• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
حضرت مسیح کے عہد تک تورات اپنی اصلی حالت میں باقی تھی اور نجت نصر وغیرہ کی حکایات فرضی ہیں۔ (دو اسلام ص ۱۸۹)
ازالہ
گویا موجودہ انجیل صحیح ہے، جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مذکورہ بالا قول نقل کیا گیا ہے اور نجت نصر کا حملہ جو ایک مسلمہ تاریخی واقعہ ہے غلط ہے، اگر یہ معیار صحیح ہے تو ہمیں بھی کہنے دیجئے کہ جو حدیث صحیح ہے وہ صحیح ہے، اور جو تاریخی واقعات اس کے خلاف ہیں وہ فرضی ہیں، برق صاحب آپ ایک مسلمہ تاریخی واقعہ کی صرف اس لیے تکذیب کر رہے ہیں کہ وہ آپکے اس مفروضہ کے خلاف ہے کہ '' اناجیل اپنی اصلی حالت میں باقی ہیں'' حالانکہ اناجیل اربعہ میں تناقض اور تضاد خود اس بات کی اندرونی شہادت ہے کہ موجودہ اناجیل سب جعلی ہیں، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ قول بھی جعلی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
سورہ بقرہ کی ابتدائی آیات میں ہمیں تمام سابقہ آسمانی صحائف پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے، اگر وہ کتابیں محرف ہوچکی تھیں اور غلط سلط تھیں تو ان پر ایمان لانے کا مقصد؟ (ص۱۸۹)
ازالہ
برق صاحب کتب سابقہ پر ایمان لانے کا حکم اب بھی باقی ہے یا اب نہیں ہے، صرف عہد رسالت تک تھا، اگر اب ایمان لانے کا حکم نہیں ہے، تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ آیتیں منسوخ ہیں اگر یہ حکم صرف عہد رسالت میں تھا، تو کیا اس زمانہ میں تمام کتب سماویہ غیر محرف طور پر موجود تھیں، اگر نہیں تو کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ان کو پڑھا کرتے تھے، اگر جواب اثبات میں ہے تو براہِ کرم اس کا ثبوت دیجئے۔
اگر یہ کتب سماویہ عہد رسالت میں تھیں اور بعد میں ضائع ہوگئیں تو کیا قرآن کی طرح ان کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے نہیں لیا تھا؟ ان کتب سماویہ سے تو احادیث ہی اچھی رہیں کہ ان کی حفاظت بہ تمام و کمال ہوئی، اگران کتب سماویہ پر ایمان لانا اب بھی فرض ہے، تو یہ کتب سماویہ اب غیر محرف موجود ہیں کیا کتاب نوح ، کتاب ہود، کتاب صالح کہیں موجود ہیں، کیا صحف ابراہیم، صحف لوط و صحف یوسف کہیں سے دستیاب ہوسکتے ہیں، اگر ہوسکتے ہیں تو براہِ کرم ان کا پتہ بتائیے اور اگر کہیں نہیں ضائع ہوگئیں تو پھر ان پر ایمان لانے کا مقصد بتائیے، جو مقصد آپ کے ذہن میں آجائے اسی کو اپنے سوال کا جواب سمجھ لیجئے، وہی تورات و انجیل پر ایمان لانے کا مقصد ہوگا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
کیا خدا کو علم نہیں تھا کہ تورات میں تصرف ہوچکا ہے، اگر علم تھا تو تصدیق کیوں کی، کیا کوئی مجسٹریٹ کسی جعلی دستاویز کی دیدہ دانستہ تصدیق کرسکتا ہے۔ (دو اسلام ص۱۹۰)
ازالہ
خدا نے موجودہ تورات کی تصدیق کہیں نہیں کی، جو آیات آپ نے نقل کی ہیں ان کا جواب آگے آرہا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
آپ کہیں گے کہ اللہ نے اصلی تورات کی تصدیق کی تھی نہ کہ صحیفہ رائجہ کی، بہت اچھا تو پھر قرآن نے یہ کیوں کہہ دیا:
{ قُلْ یاَا اَھْلَ الْکِتَابِ لَسْتُمْ عَلٰی شَیئٍ حَتّٰی تُقِیْمُوا التَّوْرَاۃَ وَالْاِنْجِیْلَ }
اے رسول اہل کتاب سے کہہ دو کہ جب تک وہ تورات و انجیل پر عمل نہیں کریں گے ان کی بگڑی کبھی نہ بن سکے گی۔
اگر یہ کتابیں انسانی دست برد سے ناپاک ہوچکی تھیں، تو اہل کتاب کو ان پر عمل کرنے کی دعوت کیوں دی؟؟ (دو اسلام ص۱۹۰)
ازالہ
اصلی تورات اور اصلی انجیل پر عمل کرنے کی دعوت بے شک دی گئی ہے، لیکن اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ موجودہ تورات و انجیل پر عمل کرنے کی دعوت دی گئی ہے، پھر برق صاحب نے پوری آیت بھی نقل نہیں فرمائی، جو اس تمہید کی غرض و غایت ہے، اور وہ یہ ہے:
{ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ لَیَزِیْدَنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ طُغْیَانًا وَّ کُفْرًا } (المائدۃ)
یعنی تمہاری بگڑی کبھی نہیں بن سکتی، جب تک کہ تم (تورات اور انجیل) اور اس چیز پر عمل نہ کرو، جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف نازل ہوئی ہے، اور اے رسول جو چیز آپ کی طرف نازل کی گئی ہے اس سے ان میں سے بہت سوں کا کفر اور طغیان اور زیادہ ہوگا۔
اس آیت سے ثابت ہوا کہ قرآن پر عمل کرنا بھی ضروری ہے، اور بغیر اس کے فلاح نہیں، اور اکثر اہل کتاب اس کے قائل نہیں تھے، بلکہ قرآنی آیات سے ان کی سرکشی اور کفر زیادہ ہوتا تھا، برق صاحب آپ تو اہل کتاب کو مسلم سمجھتے ہیں، خواہ وہ قرآن پر ایمان لائیں یا نہ لائیں، قرآن پر عمل کریں یا نہ کریں، لیکن اس آیت میں اس کی تردید ہے، قرآن پر ایمان لانا، اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے، تورات و انجیل کی طرف ضمناً دعوت ہے، اس لیے کہ ان کتابوں کی دعوت یہی ہے کہ آنے والے رسول پر ایمان لایا جائے اور اس کی شریعت پر عمل کیا جائے تو جو شخص رسول اور اس کی کتاب کا انکار کرتا ہے، وہ گویا تورات و انجیل کو بھی نہیں مانتا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دعوت دی کہ تورات و انجیل کو پوری طرح مانو، یعنی ان کی ہدایت کے مطابق قرآن کو مانو، اور اس پر عمل کرو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
'' وَعِنْدَھْمُ التَّوْرَاۃُ فِیْھَا حُکْمُ اللہ '' اور ان کے پاس تورات موجود ہے، جس میں اللہ کا حکم درج ہے، یہ نہیں فرمایا کہ درج تھا، بلکہ درج ہے، نحو کا مشہور قاعدہ ہے کہ جہاں جار مجرور کا تعلق مذکور نہ ہو، وہاں موجودٌ یا کائن محذوف فرض کرلو، اس قاعدہ کی رو سے آیت کے معنی ہونگے ''تورات میں اللہ کا حکم موجود ہے۔'' (دو اسلام ص۱۹۰۔ ۱۹۱)
ازالہ
یہ تو کسی بھی نہیں کہا کہ ساری تورات محرف ہے، بے شک موجودہ تورات میں بھی اللہ تعالیٰ کے بعض احکام من و عن محفوظ ہیں، شان نزول کے لحاظ سے یہ ارشاد باری ایک خاص حکم کے متعلق تھا جو تورات میں اس وقت بھی موجود تھا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے واحد کا صیغہ ''حکم'' استعمال فرمایا ہے، پوری تورات کے محفوظ ہونے کی صراحت نہیں کی، پوری آیت درج ذیل ہے:
{ وَ کَیْفَ یُحَکِّمُوْنَکَ وَ عِنْدَ ھُمُ التَّوْرٰۃُ فِیْھَا حُکْمُ اللہِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ } (المائدہ)
یہ لوگ آپ کو کیسے حکم تسلیم کرسکتے ہیں ، حالانکہ ان کے پاس تورات ہے، جس میں اللہ کا حکم موجود ہے، پھر یہ لوگ اس سے بھی منہ موڑ لیتے ہیں۔
یعنی جس کتاب پر ایمان ہے، اس سے منہ موڑ لیتے ہیں، تو آپ پر تو ایمان بھی نہیں، آپ کو کیسے حکم مان سکتے ہیں، یہ چیز بعید از قیاس ہے، اگر آپ کو حکم مان لیں، تو پھر تورات کا حکم ماننے سے کیا امر مانع ہوسکتا ہے، حالانکہ دونوں جگہ حکم ایک ہی ہے، انہیں تو وہ حکم ماننا ہی نہیں، لہٰذا وہ آپ کو بھی حکم نہیں بنا سکتے، آپ کا حکم ماننا، گویا پھر اسی حکم تورات کو مان لینا ہے، جس سے اعراض کرچکے ہیں (نحوی قاعدہ کا جواب آگے آرہا ہے)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
{ اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰۃَ فِیْھَا ھُدًی وَّ نُوْرٌ } (قرآن)
ہم نے تورات نازل کی، جس میں ہدایت اور نور موجود ہے۔ (دو اسلام ص ۱۹۱)
ازالہ
نحو کے جس قاعدہ کی رو سے آپ نے مندرجہ بالا ترجمہ کیا ہے، اور جس قاعدہ کا ذکر آپ اوپر کرچکے ہیں، اس قاعدہ کے لحاظ سے صرف لفظ'' موجود'' آپ لگا سکتے ہیں، زمانہ کا تعین اس قاعدہ سے نہیں ہوگا، لہٰذا ''موجود تھا'' اور ''موجود ہے'' دونوں کا احتمال ہے، اور محض احتمال سے آپ اپنے مطلب کو ثابت نہیں کرسکتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
ایک اور آیت ملاحظہ ہو:
{ صولوا من اھل الکتاب وما انزل الیھم من بھم لا کلوا من فوقھم ... الخ }
اگر یہود و نصاری ان کتابوں پر ایمان لا کر نیک بن جاتے، جو ان پر اللہ کی طرف سے نازل ہوئی تھیں تو وہ ہمارے انعامات کے مستحق بن جاتے۔
اس آیت میں اہل کتاب کو تورات و انجیل پر ایمان لا کر نیک بننے کی ترغیب دی گئی ہے، اگر یہ کتابیں غلط تھیں، تو اللہ نے ان پر ایمان لانے کا حکم کیوں دیا۔ (دو اسلام ص۱۹۱)
ازالہ
برق صاحب نے نہ تو آیات کو پورا نقل کیا ہے اور نہ ہی ترجمہ صحیح کیا ہے، پوری آیت اس طرح ہے:
{ وَ لَوْ اَنَّ اَھْلَ الْکِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَکَفَّرْنَا عَنْھُمْ سَیِّاٰتِھِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰھُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ۔ وَ لَوْ اَنَّھُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰۃَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ مِّنْ رَّبِّھِمْ لَاَکَلُوْا مِنْ فَوْقِھِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِھِمْ} (المائدۃ)
اگر اہل کتاب ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے، تو ہم ان کے گناہوں کو معاف کردیتے، اور ان کو جنت النعیم میں داخل کردیتے اور اگر اہل کتاب قائم کریں تورات کو اور انجیل کو اور اس چیز کو جوا ن کے رب کی طرف سے ان پر نازل کی گئی ہے تو ان کو اوپر سے بھی رزق ملے اور نیچے سے بھی۔
پہلی آیت میں صاف طور سے اہل کتاب کو ایمان کی دعوت دی جا رہی ہے، اور یہ جب ہی ہو سکتا ہے کہ پہلے وہ کافر تسلیم کرلیے جائیں، دوسری آیت میں تورات اور انجیل کی طرف توجہ مبذول کراکے قرآن پر عمل کرنے کی دعوت دی جا رہی ہے، برق صاحب آپ تو نیک اہل کتاب کو خواہ وہ قرآن پر ایمان لائیں یا نہ لائیں مومن سمجھتے ہیں لیکن قرآن اہل کتاب کے متعلق کیا کہتا ہے، سنیے:
{ یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَھُوْدَ وَ النَّصٰرٰٓی اَوْلِیَآءَبَعْضُھُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ وَ مَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْھُمْ اِنَّ اللہَ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ } (المائدۃ)
اے ایمان والو! یہود اور نصاری کو دوست مت بناؤ، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے تو وہ انہیں میں سے ہے بے شک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔
تمام یہود و نصاریٰ کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہی فیصلہ ہے کہ وہ سب ظالم ہیں، ان کو دوست مت بناؤ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
ممکن ہے، آپ یہ کہیں کہ جب توراۃ و انجیل اصلی حالت میں موجود تھیں تو پھر قرآن اتارنے کی کیا ضرورت تھی، اس کے کئی جواب ہوسکتے ہیں، لیکن میں صرف قرآن کا جواب پیش کروں گا۔
{ وَھٰذَا کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ مُبٰرَکٌ فَاتَّبِعُوْہُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ۔ اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْکِتٰبُ عَلٰی طَآئِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا وَاِنْ کُنَّا عَنْ دِرَاسَتِھِمْ لَغٰفِلِیْنَ } (انعام)
ہم نے تمہیں یہ مبارک کتاب (قرآن) عطا کی ہے، اسے مانو اور گناہ سے بچو، تاکہ تم ہماری رحمت کے مستحق بن سکو، اب تم یہ عذر نہیں پیش کرسکتے کہ ہم سے پہلے دو امتوں (یہود و نصاری) پر کتابیں تو نازل ہوئی تھیں لیکن وہ اجنبی زبان میں تھیں اور ہم انہیں سمجھ نہیں سکتے تھے۔
یعنی نزول قرآن کی وجہ یہ نہیں بتائی گئی کہ پہلی کتابیں مسخ ہوچکی تھیں بلکہ یہ کہ وہ ایسی زبان میں تھیں، جس سے عرب نا آشنا تھے کیا تورات کی صحت پر اس سے بڑی شہادت پیش کی جاسکتی ہے؟ (دو اسلام ص ۱۹۱۔ ۱۹۲)
ازالہ
برق صاحب آپ نے قرآن میں صرف ایک ہی وجہ کو ملاحظہ فرمایا، حالانکہ اس کی ایک اور بھی وجہ قرآن میں موجود ہے، سنیے:
{ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَآءَکُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ عَلٰی فَتْرَۃٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْ بَشِیْرٍ وَّلَا نَذِیْرٍ فَقَدْ جَآءَکُمْ بَشِیْرٌ وَّنَذِیْرٌ } (المائدہ)
اے اہل کتاب بے شک تمہارے پاس ہمارا رسول آگیا، جو ایسے وقت میں تمہارے لیے شریعت کے احکام بیان کرتا ہے، جب کہ رسولوں کا آنا ایک عرصہ سے موقوف تھا، یہ رسول اس لیے آیا کہ کہیں تم یہ نہ کہہ دو کہ ہمارے پاس کوئی بشیر و نذیر نہیں آیا، پس تمہارے پاس بشیر و نذیر آگیا۔
اس آیت سے ثابت ہوا کہ قرآن صرف عرب کے لیے نازل نہیں ہوا، بلکہ ان لوگوں کے لیے بھی نازل ہوا، جن کے پاس بقول آپ کے کتاب الٰہی موجود تھی، بات در حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کے لیے بھی رسول بنا کر بھیجے گئے تھے اور یہ کہ قرآن اہل کتاب کی ہدایت کے لیے بھی نازل کیا گیا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
دوسرا اور تیسرا جواب
(۲)برق صاحب اگر آپ کی بات تسلیم کرلی جائے کہ قرآن صرف عرب کے لیے نازل ہوا، تو پھر سوال یہ ہے کہ انجیل کیوں نازل کی گئی کیا بنی اسرائیل کے پاس بھی انجیل سے پہلے کوئی کتاب نہیں آئی تھی اور اگر آئی تھی تو کیا وہ اجنبی زبان میں تھی۔
(۳) اور کیا اسی اصول پر ہمارے لیے ضروری نہیں کہ ہماری زبان میں بھی کوئی کتاب نازل فرمائی جائے، بلکہ ہر ملک میں اس ملک کے باشندوں کی زبان میں کتاب کے نزول کی ضرورت ہے، ہندوستان میں سینکڑوں زبانیں بولی جاتی ہیں اور ایک خطہ کی زبان دوسرے خطہ کے لیے اجنبی ہے تو کیا صرف ہندوستان کے لیے سینکڑوں کتابوں کا نزول لازمی ہے قرآن کی زبان اکثر ممالک کے لیے اجنبی ہے، لہٰذا برق صاحب فرمائیے کیا ہونا چاہیے۔
چوتھا جواب:
(۴) برق صاحب ایک بات اور حل طلب ہے، قرآن کی ابتدائی بلکہ متعدد آیات کی رو سے تمام کتب سماویہ پر ایمان لانا لازمی ہے، اور بقول آپ کے یہ جب ہی ہوسکتا ہے کہ وہ تمام کتب محفوظ ہوں ورنہ ایمان لانے کا مقصد؟ (دو اسلام ص ۱۸۹ ملخصاً) اور قرآن ہی سے یہ ثابت ہے کہ:
{ وَاِنْ مِنْ اُمَّۃٍ اِلاَّ خَلَافِیْہِ نَذِیْرٌ } (فاطر)
یعنی ہر امت میں ڈرانے والا آیا ہے۔
اور جب ڈرانے والا آیا ہے تو کتاب بھی ضرور آئی ہوگی اور یہ بھی قرآن سے ثابت ہے کہ ہر قوم پر کتاب الٰہی اس قوم کی زبان ہی میں نازل ہوتی رہی، لہٰذا ہمارے ملک میں ہماری زبان میں ضرور کوئی کتاب نازل ہوئی ہوگی، بتائیے وہ کس خزانہ میں محفوظ ہے؟ براہِ کرم اس کا سراغ لگائیے کہ ہم اس پر عمل کریں اور قرآن جو کہ اجنبی زبان میں ہے، اسے چھوڑ دیں، آخر غیر ملکی زبان کو اپنی زبان پر ترجیح کیوں دیں، یہ تو غلامانہ ذہنیت اور احساس کمتری ہے، پھر عربی کے مقابلہ میں ہم پاکستانی انگریزی زبان سے زیادہ قریب ہیں بلکہ انگریزی زبان سے کوئی اجنبیت ہی محسوس نہیں ہوتی، تو کیا ہمارے لیے یہ بہتر نہیں ہوگا کہ قرآن کے بجائے انجیل پڑھنی شروع کردیں اور سب عیسائی ہو جائیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
اور سنیے:
{ لَیْسُوْا سَوَآئً مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآئِمَۃٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللہِ اٰنَآءَالَّیْلِ وَھُمْ یَسْجُدُوْنَ۔ یُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَاُولٰٓئِکَ مِنَ الصّٰلِحِیْن } (اٰل عمران)
سارے اہل کتاب برے نہیں، ان میں ایسے نیک اور پرہیزگار بھی موجود ہیں، جو رات کو اللہ کی آیات (تورات و انجیل) پڑھتے اور سجدے کرتے ہیں اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، نیکی کی ترغیب دیتے ہیں، برائی سے روکتے اور نیک اعمال کی طرف بلاتے ہیں ، یہ لوگ صالح ہیں۔
اس آیت میں تورات و انجیل کو اللہ کی آیات کہا گیا ہے، اگر تورات بگڑ چکی ہوتی تو اللہ اس کے احکام کو آیات کیوں کہتا اور اس پر عمل کرنے والوں کو صالحین میں کیوں شمار کرتا۔ (دو اسلام ص ۱۹۲۔ ۱۹۳)
ازالہ
آیت مذکورہ میں آیات سے مراد تورات اور انجیل کی آیات نہیں ہیں بلکہ قرآن کی آیات مراد ہیں، دوسری جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
{ تَرٰی کَثِیْرًا مِّنْھُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَھُمْ اَنْفُسُھُمْ اَنْ سَخِطَ اللہُ عَلَیْھِمْ وَ فِی الْعَذَابِ ھُمْ خٰلِدُوْنَ۔ وَلَوْ کَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَ النَّبِیِّ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَا اتَّخَذُوْھُمْ اَوْلِیَآءَوَلٰکِنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ } (المائدہ)
تم دیکھتے ہو کہ ان میں سے بہت سے کافروں کو دوست بناتے ہیں، بیشک انہوں نے جو اعمال کیے وہ بہت برے ہیں، اللہ ان سے ناخوش ہے اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے اور اگر وہ اللہ پر، نبی پر اور جو اس پر نازل ہوا ہے، اس پر ایمان لے آتے تو کبھی کافروں کو دوست نہ بناتے مگر ان میں بہت سے فاسق ہیں۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی ایک خصوصیت بیان فرمائی ہے اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ اللہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پر ایمان نہ لانے کے سبب اس مرض میں مبتلا ہیں، اگر ان پر ایمان لے آتے تو کبھی کافروں کو دوست نہ بناتے، گویا کفر سے بیزاری کا ذریعہ یہ ہے کہ اللہ، رسول اور قرآن پر ایمان لایا جائے، یہاں نبی سے مراد ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں، ورنہ اپنے نبی پر تو ان کا ایمان پہلے سے موجود تھا، ایک اور جگہ ارشاد باری ہے:
{ وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَبِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ۔ اُولٰٓئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّھِمْ وَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ } (البقرۃ)
جو لوگ اس وحی پر ایمان لاتے ہیں جو آپ پر اتری اور جو آپ سے پہلے اتری اور قیامت پر بھی ایمان لاتے ہیں، یہی لوگ ہدایت پر ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو فلاح پائیں گے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہدایت و فلاح کے لیے قرآن پر ایمان لانا ضروری ہے۔
 
Top