہ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، اور اسی لیے اس پر ایمان لانا ضروری ہوتا ہے۔
لہٰذا برق صاحب کے تحریر کردہ اصول کی روشنی میںآیت کا مفہوم یہ ہوا کہ قرآن کی تشریح رسول کی خواہشات کی آئینہ دار نہیں، بلکہ وہ اللہ کا پیغام ہے، مطلب یہ کہ تشریح قرآن رسول کی طرف سے نہیں کہ جو جی میں آیا اس کے مطابق آیات کی تفسیر گھڑ دی '' وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی''بلکہ وہ تشریح ہمارا پیغام ہے، جو ہماری مشیت کی ترجمانی کر رہی ہے '' اِنْ ھُوَ اِلاَّ وَحْیٌ یُوحٰی'' مثلاً قرآن میں ہے کہ نماز پڑھو، رسول اس کی تشریح میں فرماتا ہے کہ پانچ وقت کی نماز تم پر فرض ہے، فلاں وقت اتنی رکعات ہیں، ہر رکعت میں ایک رکوع ہے،دو سجدے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ تو یہ تشریح رسول کی طرف سے متصور نہیں ہوگی، بلکہ من جانب اللہ متصور ہوگی، اور اس پر اسی طرح ایمان لانا ہوگا، جس طرح قرآن پر، اب اگر کوئی شخص نماز کی فرضیت کا تو اقرار کرے، اور پانچ وقت کا انکار کرے، تو وہ اسی طرح کافر ہوگا، جس طرح نماز کی فرضیت کا انکار کرنے والا، کیونکہ منشاء حکم خداوندی کا انکار خود اس حکم کا انکار ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
'' اِنْ ھُوَ اِلاَّ وَحْیٌ یُّوْحٰی''اس آیت میں ''ھُوَ '' کا مرجع ہے قرآن ، جو وہاں محذوف ہے آپ کہیں گے، محذوف کے لیے کوئی قرینہ چاہیے، بھائی صاحب! سینکڑوں آیات اس حذف کے لیے بطور قرینہ موجود ہیں۔ (دو اسلام ص ۱۰۹)
ازالہ
ھُوَ کا مرجع قرآن نہیں ہے، بلکہ نطق رسول یعنی قول رسول ہے جو اس سے پہلے کی آیت میں موجود ہے۔ '' وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی''یعنی رسول اپنی خواہش سے نہیں بولتا۔ اس کا قول وحی ہوتا ہے، قریب ترین آیت میں '' ھُوَ''کا مرجع موجود ہوتے ہوئے دور دراز کی آیتوں سے مرجع تلاش کرنا قرین انصاف نہیں، یہ غلط فہمی صرف اس لیے پیدا ہوئی کہ آپ نے یہ سمجھ لیا کہ '' قرآن وحی'' ہے، لہٰذا وحی قرآن ہے ، بے شک پہلا جملہ '' قرآن وحی ہے'' بالکل صحیح ہے، لیکن '' ہر وحی قرآن ہے'' صحیح نہیں، اور نہ اس کا کوئی قائل ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب رقم طراز ہیں:
حدیث کا باطل نے وہ پلستر بگاڑا ہے کہ لاکھوں آفتاب ماہتاب لے کر بھی ڈھونڈھو تو حقیقت کا سراغ نہ مل سکے، الا ما شاء اللہ۔ (دو اسلام ص۱۹۰)
ازالہ
اس کے جواب میں برق صاحب کی مندرجہ ذیل عبارت ہی کافی ہے:
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی صحیح حدیث موجود ہی نہیں ... حدیث کا مضمون صحیح ہو، اور ان معنوں میں ہزارہا احادیث صحیح ہیں... اس طرح کی ہزارہا احادیث ہمارے پاس موجود ہیں، جو نہ صرف تعلیمات قرآن کے عین مطابق ہیں، بلکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مطہرہ کی مکمل تصویر پیش کرتی ہے ... اور یہی وہ بیش بہا سرمایہ ہے، جس پر ہم نازاں ہیں۔ (دو اسلام ص ۳۴۱، ۳۴۳)
 
Top