• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,566
ری ایکشن اسکور
6,724
پوائنٹ
1,207
بات صاف ہے کہ اللہ تعالیٰ خود ہی ایسا حکم نہیں دینا چاہتا جو دشوار ہو، بلکہ وہ تو آسانی چاہتا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی چاہتا ہے کہ بندے التجا کریں اور پھر میں تخفیف کروں اور اسی لیے اس نے ہمیں یہ دعا سکھائی، نمازوں میں تخفیف بھی اسی بنا پر بندے کی التجا پر واقع ہوئی۔
چلتے چلتے اس اعتراض کا جواب قرآن سے بھی سنتے جائیے، موسیٰ علیہ السلام کو نبی بنایا جاتا ہے لیکن وہ درخواست کرتے ہیں:
{ وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَھْلِیْ ۔ ھٰرُوْنَ اَخِی ۔ اشْدُدْ بِہٖٓ اَزْرِیْ ۔ وَ اَشْرِکْہُ فِیْٓ اَمْرِیْ } (طہ)
اے اللہ میرے اہل میں سے میرا ایک وزیر بنا دے یعنی میرے بھائی ہارون کے ذریعہ مجھے قوت عطا فرما اور اسے میرے کام میں شریک کردے۔
بلکہ صاف صاف اس طرح دعا کرتے ہیں:
{ وَیَضِیْقُ صَدْرِیْ وَلَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰی ہٰرُوْنَ } (الشعراء)
میرا سینہ تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے، اس لیے اے اللہ ہارون کو بھی رسالت سے سرفراز فرما۔
کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اس کام کو انجام نہیں دے سکتے تھے اور یہ بات اللہ تعالیٰ کو پہلے سے معلوم نہیں تھی، جب موسیٰ علیہ السلام نے توجہ دلائی تو اللہ تعالیٰ کو بھی نعوذ باللہ ہوش آیا کہ واقعی یہ کام اکیلے ان کے بس کی بات نہیں، لہٰذا ہارون علیہ السلام کو بھی رسول بنا دیا ، ارشاد باری ہے:
{ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَکَ یٰمُوْسٰی } (طہ)
اے موسیٰ ہم نے تمہارا مطالبہ منظور کرلیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,566
ری ایکشن اسکور
6,724
پوائنٹ
1,207
قرآن مجید سے اس قسم کی متعدد مثالیں دی جاسکتی ہیں، اور جب اس قسم کی باتوں سے قرآن پر اعتراض نہیں، تو حدیث پر اعتراض کیوں، ایک مثال اور سنیے ہم نماز میں پڑھتے ہیں۔
{ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ }
اے اللہ ہم کو سیدھے راستے پر چلا۔
پھر ہم کہتے ہیں:
{ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ ۔ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ }
ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا، ان لوگوں کا راستہ نہیں جو مغضوب یا گمراہ ہیں۔
تو کیا اللہ تعالیٰ نہیں جانتا کہ سیدھا راستہ کونسا ہے، ہم اللہ کو بتاتے ہیں کہ سیدھا راستہ کونسا ہے، کہیں وہ غلطی نہ کر جائے، نعوذ باللہ۔ ایک اور مثال سنیے:
{ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْہُ فَتَابَ عَلَیْکُمْ فَاقْرَئُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ } (المزمل)
اللہ کو معلوم ہوگیا کہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے لہٰذا اس نے تم پر رحم کرنے کا ارادہ کیا۔ پس اب تم جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو۔
فرمائیے کیا اللہ کو پہلے سے علم نہ تھا، جو بعد میں تخفیف کردی، تجربہ سے معلوم ہوا، بات یہاں بھی وہی ہے یہاں بھی وہی اصول لطف و کرم جلوہ فرما ہے، یعنی زیادہ بوجھ ڈال کر ہلکا کر دینا، یہ اللہ کو بہت پسند ہے۔ اس طرح وہ اپنے بندوں پر ترحم خسر دانہ کا مظاہرہ کرتا رہتا ہے۔ اور سنیے ارشاد باری ہے:
{ َلْئٰنَ خَفَّفَ اللہُ عَنْکُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًا } (الانفال)
اب اللہ نے تم پر سے بوجھ ہلکا کردیا اور اس کو معلوم ہوگیا (یا اس کو معلوم تھا) کہ تم میں کمزوری ہے۔
یعنی یہ حکم مسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت تھا، بعد میں اس کو ہلکا کردیا گیا، سوال یہ ہے کہ ایسا حکم پہلے دیا ہی کیوں گیا تھا؟ کیا ان آیات کی بناء پر قرآن پر اعتراض کیا جاسکتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر حدیث نے کیا قصور کیا ہے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,566
ری ایکشن اسکور
6,724
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
اور یہ آخری فقرہ بھی خوب ہے کہ '' ہم اپنا قول نہیں بدلا کرتے'' اگر نہیں بدلا کرتے تو پھر پچاس سے پچیس اور پچیس سے پانچ کیوں کیں۔ (دو اسلام ص ۲۲۹)
ازالہ
یہاں بات سے مراد احکام شریعت نہیں ہیں، کیونکہ احکام شریعت تو بدلا ہی کرتے ہیں، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{ مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْ نُنْسِھَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْھَآ اَوْ مِثْلِھَا } (البقرۃ)
جب ہم کسی حکم کو منسوخ کرتے ہیں تو اس سے بہتر یا اسی کے مثل دوسرا حکم دے دیتے ہیں۔
برق صاحب اس آیت پر وہی اعتراض ہوسکتا ہے جو آپ نے حدیث پر کیا ہے، یعنی پہلے ایسا حکم دیا ہی کیوں جاتا ہے، جو چل نہیں سکتا، یا جس سے بہتر دوسرا موجود رہتا ہے، خیر یہ جملہ معترضہ تھا، اس آیت سے یہ ضرور ثابت ہوا کہ احکام شریعت منسوخ ہوا کرتے ہیں اور حدیث زیر بحث میں ''بات'' سے مراد احکام شریعت نہیں، بلکہ حسنات کا وہ اٹل قانون مراد ہے، جو اس آیت میں بتایا گیا ہے۔
{ مَنْ جَآءَبالسمۃ فلہ عشر امثالھا }
جو نیکی کرے گا اس کو اس نیکی کا دس گنا ثواب ملے گا۔
خلاصہ یہ ہوا کہ ہم نے پچاس کی پانچ تو کردیں، لیکن ثواب ہم پچاس ہی کا دیں گے ، کیونکہ ہمارا قانون یہی ہے کہ ثواب دس گنا دیا کرتے ہیں، یہ قانون غیر متبدل ہے، بدلے گا نہیں یہی مطلب ہے حدیث کے اس ٹکڑے کا '' ما یبدل القول لدی'' کیونکہ اس فقرہ سے پہلے حدیث میں یہ الفاظ موجود ہیں '' ھی خمس وھی خمسون'' یعنی بظاہر یہ پانچ ہیں لیکن حقیقت میں یہ پچاس ہی کے برابر شمار ہوں گی اور اس طرح پچاس جو ہم نے فرض کی تھیں، ان کی ادائیگی ہو جائے گی۔ دوسری روایت میں حدیث کے الفاظ اس قانون کی طرف صراحت سے اشارہ کرتے ہیں اور نہ بدلنے والی بات کی تفسیر کرتے ہیں۔ الفاظ یہ ہیں:
یا محمد انھن خمس صلوات کل یوم ولیلۃ لکل صلوۃ عشرا من ھم بحسنۃ فلم یعملھا کتبت لہ حسنۃ فان عملھا کتبت لہ عشرا (صحیح مسلم جلد ۱، ص۸۲ مطبوعہ مصر)
اے محمد دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں ہر نماز کا ثواب دس کے برابر ہے (اور یہ اس قانون کے لحاظ سے ہے کہ) جس نے ایک نیکی کا ارادہ کیا اور عمل نہ کرسکا اس کے لیے ایک نیکی لکھی جائے گی اور جس نے عمل کرلیا اس کے لیے دس نیکیاں لکھوں گا۔
الغرض نہ بدلنے والی بات یہ قانون حسنات ہے نہ کہ احکام شریعت۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,566
ری ایکشن اسکور
6,724
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضور ہر نماز کے لیے نیا وضو کیا کرتے تھے۔ (بخاری جلد ۱، ص ۳۵)
تردید بالا
ابن عباس کہتے ہیں کہ ایک رات میں اپنی خالہ حضرت میمونہ کے گھر میں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر سو چکنے کے بعد جاگے، وضو کیا، نماز پڑھی، پھر آپ لیٹ گئے، یہاں تک کہ خراٹوں کی آواز آنے لگی، اس کے بعد نماز کے لیے بلانے والا آیا، آپ اس کے ہمراہ مسجد کو چل دئیے اور وہاں جا کر وضو کئے بغیر نماز ادا کی۔ بخاری (دو اسلام ص ۲۳۰)
ازالہ
برق صاحب یہ تردید باتعارض نہیں ہے، ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنا، یہ آپ کا معمول تھا اور کبھی کبھی اسی وضو سے دوسری نماز بھی پڑھ لیا کرتے تھے لیکن یہ عمل شاذ تھا، اور وہ اکثر ، لہٰذا بفحوائے ''للاکثر حکم الکل'' حضرت انس رضی اللہ عنہ نے آپ کا معمول یہ بتایا کہ ہر نماز کے لیے تازہ وضو کیا کرتے تھے، سنیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{ یَوْمَ تَاْتِیْ کُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَفْسِھَا } (النمل)
قیامت کے دن ہر شخص اپنے نفس کے معاملہ میں جھگڑتا آئے گا۔
دوسری جگہ ارشاد ہے:
{ ہٰذَا یَوْمُ لَا یَنْطِقُوْنَ ۔ وَلَا یُؤْذَنُ لَہُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ } (مرسلات)
قیامت کے دن لوگ بات نہ کرسکیں گے اور نہ انہیں اجازت ملے گی کہ اپنے عذر پیش کرسکیں۔
پہلی آیت میں ہے کہ انسان اپنے معاملہ میں خوب بحث کرے گا اور دوسری میں ہے کہ وہ بول بھی نہ سکے گا کہ معذرت پیش کرسکے، کہیے کہ دوسری آیت پہلی کی تردید کرتی ہے؟ دوسری آیت عام حالت کا بیان ہے اور پہلی آیت اس کو خاص کرتی ہے، اسی طرح پہلی حدیث عام حالت کو بیان کرتی ہے اور دوسری اس کی تخصیص کرتی ہے کہ اس خاص واقعہ میں محض اتفاقاً ایسا بھی ہوا تھا ... اور یہ بھی جائز ہے برق صاحب اگر آپ قرآن کو غور سے پڑھ لیتے تو احادیث میں تطبیق دینے کا ملکہ پیدا ہو جاتا اور یہ غلط فہمیاں نہ ہوتیں۔
دوسرے طریقہ سے
برق صاحب پہلی حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ہر وقت کی نماز کے لیے آپ نیا وضو کرتے تھے۔ دوسری حدیث میں یہ ہے کہ رات کی نماز کے لیے آپ نے وضو کیا اور اسی وضو سے آپ نے صبح کی نماز پڑھی، اس میں یہ کہاں ہے کہ عشاء کی نماز کے وضو سے آپ نے صبح کی نماز پڑھی، حدیث میں تو صاف ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد آپ سو گئے تھے، پھر اٹھے وضو کیا، اور نماز پڑھی، لہٰذا دونوں حدیثوں میں کوئی تعارض ہی نہیں، تعارض اس وقت ہوتا جب آپ عشاء کے وضو سے صبح کی نماز پڑھتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,566
ری ایکشن اسکور
6,724
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
اس حدیث سے دو باتیں واضح ہوگئیں، اول کہ حضور ہر نماز کے لیے نیا وضو نہیں کرتے تھے، دوم کہ نیند کے بعد وضو ضروری نہیں، اگر آپ یہ کہیں کہ رسول اکرم کی صرف آنکھیں سوتی تھیں، اور دل جاگتا رہتا تھا، اس لیے ان کے لیے وضو ضروری نہیں تھا اور یہ ہدایت صرف امت کے لیے تھی، تو ملاحظہ کیجئے صحیح مسلم کا یہ قول:
کان اصحاب رسول اللہ ﷺ نیامون ثم یصلون ولا یتوضون
کہ حضور کے صحابہ سوچکنے کے بعد وضو کئے بغیر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
کیا صحابہ کے دل بھی نبی علیہ السلام کی طرح جاگتے رہتے تھے۔ (دو اسلام ص ۲۳۰۔ ۲۳۱)
ازالہ
پہلی بات کا جواب تو اوپر دیا جا چکا ہے، یعنی پانچوں نمازوں کے لیے آپ نیا وضو کرتے تھے اور ان میں سے کسی ایک نماز کے وضو سے دوسری نماز نہیں پڑھتے تھے، یہی آپ کا معمول تھا سوائے جواز کے اظہار کے آپ نے اس کے خلاف کبھی نہیں کیا، اور جواز کے اظہار کے لیے بھی اس معمول میں صرف ایک مرتبہ فرق آیا تھا، لہٰذا برق صاحب کا یہ نتیجہ نکالنا صحیح نہیں کہ حضور ہر نماز کے لیے نیا وضو نہیں کرتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,566
ری ایکشن اسکور
6,724
پوائنٹ
1,207
رہی دوسری بات کہ نیند کے بعد وضو ضروری نہیں، تو اس کے متعلق عرض ہے کہ جو حدیث آپ نے نقل فرمائی ہے، اس میں ہے:
ثم اضطجع
یعنی آپ لیٹ جایا کرتے تھے۔
لیکن صحابہ کے متعلق یہ نہیں ہے کہ وہ بھی لیٹ کر سویا کرتے اور پھر وضو نہیں کرتے تھے، صحابہ کے متعلق جو الفاظ برق صاحب نے نقل فرمائے ہیں وہ ایک خاص واقعہ سے تعلق رکھتے ہیں، یعنی ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں دیر کی، صحابہ مسجد میں انتظار کرتے رہے، حتیٰ کہ اس انتظار کے دوران میں بعض لوگ اونگھنے لگے،
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,566
ری ایکشن اسکور
6,724
پوائنٹ
1,207
حدیث کے الفاظ ملاحظہ ہوں۔
حتی وقد ناس واستیقظوا ورقدوا واستیقظوا (صحیح مسلم)
یعنی بعض لوگ سو گئے تھے، پھر جاگے، پھر جاگے، پھر سو گئے، پھر جاگے۔
الفاظ حدیث خود بتا رہے ہیں مکہ بعض صحابہ اونگھ رہے تھے، سو جاتے تھے پھر جاگ جاتے تھے، اس میں لیٹ کر سونے کا کوئی ذکر نہیں، اور یہی وجہ ہے جس کی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس حدیث میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیٹ کر سو جانے اور پھر وضو نہ کرنے میں کوئی منافات ہی نہیں صحابہ کیونکہ لیٹ کر نہ سوتے تھے اس لیے نیند غفلت کی نہ ہوتی تھی، لہٰذا دوبارہ وضو کی ضرورت بھی نہ ہوتی تھی
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,566
ری ایکشن اسکور
6,724
پوائنٹ
1,207
حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں اس کی صراحت ہے:
حتی تخفق رؤسہم ثم یصلون ولا یتوضون (ابو داؤد)
''یعنی صحابہ کے سر اونگھ کی وجہ سے جھک جاتے تھے اور پھر وہ بغیر تازہ وضو کیے نماز پڑھ لیتے تھے۔''
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی غفلت کی نیند نہ سوتے تھے۔ لہٰذ ا آپ کا وضو نہ ٹوٹتا تھا غفلت کی نیند بیٹھے بیٹھے سونے سے نہیں آتی، لہٰذا ایسی حالت میں صحابہ کا وضو بھی نہیں ٹوٹتا تھا لیٹ کر سونے سے غفلت طاری ہو جاتی ہے لہٰذا وضو ٹوٹ جاتا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کی صراحت فرما دی ہے ارشاد گرامی ہے:
لیس علی من ناہ ساجدا وضوء حتی یضطجع قائما اذا اضطجح استرخت مفاصلہ (مسند احمد)
''جو شخص سجدہ میں سو جائے اس پر وضو نہیں جب تک کہ لیٹ کر نہ سوئے اس لیے کہ لیٹ کر سونے سے جوڑ ڈھیلے ہو جاتے ہیں۔''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,566
ری ایکشن اسکور
6,724
پوائنٹ
1,207
دوسری روایت میں ہے:
العین وکاء السہ فمن ناحہ فلیتوضا
''آنکھ مقعد کا بندھن ہے پس جو سو جائے وہ وضو کرے۔''
ان دونوں احادیث سے معلوم ہوا کہ لیٹ کر سونے سے جوڑ ڈھیلے ہو جاتے ہیں بندھن ٹوٹ جاتا ہے اور ریاح خارج ہونے کا احتمال قوی ہوتا ہے لہٰذا وضو لازمی ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نیند میں غافل نہیں ہوتے تھے کہ آپ کو وضو ٹوٹنے کا علم نہ ہو، اس سے آپ کے لیے وضو ضروری نہیں تھا، معلوم نہیں برق صاحب کو اس تطبیق میں کیا دقت پیش آئی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,566
ری ایکشن اسکور
6,724
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
''فقہ بتلاتی ہے... کہ خون نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے'' (دو اسلام ص ۲۲۹) پھر اس کے بعد تعارض میں یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ غزوہ ذات الرقاع میں حضور ایک تیر سے زخمی ہوگئے اور خون بہہ نکلا لیکن آپ اس حالت میں بھی نماز پڑھتے رہے۔'' (دو اسلام ص: ۱۳۱)
ازالہ
برق صاحب ابھی تک تو آپ حدیث کو حدیث سے ٹکرا رہے تھے لیکن یہ آپ نے کیا کیا کہ اب فقہ کو حدیث سے ٹکرانے لگے، فقہ میں اکثر مسائل بے بنیاد و من گھڑت ہیں اور یہ مسائل القرآن و حدیث سے ٹکراتے ہیں لہٰذا وہ مسائل خود مردود ہیں، ان کو حدیث کے مقابلہ میں پیش نہیں کیا جاسکتا پھر فقہ سے آپ کی مراد حنفی فقہ ہے، آپ نے دوسروں فقہوں کا حوالہ کیوں نہ دیا، اگر آپ دوسری فقہوں کا حوالہ دیتے، تو پھر فقہ اور حدیث میں بھی مطابقت پائی جاتی حنفی فقہ تو بیشتر مقامات پر حدیث سے ٹکراتی ہے اس لیے یہ سب سے بدتر ہے۔
انتباہ
برق صاحب نے لکھا ہے کہ حضور کے تیر لگا، اور خون بہہ نکلا وغیرہ وغیرہ یہ صحیح نہیں بلکہ ایک اور شخص کے تیر لگا تھا اور اس کے خون نکلا اور اس حالت میں بھی وہ نماز پڑھتا رہا۔ (ملاحظہ ہو، صحیح بخاری جلد:۱، ص:۳۲)
 
Top