• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
حضور میں تیس مردوں کی طاقت اور کوئی اولاد نہ ہو، بات کیا تھی۔ (دو اسلام ص ۲۱۹)
ازالہ
برق صاحب اولاد کا ہونا طاقت و صحت ہی پر منحصر نہیں ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{ یخلق ما یشاء لمن یشاء ویھب لم یشاء اناثا ویھب لمن یشاء الذکور } (شوری)
اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔
{ او یزوجھم ذکرانا واناثا } (شوری)
اور جس کو چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں دونوں دیتا ہے۔
خود ہمارے زمانہ میں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ باوجود قوت و صحت کے اولاد نہیں ہوتی، تعجب تو یہ ہے کہ آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اولاد نہ ہونے پر تعجب ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
صحیح مسلم میں ایک حدیث ہے کہ خدا تعالیٰ تین آدمیوں کو دگنا معاوضہ دے گا، اول وہ یہودی یا عیسائی جو اپنے رسول پر ایمان لانے کے بعد حضور پر بھی ایمان لے آئے ، دوم: وہ غلام جو خدا اور آقا دونوں کے حقوق ادا کرے اور سوم وہ شخص جو لونڈی کو تعلیم و تربیت دے کر پہلے آزاد کرے اور پھر نکاح کرلے (صحیح مسلم جلد ۱، ص۹۹۹) یہ تھا رسول کا ارشاد، اب سوال یہ ہے کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ماریہ قبطیہ کو آزاد کرکے اس سے نکاح کیا تھا، اگر ایسا کیا تھا تو سیرت نگاروں نے آپ کا نام ازواج مطہرات میں کیوں درج نہ کیا، اگر نہیں کیا تھا تو دوسروں کو حکم کیوں دیا، اس لیے ماریہ قبطیہ کو گھر میں رکھنے اور اس سے ابراہیم کے پیدا ہونے کا افسانہ غلط ہے۔ (دو اسلام حاشیہ ، ص۲۱۹۔ ۲۲۰)
ازالہ
برق صاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کہاں دیا ہے؟ آپ نے تو اس کام کا ثواب بیان فرمایا ہے ،آپ نے غلط فہمی سے ترغیب کو حکم سمجھ لیا، اب سوال یہ ہے کہ آپ نے حضرت ماریہ قبطیہ کو آزاد کیوں نہیں کیا؟ اس کا جواب قرآن میں موجود ہے، لیکن مشکل یہ ہے کہ برق صاحب نے دونوں چیزیں (قرآن و حدیث) سرسری طور پر دیکھی ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{ َایَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنْم بَعْدُ وَ لَآ اَنْ تَبَدَّلَ بِھِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَکَ ُسْنُھُنَّ اِلَّا مَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ } (الاحزاب)
اے رسول تمہارے لیے ان بیویوں کے بعد اور بیوی حلال نہیں، نہ کسی اور کو تم ان میں کسی کے ساتھ بدل سکتے ہو، خواہ وہ تمہیں کتنی ہی حسین کیوں نہ معلوم ہوں، مگر ہاں لونڈی رکھ سکتے ہو۔
اس آیت نے آپ کو روک دیا تھا، لہٰذا آپ حضرت ماریہ کو آزاد کرکے بیوی نہ بنا سکے، کہیے اب کیا اعتراض ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
میرا خیال ہے کہ حضور نے مدینہ میں آکر ازواج مطہرات کو بطور شوہر استعمال ہی نہیں فرمایا تھا۔ (دو اسلام ص ۲۲۰)
ازالہ
یہ خیال قطعاً صحیح نہیں، آپ کا یہ خیال تواتر کے خلاف ہے، اگر اس طرح محض ظن و تخمین ہے تواتر کا انکار ہونے لگا، تو پھر قرآن کا بھی انکار ناممکن نہیں رہے گا، برق صاحب اگر کوئی دشمن اسلام یہ کہہ دے کہ آپ کے پیغمبر نے جوان جوان لڑکیاں اپنے گھر میں کیوں رکھ چھوڑی تھیں جب کہ وہ ان کی تسکین کے قابل نہ تھے؟ کیا یہ ان لڑکیوں پر ظلم نہیں تھا؟ کیا یہ انسانیت کا خون نہیں؟ کیا یہ عیسائی مذہب کی راہبہ عورتوں کی مماثلت نہیں؟ آخر ان لڑکیوں سے کیا کام لیا جاتا تھا؟ بتائیے ان سوالات کا آپ کیا جواب دیں گے یہی کہ ہاں بھائی تھا تو ایسا ہی اللہ کی مصلحت اللہ ہی جانے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
بے اندازہ مصروفیات لاتعداد تفکرات اور بے شمار پریشانیوں میں نہیں مباشرت کی سوجھ ہی کیسے سکتی تھی۔ (دو اسلام ص ۲۲۲)
بے شک ان بے اندازہ مصروفیتوں کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی راہبانہ نہیں تھی، آپ نے دین و دنیا کو اس طرح سمو دیا تھا کہ ہمیں آپ کی اسی زندگی پر ناز ہے، کیا کوئی دوسرا انسان ایسا اسوہ پیش کرسکتا ہے، جو چیز قابل فخر ہے، آپ اس سے شرما رہے ہیں، برق صاحب احساس کمتری کو دل سے نکال دیجئے، ان شاء اللہ سب کام ٹھیک ہو جائیں گے، دیکھئے ایک غیر مسلم پول برنٹن کیا لکھتا ہے، وہ تحریر کرتا ہے:
I could not but respect the wisdom of prophet Mohammad for so deftlry tcching his followers to mingle the life of religeous devotion with the life of the lisy word. A search in the secret egytt by paul branton.
'' میں پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دانائی کی تکریم کئے بغیر نہیں رہ سکتا جنہوں نے اپنے مبتعین کو اتنی خوش اسلوبی کے ساتھ دینی زندگی کو دنیاوی مصروف زندگی کے ساتھ سمونا سکھا دیا۔
غلط فہمی
اس کا راوی انس ہے اور یہ وہی بزرگ ہیں جنہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر بھی معلوم نہیں تھی۔ (دو اسلام ص ۲۱۷)
ازالہ
حضرت انس کو حضور کی عمر معلوم تھی ان کا بیان ہے کہ حضور کی عمر ۶۳ سال کی تھی (صحیح مسلم) باقی رہا یہ امر کہ اس حدیث میں گیارہ بیویوں کا ذکر ہے، حالانکہ آپ کی صرف نو بیویاں زندہ تھیں دو کا انتقال ہوچکا تھا، یہ بے شک صحیح ہے، لیکن اس میں غلطی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نہیں ہوئی، کسی اور راوی نے دو لونڈیوں کو ملا کر گیارہ کہہ دیا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی حدیث میں نو کی تعداد مذکور ہے، معلوم نہیں صحیح بخاری سے اس حدیث کو نقل کرتے وقت آپ نے اس کا آخری حصہ کیوں چھوڑ دیا، حالانکہ امام بخاری نے اس کو نقل ہی اس لیے کیا تھا کہ راوی کی غلطی ثابت کریں، کہ اس نے اس روایت میں نو کے بجائے گیارہ غلطی سے کہا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے تو نو ہی کہا تھا، غرض کہ ہر بات کا جواب حدیث میں موجود ہوتا ہے، مگر برق صاحب تحقیقی نظر نہیں ڈالتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میرا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ برس کی عمر میں ہوا تھا ''وبنی بی وانا بنت تسع سنین'' اور آپ نے مجھ سے نو برس کی عمر میں مجامعت کی ... اتنی نابالغ بچی ہو، مہینہ بھر تپ محرقہ میں مبتلا رہ کر کانٹا ہوچکی ہو، کیا ایسی بچی مجامعت کی تاب لاسکتی ہے۔ (دو اسلام ص ۲۲۳)
ازالہ
برق صاحب یہ وہی مبالغہ آمیزی اور رنگین بیانی ہے جس کا آپ کو خود اعتراف ہے، مباشرت کے معنی آپ مجامعت کرتے ہیں، '' یدور'' کے معنی آپ مجامعت کرتے ہیں ''بنی'' کے معنی آپ مجامعت کرتے ہیں، آخر یہ مجامعت کا لفظ بار بار کیوں آجاتا ہے، ترجمہ کرتے وقت ذرا تحقیق کرلیا کیجئے ترجمہ مذکور میں مجامعت آپ کی غلط فہمی کا نتیجہ ہے '' بنیٰ'' کے معنی ہیں'' شادی کرکے بیوی کو گھر میں لانا'' (مفتاح اللغات) لہٰذا صحیح ترجمہ یہ ہوا کہ نو سال کی عمر میں وداع ہوئی اس کے بعد کیا ہوا حدیث میں اس کا کوئی ذکر نہیں مختلف ممالک میں بلوغ کی عمر مختلف ہوتی ہے، بلکہ ایک ہی ملک میں بلوغ کی عمروں میں تفاوت پایا جاتا ہے، لہٰذا آپ کا یہ خیال کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نابالغ تھیں غلط فہمی پر مبنی ہے، ایک افریقی لڑکی کے ۵ سال کی عمر میں ۲۸ مارچ ۶۶ء کو بچہ ہوا (اخبار ڈان مورخہ ۲۹ مارچ ۶۶ء) گویا وہ آٹھ سال کی عمر میں بالغ ہوگئی تھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
سبرہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعہ ... کی اجازت طلب کی، آپ نے دے دی... میں اس عورت کے پاس تین راتیں ٹھہرا۔ (مسلم جلد ۳ ص۴۴۳)
تو پھر کیا حکم ہے ان خواتین کے متعلق جو پشاور سے چل کر ٹپی بازار میں کچھ ایسے ہی مقاصد کے لیے جاتے ہیں اور کئی کئی راتیں وہیں گزارتے ہیں۔ (دو اسلام ص ۲۲۴)
ازالہ
کتنی زبردست غلط فہمی آپ کو ہوئی یہ اس وقت کا ذکر ہے، جب متعہ کی ممانعت نہیں ہوئی تھی آپ نے خود لکھا ہے کہ جنگ خیبر میں اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کردیا تھا (دو اسلام ص ۲۲۴) لہٰذا پھر بھی اعتراض کئے جانا قرین انصاف نہیں، اسی طرح اوائل اسلام میں کافر عورتوں سے نکاح جائز تھا، شراب بھی عام طور پر پی جاتی تھی، بتدریج یہ چیزیں حرام ہوئیں، لہٰذا حدیث سے اس پر کیا اعتراض وارد ہوسکتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
حضرت جابر کہتے ہیں کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق کے زمانہ میں مٹھی بھر آٹا دے کر عورتوں کو استعمال کیا کرتے تھے اور اس حرکت سے ہمیں حضرت عمر نے روکا تھا۔ ( ص ۲۲۴۔ ۲۲۵)
ازالہ
حرمت کے بعد جن لوگوں نے ایسا کیا، یہ ان کی لاعلمی تھی، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا، تو انہوں نے اس کی حرمت کا اعلان کروا دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
حضرت جابر کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کے لیے روانہ ہوئے، جن کے پاس قربانی کے لیے کچھ بھی نہیں تھا، انہیں ذی الحجہ کی پانچویں تاریخ کو حرام توڑنے کی اجازت دی گئی، چنانچہ ہم نے خوب جماع کیا اور پانچویں دن کے بعد جب ہم عرفہ کے لیے روانہ ہوئے تو تقطر مذاکیرنا المنی ہمارے اعضائے تناسل سے نطفہ بدستور ٹپک رہا تھا ... عام حالات میں جماع کے بعد تسکین آجاتی ہے، لیکن خدا جانے ان صحابہ نے کون سے کشتہ کھایا ہوا تھا، کہ حج کے مقدس موقع پر بھی ان کا نطفہ اچھل اچھل کر زمین پر گر رہا تھا۔ (دو اسلام ص ۲۲۵)
ازالہ
برق صاحب یہ رنگ آمیزی نہیں ہے تو اور کیا ہے، عربی عبارت اس شرمناک ترجمہ کی متحمل نہیں، بہرحال تصور عبارت کے مقصد کو نہ سمجھنے کا ہے، سنیے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
کان رسول اللہ ﷺ یصلی من اللیس منی مشنی ویوتر برکعۃ ویصلی رکعتین قبل اخداۃ کان الاذان باذنیہ (صحیح مسلم باب صلوۃ اللیل)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دو رکعت نماز پڑھتے تھے اور ایک رکعت پڑھتے تھے اور صبح کی نماز سے پہلے دو رکعت پڑھتے تھے گویا کہ اذان آپ کے کان میں ہوتی تھی۔
یعنی صبح کی سنتیں ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ اذان ختم ہوئی اور سنتیں شروع کردیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اذان سنتے تھے اور سنتیں پڑھنی شروع کردیتے تھے، اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ اذان اور سنتوں کے آغاز کے درمیان میں بہت کم وقفہ ہوتا تھا، گویا وقت کی قلت کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس طرح ظاہر کر رہے ہیں یہی وقت کی قلت آپ کی نقل کردہ حدیث میں ہے، یعنی ابھی کچھ دیر پہلے وہ صحبت کرچکے تھے اور اب احرام میں تھے اور صحبت کرنے اور احرام باندھنے کے درمیان بہت ہی قلیل وقفہ تھا۔ یہ الفاظ کہ ان کے مذاکیر پانی ٹپکا رہے تھے وقت کی قلت کا اظہار کرتے ہیں، اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ ابھی کچھ دیر پہلے ہم صحبت کرچکے تھے اور اب حج کر رہے تھے ، دوران حج میں پانی ٹپکانے کا ذکر نہیں ہے، بلکہ پانی ٹپکانا حج کے آغاز سے پہلے ہوا تھا، آپ نے جو ترجمہ کیا ہے، افسوس ہے کہ اس میں تحریف معنوی ہوئی ہے، گونا دانستہ ہوئی ہو، لفظ جماع سے پہلے ''خوب'' کا اضافہ بھی خوب ہے!!! '' نطفہ بدستور ٹپک رہا تھا'' یہ ترجمہ صحیح نہیں، پھر اس میں ''بدستور'' کا اضافہ محاورہ عرب کے خلاف ہے صحیح ترجمہ یہ ہے کہ صحبت اور پھر احرام باندھ لینے میں اتنا کم وقفہ تھا ، گویا ابھی پانی ٹپک رہا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
نہ یہ احادیث صحابہ کی سیرت کے مطابق اور نہ حضور کے عظیم الشان کردار کے موافق، صحابہ کے متعلق قرآن کہتا ہے:
{ تَرٰہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللہِ وَرِضْوَانًا }
تم ان صحابہ کو دیکھو کہ ہر وقت اللہ کے سامنے رکوع و سجود میں پڑے الطاف الٰہی کے لیے دعائیں مانگ رہے ہیں۔ (دو اسلام ص ۲۲۵۔ ۲۲۶)
ازالہ
ان ہی صحابہ کے متعلق آپ پہلے لکھ آئے ہیں۔
ان حالات میں ممکن ہے کہ کسی صحابی نے عمداً کسی حدیث کے الفاظ بدل دئیے ہوں۔ (ص۴۵)
اب بتائیے آپ کا کونسا بیان صحیح ہے کیا یہ بیان کہ صحابہ کرام قصداً تحریف کرتے تھے آپ کی دارد کردہ قرآنی آیت کے عین مطابق ہے، کچھ تو انصاف اور تحقیق سے لکھا کیجئے، اسلام کے مزاج کے مطابق ترجمہ کیا کیجئے، آزاد ترجمہ اگر جائز رکھا گیا تو پھر کوئی من چلا قرآن کی مندرجہ ذیل آیت سے قحبہ خانہ کھولنے اور زنا بالرضا کی اجازت نکال لے گا، آیت یہ ہے:
{ وَلَا تُکْرِہُوا فَتَیٰتِکُمْ عَلَی الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا } (نور)
دنیا کمانے کے لیے اپنی لونڈیوں کو زنا پر مجبور مت کرو، اگر وہ پاک دامن رہنا چاہتی ہوں تو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
باب ۱۰
'' حدیث میں نماز کی صورت''

غلط فہمی
معراج کی حدیث نقل کرنے کے بعد برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
اس داستان کا خلاصہ یہ ہوا کہ امت رسول کی استعداد کا علم نہ خدا کو تھا، اور نہ حضور کو اگر موسیٰ علیہ السلام بیچ میں نہ پڑتے تو امت پر پچاس نمازیں فرض ہو جاتیں اور یہ امت صبح سے لے کر شام تک نمازیں ہی پڑھتی رہتی نہ کما سکتی نہ کھا سکتی ... یہ تو حضرت موسیٰ کی عقل کی داد دیجئے ... ماشاء اللہ کیا داستان تراشی ہے کہ حضرت موسیٰ کوضا اور رسول کا معلم دانش بنا ڈالا ہے۔ (دو اسلام ص ۲۲۹)
ازالہ
بات در حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تو معلوم تھا کہ پچاس وقت کی نمازیں ادا کرنا بہت مشکل ہے مگر احسان و کرم کرنا مقصود تھا، زیادہ بوجھ ڈال کر پھر اس کو کم کردینے میں جو لطف و کرم ہے، اس کا اندازہ کچھ وہی لوگ کرسکتے ہیں، جن کو اس کا تجربہ ہو، یا جو علم نفسیات میں ماہر ہوں، قصور کو معاف کرنا، دل کو خوش کرتا ہے، اس میں معاف کرنے والے کا تحمل اور اس کی شان عالیہ کا مطاڑہ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی قصور معاف کرکے بہت خوش ہوتا ہے، اور بندوں کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ اپنے قصور معاف کرائیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللہِ اِنَّ اللہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا } (زمر)
یعنی اللہ کی رحمت سے نا امید مت ہو، بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہ معاف کردے گا۔
اور بار بار فرماتا ہے:
{ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ }
بیشک اللہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
ایک اور جگہ فرماتا ہے:
{ یُرِیْدُ اللہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ } (البقرۃ)
اللہ تعالیٰ تم پر آسانی کرنا چاہتا ہے اور سختی کرنا نہیں چاہتا۔
اسی طرح بوجھ ہلکا کر دینا بھی اللہ تعالیٰ کو پسندیدہ ہے لیکن بندوں سے کہتا ہے کہ تم کہو کہ اے اللہ ہم پر زیادہ بوجھ نہ ڈالنا، مثلاً ارشاد ہے:
{ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ } (البقرۃ)
یعنی اے ہمارے رب ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جو ہماری طاقت سے باہر ہو۔
 
Top