• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
آج اعدائے اسلام یہی احادیث پیش کرکے ہمیں کہتے ہیں کہ تمہارے قرآن میں رد و بدل ہوتا رہا اور اس کی آیات انسانی دست برد سے محفوظ نہ سکیں ، کوئی بتاؤ کہ ہم اس الزام کا کیا جواب دیں۔ (ص۱۶۹)
ازالہ
برق صاحب یہ کس حدیث میں ہے کہ قرآنی آیات انسانی دست برد سے محفوظ نہ رہ سکیں، یہ کس حدیث میں ہے کہ انسان آیات میں رد و بدل کرتے رہے؟ کیا اللہ تعالیٰ کا رد و بدل کرنا بھی انسانی رد و بدل کہلا سکتا ہے؟ آخر کچھ تو انصاف کیجئے، قرآنی آیات انسانی دست برد سے بے شک محفوظ رہیں، دستبرد کرنے والی وہی ہستی ہے، جس نے اس کو اتارا تھا، اس کو بے شک اختیار ہے، کہ جس حکم کو چاہے بدل دے، اور جس حکم کو چاہے باقی رہنے دے، دین کی تکمیل سے پہلے رد و بدل ہوا، لیکن جب یہ آیت نازل ہوئی { اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ } '' آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کردیا'' تو پھر اس میں کوئی رد و بدل نہیں ہوا، جیسا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت تھا، آج تک ویسا ہی ہے، اعدائے اسلام یہ بتائیں '' یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کون سی تبدیلی ہوئی، اور پھر اعتراض کریں، برق صاحب اعدائے اسلام کے ایک اعتراض سے اتنے مرعوب ہیں کہ حدیث کا انکار کرنے پر تل گئے، کیا انہیں خبر نہیں کہ اعدائے اسلام نے قرآن کے متن پر سینکڑوں اعتراض کئے تو کیا متن قرآن کا بھی انکار کردیں گے کیا ان آیات کا بھی انکار کردیں گے، جن سے نسخ آیات ثابت ہوتا ہے، اور جو اوپر نقل کی جاچکی ہیں، ہاں یہ دوسری بات ہے کہ آپ آیات کا مفہوم بدلتے چلے جائیں، اس طرح سے بظاہر آپ مطمئن ہو جائیں گے لیکن ضمیر کی آواز اس سے کچھ مختلف ہی ہوگی، مثال کے طور پر ایک اعتراض نقل کرتا ہوں، حروف مقطعات مثلاً الم، کھیعص، ق وغیرہ کے کیا معنی ہیں؟ اگر کچھ معنی ہیں تو لغت عرب ، محاورات عرب سے ان معانی کو ثابت کیجئے، تاکہ ہر عربی دان مسلم ہو یا غیر مسلم ان کو تسلیم کرلے، اگر کچھ معنی نہیں ہیں، تو پھر یہ حروف مہمل ہیں، اور لغو ہیں، اور اللہ کا کلام مہمل اور لغو نہیں ہوتا، لہٰذا قرآن کلام الٰہی نہیں، یا کم از کم حروف مقطعات انسانی دست برد کا نتیجہ ہیں، کہیے اس اعتراض کا کیا جواب دیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
تحریف کی ایک اور مثال ملاحظہ ہو: حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ میں شام میں حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملا تو آپ نے پوچھا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود واللیل کی تلاوت کیسے کرتے ہیں، تو میں نے کہا اس طرح '' وَاللَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی وَالذَّکَرِ وَالْاُنْثٰی '' آپ نے فرمایا خدا کی قسم میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ آیات بالکل اسی طرح سنی ہیں، اور میں اسی طرح پڑھوں گا۔ (صحیح مسلم جلد ۲، ص۳۶۲)
تو گویا تین جلیل القدر صحابہ نے شہادت دی کہ یہ آیات مذکورہ بالا صورت میں نازل ہوئی تھیں، لیکن آج قرآن شریف میں یوں درج ہیں وَاللَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی وَالنَّھَار اِذَا تَجَلّٰی وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَ والْاُنْثٰی اب کس کو صحیح تسلیم کریں! ان صحابہ کو؟ صحیح مسلم کو؟ یا قرآن شریف؟ لازماً یہی کہنا پڑے گا کہ ہمارا قرآن صحیح ہے، اور یہ حدیث غلط ۔ (دو اسلام ص ۱۷۰)
ازالہ
برق صاحب انفرادی غلطی اور لا علمی سے مسلمات کو جواب نہیں دیا جاسکتا، اگر تین صحابہ سے غلطی ہوگئی تو ہو جائے، ہزارہا صحابہ جس طرح تلاوت کرتے رہے، قرآن تو در حقیقت وہی ہے ان تین صحابہ کی لا علمی یا بھول کی وجہ سے قرآن کے متن پر کوئی اعتراض نہیں آتا، لہٰذا حدیث قابل اعتراض ہی نہیں، اگر یہ اعتراض ہو کہ یہ تین صحابہ کیسے بھول گئے، تو اول تو یہ تین نہیں دو ہیں، یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ آپ نے علقمہ تابعی کو بھی غلطی سے صحابی سمجھ لیا، وہ تو ان دونوں صحابہ کی غلطی کے راوی ہیں، اب رہا بھول کا اعتراض تو کیا بھول بھی کوئی قابل اعتراض چیز ہے، انسان سے بھول ہو ہی جایا کرتی ہے، وہ بھول جاتا ہے اور سمجھتا یہ ہے کہ جو کچھ مجھے یاد ہے، وہ صحیح ہے، یہ واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں، اور روز مرہ کے تجربات میں سے ہیں، کیا محض ان دو صحابہ کو بھول کے نقص سے بچانے کے لیے ایک مسلمہ حقیقت کا انکار کردیا جائے، وہ یہ کہ علقمہ نے ان دونوں صحابہ سے ایک آیت غلط طریقہ سے سنی تھی اور اس کو انہوں نے بیان کردیا، لہٰذا قرآن بھی صحیح، حدیث بھی صحیح، اور ان دو صحابہ کی بھول۔
اس کا ایک اور جواب بھی ہے، ممکن ہے کہ یہ آیت پہلے اسی طریقہ سے نازل ہوئی ہو، جس طریقہ سے ان دونوں صحابہ کو یاد تھی، بعد میں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں '' وما خلق'' کا اضافہ کردیا، اور ان دونوں صحابہ کو اس کا علم نہ ہوسکا، اور یہ اسی طریقہ سے پڑھتے رہے، قرآن بہرحال جمہور صحابہ کی قرأت کے مطابق شائع ہوا، لہٰذا اس میں ان صحابہ کی لاعلمی کی وجہ سے کوئی نقص نہیں آتا۔
(برق صاحب یہ بات تو ''مؤطا پر ایک نظر'' کے لیے مخصوص تھا، پھر دوسری کتابوں کی حدیثیں اس میں قابل اعتراض سمجھ کر کیوں داخل کردی گئیں)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
حضور نے اصحابہ صفہ میں سے چند حضرات کو اہل نجد کے پاس تبلیغ اسلام کے لیے بھیجا، جب وہ بیر معونہ (مکہ اور عسفان کے درمیان ایک مقام) میں پہنچے تو عامر بن طفیل، رعل، زکوان وغیرہ نے انہیں قتل کر ڈالا، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان لوگوں کے متعلق مندرجہ ذیل آیت اتری تھی، جو بعد میں منسوخ ہوگئی '' بلغوا قومنا انا قد لقینا ربنا فرضی عنا ورضینا عنہ '' ہماری قوم کو کہہ دو کہ ہم اللہ سے اس حال میں ملے کہ وہ ہم سے خوش تھا، اور ہم اس سے (بخاری جلد ۲ ص۹۳ صحیح مسلم جلد ۲، ص۲۳۷) اگر یہ آیت واقعی نازل ہوئی تھی، تو مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اس کا باقی رہنا ضروری تھا۔ (دو اسلام ص ۱۷۱)
ازالہ
آیت کے منسوخ ہونے کا جواب اوپر دیا جاچ کا ہے، منسوخ کرنے میں کیا مصلحت تھی، اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے، ہاں ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے، جو آپ کے مندرجہ ذیل الفاظ میں پائی جاتی ہے:
قرآن شریف میں غزوات اور اس قسم کے دیگر واقعات کے متعلق بیسیوں آیات نازل ہوئیں، جو بعینہٖ محفوظ ہیں۔ (دو اسلام ص ۱۷۱)
گویا ان آیات کی موجودگی میں اس آیت کی ضرورت نہ سمجھی گئی، پیغام پہنچا دینے کے بعد اس کو منسوخ التلاوت کردیا گیا، اور حوصلہ افزائی کے لیے باقی آیات کو کافی سمجھا گیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
چونکہ اس قسم کی احادیث سے قرآن کی قطعیت پر چوٹ پڑتی ہے، اس لیے ہمارے لیے محفوظ تریں راستہ یہی ہے کہ ہم اس قسم کی تمام احادیث کو ناقابل اعتماد قرار دیں۔ (دو اسلام ص ۱۷۱۔ ۱۷۲)
ازالہ
نسخ کا جواب تو اوپر دیا جا چکا ہے، نسخ سے قطعیت قرآن مجروح نہیں ہوتی، پھر قرآن کی قطعیت پر تو قرآن کی آیات سے چوٹ پڑتی ہے، لہٰذا حدیث کا فکر چھوڑ دیجیے، پہلے ان کا جواب سوچیے، ستھیارتھ پرکاش وغیرہ کتابیں ملاحظہ فرمائیں، دو ایک اعتراض اوپر نقل کئے جا چکے ہیں، مثلاً ''مچھر کی مثال والی آیت کہاں گئی؟'' مہمل حروف قرآن میں کہاں سے آگئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
میری ذاتی رائے یہ ہے کہ دشمنان اسلام ایک خاص سازش کے ماتحت اس قسم کی احادیث معتبر راویوں کے نام سے وضع کرتے رہے، تاکہ مسلمان کا ایمان قرآن کے متعلق متزلزل ہو جائے، اور چونکہ ائمہ حدیث صرف اسناد کو دیکھتے تھے، اس لیے مسلم جیسے محقق بھی اس چال کے شکار ہوگئے اور انہوں نے اس روایت کو اپنے مجموعہ میں شامل کرلیا۔ (دو اسلام ص ۱۷۲۔ ۱۷۳)
ازالہ
یہ تو تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ دشمنان اسلام اس قسم کی احادیث وضع کرتے تھے، یہ بھی تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ معتبر راویوں کے نام ان کی اسناد میں لگا دیا کرتے تھے، لیکن براہِ کرام یہ تو سوچئے کہ محققین کے پاس وہ احادیث کس سند سے پہنچتی تھیں، کیا ان اسناد میں ان دشمنان اسلام کے نام نہیں ہوتے تھے، ضرور ہوتے تھے تو پھر جو حدیث دشمنان اسلام کا نام آتے ہی موضوع ہو جاتی تھی، محققین کے نزدیک صحیح کیسے ہوگئی، معتبر راویوں کے نام تو ان دشمنان اسلام کے اوپر ہوں گے، لہٰذا اوپر کے راویوں کے معتبر ہونے سے حدیث مستند کیسے ہو جائے گی، جب کہ نیچے کے راوی کذاب ہوں ، برق صاحب یہ بات آپ نے سوچ سمجھ کر نہیں لکھی، ہاں یہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ محققین یہ دھوکا کھا گئے کہ ان کذابین اور دشمنان اسلام کو ائمہ اسلام سمجھتے رہے ، لیکن یہ قول محض تعسف ہوگا، جس کے لیے نہ کوئی دلیل پیش کی جاسکتی ہے نہ کوئی شہادت۔ واللیل کی قرأت کے متعلق جو حدیث برق صاحب نے نقل فرمائی ہے، صحیح مسلم میں اس کی یہ اسناد ہیں۔
اس اسناد میں ہر ایک مسلمہ امام ہے، بتائیے کس کو دشمن اسلام سمجھیں؟ سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ امام علقمہ تابعی کو دشمن اسلام قرار دے دیا جائے، جو کہ عبداللہ بن مسعود کے اصحاب کبار میں شمار ہوتے ہیں، کیونکہ اس صورت میں سرف ان کو دشمن اسلام قرار دے کر باقی کو اس الزام سے بچایا جاسکتا ہے، اگر ان کو صادق سمجھا جائے تو پھر دو اماموں کو یعنی امام شعبی اور امام ابراہیم نخعی کو دشمنان اسلام ماننا پڑے گا، اور اگر یہ بھی صادق سمجھے جائیں، تو پھر متعدد ائمہ دینکو دشمنان اسلام کی فہرست میں شامل کرنا ہوگا، اور یہ کبھی بھی قرین قیاس نہیں ہوسکتا کہ اتنے زیادہ آدمی اس حدیث کے بنانے میں شریک ہوں اور کسی کے متعلق ادنیٰ سا بھی وہم نہ امام مسلم کو ہوا، نہ کسی اور محدث کو، حالانکہ صحیح مسلم کی احادیث کی صحت پر تمام محدثین کا اتفاق ہے، امام مسلم خود لکھتے ہیں:
لیس کل شی عندی صحیح وضعتہ بھنا انما وضعتہ ھھنا ما اجمعوا علیہ (مسلم باب التشھد فی الصلوٰۃ)
میں صحیح مسلم میں ہر وہ حدیث نہیں لکھتا جو میرے نزدیک صحیح ہے ، صحیح مسلم میں تو صرف وہ حدیث لکھتا ہوں، جس کی صحت پر اجماع ہے۔
اب بتائیے یہ کیسے ممکن ہے کہ تمام محدثین ان تمام دشمنان اسلام سے بے خبر رہے، بلکہ ان کو ائمہ دین شمار کرتے رہے، ظاہر ہے کہ یہ مفروضہ ہی غلط ہے، برق صاحب صحیح مسلم کی یہ اسناد آپ کے سامنے ہے، آپ اس شخص یا ان اشخاص پر انگلی رکھیے، جو اس حدیث کے گھڑنے والے تھے، لیکن مشکل یہ ہے کہ کس کس کو کذاب کہا جائے، صرف صحیح مسلم کی سند کا یہ حال ہے، تمام کتب حدیث میں اس کی سند کا ایک جال بچھا ہوا ہے ناممکن ہے کہ ان تمام کے تمام ائمہ حدیث وفن کو دشمن اسلام قرار دیا جائے، پھر یہی کیوں نہ کہہ دیا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے، اور صرف گنتی کے چند افراد کو مسلم چھوڑ گئے، باقی سب کے سب منافق تھے، ان کی نسل سے بھی منافق پیدا ہوتے رہے، ان کے شاگرد ان خاص بھی منافق تھے، غرض یہ کہ امت مسلمہ سب کی سب ان منافقوں پر مشتمل تھی، نہ کوئی مسلم تھا، نہ کوئی حق گو، اور اگر کوئی تھا بھی تو وہ کہیں گوشہ عافیت میں زندگی گزار رہا تھا، نہ اس سے کوئی واقف تھا، نہ وہ کسی سے واقف ، دور دورہ انہیں منافقوں کا تھا، جو علم و فن کے آفتاب و ماہتاب تھے، عمل صالح، اور تقویٰ و طہارت کے پیکر تھے، ائمہ دین کہلاتے تھے، لیکن تھے منافق، دشمن اسلام، نعوذ باللہ، قطعاً ناممکن ہے کہ یہ لا تعداد ائمہ دین سب کے سب منافق ہوں، پھر مکرر عرض کرتا ہوں، کہ ہمارے لیے سب سے آسان بات یہ ہے کہ ہم ان تمام ائمہ کو دشمنان دین کہنے کے بجائے امام علقمہ کو دشمن دیں کہہ دیں، لیکن یہاں بھی ایک بڑی مشکل ہے، وہ یہ کہ علقمہ معمولی آدمی نہیں بلکہ صحابہ کرام کے شاگرد خاص اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مشہور اصحاب کبار میں سے ہیں، اور ائمہ دین، محدثین کے مسلمہ استاذ ہیں، اس مشکل کا حل سوائے اس کے کچھ نہیں کہ ہم صحت حدیث کے معترف ہوں، اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ابودرداء کی اس قرأت کو قرأت شاذہ میں شمار کریں، اور یہ کہیں کہ غالباً یہ قرأت اوائل اسلام میں کبھی جائز تھی، اب منسوخ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ گوشت کو ایک نعمت سمجھ کر کھایا کرتے تھے، لیکن موطا کی ایک حدیث ہمیں گوشت جیسی نعمت سے اجتناب کا حکم دیتی ہے۔
عن عمر بن الخطاب قال ایاکم واللحم فان لہ ضراوۃ کضراوۃ الخمر
عمر فاروق فرماتے ہیں کہ گوشت خوری سے بچو اس لیے کہ شراب کی طرح اس کی عادت پڑ جاتی ہے۔ اگر ایک اچھی چیز کی عادت بھی پڑ جائے تو ہرج کیا ہے۔ (دو اسلام ص ۱۷۳۔ ۱۷۴)
ازالہ
امام مالک نے اس قول کو متصل سند سے بیان نہیں کیا، لہٰذا یہ قول ضعیف ہے اور اس پر اعتراض اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے، اعتراض جب ہوتا کہ امام مالک اس کو متصل سند سے بیان کرکے اس پر اعتماد کرتے، پھر برق صاحب کا خیال بھی صحیح نہیں کہ ہر اچھی چیز کی عادت اچھی ہوتی ہے، کھانے، پینے کی چیزوں میں سے کسی چیز کی عادت پڑ جانا یقینا تکلیف کا باعث ہوتا ہے اگر کبھی وہ چیز میسر نہیں ہوتی، تو طبیعت مکدر رہتی ہے، آدمی اس کا غلام بن جاتا ہے، اور اس کو بغیر اس چیز کے چین نہیں آتا، اور ہوسکتا ہے کہ جب بے صبری زیادہ بڑھ جائے، تو وہ اس کے حصول کے لیے کوئی ذلیل قسم کی حرکت کر بیٹھے، ایسے واقعات آئے دن ہوتے رہتے ہیں، اگر یہ قول حضرت عمر کی طرف صحیح منسوب ہے تو یہی وہ حرج ہے، جس کی طرف ان کے اس قول میں اشارہ ہے، کثرت کسی چیز کی بھی اچھی نہیں ہوتی، حتیٰ کہ عبادت کی کثرت بھی نامحمود ہے، تو پھر گوشت خوری کی کثرت کیوں نہ نامحمود ہو، یہی وہ رمز ہے، جو اس قول میں پوشیدہ ہے، فللہ الحمد
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
باب ۸
'' صحیح بخاری پر ایک نظر ''

غلط فہمی
اس میں کلام نہیں کہ امام بخاری (وفات ۸۷۰ء) نے صحیح احادیث کی تلاش میں لمبے لمبے سفر کئے اور سالہا سال کی مسلسل جستجو و تگاپو کے بعد اپنا مجموعہ تیار کیا۔ (دو اسلام ص۱۵)
ازالہ
اس کے یہ معنی نہیں کہ امام بخاری سے پہلے کوئی مجموعہ احادیث نہیں تھا، بہت سے تھے لیکن ان مجموعوں میں بعض ضعیف احادیث شامل تھیں، بعض میں کسی قسم کا شبہ تھا، بعض کے متعلق اختلاف رائے تھا، امام بخاری نے ان کتب احادیث کو پڑھا، اور ان میں سے ان احادیث کا انتخاب کیا جو ہر قسم کے شبہ سے بالاتر تھیں، اور جن کی صحت پر محدثین کا اتفاق تھا، ان منتخب کردہ احادیث کو اپنی جامع میں جمع کردیا، علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں:
وجاء محمد بن اسماعیل البخاری امام المحدثین فی عصرہ فخرج احادیث السنۃ علی ابوابھا فی مسندہ الصحیح واعتمد منھا ما اجمعوا علیہ دون ما اختلفوا فیہثم جاء المسلم بن حجاج القشیری فالف مسندہ حذا فیہ حذز البخاری فی نقل المجمع علیہ (مقدمہ ابن خلدون ۳۸۶، نصرۃ الباری ص۹۳)
محمد بن اسماعیل بخاری جو اپنے زمانہ میں محدثین کے امام تھے آئے، اور انہوں نے ابواب کے ماتحت اپنی صحیح کو مرتب کیا اور صرف انہی حدیثوں پر اعتماد کیا ، جن کی صحت پر اجماع تھا، ان کو چھوڑ دیا، جن میں اختلاف تھا، پھر امام مسلم آئے اور انہوں نے بھی امام بخاری کی طرح ان ہی احادیث کو اپنی صحیح میں نقل کیا، جن کی صحت پر اجماع تھا۔
برق صاحب کے ممدح امام ابن تیمیہ لکھتے ہیں:
وما صححاہ کان قبلھا عند ائمۃ الحدیث صحیحا فتلقی بالقبولکذلک فی عصرھما وکذلک بعد ھما فلم یتقودا لا بروایۃ ولا بتصحیح ومنھاج السنۃ جلد ۴ ص۵۹، نصرۃالباری ص۹۳)
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی احادیث ان دونوں اماموں سے پہلے بھی ائمہ حدیث کے نزدیک صحیح تھیں اور ان دونوں کے زمانہ میں بھی صحیح مانی گئیں اور ان کے بعد کے زمانہ میں بھی صحیح تسلیم کی گئیں، پس نہ روایت میں یہ منفرد ہیں، نہ تصحیح میں ان دونوں کا انقراد ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
لیکن اس قدر محنت اور احتیاط کے باوجود اس مجموعہ میں چند ایسی احادیث موجود ہیں، جو یا تو تعلیم قرآن سے متصادم ہوتی ہیں، یا آپس میں ٹکراتی ہیں، یا مسلمانوں کو بے کار، اپاہج اور بے عمل بناتی ہیں اور یا ان سے حضور علیہ السلام اور ان کی ازواج مطہرات کی توہین کا پہلو نکلتا ہے۔ (دو اسلام ص۱۷۵)
ازالہ
برق صاحب کو غلط فہمی ہوئی ، صحیح بخاری میں ایسی کوئی حدیث نہیں ہے، جس میں مذکورہ بالا باتیں پائی جاتی ہوں، اگر بظاہر کوئی بات پائی بھی جائے، تو وہ حقیقتاً ایسی نہیں ہوتی، اگر حدیث کا گہرا مطالعہ کیا جائے، تو وہ غلط فہمی خود بخود دور ہوسکتی ہے، اور اگر محض ظاہری معنوں سے اس قسم کے اعتراضات کئے جاسکتے ہیں، تو پھر ان اعتراضات سے قرآن بھی نہیں بچ سکتا، جہاں برق صاحب احادیث سے اس قسم کی مثالیں پیش کریں گے، وہیں ان کے مماثل ہم قرآنی آیات پیش کریں گے۔
صحیح بخاری کی احادیث کی صحت پر جیسا کہ اوپر بیان ہوا علمائے سلف و خلف کا اجماع ہے، تو کیا یہ سب دشمن دین پیغمبر تھے، یا اسلام کے نادان دوست تھے، کوئی ان میں محب رسول اور اسلام کا دانا و سمجھدار دوست تھا ہی نہیں؟ برق صاحب آخر کچھ تو انصاف چاہیے، اگر ان سب نے مل کر کسی حدیث کو قرآن کے خلاف نہیں سمجھا، اور ہم اس کو قرآن کے خلاف سمجھیں تو کیا یہ ہماری سمجھ کا تصور ہے، یا ان سب متقدمین و متاخرین محدثین کے فہم کا قصور ہے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
امام بخاری کی نظر زیادہ تر اسناد پر رہی، انہیں جس حدیث کے وضعی ہونے پہ کوئی تاریخی شہادت نہ مل سکی، اسے اپنے مجموعہ میں شامل کرلیا۔ (دو اسلام ص ۱۷۶)
ازالہ
یہ قطعاً نہیں، اسناد کے علاوہ تمام فنون حدیث پر امام بخاری کی نظر تھی، موضوع حدیث تو کجا انہوں نے تو ضعیف و مشکوک و مختلف فیہ احادیث بھی نقل نہیں کیں، بلکہ صحیح احادیث میں سے بھی ان بہت سی احادیث کو اس لیے چھوڑ دیا کہ وہ احادیث ان کی سخت شرائط کے معیار کے مطابق نہیں تھیں، بھلا جو شخص صحیح احادیث اپنے سخت شرائط کی بنا پر چھوڑ دیتا ہو، وہ ضعیف بھی نہیں موضوع حدیثیں نقل کرلے گا، حاشا و کلا۔
برق صاحب کا یہ جملہ جس حدیث کے وضعی ہونے پر کوئی تاریخی شہادت نہ مل سکی، اسے اپنے مجموعہ میں شامل کرلیا '' در حقیقت معکوس جملہ ہے، اس جملہ کو اس طرح ہونا چاہیے تھا'' جس حدیث کے صحیح ہونے پر تمام ضروری تاریخی شہادتیں میسر تھیں، ان احادیث کو امام بخاری نے اپنے مجموعہ میں شامل کرلیا۔ محدث تو صحت احادیث کے لیے تاریخی شہادت مہیا کرتے تھے، اور جہاں یہ تاریخی شہادت نہ ہوتی تھی، اس کو صحیح نہیں سمجھتے تھے ، پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی حدیث کی صحت کے لیے تاریخی شہادت نہ مل سکے، اور پھر بھی وہ حدیث صحیح بخاری میں شامل ہو جائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
گزشتہ صفحات میں آپ دیکھ چکے کہ احادیث کا کیا حال ہوچکا تھا، راویوں کے حالات کس بے احتیاطی سے قلمبند ہوئے تھے، اور وہ ایک دوسرے کے متعلق کیا رائے رکھتے تھے۔ (دو اسلام ص۱۷۶)
ازالہ
ان غلطیوں کے ازالہ کے لیے گزشتہ صفحات میں تفصیل کے ساتھ لکھا جا چکا ہے، اعادہ کی ضرورت نہیں، متعلقہ ابواب ملاحظہ فرمائیں۔
غلط فہمی
احادیث کی حیثیت محض تاریخ کی ہے، تاریخ میں غلط باتیں بھی ہوسکتی ہیں، اور صحیح بھی فرق صرف اتنا ہے کہ ایک مورخ تدوین تاریخ میں اس قدر خلوص اور محنت سے کام نہیں لے سکتا، جتنا کہ امام بخاری نے لیا۔ (دو اسلام ص ۱۷۶۔ ۱۷۷)
ازالہ
جب مورخ تدوین تاریخ میں اس قدر خلوص سے کام نہیں لے سکتا، جتنا امام بخاری نے لیا پھر بھی حدیث کو تاریخ کی حیثیت دنیا عجیب ہے، بے شک تاریخ میں غلط باتیں ہوتی ہیں جیسا کہ برق صاحب کو اعتراف ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں واقعہ کی تنقید کے لیے نہ کوئی ٹھوس معیار ہوتا ہے، نہ مورخین اس کی کوئی خاص ضرورت ہی سمجھتے ہیں، جو سنا لکھ لیا، خواہ وہ واقعہ فرضی ہی کیوں نہ ہو، لیکن احادیث کا معاملہ بالکل الگ ہے، یہاں ہر واقعہ، ہر قول و فعل کی سند ہوتی ہے، پھر ایک سند نہیں ہوتی، بلکہ متعدد سندیں ہوتی ہیں پھر ہر زمانہ میں سند پر بھی بحث ہوتی ہے، اور متن پر بھی ، تمام فنون حدیث سے اسے پرکھا جاتا ہے، جب وہ تمام مراحل تنقید کو طے کرلیتی ہے، تو قابل اعتماد کہلاتی ہے، اس کو صحیح کہا جاتا ہے، یہاں نہ جانبداری ہوتی ہے، نہ بغض و تعصب، نہ مداہنت نہ تعسف، بلکہ پوری ہوشیاری، تندہی، ایمان و دیانتداری سے ہر حدیث کر پرکھا جاتا ہے، اس تنقید کے بعد جو حدیث صحیح کہلائے، اور تمام ناقدین کے نزدیک صحیح کہلانے اس کو تاریخ کا درجہ دینا بڑی زبردست غلط فہمی ہے۔
 
Top