• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
قرآن اور تاریخ ہر دو شاہد ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ لکھ سکتے تھے اور نہ لکھی ہوئی چیز پڑھ سکتے تھے، لیکن بخاری میں ہے، وہ لکھ سکتے تھے، حدیث یوں چلتی ہے کہ حضور ذی قعدہ میں عمرہ کے لیے تشریف لے گئے تو اہل مکہ نے کچھ پابندیاں عائد کردیں اور اس سلسلہ میں ایک تحریری معاہدہ ہے جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تسلیم کرتے ہیں ، کفار مکہ نے رسول اللہ کے الفاظ پر اعتراض کیا ... آپ نے حضرت علی سے فرمایا کہ '' رسول اللہ'' کے الفاظ مٹا دو ... علی نے جواب دیا خدا کی قسم میں آپ کے نام سے رسول کا لفظ کبھی جدا نہ کروں گا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کاغذ اٹھا لیا اور اس پر لکھ دیا ، یہ وہ فیصلہ ہے۔ (دو اسلام ص ۱۹۴۔ ۱۹۵)
ازالہ :
صحیح بخاری کی ایک مختصر حدیث لے کر برق صاحب نے اعتراض کردیا، حالانکہ اس میں کچھ عبارت محذوف ہے جو دوسری سند میں بالصراحت مذکور ہے، جس کا حوالہ برق صاحب نے خود دیا ہے، وہ لکھتے ہیں:
بخاری کی ایک اور روایت (ج ۲، ص ۱۳۵) بتلاتی ہے کہ حضور نے رسول اللہ کا لفظ کھرچ ڈالا تھا، اور کاتب نے ابن عبداللہ کے الفاظ کا اضافہ کردیا تھا، اسی حدیث پر باقی محدثین اعتماد کرتے ہیں اور تاریخ بھی اسی کی تائید کرتی ہے۔ (دو اسلام ص ۱۹۵۔ ۱۹۶)
لہٰذا حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کاغذ کھرچنے کے لیے اٹھایا، پھر اس نے (یعنی کاتب نے، دوسری حدیث کی صراحت کے مطابق) لکھا، نہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا، برق صاحب کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ ''کتب'' کا فاعل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھ لیا، لہٰذا حدیث اعتراض سے پاک ہے، ایک حدیث کہیں مختصر ہوتی ہے اور کہیں مفصل، صرف مختصر کو دیکھ کر اعتراض کردینا مناسب نہیں، سنیے قرآن میں ہے:
{ تِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ کَانَ تَقِیًّا ۔ وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّکَ } (مریم)
اللہ فرماتا ہے یہ جنت ہم ان لوگوں کو دیتے ہیں جو پرہیزگار ہوتے ہیں اور ہم نازل نہیں ہوتے مگر تیرے رب کے حکم سے۔
مندرجہ بالا دونوں آیات مسلسل ہیں پہلی آیت میں''نورث'' جمع متکلم کا صیغہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے استعمال کیا ہے، دوسری آیت میں بغیر کسی مرجع کے تبدیلی کے جمع متکلم کا صیغہ ہے، عبارت کے تسلسل کے لحاظ سے اور قواعد کے لحاظ سے بھی ''نتنزل'' میں ضمیر کا مرجع اللہ ہی ہونا چاہیے، تو دوسری آیت کے معنی یہ ہوئے کہ '' اللہ نہیں اترتا مگر رسول کے رب کے حکم سے'' برق صاحب دیکھا آپ نے کتنا شاندار ترجمہ ہے اور یہ نتیجہ ہے آیت کے شان نزول کو ملحوظ نہ رکھنے کا، برق صاحب اگر کسی حدیث کو مختصر دیکھ کر ضمیر کی وجہ سے الجھن پیدا ہوگئی تو یہ الجھن قرآن میں بھی متعدد مقامات پر ہوتی ہے، جیسا کہ ایک مثال آپ کے سامنے ہے، جیسے قرآن میں صحیح معنی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، احادیث میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے، یعنی اصلی مفہوم کو ملحوظ رکھ کر حدیث کا ترجمہ کرنا چاہیے ، تاکہ غلطی راہ نہ پاسکے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
باب ۹
''آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر حدیث میں''

غلط فہمی
بخاری میں ہے:
عن عائشۃ قالت کان النبی ﷺ یقبل ویباشر وھو صاتم۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور علیہ السلام روزہ رکھ کر اپنی ازواج کے بوسے لیتے اور ان سے مباشرت فرمایا کرتے تھے۔ (دو اسلام ص ۲۰۱)
ازالہ
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
ان احادیث سے روزہ کا فلسفہ واضح ہوگیا، یعنی پورے تیس دن تک ہر قسم کی بد زبانی، بدکاری اور شہوت رانی سے دور رہ کر اپنے اخلاق اور روحانیت کو بلند کرنا اور اپنے آپ کو جفا کش بنانا۔ (ص۲۰۰)
یہ ہے فلسفہ صوم، اب برق صاحب بتائیں کہ حدیث مذکور میں کون سی چیز ایسی ہے، جو اس فلسفہ کے منافی ہے، ہوسکتا ہے کہ لفظ مباشرت سے غلط فہمی ہوگئی ہو، تو اس کے متعلق عرض ہے کہ مباشرت کے معنی عربی زبان میں وہ نہیں جو عام اردو اصطلاح میں لیے جاتے ہیں، عون المعبود شرح ابوداؤد میں ہے:
معنی المباشرۃ ھھنا المر بالید من التقاء البشرتین (خالص اسلام ص۲۳۹)
یعنی یہاں مباشرت سے صرف ہاتھ سے چھونا، اور دو جسموں کا ملنا مراد ہے۔
بلکہ عربی زبان میں اس کے اصلی معنی بدن سے بدن ملانے ہی کے ہیں اور اس کے سوا کچھ نہیں ہے امام شوکانی فرماتے ہیں:
ان المباشرۃ فی الاصل التقاء البشرتین (نیل الاوطار باب تقبیل الصائم)
یعنی مباشرت اصل میں دو جسموں کے ملنے کو کہتے ہیں۔
مزید برآں مباشرت کے معنی بالمشافہہ، بلاواسطہ ، رد برد کے بھی ہوتے ہیں اور ان معنوں میں یہ بکثرت استعمال ہوتا ہے، مثلاً علامہ احمد محمد شاکر لکھتے ہیں:
ویحتمل کما قال ابن الترکمانی ان یکون سمع ھذا الحدیث من عمر مباشرۃ وسمعہ عنہ بالواسطۃ
یعنی احتمال ہے، جیسا کہ ابن ترکمانی نے کہا ہے کہ راوی نے اس حدیث کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ''مباشرۃ'' (بلاواسطہ بالمشافہہ) بھی سنا ہو اور بالواسطہ بھی سنا ہو۔
لہٰذا حدیث زیر بحث کا مطلب یہ ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بحالت روزہ اپنی بیوی کے پاس اٹھتے، بیٹھتے تھے، ہاتھ لگاتے تھے اور پیار بھی کرلیا کرتے تھے، کہیے ان معنوں پر کیا اعتراض ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
اس حدیث میں مباشرت سے کیا مراد ہے، مولانا شبیر احمد عثمانی کی زبانی سنیے، آپ صحیح مسلم کی اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے فتح الملہم میں فرماتے ہیں:
المباشرۃ فوق السرۃ وتحت الرکبہ بالذکر والقبائۃ اوا لمعانقۃ واللمس وغیر ذلک حلال باتفاق المسلمین
یعنی آپ روزہ رکھ کر عورت کے ساتھ ناف سے اوپر اور گھٹنوں سے نیچے مباشرت کرسکتے ہیں یعنی اسے چھو سکتے ہیں، چوم سکتے ہیں، گلے لگا سکتے ہیں، اور آلہ تناسل کا استعمال کرسکتے ہیں۔ (دو اسلام ص ۲۰۱)
ازالہ
مباشرت کے معنی '' آلہ تناسل کا استعمال اور روزہ میں اسے حلال سمجھنا'' یہ واقعی غلطی ہے، اور ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن ان معنوں کے ذمہ دار آپ ہیں نہ کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ ایسے معنوں سے محفوظ رکھے۔ اس لیے ترجمہ سمجھنے میں آپ کو غلطی لگی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
اس حدیث کے متعلق برق صاحب مزید تحریر فرماتے ہیں:
یہ حدیث کئی طرح سے محل نظر ہے، اول روزہ کا مقصد شہوات کو ترک کرنا ہے، نہ کو بوس و کنار اور گھٹنوں سے نیچے آلہ تناسل کا استعمال۔ (دو اسلام ص ۲۰۱)
ازالہ
حدیث مذکور میں شہوت کا کوئی ذکر نہیں، بلکہ اس کی تردید ہے، آپ نے پوری حدیث نقل نہیں فرمائی، اس کے آگے حدیث میں یہ بھی ہے '' کان املکم لاربہ'' یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہشات پر تم سب سے زیادہ قابو رکھتے تھے، مطلب ظاہر ہے کہ بغیر شہوت کے کبھی اپنی بیوی کو پیار کرلیا کرتے تھے۔ اور آپ میں اتنی قوت ضبط تھی کہ شہوت غالب نہیں ہوسکتی تھی، اور شہوت رانی کا کوئی خطرہ نہیں تھا ، حدیث کا مطلب صرف اتنا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کے پاس اٹھتے، بیٹھتے تھے اور پیار بھی کرلیا کرتے تھے، اس سے ''شہوت رانی ، بوس وکنار اور گھٹنوں کے نیچے آلہ تناسل کا استعمال'' سمجھنا بہت بڑی غلط فہمی ہے، برق صاحب اب ایک بات آپ بتائیے، اگر کوئی شخص بحالت روزہ اپنی بیوی کو پیار کرلے تو کیا روزہ ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟
(۱) اگر ٹوٹ جائے گا، تو قرآن سے دلیل دیجئے۔
(۲) اگر نہیں ٹوٹے گا تو دلیل کیا ہے؟
اگر آپ یہ فرمائیں کہ نہیں ٹوٹے گا تو پھر ہم بھی تو یہی کہتے ہیں اور دلیل میں اس حدیث کو پیش کرتے ہیں، جس پر آپ نے اعتراض فرمائے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فعل سے ثابت کردیا کہ پیار کرنا مفسد صوم نہیں، اب کوئی تقویٰ و طہارت کا مدعی یہ کہے کہ روزہ ٹوٹ جاتا ہے تو وہ ایسا نہیں کہہ سکتا، اس لیے کہ یہ کام اس نے کیا ہے، جو سب سے زیادہ متقی اور مقدس تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب کو اس حدیث پر دوسرا اعتراض یہ ہے ، جو درج ذیل ہے:
دوم: یہ حدیث اوپر والی دو حدیثوں سے متصادم ہوتی ہے۔ (دو اسلام ص ۲۰۱)
ازالہ
ان دو حدیثوں میں شہوت رانی، جھوٹ اور غلط کاریوں سے بچنے کو روزہ کا مقصد بتایا گیا ہے۔ اور اس حدیث میں ان چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں، لہٰذا تصادم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
تیسرا اعتراض برق صاحب کے الفاظ میں یہ ہے:
سوم: یہ حدیث قرآن سے ٹکراتی ہے، قرآن کہتا ہے کہ '' ماہ رمضان میں رات کے وقت ہم تمہیں بیویوں سے متمتع ہونے کی اجازت دیتے ہیں... تم ان سے مباشرت کرسکتے ہو۔ (بقرۃ) یعنی رات کے وقت مباشرت کی اجازت ہے، لیکن یہ حدیث کھلی چھٹی دیتی ہے کہ دن ہو یا رات کام چلائے چلو۔ (دو اسلام ص۲۰۲)
ازالہ
آیت '' اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ''میں لفظ '' رفث'' جماع کے لیے استعمال ہوا ہے، نہ کہ لفظ مباشرت برق صاحب مباشرت کو جماع کے ہم معنی سمجھ کر غلط فہمی میں مبتلا ہیں، اور '' کام چلائے چلو'' جیسا طنزیہ فقرہ استعمال کررہے ہیں، آیت میں جہاں جماع کی طرف اشارہ فرمایا۔ وہاں رفث استعمال کیا اور جہاں مباشرت کا لفظ استعمال فرمایا، وہاں اس کی خود ہی وضاحت کردی کہ مباشرت کے بعد پھر کیا کرنا ہے، برق صاحب نے پوری آیت نقل نہیں فرمائی، حالانکہ اس کے آگے یہ لفظ ہیں:
{ بَاشِرُوْھُنَّ وَابْتَغُوْا مَا کَتَبَ اللہُ لَکُمْ } (البقرۃ)
یعنی رمضان کی راتوں میں عورتوں سے مباشرت کرو اور جو کچھ اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے اس کے لیے جدوجہد کرو۔
اگر محض مباشرت سے جماع مفہوم ہوتا تو اس کے آگے اولاد کے لیے کوشش کرنے کا کنایہ استعمال نہ ہوتا، پس ثابت ہوا کہ آیت کی رو سے جس چیز کی ممانعت روزے میں ہے، وہ جماع ہے، نہ کہ مباشرت۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
گناہ اور محرکات گناہ ہر دو سے بچنا ضروری ہے۔
برق صاحب نے یہ بالکل صحیح لکھا، لیکن اس کے بعد آپ تحریر فرماتے ہیں:
کیا رمضان میں بوس و کنار جماع کا شدید محرک نہیں، اپنے آپ کو دیکھو کسی سے پوچھو اور انصافاً کہو کہ کیا آج تک کوئی شوہر بیوی کو چومنے چاٹنے اور گلے لگانے کے بعد جماع سے بچ سکا ہے؟ روزے میں بوس و کنار کی ترغیب دینا اور پھر اس کے نتائج پر قابل عقوبت ٹھہرانا عجیب قسم کا مذاق ہے۔ (دو اسلام ص ۲۰۲)
ازالہ
برق صاحب یہ ''بوس و کنار'' کے الفاظ کچھ اور مفہوم رکھتے ہیں، حدیث مذکور اس مفہوم سے پاک ہے، اچھا ایک بات انصافاً بتائیے، کیا جوان بیوی کا اسی گھر میں رہنا، جہاں روزہ دار خاوند رہتا ہو، جماع کا محرک نہیں ہوسکتا، تو پھر اس یکجائی کو بھی محرک گناہ سمجھ کر کیوں نہ حرام قرار دے دیا جائے کیوں نہ بیوی سے کہا جائے کہ وہ رمضان کے مہینہ میں کسی اور جگہ چلی جائے، ایک محرک سے بچانا اور دوسرے کی کھلی چھٹی دینا کون سا انصاف ہے، فرق تو صرف شدید اور غیر شدید کا ہے محرک بہرحال دونوں ہیں برق صاحب آپ نے جو سوال کیا ہے کہ '' کیا کوئی شوہر بیوی کو چومنے چاٹنے کے بعد جماع سے بچ سکا ہے'' اس کا جواب اتنا ہی کافی ہے کہ ہاں بچ سکا ہے، یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے، روزہ تو بہت بڑی چیز ہے، صبح کی نماز سے پہلے، محض صبح کی نماز کی خاطر بہت سے لوگ اس کام سے باز رہتے ہیں کہ کہیں سخت سردی یا پانی کی قلت کے باعث تمیم سے نماز ادا نہ کرنی پڑے، اگر آپ کو علم نہ ہو، تو یہ دوسری بات ہے، ہر ایک کو اپنے اوپر قیاس نہ کیجئے، پھر برق صاحب یہ اجازت ایسی ہے کہ مسلمان ہمیشہ سے اس پر عمل پیرا ہیں، لیکن کسی کے لیے یہ بات محرک جماع ثابت نہیں ہوئی روزہ کا تقدس و احترام ہی اتنا قوی جذبہ ہے کہ کسی مسلمان کو جماع کا خیال بھی نہیں آتا اور اگر آبھی جائے، تو وہ اس پر عمل کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار نہیں پاتا، یہ تو ہمارے جیسے مسلمانوں کا حال ہے، برخلاف اس کے صحابہ کرام کو دیکھئے کہ روزہ کی حالت میں جماع کر بیٹھتے تھے اور اتنی کثرت سے یہ عمل ظہور پذیر ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو یہ پابندی ہٹانی پڑی، ارشاد باری ہے:
{ عَلِمَ اللہُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْھُنَّ وَابْتَغُوْا مَا کَتَبَ اللہُ لَکُمْ وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا } (البقرۃ)
اللہ کو معلوم ہے کہ تم لوگ روزے کی حالت میں خیانت کرتے تھے، پس اللہ نے تم پر توجہ کی اور تم کو معاف کردیا، اب تم مباشرت اور اولاد کے لیے جدوجہد کر سکتے ہو اور صبح صادق ہونے تک کھا پی سکتے ہو۔
یہ ہے قرآن کی آیت اور صحابہ کرام کی حالت! برق صاحب نے خود بھی اعتراف کیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ ''آغاز اسلام میں رات کے وقت بھی بیویوں سے اختلاط ممنوع تھا، بعض صحابہ رک نہ سکے، تو یہ پابندی دور کردی گئی'' (دو اسلام ص ۲۰۲) برق صاحب نے بعض صحابہ کو اس فعل کا مرتکب تسلیم کیا ہے۔ حالانکہ قرآن کی آیت میں تمام صحابہ کو اس فعل کا مرتکب بتایا ہے، برق صاحب براہِ کرام بتائیے تو سہی یہ لفظ ''بعض'' کس قرآنی لفظ کا ترجمہ ہے، اگر کسی قرآنی لفظ کا نہیں اور ہرگز نہیں تو پھر انصافاً بتائیے کہ قرآنی آیت پر سے اعتراض دور کرنے کے لیے آپ کو لفظ '' بعض'' کا اضافہ کرنا پڑا، تو کیا کسی حدیث پر سے اعتراض دور کرنے کے لیے آپ ایسا اضافہ نہیں کرسکتے؟ براہِ کرم حدیث کے سلسلہ میں بھی آپ کا یہی رویہ ہونا چاہیے، تاکہ آپ غلط فہمی سے بچ سکیں۔
برق صاحب ہمارا حال تو یہ ہے کہ روزہ کی حالت میں جماع کے خیال سے لرزہ چڑھتا ہے جسم خوف الٰہی سے کانپنے لگتا ہے، مگر تمام صحابہ مصداق آیت قرآنی یا بعض صحابہ بقول آپ کے اتنے خدا سے بے خوف اور شہوت پرست تھے کہ جماع سے نہ بچ سکے اور اللہ میاں ان لوگوں پر اتنے مہربان تھے کہ بجائے سختی کرنے کے رحمت کے ساتھ متوجہ ہوئے، گناہ کو معاف کردیا اور اپنے حکم کی سختی کو محسوس کرکے اس حکم میں تخفیف کردی، گویا نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کو پہلے اس سختی اور تکلیف مالایطاق کا علم نہ تھا، بعد میں علم ہوا ، تو ترمیم کردی، برق صاحب اس آیت سے نہ صرف صحابہ یا بعض صحابہ کی توہین ہوتی ہے، بلکہ خود اللہ تعالیٰ کی بھی توہین ہوتی ہے، لیکن آپ دیکھیں گے کہ یہ منکرین حدیث قرآن کی اس عبارت پر تو خاموش ہو جاتے ہیں اور حدیث میں جہاں کہیں ایسی بات آتی ہے، تو اسے لے اڑتے ہیں، مذاق اڑاتے ہیں، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی حدیث سے اللہ تعالیٰ کی یا صحابہ کرام کی توہین ہوتی ہو تو وہ حدیث جعلی ہے، لیکن اگر کسی آیت سے اللہ تعالیٰ یا صحابہ کرام کی توہین کا مفہوم پایا جاتا ہے، تو وہ قطعی الصحت ہے، برق صاحب آپ نے غور فرمایا ، یہ کیا طرفہ ماجرا ہے، اور یہ کہاں کا انصاف ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب کا پانچواں اعتراض یہ ہے:
پنجم: حضور علیہ السلام کی توہین کا پہلو نکلتا ہے، اگر کوئی غیر مسلم یہ سن پائے کہ حضور علیہ السلام ۵۶ برس کی عمر میں روزہ رکھ کر مباشرت فرمایا کرتے تھے تو وہ ہمارے نبی کے متعلق کیا رائے قائم کرے گا۔ (دو اسلام ص ۲۰۳)
ازالہ
توہین کے پہلو کا جواب اوپر دیا جاچکا ہے، مزید سنیے، اول تو اس میں توہین کا کوئی پہلو ہی نہیں اس لیے کہ مباشرت کے معنی جو آپ سمجھ رہے ہیں، وہ سرے سے غلط ہیں، پاس اٹھنے بیٹھنے سے توہین نہیں ہوتی۔
دوم: باب ہشتم میں ہم نے تورات کے متعدد اقتباسات نقل کئے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی توہین کا پہلو نکلتا ہے۔ انبیاءعلیہم السلام کے متعلق ہے کہ وہ شراب پیتے تھے، لوط علیہ السلام نے اپنی بیٹیوں سے زنا کیا، داؤد علیہ السلام نے اوریا کی بیوی سے زنا کیا وغیرہ وغیرہ۔ کیا ان آیتوں سے اللہ و انبیاء کی توہین نہیں ہوتی، آپ فرمائیں گے نہیں ہوتی، تو پھر روزے میں پاس اٹھنا بیٹھنا جو اتنا قبیح بھی نہیں اس سے توہین کیسے ہوتی ہے، اور اگر آپ فرمائیں کہ توہین ہوتی ہے تو پھر فرمائیے کہ اس توہین شدید کے باوجود تورات محفوظ اور قطعی الصحت ہو تو حدیث کیوں نہ ہو؟ آخر شراب خوری زنا کاری جیسے شدید گناہوں کے باوجود انبیاء علیہم السلام کی نسبت تورات میں بیان ہوئے ہیں، آپ تورات کے محرف ہونے کے قائل کیوں نہیں، بات درحقیقت یہ ہے کہ آپ نے مقابلہ نہیں کیا، غور نہیں فرمایا، ورنہ یہ غلط فہمیاں پیدا نہ ہوتیں یہ تو تھی تورات کی بات، اب قرآن کی باتیں سنیے، قرآن میں ہے:
{ یٰقَوْمِ ھٰؤُلَاءِ بَنٰتِیْ ھُنَّ اَطْھَرُ لَکُمْ } (ھود)
لوط علیہ السلام نے فرمایا اے میری قوم یہ میری بیٹیاں موجود ہیں، یہ تمہارے لیے زیادہ پاک ہیں۔
پھر ارشاد فرمایا:
ھٰؤُلَاءِ بَنَاتِیْ اِنْ کُنْتُمْ فَاعِلِیْنَ } (الحجر)
یہ میری بیٹیاں ہیں اگر تم کچھ کرنا چاہتے ہو ان سے کرلو۔
کیا بوجہ غلط فہمی ! ان آیات سے نبی کی توہین نہیں ہوتی کہ اپنی کافر، بدکار (خلاف وضع فطری عمل کرنے والی) قوم کو اپنی بیٹیاں پیش کر رہے ہیں اور یہ بھی فرماتے جاتے ہیں کہ یہ تمہارے لیے زیادہ پاک ہیں، یعنی پاک تو وہ نوجوان مرد بھی ہیں لیکن یہ زیادہ پاک ہیں، اگر اس آیت سے واقعی توہین رسول ہوتی ہے، تو پھر کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ آیت بھی کسی تحریف کا نتیجہ ہے؟ (معاذ اللہ) آخر اس تفریق کی بھی کوئی وجہ ہے؟ کیا غیر مسلم ایسے قرآن اور تورات کو تسلیم کرلے گا (ہاں اگر کوئی تسلیم کرے گا بھی تو وہ ''پوران'' جیسی کتابوں کا تسلیم کرنے والا ہوگا، کیونکہ اس میں دیوی دیوتاؤں کے متعلق ایسے قصے بہت کثرت سے بیان ہوئے ہیں) اور اگر کوئی غیر مسلم ایسی آیتوں کو تسلیم کرلے گا اور ان پر کسی قسم کا اعتراض نہیں کرے گا تو میں یقین دلاتا ہوں کہ وہ حدیث زیر بحث کو بھی تسلیم کرلے گا اور اس پر کسی قسم کا اعتراض نہیں کرے گا، اگر زنا کاری ، شراب خوری قابل عفو ہے، تو اپنی منکوحہ بیوی کے پاس اٹھنا، بیٹھنا اور اس کو پیار کرنا کون سا ناقابل معافی جرم ہے اور سنیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{ ضَرَبَ اللہُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّامْرَاَتَ لُوْطٍ کَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰہُمَا } (التحریم)
اللہ تعالیٰ کافروں کے لیے نوح اور لوط کی بیویوں کی مثال بیان فرماتا ہے وہ دونوں ہمارے صالح بندوں کی بیویاں تھیں ، پھر ان دونوں نے اپنے شوہروں کی خیانت کی۔
شوہر کی خیانت سے زنا ہی مراد ہوسکتا ہے اور اس پر ایک قرینہ بھی ہے، اس لیے کہ اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{ وَمَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِیْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَہَا } (تحریم)
مسلمانوں کے لیے مریم بنت عمران کی مثال بیان فرماتا ہے جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
حضرت مریم کے سلسلہ میں شرمگاہ کی حفاظت کا ذکر کرنے اور اوپر کی آیت میں شوہر کی خیانت کا ذکر کرنے سے کیا بات ظاہر نہیں ہوتی؟ کہ شوہر کی خیانت سے کنایۃً بدکاری مراد ہے، اب فرمائیے کیا ان نبیوں کی بیویاں زنا کار تھیں؟ کیا اس آیت سے ان نبیوں کی توہین نہیں ہوتی (اگرچہ حقیقتاً خیانت سے زنا مراد نہیں ہے لیکن غلط فہمی ہوسکتی ہے) ذرا اوپر چلئے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{ اِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْاوَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْکُمْ وَ اللہُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ } (الاحزاب)
جب نبی کے گھر میں تم لوگ کھانا کھا چکو تو چلے جایا کرو، اور یہ مت کرو کہ وہیں بیٹھ کر بات چیت میں مشغول ہو جاؤ، اس سے نبی کو تکلیف ہوتی ہے اور وہ شرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ حق بات کہنے سے نہیں شرماتا۔
بتائیے یہ تکلیف کیا تھی ۵۶ سال کی عمر میں تنہائی کی اتنی سخت ضرورت تھی کہ اللہ تعالیٰ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہشات کا اظہار کرنا پڑا، اور جو بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم شرم کی وجہ سے کہہ نہ سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے کہہ دی۔ کہیے اس بے قراری کے ثبوت سے کچھ توہین رسول ہوئی یا نہیں۔ اگر ہوئی اور یقینا ہوئی تو کیا یہ آیت آپ کسی غیر مسلم کو سنا سکتے ہیں؟ اگر آپ نے سنا دی تو پھر وہ ہمارے نبی کے متعلق کیا رائے قائم کرے گا؟ کہ اس بڑھاپے میں اتنی بیویوں کی موجودگی میں یہ حال تھا اور تو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کی رضا مندی اور خوشی کے اتنے متلاشی تھے کہ اللہ کے حلال کو حرام کرلیتے تھے، سنیے قرآن کہتا ہے:
{ يٰٓاَيُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللہُ لَکَ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِکَ } (تحریم)
اے نبی کیوں اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام کرتے ہو، تم تو اپنی بیویوں کی رضا مندی کے جویا ہو۔
کہیے، اس آیت سے بھی کچھ توہین ہوئی یا نہیں؟ اگر نہیں تو پھر اللہ ہی حافظ ہے اور اگر ہوئی تو پھر آیت کا کیا جواب ہے؟ کیا وہی جواب جو آپ نے حدیث کو دیا؟ اگر نہیں تو تفریق کی وجہ بتائیے اگر آپ تاویل کریں تو آخر تاویل کے لیے آیت ہی کیوں ہے، حدیث کیوں نہیں، برق صاحب قرآن سے تو بظاہر اتنی شدید توہین رسول ہوتی ہے کہ الامان والحفیظ، یہ حدیث ہی ہے جو ان آیات کو صحیح معنی پہنا کر توہین کو محو کردیتی ہے، معاذ اللہ نہ قرآن میں توہین رسول کا پہلو ہے نہ حدیث میں بس اللہ صحیح فہم عطا کرے، تو غلط فہمیاں دور ہوسکتی ہیں ، ورنہ اعتراض تو کس چیز پر نہیں ہوا ، اور کون سی چیز اس سے بچی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
یہی وہ حدیث ہے جس نے مجھے احادیث سے بدظن کیا اور اس کتاب کی محرک نبی میں نے اس حدیث پر ہر قسم کے آدمیوں سے تبادلہ خیالات کیا، مثلاً علماء، ملاء، پروفیسر، معلم، انگریزی تعلیم یافتہ اور عوام، صحیح المذاق علماء نے کہا، ادب کا تقاضا یہی ہے کہ خاموش رہیے پروفیسر، معلم، اور انگریزی تعلیم یافتہ کانوں پر ہاتھ دھرنے لگے، اور عوام غضب سے کھولنے لگے کہ سرور کائنات کی ذات پر یہ حملہ؟ لیکن ملا ہر مقام پر یہی کہتا نظر آیا کہ حدیث درست ہے اور حضور یہ کام کرتے تھے۔ (دو اسلام ص ۲۰۳)
ازالہ
معلوم نہیں کس قسم کے علماء سے آپ کو سابقہ پڑا، غالباً وہ بھی آپ کی اصطلاح میں ملا ہی ہوں گے کہ اتنی معمولی بات بھی آپ کو نہ سمجھا سکے، یہ بھی معلوم نہیں کہ آپ نے پروفیسر ، معلم، انگریزی تعلیم یافتہ لوگوں کے سامنے مباشرت کے کیا معنی بتائیے، وہ بے چارے مباشرت کو اپنی اصطلاح میں جماع سمجھ بیٹھے ہوں گے اور اس وجہ سے تعجب کا اظہار کیا، ورنہ روزے کی حالت میں پاس اٹھنے، بیٹھنے اور چھونے سے تعجب ہونا خود تعجب انگیز ہے، اب ذرا ان لوگوں کے سامنے تورات و قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیات تلاوت کرکے ان سے پوچھیے کہ وہ کیا کہتے ہیں، اگر وہ کانوں پر ہاتھ رکھیں تو پھر تورات کو اصلی غیر محرف اور قرآن کو محفوظ سمجھنے کا جو عقیدہ آپ رکھتے ہیں، اس پر نظر ثانی فرما لیجئے گا اور اگر یہ نہیں کرسکتے (حالانکہ تورات کے متعلق ایسا کرنا لازمی ہے) تو پھر یہ کیجئے کہ احادیث صحیحہ سے جو بدظنی پیدا ہوگئی ہے، اس پر نظر ثانی فرما لیجئے گا، اگر اللہ تعالیٰ، رسول صحابہ کی توہین کے تورات و قرآن دونوں مرتکب ہیں، پھر حدیث کے مرتکب ہونے سے کیا اعتراض ہوسکتا ہے اگر وہ صحیح تو یہ بھی صحیح ہے۔
 
Top