• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,566
ری ایکشن اسکور
6,724
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
ہم دعائے قنوت عشاء میں پڑھتے ہیں، لیکن حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دعائے قنوت نماز مغرب و فجر میں پڑھی جاتی تھی۔ (دو اسلام ص ۲۳۷)
ازالہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں قنوت نازلہ کا بیان ہے اور یہ اب بھی ضرورت کے وقت سنت ہے، وتر کا قنوت اس سے علیحدہ ہے، آپ دونوں کو ایک سمجھ رہے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,566
ری ایکشن اسکور
6,724
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
ہمارا امام سبحانک اللھم وبحمدک ... لا الہ غیرک دل میں پڑھتا ہے لیکن مسلم میں عبدہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بلند آواز سے پڑھتے تھے۔ (دو اسلام ص ۲۳۷)
ازالہ
برق صاحب تعلیم کی غرض سے ثناء کا بلند آواز ہے پڑھنا جائز ہے، دارقطنی کی روایت میں صاف مذکور ہے۔
یسمعنا ذلک ویعلمنا (دارقطنی ص۱۱۳)
یعنی ہمیں سناتے تھے اور ہمیں سکھاتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,566
ری ایکشن اسکور
6,724
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
بلکہ ایک روایت کے مطابق حضور اور ان کے صحابہ ... سبحانک اللھم ... کو چھوڑ جاتے تھے... انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان کے پیچھے نماز پڑھتا رہا یہ حضرات نماز کا آغاز ہی سورہ فاتحہ سے کیا کرتے تھے... افتتاح کے معنی ہیں آغاز کرنا، شروع کرنا اور شروع کا مفہوم یہی ہے کہ اس سے پہلے اور کوئی چیز نہ ہو۔ (دو اسلام ص ۲۳۷۔ ۲۳۸)
ازالہ
برق صاحب! حدیث میں تو یہ نہیں ہے کہ سورہ فاتحہ سے نماز شروع کرتے تھے ، لفظ ''نماز'' آپ کی طرف سے ہے، حدیث میں اس طرح ہے:
یستفتحون بالحمد للہ رب العالمین
یعنی الحمد للہ رب العالمین سے شروع کرتے تھے۔
اس کے آگے ہے:
لا یذکرون بسم اللہ الرحمن الرحیم فی اول قراۃ ولا فی اٰخرھا
یعنی نہ اس سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے نہ آخر میں۔
دوسری حدیث میں وہ خود اس کی وضاحت کرتے ہیں:
فلم اسمع احدا منھم یقرأ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ (مسلم)
یعنی میں نے ان میں سے کسی سے بسم اللہ الخ کو پڑھتے نہیں سنا ہے۔
مطلب ظاہر ہے کہ قرأت بالجہر کی ابتداء الحمد للہ رب العالمین سے کرتے تھے، حتیٰ کہ بسم اللہ بھی ایسی آواز سے نہیں پڑھتے تھے کہ میں سن سکوں، لہٰذا حدیث میں ثنا پڑھنے کی نفی نہیں ہے، بلکہ ذکر یہ ہے کہ بلند آواز سے کیا چیز شروع کرتے تھے اور عدم ذکر سے عدم شے لازم نہیں آتا، برق صاحب کچھ تو اصول پر بھی غور فرما لیا کیجئے، ان ہی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دوسری حدیث میں مذکور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم افتتاح '' سبحانک اللھم'' سے کیا کرتے تھے (تعلیق المغنی شرح دارقطنی ص۱۱۳ بحوالہ طبرانی فی کتابہ المفرد فی الدعاء) غرض یہ کہ محض پڑھنے کی ابتداء ثناء سے ہوتی اور بلند آواز سے قرأت کی ابتدا سورۂ فاتحہ سے ہوتی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,566
ری ایکشن اسکور
6,724
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
ہمیں نماز میں رکوع و سجود و قیام و تعوذکے بغیر کسی اور عمل کی اجازت نہیں، لیکن بخاری میں ہے:
'' سہل بن سعد کہتے ہیں کہ جب مسجد نبوی کے منبر تیار ہوا، تو حضور اس پر چڑھ گئے منہ قبلہ کی طرف پھیر لیا، تکبیر کہی ... پھر سجدے کے لیے زمین پر اتر آئے۔''
ایک مرتبہ حضور نے اپنی دختر زینب رضی اللہ عنھا کی بیٹی امامہ کو اٹھا کر نماز شروع کردی۔
ابن عباس کہتے ہیں ... حضور رات کی نماز پڑھ رہے تھے... میں بھی ان کے پیچھے بائیں طرف کھڑا ہوگیا۔ آپ نے مجھے پکڑ کر دائیں طرف کردیا۔ (دو اسلام ص۲۳۸)
ازالہ
برق صاحب یہ کس نے کہہ دیا کہ کوئی عمل جائز ہی نہیں، کاش آپ حنفی فقہ ہی کو ملاحظہ فرما لیتے ہاں ایسا عمل جائز نہیں جو ضروریات نماز سے نہ ہو، منبر پر کھڑے ہو کر نماز پڑھنا ضروریات نماز سے تھا، تاکہ لوگ نماز سیکھ لیں، سہل بن سعد کی روایت میں خود فخر کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تشریح فرما دی ہے، نماز کے بعد آپ نے فرمایا:
ایھا الناس انما صنعت ھذا التاتموا بی ولتعلموا صلاتی (بخاری کتاب الجمعۃ)
اے لوگو! میں نے اس لیے ایسا کیا تھا کہ تم میری اقتدا کرو اور میری نماز سیکھ لو۔
(۲) جب بچہ کو سنبھالنے والا کوئی نہ ہو اور نماز بھی پڑھنی ہو تو اس کی یہی صورت ہے کہ بچے کو گود میں لے کر نماز پڑھے، نماز کو محض اس عذر سے ترک نہ کیا جائے، امت کی عورتوں کے لیے یہ ایک آسانی بھی ہے اور ان کے عذر کا رد بھی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نواسی کو اٹھا کر نماز پڑھی اور اپنے عمل سے اس حالت میں نماز کی ادائیگی کا طریقہ سکھا دیا فللہ الحمد
(۳) بائیں سے دائیں طرف یا آگے سے پیچھے کردینا یہ اب بھی جائز ہے، کیونکہ نماز کی ضروریات سے ہے، معلوم نہیں برق صاحب نے اسے ناجائز کیسے سمجھ لیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,566
ری ایکشن اسکور
6,724
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
فقہا کے ہاں دوران نماز میں نمازی کے سامنے سے گزرنا ممنوع ہے، بخاری میں ابو سعید سے روایت ہے کہ اگر کوئی شخص نمازی کے سامنے سے گزر رہا ہو تو اسے روکے، اگر نہ رکے '' فلیقاتلہ فانما ھو شیطان '' تو اس سے باقاعدہ تلوار سے جنگ کرو، اس لیے کہ وہ شیطان ہے۔
لیکن ابن عباس کہتے ہیں کہ '' میں گدھی پر سوار ہو کر منی میں پہنچا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے میں کچھ نمازیوں کے سامنے سے گزر کر گدھی سے اترا... نماز میں شامل ہوگیا اور کسی نے برا نہ مانا۔ (ص ۲۳۹)
ازالہ
''فلیقاتلہ''کے معنی '' باقاعدہ تلوار سے جنگ کرو'' یہ کس حد تک صحیح ہیں؟ کیا یہ رنگینی اور مبالغہ آمیزی نہیں؟ سیدھے سادھے معنی یہ ہیں کہ اس سے لڑے ، یہ لڑنا کس طرح ہوگا، اس کی تشریح بھی حدیث میں موجود ہے '' وادرؤا ما استطعتم '' جہاں تک ہوسکے، اسے دفع کرو ۔(ابوداؤد)
امام کا سترہ تمام مقتدیوں کے لیے کافی ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص سترہ کے پیچھے سے مقتدیوں کے سامنے سے گزرے تو گزر سکتا ہے، دونوں حدیثوں میں تطبیق یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نمازی اور سترہ کے درمیان سے گزرے ، اسے روکنا چاہیے، اگر نہ رکے تو طاقت کے ذریعہ سے واپس کردے، لیکن اگر کوئی شخص کسی صف کے سامنے سے گزرے ، ایسی حالت میں کہ امام کے سامنے سترہ ہو ، تو گزر سکتا ہے لہٰذا دونوں حدیثوں میں کوئی تعارض نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,566
ری ایکشن اسکور
6,724
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ہے ... کہ '' کسی چیز کے سامنے گزر جانے سے نماز باطل نہیں ہوتی... مسلم کی ایک حدیث ہے ... ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضور سے روایت کرتے ہیں کہ عورت، گدھا اور کتا سامنے آجائیں تو نماز ٹوٹ جاتی ہے، لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ... کہ میں نماز میں حضور کے سامنے پاؤں ان کی طرف پھیلا کر لیٹ جاتی تھی۔ (دو اسلام ص ۲۳۹۔ ۲۴۰)
ازالہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا جو فیصلہ ہے، وہی حدیث میں ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا وضع احدکم بین یدیہ مثل مؤخرہ الرحل فلیصل ولا بیال من یمروراء ذلک۔ (صحیح مسلم)
جب میں تم سے کوئی شخص کجاوے کی پچھلی لکڑی کے مانند کوئی چیز اپنے سامنے رکھ لے، تو نماز پڑھے اور جو کوئی سترے کے آگے سے گزرے تو اس کے گزرنے کی پرواہ نہ کرے۔
دوسری حدیث میں آپ فرماتے ہیں:
لا یضرہ ما مر بین یدیہ (مسلم)
پھر کوئی چیز بھی جو سامنے سے گزرے نقصان نہ دیگی۔
ہاں اگر کوئی چیز سترہ اور نمازی کے درمیان سے گزرے، یا سترہ نہ ہو، پھر نمازی کے سامنے سے گزرے تو نماز قطع ہو جائے گی، برق صاحب نے جو حدیث صحیح مسلم کے حوالہ سے نقل کی ہے، اس کے آخری الفاظ نقل نہیں کئے، آخری الفاظ یہ ہیں:
وبقی ذلک مثل مؤخرۃ الرحل۔ (صحیح مسلم)
(عورت ، گدھا اور کتا نماز کو قطع کرتے ہیں، اور اس قطع کو بچاتی ہے، وہ چیز جو بطور سترہ سامنے رکھی ہو، مؤخرۃ الرحل کے مثل۔
اب حدیث میں اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کے قول میں کوئی منافات و تعارض باقی نہیں رہا۔
اب رہ جاتی ہے، وہ حدیث جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، یہ بھی اپنی جگہ پر صحیح ہے، برق صاحب محرم عورت اور نامحرم عورت میں بھی آخر فرق ہے، پھر لیٹے رہنے اور گزرنے میں بھی فرق ہے، گزرنے کی ممانعت ہے، لیٹے رہنے کی نہیں، آخر تعارض کی کون سی بات ہے، پھر نبی اور غیر نبی کا فرق بھی ملحوظ رکھا جاسکتا ہے، اندھیرے اور اجالے میں بھی فرق ہے، اختیار اور اضطرار میں بھی فرق ہے، آپ نے کسی فرق کو ملحوظ نہ رکھا، اگرچہ اصلی فرق محرم اور نا محرم ہی کا ہے، نامحرم کے گزرنے سے خیالات پریشان ہوتے ہیں۔ وسوسہ پیدا ہوتا ہے، حضور قلب جاتا رہتا ہے اور یہی قطع صلوٰۃ ہے، برخلاف اس کے اگر محرم سامنے سے نکلے تو خیالات میں پراگندی پیدا نہیں ہوتی، نہ حضور قلب قطع ہوتا ہے، یہ نفسیاتی اور جنسیاتی مسئلہ ہے اس کے سمجھنے کے لیے ان علوم کی مہارت ضروری ہے، یا پھر تجربہ درکار ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,566
ری ایکشن اسکور
6,724
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
حضرت عائشہ فرماتی ہیں:
کنت انام بین یدی رسول اللہ ﷺ ورجلای فی قلبتہ فاذا سجد غمزنی فقبضت رجلی فاذا قام بستطھما والبیوت لیس فیھا مصابیح۔ (بخاری ج۱، ص۵۵)
میں نماز میں حضور کے سامنے پاؤں ان کی طرف پھیلا کر لیٹ جاتی، جب وہ سجدہ کرنے لگتے، تو مجھے آنکھ سے اشارہ کردیتے، چنانچہ میں پاؤں سمیٹ لیتی اور جب وہ اٹھتے تو پھر پھیلا دیتی اور گھر میں چراغ موجود نہیں تھا۔
یہ اندھیرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارہ ابرد کو دیکھ لینا حضرت عائشہ ہی کا کمال ہوسکتا ہے۔ (ص۲۴۰)
ازالہ
یہ کمال تو آپ نے کیا کہ ''غمزنی'' کا ترجمہ ''آنکھ سے اشارہ کردیتے'' کردیا، غلط فہمی کی حد ہوگئی غمز کے معنی کسی چیز کو ہاتھ سے دبانا بھی ہے، دیکھو منتہی الارب فی مجموعہ لغات العرب جلد ۳، ص۴۷۹ و مفتاح اللغات ص۵۹۷
برق صاحب قطع نظر اس لغوی معنی کے اگر آپ احادیث ہی کا گہرا مطالعہ فرما لیتے ، تو یہ غلط فہمی نہ ہوتی، دوسری حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خود ہی فرماتی ہیں:
غمز رجلی نقبضتھما (بخاری ابواب السترہ)
آپ میرے پیروں کو دباتے میں ان کو سمیٹ لیتی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,566
ری ایکشن اسکور
6,724
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے مسلم والی حدیث پیش کی گئی تو آپ نے بگڑ کر فرمایا تم لوگوں نے ہم عورتوں کو گدھوں اور کتوں جیسا سمجھ لیا، خدا کی قسم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چٹائی پر لیٹی ہوئی تھی اور وہ نماز ادا کیا کرتے تھے۔ (مسلم)
بدیگر الفاظ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس حدیث کی صحت سے انکار کردیا ہے اور پھر بھی یہ صحیح مسلم کا جزو بنی ہوئی ہے۔ (دو اسلام ص۲۴۰۔ ۲۴۱)
ازالہ
برق صاحب کو غلط فہمی ہوئی، حضرت عائشہ کے سامنے حدیث بیان نہیں کی گئی، بلکہ بعض لوگوں کا قول پیش کیا گیا، مثلاً عروہ کہتے ہیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا:
ما یقطع الصلوۃ فقلنا المراۃ والحمار۔
نماز کو کیا چیز قطع کرتی ہے ہم نے کہا عورت اور گدھا۔
دوسری حدیث میں اس طرح ہے:
ذکر عندھا ما یقطع الصلوۃ
حضرت عائشہ کے پاس اس چیز کا ذکر آیا جو نماز توڑتی ہے۔
فرض یہ کہ حضرت عائشہ کے سامنے لوگوں کی رائے پیش کی گئی، اس لیے انہوں نے اس کی تردید میں حدیث سنائی، اگر ان کے سامنے حدیث پیش کی جاتی، تو وہ مان جاتیں، اور دونوں میں تطبیق دیتیں، یعنی لیٹنے اور گزرنے کا فرق، محرم اور نا محرم عورت کا فرق ملحوظ رکھ کر مطابقت پیدا کرتیں، انہوں نے صحیح مسلم کی حدیث کا انکار نہیں کیا، لہٰذا وہ صحیح ہے، یہ مسئلہ جب حدیث کی صورت میں ان کے پاس پہنچا تو پھر وہ خود اس حدیث کو روایت کرنے لگیں، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا یقطع صلوٰۃ المسلم شئی الا الحمار والکافرو الکلب والمراۃ لقد قرنا بدواب السوء (مسند احمد)
مسلم کی نماز کوئی چیز قطع نہیں کرتی، سوا ئے گدھے، کافر، کتے اور عورت کے بیشک ہم عورتوں کو برے جانوروں کے ساتھ کر دیا گیا۔
غرض یہ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے صحیح مسلم کی حدیث کی تائید کردی اور باوجود اظہار افسوس کے حدیث کو بعینہ روایت کردیا، اور پھر کوئی اعتراض نہیں کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,566
ری ایکشن اسکور
6,724
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
عام مسلمان رکوع سے پہلے یا بعد ہاتھ نہیں اٹھاتے لیکن بخاری میں پوری چار احادیث اس مضمون پر ملتی ہیں کہ حضور رکوع سے پہلے اور پیچھے نیز درمیانی التحیات سے اٹھ کر ہاتھ اٹھایا کرتے تھے۔
ازالہ
عام مسلمانوں سے مراد آپ کی احناف ہیں، جن کی ہندو پاکستان میں اکثریت ہے، اور حنفی مذہب ہی سے آپ کو بھی تعلق ہے، لہٰذا ہر ایسی چیز آپ کو عجیب معلوم ہوتی ہے، جو آپ کے مذہب میں نہیں ہے، برق صاحب مذہب اسلام تو وہی ہے جو حدیث میں ہے، باقی رہا کسی فرقہ کا اس پر عمل کرنا یا نہ کرنا یہ ان کا اپنا فعل ہے، ان کے کسی فعل سے اسلامی چیز پر کوئی اثر نہیں پڑتا، برق صاحب یہ گروہ بندیاں ہی ہیں، جنہوں نے اسلام کو تباہ کیا، یہ تقلید ہی کی بندشیں ہیں جنہوں نے فرقوں، بدعات و خرافات کو جنم دیا، آپ کو اسی تقلید کی وجہ سے رفع یدین نظر نہ آیا، ورنہ رفع یدین نقلاً و عملاً متواتر ہے، سخت ثابتہ ہے اور اسی پر جماعت حقہ کا عمل ہے، آپ کو تو صرف چار احادیث نظر آئیں، حالانکہ صحیح بخاری میں بھی چار نہیں پانچ احادیث ہیں اور اگر آپ تحقیق کرتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ پوری چار سو احادیث و آثار اس باب میں صحیح و ثابت ہوئے ہیں۔ (ملاحظہ ہو سفر السعادات مصنفہ علامہ مجد الدین صاحب قاموس)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,566
ری ایکشن اسکور
6,724
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
ہم بلاوجہ ظہر و عصر اور عشاء و مغرب کی نمازوں کو جمع نہیں کرسکتے، لیکن مؤطا میں ہے ... کہ حضور بغیر کسی خوف یا سفر کے بھی نماز ظہر و عصر اور نماز مغرب و عشاء کو اکٹھا کرلیا کرتے تھے۔ (دو اسلام ص ۲۴۱)
ازالہ
برق صاحب آپ نے '' صلیٰ'' کا ترجمہ صحیح نہیں کیا، صحیح ترجمہ یہ ہے کہ ''آپ نے ظہر و عصر کو جمع کیا، مغرب و عشاء کو جمع کیا'' نہ یہ کہ '' جمع کرلیا کرتے تھے'' آپ نے ماضی مطلق کو ماضی استمراری بنا دیا، یہ صرف ایک دفعہ کا واقعہ ہے اور یہ بھی بلا وجہ نہیں تھا، عبدالرحمن بن علقمہ فرماتے ہیں:
قدم وفد ثقیف علی رسول اللہ ﷺ ... قعد معھم لیسالھم ویسألونہ حتی صلی الظھر مع العصر۔ (نسائی کتاب العمری ج۲، ص۱۲۳)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت بابرکت میں ثقیف کا وفد حاضر ہوا، آپ ان کے پاس بیٹھے رہے، آپ ان سے پوچھتے تھے اور وہ آپ سے سوال کرتے تھے، حتیٰ کہ عصر کے ساتھ ظہر کی نماز ادا فرمائی۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تبلیغ احکام کی وجہ سے آپ نے نماز کو جمع فرمایا، پھر یہ بھی واضح رہے کہ دونوں کو اپنے اصلی وقت ہی میں ادا کیا، وقت سے ہٹا کر کوئی نماز نہیں پڑھی گئی، عبداللہ بن عباس جن کی حدیث برق صاحب نے نقل فرمائی ہے، وہی اس کی تشریح کرتے ہیں:
صلیت مع النبی ﷺ بالمدینۃ ثمانیا وسبعا جمیعا اخر الظھر وعجل العصر واخر المغرب وعجل العشاء۔ (نسائی کتاب المواقیت)
میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں آٹھ اور سات رکعات اکٹھی پڑھیں آپ نے ظہر کو آخر وقت پڑھا اور عصر کو جلدی، مغرب کو آخر وقت میں ادا کیا اور عشاء کو جلدی۔
غرض یہ کہ یہ جمع صوری تھی نہ کہ حقیقی یعنی بظاہر دونوں ایک وقت میں پڑھی گئی تھیں، لیکن حقیقتاً دونوں اپنے اپنے وقت میں پڑھی گئی تھیں اور یہ جمع بھی ضرورۃً تھی نہ کہ بے ضرورت۔
 
Top