• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
فقہ کا مسئلہ تو یہی ہے حائضہ روزے رکھے اور نماز نہ پڑھے۔
ان الحائض تقضی الصیام ولا تقضی الصلوۃ۔
حائضہ روزے رکھے لیکن نماز ادا نہ کرے۔ (بخاری جلد ۲، ص ۲۳۹)
لیکن حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ
حضور کی ایک زوجہ حضور کے ہمراہ معتکف ہوگئیں، اس دوران میں انہیں حیض شروع ہوگیا اور حالت یہ ہوگئی کہ جب وہ نماز پڑھتی تھیں تو ہم ان کے نیچے برتن رکھ دیتے تھے۔ (ص۲۴۱۔ ۲۴۲)
ازالہ
برق صاحب نے ترجمہ صحیح نہیں کیا، صحیح ترجمہ یہ ہے کہ حائضہ روزے کی قضا کرے اور نماز کی قضا نہ کرے ، نہ یہ کہ بحالت حیض روزے رکھے، جیسا کہ برق صاحب نے ترجمہ کیا ہے۔
دوسری حدیث میں ''استحاضہ'' کا ترجمہ ''حیض'' صحیح نہیں، حیض اور استحاضہ علیحدہ علیحدہ چیزیں ہیں، برق صاحب دونوں کو ایک سمجھ بیٹھے، زوجہ مطہرہ استحاضہ کی حالت میں نماز ادا فرماتی تھیں نہ کہ بحالت حیض، حالت حیض میں نماز معاف ہے، لیکن حالت استحاضہ میں نماز معاف نہیں ہے، استحاضہ کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انما ذلک عرق ولیس بحیض فاذا اقبلت حیضتک فدعی الصلوۃ واذا ادبرت فاغسلی عنک الدم ثم صلی۔ (بخاری و مسلم)
استحاضہ حیض نہیں ہے، بلکہ ایک رگ کا خون ہے، پس جب حیض شروع ہو، تو نماز چھوڑ دو اور جب حیض چلا جائے ، تو خون دھو ڈالو، اور نماز پڑھو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
حضور فرماتے ہیں کہ مجھے رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے روک دیا گیا ہے۔ (مسلم جلد ۲، ص ۹۱)
لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ:
حضور رکوع اور سجود میں قرآن کی یہ آیت پڑھا کرتے تھے { سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح} ۔ (مسلم)
مطلب یہ کہ حضور ایک حکم دے کر خود ہی اسے توڑ دیا کرتے تھے۔ (دو اسلام ص ۲۴۲۔ ۲۴۳)
ازالہ
برق صاحب آپ کو بہت بڑی غلط فہمی ہوئی، آپ اس تسبیح کو قرآن کی آیت سمجھ رہے ہیں حالانکہ یہ قرآن کی آیت نہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے قرآن کا بھی بہت ہی سرسری مطالعہ کیا ہے اور حدیث کا بھی اور اسی وجہ سے یہ غلط فہمیاں ہوتی ہیں، حدیث مذکور کے ترجمہ میں '' قرآن کی آیت'' آپ کا اضافہ ہے، عربی متن میں یہ الفاظ نہیں ہیں، نہ یہ قرآن کی آیت ہے، لہٰذا اعتراض بالکل لغو ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
حضور نے فرمایا ... نماز میں انسانی کلام جائز نہیں۔ (مسلم جلد ۲، ص ۱۲۵)
لیکن ابو الدرداء روایت کرتے ہیں کہ:
ایک مرتبہ نماز کے دوران میں حضور کے سامنے شیطان آگیا، تو آپنے تین مرتبہ کہا ... تم پر اللہ کی لعنت ۔ (مسلم جلد ۲ ص ۱۳۹)
یعنی حضور کے لیے نماز میں انسانی کلام جائز اور دوسروں کے لیے ناجائز۔ (دو اسلام ص ۲۴۳)
ازالہ
بے شک نماز میں ایک انسان کو دوسرے انسان سے کلام کرنا حرام ہے، لیکن نمازی کا اللہ سے کلام کرنا جائز ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابلیس کے سامنے آجانے پر کہا:
اعوذ باللہ منک العنک بلعنۃ اللہ۔
میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، اللہ تجھے دورکھے۔
یہ بالکل ایسا ہی ہے، جیسا کہ '' اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم '' گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعا کی کہ وہ شیطان کو دور رکھے اور یہ شیطان سے پناہ مانگنا بھی اللہ کے حکم کی تعمیل میں تھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{ وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللہ } (حم سجدہ)
جب شیطان تمہیں ستائے تو اللہ کی پناہ طلب کرو۔
پھر شیطان سے پناہ مانگنا صرف آپ کے لیے ہی جائز نہیں، بلکہ آپ کے اتباع میں ہر ایک کے لیے جائز ہے اور اس کا آپ نے حکم بھی دیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
ہم دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں ، لیکن حضرت انس کہتے ہیں کہ حضور بارش کی دعا کے بغیر کسی اور دعا میں ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔ (دو اسلام ص ۲۴۴)
ازالہ
برق صاحب نے حدیث کا آخری جملہ چھوڑ دیا اور وہ یہ ہے:
فانہ یرفع حتی یری بیاض ابطیہ (صحیح بخاری)
استسقاء میں ہاتھ اتنے بلند کرتے تھے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی تھی۔
لہٰذا حضرت انس رضی اللہ عنہ کا منشا یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی دعا میں ہاتھ اتنے اونچے نہیں کرتے تھے، جتنے دعا استسقاء میں، کیونکہ اس میں اتنے بلند کرلیتے تھے کہ بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی تھی، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے دوسری دعاؤں میں رفع بلیغ کا انکار کیا ہے، نہ کہ مطلق رفع کا ، برق صاحب کو بڑی زبردست غلط فہمی ہوتی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
ہم جوتے اتار کر نماز ادا کرتے ہیں، لیکن سعید بن یزید الازدی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس سے پوچھا کہ ... کیا حضور جوتوں سمیت نماز پڑھتے تھے ، کہاں ہاں۔ (دو اسلام ص ۲۴۴)
ازالہ
دونوں طرح سنت ہے اور دونوں طرح جائز ہے، اس میں کونسا تعارض ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
ہمیں تاکید کی گئی ہے کہ سجدے میں کتے کی طرح باز دست کھولو، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
لا ینبسط ذراعیہ کا لکلب
ایک نمازی سجدے میں کتے کی طرح بازو نہ کھولے۔
لیکن ایک اور حدیث میں ہے کہ ... رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں بازوؤں کو اتنا کھول لیتے تھے کہ ان کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی تھی۔ (دو اسلام ص ۲۴۴۔ ۲۴۵)
ازالہ
برق صاحب نے پہلی حدیث کا ترجمہ صحیح نہیں کیا، صحیح ترجمہ یہ ہے کہ ''سجدے میں کتے کی طرح بازو نہ بچھائے، اس میں کھولنے یا نہ کھولنے کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے، لہٰذا کوئی تعارض نہیں، حنفی مذہب میں بھی سجدے میں بازو کھولنا سنت ہے اور عام لوگ بھی یہی کرتے ہیں، آپ کا عمل عام لوگوں کے بھی خلاف ہے۔ حنفی مذہب کے بھی خلاف ہے اور مذہب اسلام کے بھی خلاف ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
ہم پہلی رکعت کے بعد سیدھے اٹھ جاتے ہیں، لیکن مالک بن الحویرث کہتے ہیں ... کہ حضور دوسرے سجدے سے سر اٹھانے کے بعد پہلے آرام سے زمین پر بیٹھ جاتے اور پھر اٹھتے۔ (دو اسلام ص ۲۴۵)
ازالہ
پہلی رکعت کے بعد بیٹھنا سنت ہے اور یہی جماعت حقہ کا معمول ہے، حنفی تقلیداً اس کا انکار کرتے ہیں اور بے دلیل کرتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور ... سب سے زیادہ مختصر اور مکمل نماز پڑھاتے تھے۔ (دو اسلام ص ۲۴۵)
وہی انس ... بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اتنی لمبی ہوتی تھی کہ جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تھے، تو اتنی دیر کھڑے رہتے تھے کہ دیکھنے والا یہ سمجھتا کہ آپ بھول گئے ہیں اور سجدہ کے بعد بھی یہی حالت ہوتی تھی۔ (دو اسلام ص ۲۴۶)
ازالہ
پہلی حدیث میں ہے کہ آپ مکمل نماز پڑھتے تھے اور مکمل کی تشریح یہ ہے کہ قومہ اور جلسہ میں کچھ دیر ٹھہر جایا کرتے تھے، یہ نہیں کہ تو چل میں آیا، اللہ اکبر، اللہ اکبر ہوتا رہتا ہے کہیں سکون ہے نہ اطمینان، نہ قومہ میں دعا پڑھی جاتی ہے نہ جلسہ میں، ان دعاؤں میں مشکل سے ۳۰ سکینڈ لگتے ہیں، اگر یہ ۳۰ سکینڈ بھی بہت لمبا وقفہ ہے تو پھر اللہ ہی حافظ ہے، ہاں جو لوگ جلدی جلدی اللہ اکبر اللہ اکبر کرتے ہیں، وہ یہی سمجھیں گے کہ شاید بھول ہوگئی اور ہمارا تجربہ ہے۔
برق صاحب نے لکھا ہے کہ ''آپ کی نماز اتنی لمبی ہوتی تھی'' یہ حدیث کے الفاظ نہیں ہیں، برق صاحب نے غلط فہمی سے خود لکھ دئیے ہیں، قومہ اور جلسہ میں سکون سے بیٹھ جانے کو انہوں نے طول نماز سمجھ لیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
جو کسر باقی تھی، اسے ابو سعید الخدری پورا کرتا ہے، کسی نے ابو سعید سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق سوال کیا تو آپ نے کہا ...
کانت صلوۃ الظھر تقام فینطلق احدنا الی البقیع فیقضی حاجتہ ثم یاتی اھلہ فیتوضا ثم یرجع الی المسجد و رسول اللہ ﷺ فی الرکعۃ الاولی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اتنی لمبی ہوتی تھی کہ فرض کیجئے، نماز ظہر شروع ہوچکی ہے، ایک شخص پہلے بقیع میں جاتا ہے وہاں سے فارغ ہو کر گھر لوٹتا ہے، وضو کرتا ہے پھر مسجد میں جاتا ہے اور حضور ابھی پہلی رکعت ہی پڑھا رہے ہوتے تھے۔
ازالہ
اس حدیث میں بھی لمبی نماز کا کوئی ذکر نہیں، آپ نے ''تقام'' کا ترجمہ ''شروع ہوچکی'' کرکے ، اور ''فرض کیجئے'' کے الفاظ کا اضافہ کرکے نماز کے لمبا ہونے کا مفہوم پیدا کردیا، لیکن صحیح ترجمہ صرف اتنا ہے کہ نماز کھڑی ہوتی، ظاہر ہے کہ اقامت بھی ہوتی ہوگی، صف بندی بھی ہوتی ہوگی، پھر صف بندی کے سلسلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اہتمام مشہور ہے، آپ کسی کو آگے کرتے کسی کو پیچھے کرتے پھر نماز شروع ہوتی ہوگی، لہٰذا اتنے عرصہ میں اگر کوئی شخص پیشاب اور وضو سے فارغ ہو کر آتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلی رکعت میں پاتا۔ یہی حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی دو رکعتوں میں تقریباً تیس آیات تلاوت فرماتے تھے (صحیح مسلم) لہٰذا ثابت ہوا کہ نماز طویل نہیں ہوتی تھی، اور نہ ایسی نامکمل ہوتی تھی، جیسی آج کل ہوتی ہے، برق صاحب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کے متعلق جو خلاف ادب الفاظ استعمال کئے ہیں، اگر وہ اس سلسلہ میں اللہ سے معافی مانگیں تو مناسب ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
بخاری کی حدیث ہے کہ '' ابردوا بالصلوۃ'' (نماز کو ذرا ٹھنڈے وقت میں پڑھو) لیکن بخاری ہی میں ایک اور حدیث ہے:
انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر اتنی جلدی پڑھ لیتے تھے کہ اگر ہم نماز پڑھ کر عوالی (مدینہ سے چار میل) سے بھی پھر آتے تو سورج کافی اونچا ہوتا تھا (بخاری ج ص۷۲) انگریزی میل ۶۰، ۱ گز لمبا ہوتا ہے اور عربوں کا پرانا میل ۲۴۵۵ گز، اس حساب سے عوالی اور مدینہ کا دو طرفہ سفر گیارہ میل اور ایک فرلانگ بنتا ہے، جس پر درمیانی رفتار سے کم از کم چار گھنٹے صرف ہوتے ہیں... بدیگر الفاظ حضور نماز عصر غروب آفتاب سے ساڑھے پانچ گھنٹے پہلے پڑھا کرتے تھے... قربان جاؤ اس وحی خفی پر۔ (دو اسلام ص ۲۴۷۔ ۲۴۸)
ازالہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم کہ '' نماز کو ٹھنڈے وقت پڑھا کرو'' یہ ظہر کے متعلق ہے، اور یہ اس لیے کہ آنے والوں کو دیواروں کا سایہ مل جائے اور وہ باآسانی آسکیں، یہ حکم اس زمانہ کے لیے مخصوص ہے، جب سخت گرمی کا موسم ہو، ورنہ ٹھنڈا کرنے کے کیا معنی ہوں گے، برق صاحب نے اس حکم کو عصر کے متعلق سمجھا اور یہ ان کی پہلی غلط فہمی ہے، حالانکہ حدیث میں ظہر کی صراحت موجود ہے، معلوم نہیں لفظ ''ظہر'' برق صاحب کی نظر سے کیسے اوجھل ہوگیا۔
دوسری حدیث کا ترجمہ کرنے میں برق صاحب کو زبردست غلط فہمی ہوئی ، صحیح ترجمہ ملاحظہ ہو:
کان رسول اللہ ﷺ یصلی العصر والشمس مرتفعۃ حیۃ فیذھب الذاھب الی العوالی فیاتیھم والشمس مرتفعۃ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تھے جب کہ سورج بلند اور چمکدار ہوتا تھا پھر ایک جانے والا عوالی جاتا تھا اور ان کے پاس پہنچ جاتا تھا، ایسی حالت میں کہ سورج بلند ہوتا تھا۔
حدیث میں یک طرفہ فاصلہ کا ذکر ہے، برق صاحب نے دو طرفہ کردیا، ایک طرفہ فاصلہ چار عربی میل ہوا، اور یہ فاصلہ با آسانی ڈیڑھ گھنٹہ میں طے ہوسکتا ہے، اس حساب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غروب آفتاب سے تقریباً ڈھائی گھنٹے پہلے نماز پڑھ لیا کرتے تھے، کہئے کیا اعتراض ہے؟ بالکل اسی وقت ہم خود آج کل نماز عصر ادا کرتے ہیں۔
 
Top