• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
بہت خوب پہلے تو رسول اللہ سے روایت بالمعنی کرتے ہیں ، پھر راوی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بالمعنی کی تکرار کرتا ہے، اگر اسی طرح ہر راوی ''بالمعنی'' کے مصرع کا تکرار کرتا رہے تو آخری راوی تک پہنچ کر غریب ''معنی'' کا کچومر نہ نکل جائے گا؟ ناظر ثانی ۔ (حاشیہ دو اسلام ص۱۱۵)
ازالہ
معلوم نہیں کہ یہ ناظر ثانی کون صاحب ہیں ، بہرحال اب ہمیں غلط فہمی ان کی دور کرنی ہے، ناظر صاحب سمجھے نہیں، روایت بالمعنی سے ''معنی'' کا کچومر نہیں نکلے گا، اس لیے کہ معنی کی حفاظت تو ہر راوی کا مطمح نظر رہے گا۔ ہاں آپ یہ کہہ سکتے تھے کہ الفاظ کا کچومر نکل جائے گا، معلوم ہوتا ہے کہ ناظر صاحب کہنا ہی چاہتے تھے غلطی سے بجائے '' الفاظ'' کے '' معنی'' لکھا گیا۔
اس سلسلہ میں یہ وضاحت کرنا بھی ضروری ہے کہ کسی راوی کا یہ منشاء نہیں ہوتا کہ بس مفہوم ادا کردو، حدیث کا حق ادا ہوگیا، نہیں بلکہ سو فیصدی ہر راوی اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصل الفاظ ہی روایت کیے جائیں، حتیٰ کہ اگر کسی کو دو ہم معنی الفاظ میں شک ہوتا ہے کہ ان میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سا لفظ فرمایا تھا، تو وہ دونوں الفاظ کا ذکر کردیتا ہے، اور یہ صاف بتا دیتا ہے کہ مجھے ان دونوں لفظوں کے معاملہ میں شک ہوگیا ہے، کتب حدیث پڑھنے والے اس سے بخوبی واقف ہیں، بتائیے جہاں ہم معنی لفظوں کے سلسلہ میں اتنی سختی اور تشدد ہو، وہاں دوسرے الفاظ کے لیے نرمی، تساہل، مداہنت کا پایا جانا محال ہے، روایت بالمعنی، راوی کبھی اضطراری طور پر تو کردیتا ہے لیکن اپنے اختیار اور امکان کی صورت میں روایت بالمعنی سے احتراز ہی نہیں، بلکہ کراہت کرتا ہے، پھر اگر کسی راوی میں روایت بالمعنی کی ذرا سی بھی عادت پائی جاتی ہے تو محدثین اس کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں اور متن حدیث کی چھان بین میں لگ جاتے ہیں اور اس طرح تحقیق و تفتیش کے بعد حدیث کے اصلی متن کو صحیح حدیث کی شکل میں امت کے سامنے پیش کرتے ہیں، الغرض قولی احادیث میں الفاظ ہی کی حفاظت کی گئی ہے اور اس کی حفاظت کے لیے پورا فن حدیث معیاری طور پر مرتب و مدون ہے، خلاصہ یہ ہوا کہ فن حدیث کا پورا زور حفاظت الفاظ پر ہے نہ کہ مفہوم پر جیسا کہ برق صاحب کے مولانا نے فرمایا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
یہ وحی بلا الفاظ میری سمجھ سے بالاتر ہے، وحی کے معنی ہیں پیغام، اگر اللہ کوئی پیغام بھیجے اور الفاظ ساتھ نہ ہوں، تو وہ سمجھ میں کیسے آئے گا؟ (دو اسلام ص ۱۱۶)
ازالہ
یہ ضروری نہیں کہ وحی خفی ہمیشہ بلا الفاظ ہی آتی ہو ، اور اگر ہر وحی خفی کو ہم بلا الفاظ ہی سمجھ لیں، تو بھی یہ سمجھ سے کوئی بالاتر چیز نہیں، اس لیے کہ خیال پہلے پیدا ہوتا ہے، بعد میں الفاظ کی شکل اختیار کرتا ہے، خیال اور الفاظ کا ساتھ ساتھ پیدا ہونا لازمی نہیں، ایک ہی خیال اگر مختلف لوگوں کو پیدا ہو، تو الفاظ ہر شخص کے علیحدہ ہوں گے، صرف خیال میں وہ لوگ متحد ہوسکتے ہیں لیکن جب وہ اس کو ادا کریں گے تو الفاظ علیحدہ ہوں گے، بلکہ اکثر کی زبان بھی علیحدہ ہوگی، بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ خیال دماغ میں گھومتا رہتا ہے ، لیکن اس کی ادائیگی کے لیے موزدن الفاظ دیر میں یاد آتے ہیں وہ مفہوم جو ذہن میں ہو، لیکن ابھی الفاظ ذہن میں نہ آئے ہوں، تو وہ خیال و تصور بلا الفاظ ہوا یا نہیں بس اسی پر وحی خفی کو سمجھ لیجئے بلکہ اصل بات تو یہ ہے، وحی خفی ہو یا جلی ہمارے سمجھنے کی چیز ہی نہیں، اور واقعی یہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے تو پھر '' وَلَا تَقفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ (الاسراء)'' کی تعمیل میں ہمیں اس کی تاویل و تشریح سے باز ہی رہنا چاہیے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
م: آپ وحی خفی کا مطلب '' سوجھنا'' کہ حضور کو جب کوئی بات سوجھ جاتی تھی، تو وہ اسے اپنے الفاظ میں ادا کرتے تھے، سوجھتے ہمیشہ خیالات ہی ہیں، اور یہی وحی خفی ہے۔
ب:اجی حضرت! سوجھنا انسانی فطرت کا خاصہ ہے، ایک فلسفی کسی نئی الجھن کو پہروں ، ہفتوں بلکہ مہینوں سوچتا ہے، اور کسی نہ کسی دن اسے حل سوجھ ہی جاتا ہے، ظاہر ہے کہ یہ حل اس فلسفی کے دماغ میں اللہ نے ڈالا ہے، لیکن اسے وحی یا الہام نہیں کہتے، بلکہ القا کہتے ہیں۔ (دو اسلام ص۱۱۶)
ازالہ
ہمیں اس سے کلیتہً اتفاق نہیں کہ جو حل فلسفی کو سوجھا ہے، وہ اللہ ہی نے اس کے دماغ میں ڈالا تھا، ہوسکتا ہے کہ اللہ نے ڈالا ہو، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ نے نہ ڈالا ہو، دونوں ممکن ہیں، اگر اللہ ہی نے ڈالا ہو ، تو اس کی بھی دو صورتیں ہوں گی، یا تو وہ ہدایت و حکمت پر مشتمل ہوگا، یا گمراہی اور ضلالت سے بھرپور، اگر ہدایت و حکمت پر مشتمل ہے، تو پھر اس پر اللہ کی رضا کی مہر بھی ثبت ہوگی، اور اگر گمراہی اور ضلالت پر مشتمل ہے، تو اگرچہ وہ اللہ کے قانون فطرت کے لحاظ سے اللہ ہی کی طرف منسوب ہوگا، لیکن اس پر اللہ کی رضا کی مہر ثبت نہ ہوگی، بلکہ اللہ اس سے ناراض ہوگا، مندرجہ ذیل آیت میں اسی کی طرف اشارہ ہے:
{ وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ ۔ وَمَا یَاْتِیْھِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِءُ ْنَ ۔ کَذٰلِکَ نَسْلُکُہٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَ } (الحجر)
اور البتہ تحقیق ہم نے آپ سے پہلے بھی گزشتہ اقوام میں نبی بھیجے تھے اور جب کبھی ان کے پاس ہمارا رسول آیا تو انہوں نے اس کا مذاق ہی اڑایا مجرمین کے دل میں یہ استہزا اور مخالفت ہم اسی طرح ڈال دیتے ہیں۔
برق صاحب یہ آیت آپ کے سامنے ہے کہ رسول کی مخالفت اللہ ہی مجرمین کے دلوں میں ڈالتا ہے، اب آپ بتائیے کیا اس مضمون کی آیت قرآن میں ہوسکتی ہے؟ اگر یہی مضمون کسی حدیث میں ہو، تو آپ جلدی سے کہہ دیتے ہیں کہ حدیث وضعی ہے، اب یہاں کیا کہیں گے؟ اگرچہ میں نے آیت کو نقل کرنے سے پہلے اس الجھن کو دور کردیا ہے، لیکن الفاظ متن پر جو اعتراض ہوسکتا ہے، وہ اپنی جگہ پر قائم ہے، اور آپ کے لیے داعی الی الانصاف ہے۔
اگر وہ حسل اللہ نے نہ ڈالا ہو تو پھر شیطان نے ڈالا ہوگا۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل آیت سے ثابت ہے:
{ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰٓی اَوْلِیٰٓئِھِمْ لِیُجَادِلُوْکُمْ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْھُمْ اِنَّکُمْ لَمُشْرِکُوْنَ } (الانعام)
بے شک شیاطین اپنے اولیاء کی طرف وحی بھیجتے ہیں کہ وہ تم سے مجادلہ کریں اور اگر تم ان کا کہنا مانو تو تم درحقیقت مشرک ہو جاؤ گے۔
اس آیت سے ثابت ہوا کہ شیطان بھی دلوں میں بعض باتیں ڈالتا رہتا ہے۔ اور اللہ اس شیطانی وسوسے کو بھی وحی کا نام دے رہا ہے، پھر تعجب ہے کہ اللہ اگر اپنے نبی کے دل میں کوئی بات ڈالے تو اس کو وحی کہنا ناجائز ہے۔ لہٰذا فلسفی جو کچھ سوچتا ہے، ہوسکتا ہے صحیح ہو اور ہوسکتا ہے کہ غلط ہو بے شمار فلسفے ایسے ہیں جو پہلے قابل اعتماد تھے لیکن بعد میں آنے والوں نے اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ فلسفی یا غیر نبی حضرات اور نبی کے سوچنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے نبی سوچتا ہے اور نور نبوت اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ وہ اللہ کی نظروں کے سامنے ہوتا ہے۔ اللہ کی تنقیدی نگاہیں اس پر پڑتی رہتی ہیں اور جہاں اس سے اس سے سوچ و اجتہاد میں غلطی ہوئی فوراً وحی آتی ہے اور اس کی اصلاح کردی جاتی ہے جیسا کہ دو تین واقعات اس قسم کے قرآن مجید میں موجود ہیں۔ نبی کی ہر سوجھ پر اللہ کی رضا کی مہر ہوتی ہے۔ نبی غلطی نہیں کرسکتا اور اگر غلطی کرے تو اللہ اس پر خاموش نہیں رہ سکتا رسول ، اللہ کے احکام پر عمل کرتا ہے اور اس عمل کا طریقہ (سنت) مقرر کرتا ہے۔ اگر اللہ یہ سمجھتا ہے کہ اس طریقہ سے یہ عمل غلط ہے۔ اور پھر بھی وہ خاموش رہتا ہے تو یہ کہا جائے گا کہ اللہ نے ہمارے لیے ایسا معلم و مزکی بھیجا جو خود کتاب اللہ کے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں غلطی کرتا ہے اس صورت میں اللہ اور اس کی رسالت سب محل اعتراض بن جائیں گے اور یہ آیت بے معنی ہو جائے گی۔
{ اَللہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ } (انعام)
یعنی اللہ خوب جانتا ہے کہ رسالت کس کو دے۔
اور وہ اسی طرح کہ جس رسول کو ہمارے لیے اسوۂ حسنہ بنا کر بھیجا گیا اگر وہی غلطی پر ہے تو پھر وہ تمام لوگ جو اس کی اتباع کریں گے۔ غلطی پر ہی رہیں گی اور اگر بالفرض وہ لوگ اپنے اجتہاد سے صحیح مطلب اخذ کرکے عمل کریں گے تو پھر یہ اعتراض لاحق ہوگا کہ عام لوگوں کی فہم و فراست رسول کی فہم و فراست سے بالاتر ہوئی اور یہ بھی ناممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معمولی سی سیاسی قسم کی غلطیوں پر بھی چشم پوشی نہیں فرمائی بلکہ وحی جلی سے ان کی اصلاح کردی تو بھلا بڑی غلطیوں پر جو اصول دین پر اثر انداز ہوتی ہیں کیسے خاموش رہ سکتا ہے۔ لہٰذا یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ رسول کے اقوال و اعمال پر اللہ کی سند ہے۔ اور یہی وحی خفی کا اصلی مفہوم ہے۔ ہاں یہ ضروری نہیں کہ تمام احادیث قولی و فعلی اسی وحی خفی کے ضمن میں آتی ہوں، یہ تو محض ایک اصطلاح ہوگئی ہے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ بہت سی احادیث وحی جلی کے ذریعہ نازل ہوئیں، بالکل اسی کیفیت سے نازل ہوئیں جس طرح قرآن نازل ہوتا تھا، احادیث میں اس کی مثالیں کثرت سے ملتی ہیں، بشرطیکہ غلط فہمی سے ان کو ٹھکرایا نہ جائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
کیا لوگوں کو فکر و عقل کی دعوت دینے والا نبی ...خود نہیں سوچا کرتا تھا اور اسے اپنے آپ پر اس قدر بے اعتمادی تھی کہ جب تک جبریل مشورہ نہ دیتا یا اللہ تعالیٰ رہنمائی نہ کرتا ... تو وہ دین دنیا کے کسی معاملہ میں کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتا تھا۔ میری ناقص رائے یہ ہے کہ یہ وحی خفی کا شوشہ تعظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نہیں بلکہ تنظیمیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چھوڑا گیا ہے۔ (دو اسلام ص ۱۱۶۔ ۱۱۷)
ازالہ
قرآن نے جہاں کہیں تدبر و تفکر کی دعوت دی ہے وہ تدبر و تفکر کے ذریعہ توحیدکی طرف دعوت دی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ وحی ، یہ مناظر قدرت، یہ کائنات کیا تم کو اس بات کا یقین نہیں دلاتے کہ جو ان کا خالق ہے، وہی حقیقی الہ ہے، وہی عبادت اور فرمانروائی کے لائق ہے۔ اب رہا قرآنی احکام پر عمل کرنے کا طریقہ تو یہ قرآن نے کہیں نہیں کہا کہ تدبر و تفکر سے ان کا طریقہ تلاش کرو، مثلاً نماز پڑھنے کا طریقہ تدبر و تفکر سے خود متعین کرو، اگر کوئی ایسا کہتا ہے تو اس کا یہ قول ایک عجوبہ روزگار ہے، وحی خفی کا شوشہ تنقیص رسول کے لیے نہیں بلکہ تعظیم رسول کے لیے ہے، اس لیے کہ رسول نے جو کچھ کیا، اللہ اس سے راضی تھا، اس لیے اللہ نے قرآن میں اس پر تنبیہ نہیں کی، پس معلوم ہوا کہ رسول کا تفکر و تدبر اتنا صحیح ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ بھی اس پر گرفت نہیں کرتا تھا، اور پوری زندگی میں صرف دو تین موقعوں پر ہی اللہ کی طرف سے گرفت ہوئی ، ورنہ ساری زندگی کے اجتہادات اللہ کے معیار تنقید پر پورے اترے، یہ وحی خفی کا سلسلہ صرف ایک حد تک احادیث پر حاوی ہے ورنہ احادیث کا معتدبہ حصہ وحی چلی کے ذریعہ یعنی وحی مثل قرآن کے ذریعہ نازل ہوتا تھا علم حدیث کے طالب علم اس سے بخوبی واقف ہیں، اور قرآن میں بصیرت رکھنے والے قرآنی آیات سے اس پر استدلال کرسکتے ہیں اور کرتے آئے ہیں ، تفصیل کے لیے تمہید ملاحظہ فرمائیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
ہمارے بعض علماء تو عشق حدیث میں یہاں تک عقل و خرد گم کرچکے ہیں کہ اللہ کے کلام کو نہ صرف احادیث کا محتاج ٹھہراتے ہیں بلکہ یہ کہتے ہوئے بھی سنے جاتے ہیں کہ اگر اللہ کا کوئی قول رسول کے قول سے متصادم ہو جائے تو قول خدا کو منسوخ سمجھو (دو اسلام ص ۱۱۷) ۔ اوزاعی کمحول کے اس قول کے راوی میں کہ حدیث قرآن کی اتنی محتاج نہیں جتنا قرآن حدیث کا محتاج ہے۔ (دو اسلام ص ۱۱۸۰۔ ۱۱۹)
ازالہ
برق صاحب ایسا ہوا تو نہیں ہے کہ حدیث سے قرآن منسوخ ہوا ہو، لیکن اگر ایسا ہو بھی جائے تو بعید از عقل بھی نہیں ہے، غلط فہمی آپ کو صرف اس وجہ سے ہوئی ہے کہ قرآن کو تو آپ اللہ کا حکم سمجھتے ہیں، اور حدیث کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حالانکہ یہ نظریہ ہی غلط ہے، قرآن بھی اللہ کا حکم اورحدیث بھی اللہ کا حکم ہے بفجوائے آیہ کریمہ { وَمَنْ یُطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ}لہٰذا منسوخ حکم بھی اللہ کا ہے، اور منسوخ کرنے والا حکم بھی اللہ ہی کا ہے، لہٰذا اس میں اعتراض کی کوئی بات نہیں۔
حدیث میں ہر چیز کی تفصیل ہے، اور تفصیل کے لیے اجمال کی ضرورت نہیں ہوا کرتی، ہاں اجمال کے لیے تفصیل و تشریح کی ضرورت ہوتی ہے، مثلاً حدیث میں ہے کہ نماز قائم کرو، اور اس طریقہ سے اس اس وقت پڑھو، تو اب حدیث میں دو چیزیں آگئیں، اول قرآنی حکم کہ '' نماز قائم کرو'' اور پھر اس کی تشریح کہ اس طرح اور اس وقت پڑھو، تو آپ بتائیے، حدیث میں قرآن کو سمو دیا گیا، یا نہیں، حدیث کی تشریح کے لیے قرآن کی کیا ضرورت ہے، لیکن برخلاف اس کے اگر قرآن کا حکم سنایا جائے کہ '' نماز قائم کرو'' تو پھر یہ سوال ہوگا کہ کب اور کیسے؟ اور اب حدیث کی ضرورت ہوگی یعنی قرآن کی تشریح کے لیے حدیث کی ضرورت پیش آئے گی مطلب یہ کہ قرآن حدیث کا محتاج ہے، لفظ '' محتاج'' کا استعمال اردو میں کراہت پیدا کرتا ہے،لیکن عربی میں نہیں اور یہی وجہ ہے کہ برق صاحب کو غلط فہمی ہوگئی، اور اس لفظ کو قرآن مجید کے شیایان شان نہیں سمجھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
یہ طریقت ، رہبانیت اور جہاد اکبر کے راستے نکال کر خدائی پیغام کو کس نے مسخ کیا تھا۔ (دو اسلام ص ۱۱۸)
ازالہ
برق صاحب آپ نے سچ فرمایا۔ یہ کام بے شک ملانے کیا تھا یا کسی صوفی نے کیا تھا۔ لیکن کسی عالم دین نے کبھی اس پر مہر تصدیق ثبت نہیں فرمائی ہم بھی آپ کے ہاں میں ہاں ملا کر یہ شعر پڑھتے ہیں:
زمن بر صوفی و ملا سلامے
کہ پیغام خدا گفتند مارا
ولے تاویل شاں در حیرت انداخت
خدا وجبریل و مصطفی را
(اقبال)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
باب ۶
'' تحریف احادیث کے اسباب''

غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
تحریف احادیث کے کئی اسباب تھے، اول حضور علیہ السلام نے حدیث لکھنے سے منع فرما دیا تھا اور جو چیز لکھی نہ جائے اسے تحریف سے بچانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ (دو اسلام ص ۱۳۱)
ازالہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث لکھنے سے منع نہیں فرمایا تھا بلکہ قرآن کے ساتھ ملا کر لکھنے سے منع فرمایا تھا متواتر احادیث سے کتابت کی اجازت و حکم ثابت ہے تفصیل کے لیے باب اول ملاحظہ ہو۔ حدیث لکھی گئی مسلسل لکھی گئی لہٰذا بقول برق صاحب تحریف سے بچ گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی تحریر کردہ کتب احادیث کا بیان باب اول میں گزر چکا ہے۔ ان کے بعد تابعین و تبع تابعین کے دور میں تو کتب احادیث اتنی لکھی گئی کہ ان کا شمار ناممکن ہے۔ تفصیل کے لیے مولانا عبدالرؤف جھنڈا نگری کی کتاب '' عیانۃ الحدیث'' ملاحظہ فرمائیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
چند روز کا ذکر ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم لاہور تشریف لائے یونیورسٹی گراؤنڈ میں ایک جلسہ پنجاب مسلم لیگ کے صدر میاں عبدالباری کی صدارت میں منعقد ہوا جب میاں صاحب تقریر کے لیے اٹھے تو مجمع سے یہ آوازیں بلند ہوئے، ہم خائنوں کے سردار کی تقریر نہیں سننا چاہتے، بیٹھ جاؤ، بیٹھ جاؤ۔ چنانچہ وہ بیٹھ گئے۔'' نوازئے وقت''اور اس کے ہمنواؤں نے لکھا کہ شور مچانے والوں کی تعداد دس بارہ سے زیادہ نہیں تھی، لیکن'' زمیندار'' اور چند دیگر اخبارات کہہ رہے تھے کہ یہ جلسہ میں شریک ہونے والے دو لاکھ انسانوں کی متفقہ آواز تھی ، واقعہ دو دن کا ہے ، دو لاکھ انسانوں نے اسے دیکھا، ہر اخبار کے نمائندے بھی وہاںموجود تھے اور پھر اصل حقیقت نہیں کھلتی۔ (ص ۱۲۲)
ازالہ
برق صاحب ! یہاں دو سیاسی جماعتوں کے سیاسی فریب ہیں، جو اس خبر کی اشاعت میں کام کر رہے ہیں، برخلاف اس کے احادیث کی روایت میں صحابہ کرام میں دو جماعتیں نہیں تھیں کہ ایک جماعت دوسری جماعت کو گرانے کے خیال سے فریب دیتی، اور احادیث میں تحریف کرتی، یہ تو صحابہ کرام کے متعلق بڑی زبردست غلط فہمی ہے اور اس کا جواب باب چہارم میں دیا جا چکا ہے، پھر یہ تو بتائیے، اس اختلاف تعداد سے اصل واقعہ پر کیا اثر پڑتا ہے، اصل واقعہ یہ ہے کہ میاں صاحب لوگوں کی مخالفت کی وجہ سے تقریر نہ کرسکے تھے، یہ تو صحیح ہے یا نہیں، کیا آپ یہ سمجھتے ہیں، کہ چونکہ تعداد میں اختلاف ہے، لہٰذا یہ واقعہ ہوا ہی نہیں، یہ سارا واقعہ من گھڑت ہے! کیا کوئی فہیم انسان اسے تسلیم کرے گا؟ خود آپ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ واقعہ ہوا، اور اختلاف تعداد کے باعث اس واقعہ کو نہیں جھٹلاتے، تو پھر یہی حال حدیث کا بھی ہے، مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں بھول گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد دلایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کمی کو پورا کیا، اور بعد میں دو سہو کے سجدے کئے۔
اب اگر اس حدیث میں فرض کیجئے، یہ اختلاف پیدا ہو جائے کہ کوئی کہے کہ آپ عصر کی نماز میں بھولے تھے، کوئی کہے کہ ظہر کی نماز میں بھولے تھے تو بتائیے اس سے اصل واقعہ پر کیا اثر پڑے گا ظہر یا عصر کی تصریح ہونا تو کوئی اہمیت کی چیز نہیں، اہمیت کی چیز یہ ہے کہ جب کبھی نماز میں بھول ہو جائے تو بعد میں دو سجدے سہو کے کرلیے جائیں، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا، سہو کے مسئلہ پر ظہر یا عصر کا اختلاف بالکل اثر انداز نہیں ہوگا، بلکہ مسئلہ پوری طرح ثابت ہوگا، اور محفوظ ہوگا، اور چونکہ سجدہ سہو کا مسئلہ ہی دینی مسئلہ ہے، لہٰذا اس کے محفوظ ہونے سے دین محفوظ ہوگیا اور ظہر یا عصر کی صراحت محفوظ نہ ہونے سے دین کی حفاظت متاثر نہ ہوگی، تمام احادیث میں یہی بات آپ کو ملے گی، جزئی اختلاف کے باوجود جب مسئلہ کی بات آئے گی، تو پھر صحیح احادیث میں ایک ہی بات ہوگی، اس کو اللہ کی حفاظت کہتے ہیں، اور اسی طرح اللہ نے اپنا وعدہ حفاظت پورا کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
احادیث کی تحریف میں انسان کے اس فطری خاصہ کا کافی دخل ہے، حضور علیہ السلام سے ایک بات نکلی، ہزاروں نے سنی، رفتہ رفتہ اس میں رد و بدل ہونے لگا، زمانہ گزرتا گیا، اور بات بگڑتی گئی، ہزاروں سے نکل کر لاکھوں، اور لاکھوں سے کروڑوں زبانوں تک پہنچی، جہاں کوئی حصہ بھول گیا، پاس سے بڑھا لیا، اصلی قول محفوظ نہیں تھا کہ مقابلہ کرکے تصحیح کرلیتے، راویوں میں اچھے بھی تھے اور برے بھی مؤخر الذکر نے احادیث کو اپنے سانچے میں ڈھالنا شروع کردیا، اور بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ (ص۱۲۳)
ازالہ
اس کے جواب میں برق صاحب آپ اپنی مندرجہ ذیل عبارت ملاحظہ فرمائیں، مجھے جواب دینے کی ضرورت نہیں۔
گذشتہ ۴۷ برس میں مجھے ایک آدمی بھی ایسا نہیں ملا جو رنگ آمیزی، مبالغہ اور دیگر سخن گسترانہ عیوب سے پاک ہو، میں خود ان عیوب سے مبرا نہیں، اور آج کہ میری عمر ۴۷ سال سے کچھ اوپر ہوچکی ہے، علم کے کئی منازل طے کرچکا ہوں، متانت، حقیقت اور واقعیت کی قدر و قیمت سے آگاہ ہوں، پھر بھی داستان سرائی، مبالغہ اور رنگ آمیزی کے سوا کچھ نہیں۔ (دو اسلام ص ۱۲۱)
مندرجہ بالا غلط فہمی میں مبالغہ اور رنگ آمیزی کے سوا کچھ نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
انتباہ
برق صاحب! آپ نے غور فرمایا: آپ کی عمر ۴۷ سال سے کچھ اوپر ہے، اور گزشتہ ۴۷ برس میں آپ کو ایک آدمی بھی ایسا نہیں ملا، جو رنگ آمیزی سے پاک ہو، ریاضی کا معمولی سا طالب علم بھی کہہ سکتا ہے،کہ کم از کم پانچ سال تو ۴۷ سال کے عرصہ میں سے تفریق کردینے چاہیے تھے، اس لیے کہ ایام رضاعت اور ایام طفولیت کے پانچ سال اس قسم کے تجربات و مشاہدات کے لیے بنیاد نہیں بن سکتے، بہرحال اس غلطی کے باوجود برق صاحب کے اس مفہوم میں کوئی غلطی نہیں کہ ان کو ایسے لوگ نہیں مل سکے جو مبالغہ آمیزی سے مبرا ہوں، اگر ریاضی کی اس غلطی کے باوجود ان کا منشاء صحیح ہے تو یہی بات تو حدیث میں بھی ہوتی ہے کہ باوجود اس کے کہ بعض راوی بعض غلطیاں کر جاتے ہیں، لیکن منشاء میں کوئی غلطی نہیں کرتے، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصل منشاء کو کما حقہ اور بالکل صحیح ادا کردیتے ہیں، آپ معمولی سے جزئی غیر اہم اختلاف کو مبالغہ سے اتنا عظیم بنا دیتے ہیں کہ ناواقف یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ جب اتنا اختلاف ہے ،تو اس کا اعتبار ہی کیا۔
 
Top