• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی:
حصول علم صحیح حدیث کی رو سے کسی اجر کا مستحق ہی نہیں۔ (دو اسلام ص ۲۶۸)
ازالہ
ایسی کوئی حدیث نہیں ہے، نہ برق صاحب نے اس حدیث کو نقل فرمایا۔
غلط فہمی
ہر مرض ہر افتاد اور ہر حادثہ کا علاج دعا سے کیا جانا رہا۔ (دو اسلام ص ۲۶۸)
ازالہ
مطلق دعا کا انکار، قرآن مجید کا انکار ہے، تفصیل کے لیے اسی باب کے گزشتہ صفحات ص۲۳۸، ۲۳۹۔ ملاحظہ فرمائیے:
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
غور کرو کہ دنیا میں ہماری کیس کیسی سلطنتیں قائم ہوئیں، وہ امیہ جو سندھ کے ریگستانوں سے فرانس تک چھائے ہوئے تھے، وہ عباسیہ جن کی ہیبت سے ایک عالم لرزتا تھا... وہ تیموری جن کی بجلیاں دہلی پہ چمکتیں ، تو قسطنطنیہ پر جا گرتی تھیں... (دو اسلام ص ۱۶۹)
ازالہ
برق صاحب جن لوگوں کا ذکر بڑے طمطراق سے آپ نے کیا ہے، یہ سب لوگ انہی احادیث کے متوالے تھے لیکن بایں ہمہ وہ تخت و تاج کے مالک تھے، ہاں جب یہ لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے احادیث کی روح سے ناواقف ہوگئے، اور بقول آپ کے عیاش ہوگئے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی داستان عظمت و حشمت کو افسانہ بنا دیا، کہیے اس میں حدیث کا کیا قصور ہے، اصلی حدیث والے تو حکومت کرتے رہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
حضرت معاذ بن جبل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک ہی سواری پر سوار تھا، آپ نے فرمایا کہ جو شخص منہ سے '' لا الہ الا اللہ'' کہے گا، اس پر جہنم کو حرام کردیا جائے گا۔ معاذ نے پوچھا کیا میں سب کو یہ بشارت سنادوں، فرمایا کہ لوگ اس پر اعتماد کرکے سست ہو جائیں گے، چنانچہ معاذ نے مرتے وقت یہ حدیث ظاہر کی۔ (مسلم جلد ۱، ص ۲۰۵)
معاذ نے تو مرتے وقت یہ حدیث ظاہر کی اور اس لیے اس زمانہ کے لوگ اس سستی اور کاسچوری سے بچ گئے، جس کا خطرہ حضور نے فرمایا تھا لیکن اب ہم کیا کریں، یہ حدیث گزشتہ ساڑھے تیرہ سو برس سے ہمارے سامنے ہے، کروڑوں مسلمانوں کو کاہل بنا چکی ہے اور قیامت تک بتائی جائی گی کیا ہمارے علماء اس مرض کا علاج سوچیں گے۔ (دو اسلام ص ۲۷۳)
ازالہ
برق صاحب اس زمانہ کے لوگ تو اس لیے سستی سے بچ گئے کہ وہ اس حدیث سے ناواقف تھے، لیکن کیا حضرت معاذ بھی سستی سے بچے تھے یا نہیں، اگر بچے تھے تو پھر دوسرے بھی بچ سکتے ہیں، بشرطیکہ حدیث کا مطلب وہ بالکل اسی طرح سمجھتے ہوں جس طرح حضرت معاذ سمجھتے تھے، اور غلط مطلب نہ سمجھ بیٹھیں، اسی غلط فہمی کے انسداد کے لیے تو اس حدیث کی اشاعت عام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روک دیا تھا، یعنی حدیث کا اصلی مطلب تو سستی اور کاہلی پیدا کرنے کا سبب نہیں تھا، ہاں وہ غلط فہمی اس سستی اور کاہلی کا سبب بن سکتی تھی، برق صاحب پھر آپ نے یہ بھی سوچا کہ حضرت معاذ کی وفات کے بعد سے صدہا سال تک مسلمانوں کی شوکت و حشمت کا دُنکا بجتا رہا، اس کی کیا وجہ ہے، کیا یہ لوگ بھی اس حدیث سے ناواقف تھے، نہیں بلکہ یہ لوگ بھی حضرت معاذ کی طرح حدیث کے اصلی مطلب سے واقف تھے، باقی جواب کے لیے اسی باب میں اوپر لکھا جا چکا ہے نمبر ۴ کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔
انتباہ
برق صاحب نے ترجمہ صحیح نہیں کیا، حدیث زیر بحث میں منہ سے '' لا الہ الا اللہ'' کہنے کا کوئی ذکر نہیں، بلکہ دل کی گواہی کا ذکر ہے، اور صحیح مسلم کی دوسری روایتوں میں اس کی تصریح بھی ہے۔ پھر برق صاحب نے عبادہ بن صامت اور معاذ کی احادیث کے متون کو بھی گڈ مڈ کردیا ہے حضرت معاذ کی حدیث کا متن بالکل دوسرا ہے برق صاحب نے اسے نقل نہیں فرمایا بلکہ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کا متن حضرت معاذ کے حوالہ سے تحریر فرمایا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
اس حدیث کا مفہوم رسالت اور الوہیت کا زبانی اقرار تھا اور چونکہ زبانی اقرار کی اتنی بڑی جزا قوم کو بے عمل بنا سکتی تھی، اس لیے آپ نے اس حدیث کو بیان کرنے سے روک دیا تھا۔ (ص۲۷۳)
ازالہ
حدیث کا اصلی مفہوم یہ نہیں تھا، بلکہ دل سے گواہی دینا تھا، حدیث کے الفاظ ہیں '' من شہد'' جس نے گواہی دی، دوسری حدیثوں میں اس کی صراحت موجود ہے ، ارشاد ہے:
یشردان لا الہ الا اللہ مستیقنا بھا قلبہ (صحیح مسلم)
یعنی جو شخص لا الہ الا اللہ کی گواہی دے اور دل سے اس پر یقین کرے۔
پھر دل سے اس پر یقین کرکے گواہی دینے کے تقاضے بھی اس میں شامل تھے، کیونکہ لوگ اس کا مطلب غلط سمجھ کر اعمال چھوڑ دیتے، اس لیے اس کی اشاعت کو روک دیا گیا، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا یہ نہیں تھا کہ بے عمل آدمی جنت میں جائے گا اور اگر یہی ہوتا تو پھر روکنا چہ معنی دارد، لہٰذا حدیث کا اصلی مطلب کلمہ پڑھ کر کلمہ کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
ہمارے اس استدلال کی تائید ایک اور حدیث سے بھی ہوتی ہے '' ایک مرتبہ حضور ایک باغ میں تشریف فرما تھے کہ آپ کے پاس ابوہریرہ جا پہنچے، حضور نے فرمایا کہ جاؤ جو شخص ملے اسے یہ بشارت دے دو کہ کلمہ پڑھنے والا داخل جنت ہوگا...۔ (دو اسلام ص ۲۷۳)
ازالہ
اس حدیث کے ترجمہ میں جگہ جگہ غلطیاں ہیں ترجمہ صحیح نہیں کیا گیا، پھر اس حدیث میں :
ستیقنا بھا قلبہ
یعنی ''دل سے اس پر یقین ہو۔ ''
کے الفاظ موجود ہیں، لہٰذا یہ حدیث برق صاحب کے استدلال کی تائید نہیں کرتی، بلکہ تردید کرتی ہے۔ مطلب اس حدیث کا بھی وہی ہے جو اوپر بیان ہوا، اس حدیث پر مفصل بحث باب اول میں ملاحظہ ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
حضرت ابو ذر کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں آنحضرت کے پاس گیا، آپ نے فرمایا:
ما من عبد قال لا الہ الا اللہ ثم مات علی ذلک الا دخل الجنۃ
جب کوئی آدمی لا الہ الا اللہ کہتا ہے، اور اس کی موت اس عقیدہ پر ہو جاتی ہے تو وہ جنت میں چلا جاتا ہے۔ الخ (دو اسلام ص ۲۷۴، ۲۷۵)
ازالہ
اس حدیث پر مفصل بحث اسی باب میں ۴ کی ذیل میں گزر چکی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ غماز، خائن، زانی، چور، جھوٹی قسمیں کھانے والا اور احسان جتانے والا اور غرور سے دامن گھسیٹ کر چلنے والا بھی بہشت میں نہیں جائے گا، لیکن دوسری طرف ہمیں بتایا جاتا ہے، کہ اگر چور اور زانی کلمہ پڑھتے رہیں تو وہ یقینا بہشت میں جائیں گے۔ (دو اسلام ص ۲۷۶)
ازالہ
برق صاحب اس میں سب کچھ ہے جرموں کی سزا کا بھی بیان ہے اور ان کی معافی کا بھی ذکر ہے، اوریہ معافی کب ہوسکتی ہے اور کس حالت میں ہوسکتی ہے اس کی بھی تفصیل احادیث میں موجود ہے، لہٰذا جب تک تمام احادیث کا علم حاصل نہ ہو کوئی شخص حقیقت تک بآسانی نہیں پہنچ سکتا یہی قرآن مجید کا حال ہے قرآن مجید کی بعض آیات سے اسی قسم کی غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے اس غلط فہمی سے بچنے کا ایک ہی طریقہ کا ہے وہ یہ کہ اسلام کی حقیقت سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے اگر ایسا ہو جائے، تو پھر یہ آیات و احادیث غلط فہمی میں مبتلا نہیں کرسکتیں، بعض جرموں کا تعلق اللہ سے ہے بعض کا تعلق اللہ سے بھی ہے اور بندوں سے بھی، اول الذکر میں اگر شرک نہ ہو، تو معافی کا امکان ہے، بشرطیکہ اللہ سے وفاداری کا عہد دل سے ادا کرتا ہو، صرف زبان سے نہیں اور جب معافی کا امکان ہوا تو پھر دخول جنت کا بھی امکان باقی رہتا ہے، مؤخر الذکر میں جب تک بندہ معاف نہ کرے نہ معافی کا امکان ہے، نہ دخول جنت کا امکان اور کیونکہ بندے کے معاف کرنے کا امکان بھی ہوسکتا ہے لہٰذا دخول جنت کا امکان بھی ہوسکتا ہے خلاصہ یہ ہوا کہ علاوہ شرک کے کوئی گناہ ایسا نہیں کہ اس کی وجہ سے جنت میں جانا ناممکن ہو جائے دوسرے گناہ معاف بھی ہوسکتے ہیں اور ان کی سزا بھی مل سکتی ہے یہ نہیں ہوسکتا کہ ہر جرم کی سزا برابر ہو اور اگر شرک کی سزا جو سب سے بڑا اور ناقابل معانی گناہ ہے ابدالاباد جہنم ہے تو بالکل ظاہر ہے کہ دوسرے گناہوں کی سزا ابدالاباد جہنم نہیں ہوگی اور ان گناہوں کی سزا بھگت کر ایک مسلم جنت میں داخل ہو جائے گا کسی حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ جرموں کی سزا ہی نہیں ہے اور ضرور ہے اور یہی سزائیں آپ کی نقل کردہ احادیث میں موجود ہیں یہ احادیث ہر جرم کی سزا بیان کرتی ہیں، لیکن نہیں بتاتیں، کہ مجرم سزا پاکر بھی جنت میں جائے گا یا نہیں دونوں احادیث اپنی اپنی جگہ پر صحیح ہیں جرموں کی سزا بھی مقرر ہے یہ سزا مل بھی سکتی ہے اور سزا سے پہلے معافی بھی مل سکتی ہے غرض یہ کہ ہر مجرم (مشرک نہیں) کبھی نہ کبھی یقینا جنت میں جائے گا لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ ہم گناہ کریں اور یہ سمجھیں کہ معاف ہو ہی جائے گا ہوسکتا ہے کہ ہمارا گمان غلط ہو اور سزا بھگتنی پڑے اور سزا بھی ایسی کہ الامان والحفیظ، اس سزا کا تصور کرنے کے بعد ہم محض خوش عقیدگی کی بنا پر گناہ کرتے ہیں رہیں تو یہ عقل سے بعید ہے کوئی صاحب عقل و ہوش ایسا نہیں کرے گا کہ معافی کی موہوم امید کی وجہ سے اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال دے اور خطرہ بھی ایسا کہ اس کے بیان سے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں رہے بے عقل و ناسمجھ لوگ تو وہی ایسا کرسکتے ہیں لہٰذا ان کے سامنے ان کی عقل سے بالاتر چیز بیان ہی نہیں کرنی چاہیے یہی وجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کس و ناکس کے سامنے ان احادیث کو بیان کرنے سے روک دیا ہے۔
برق صاحب ان احادیث کو غلط فہمی کی وجہ سے وضعی سمجھتے ہیں حالانکہ مندرجہ ذیل آیات ان احادیث کی تائید کرتی ہیں کیا انہیں بھی موضوع کہا جاسکتا ہے اگر تشریح و تاویل سے دوسرا مطلب لیا جائے گا تو پھر وہی مطلب حقیقت میں حدیث کا بھی ہوتا ہے، آب آیات سنیے:
{اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآء} (النساء)
''بے شک اللہ شرک کے علاوہ ہر گناہ جس کے لیے چاہے گا معاف کر دے گا۔''
دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے:
{اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ} (حم سجدہ)
''بے شک جن لوگوں نے صرف یہ کہہ دیا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر اسی پر جمے رہے تو ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ نہ ڈرو نہ غمگین ہو اور جنت کی بشارت سنو۔''
پہلی آیت سے معلوم ہوا کہ تمام گناہ معاف ہوسکتے ہیں، سوائے شرک کے رہی توبہ تو توبہ سے تو دوسرے گناہ کیا شرک بھی معاف ہوسکتا ہے۔
دوسری آیت سے معلوم ہوا کہ ''ربنا اللہ'' کہنے والا جنت میں جائے گا اور یہی مطلب ہے اس حدیث کا کہ جس نے لا الہ الا اللہ کہا جنت میں جائے گا یہ ضرور ہے کہ ''ربنا اللہ'' کہنے کے بعد بھی چند شرائط ہیں جن کے بغیر صرف ''ربنا اللہ'' قابل قبول نہیں،ا ور وہ سب اس قول کے تقاضے میں اسی طرح لا الا اللہ کے بھی چند تقاضے ہیں جن کے بغیر صرف لا الہ الا اللہ مفید نہیں پھر یہ بھی یاد رہے کہ کلمہ پڑھنے کے بعد بعض صورتیں ایسی بھی آجاتی ہیں کہ صرف کلمہ بھی کافی ہو جاتا ہے مثلاً کوئی شخص مسلمان ہوتا ہے لیکن اس سے پہلے کہ کسی فرض کی ادائیگی کا وقت آئے، وہ شہید کر دیا جاتا ہے، یا اتفاقاً اپنی طبعی موت سے مرجاتا ہے وہ شخص قطعی جنتی ہے لہٰذا یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ جنت کی کنجی کلمہ ہے جس نے اسے پڑھ لیا وہ جنت میں جائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
باب ۱۳
لفظ مغفرت کی تحقیق!

غلط فہمی
''مغفرت کا ماخذ ''غفر'' ہے جس کے معنی ہیں چھپانا اور ڈھانکنا ہم عرض کرچکے ہیں کہ ہر عمل کا کوئی نہ کوئی نتیجہ ہوتا ہے جو اس سے جدا نہیں کیا جاسکتا اس لیے کوئی گناہ معاف نہیں ہوسکتا ہے، البتہ چھپ سکتا ہے۔'' (دو اسلام ص: ۲۷۹)
ازالہ
برق صاحب کسی لفظ کے ایک معنی تو لغوی ہوتے ہیں اور ایک اصطلاحی اب یہ کام اہل زبان کا ہے کہ وہ یہ بتائیں کہ کہاں وہ کسی لفظ کو اصطلاحی معنوں میں استعمال کرتے ہیں اور کہاں لغوی معنوں میں اور جہاں وہ کسی لفظ کو اصطلاحی معنوں میں استعمال کرتے ہیں وہاں اس لفظ کے لغوی معنی لینا صحیح نہیں، مثلاً:
(۱) ''میں کیلا کھا رہا ہوں'' اس جملہ میں ''کھا رہا ہوں'' اپنے اصلی اور لغوی معنوں میں استعمال ہوا ہے لیکن اس جملہ میں کہ
(۲) ''میرا سر چکر کھا رہا ہے'' ''کھا رہا ہے'' اصطلاحی معنوں میں استعمال ہوا ہے، اس لیے کہ نہ سر کھاتا ہے، نہ ''چکر'' کوئی مادی چیز ہے، جسے کھایا جاسکے، لہٰذا دوسرے جملہ میں ''کھانا'' کے لغوی معنی لینا کسی طرح ٹھیک نہیں، بالکل یہی حالت لفظ مغفرت کی ہے اصطلاحی طور پر یہ لفظ معافی کے معنوں میں استعمال ہورہا ہے اور اب یہی اس کے عام فہم معنی ہیں اور اگر اس کے لغوی معنوں پر ہی اصرار کیا جائے ''یعنی ڈھانک دینا'' تو بھی مراد وہی ہے کہ کسی گناہ کو ڈھانک دیا گیا یعنی اب اس کے متعلق کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی اور اس لحاظ سے یہ معافی ہی کے متراد ف ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
برق صاحب کا خیال ہے کہ گناہ معاف نہیں ہوتا اور اس سلسلہ میں انہوں نے چند مثالیں دی ہیں، مثلاً وہ لکھتے ہیں:
(۱) سینکڑوں ایسے صحابہ ہو گذرے ہیں، جنہوں نے آغاز میں حضور کی مخالفت کی... لیکن بعد میں حلقہ بگوش اسلام بن گئے اور ان کے پچھلے گناہ اس نئے عمل کے پیچھے چھپ گئے۔'' (دو اسلام ص: ۲۷۹)
برق صاحب آپ کو غلط فہمی ہوئی کسی گناہ کا نتیجہ یہی نہیں کہ زمانہ حال میں واقع ہو، وہ نتیجہ مستقبل میں بھی واقع ہوسکتا ہے جس زمانہ میں صحابہ کافر تھے، گناہ کرتے تھے ہوسکتا ہے کہ ان کو اس گناہ کی سزا مل گئی ہو اور بہت ممکن ہے کہ نہ بھی ملی ہو اور ظاہر یہی ہے کہ اکثر صحابہ کو ان کے کفر کے زمانہ میں کوئی نقصان نہیں پہنچا، خیر بحث اس سے نہیں کہ زمانہ ماضی میں کیا ہوا، سوال یہ ہے کہ آیا زمانہ مستقبل میں بھی اس گناہ کی کوئی سزا مقرر ہے یا نہیں، اگر ہے تو اس سزا کو ضرور اس کا نیا عمل چھپا دے گا اور یہ معافی نہیں تو اور کیا ہے یہ کس نے کہا کہ زمانہ ماضی میں جو سزا سے مل چکی ہے وہ معاف ہو جائے گی ہم تو یہ کہتے ہیں کہ زمانہ مستقبل میں جو عذاب آنے والا ہے، وہ ٹل جائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
دوسری مثال برق صاحب یہ دیتے ہیں:
''فرض کیجیے کہ ایک نوجوان کسی عادت بد میں مبتلا ہوکر صحت کا جنازہ نکال لیتا ہے... پھر دفعۃً سنبھل جاتا ہے... صحیح الجسم نوجوان بن جاتا ہے اس نے گویا تلافی مافات کرلی، اور اس کے پچھلے گناہ چھپ گئے اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ پچھلا گناہ معاف ہوگیا ہے اس نے ایک گناہ کیا اور اس کی باقاعدہ سزا بھگتی برسوں کمزوری اور بری صحبت کا شکار رہا، عام نفرت کا نشانہ بنا... یہی اس گناہ کی سزا تھی جو وہ بھگت چکا اب اسے نیک اعمال کا صلہ مل رہا ہے۔'' (دو اسلام ص: ۲۷۹، ۲۸۰)
برق صاحب نے پھر وہی بات دہرائی ہے کہ ماضی میں وہ سزا بھگت چکا سوال یہ ہے کہ اگر کچھ عرصہ اور وہ اپنی بری عادتوں کو جاری رکھتا تو کیا وہ کسی ایسے مرض میں مبتلا نہ ہو جاتا، جس سے نجات نا ممکن ہوجاتی اور اگر ایسی حالت میں وہ اپنی بری عادت کو چھوڑ بھی دیتا تو اس کا کیا نتیجہ ہوتا کیا یہ ترک بد عملی اس کو فائدہ پہنچاتی؟ نہیں بلکہ اس کی وہ بری عادت مستقبل میں بھی اس کے لیے عذاب بن جاتی، اب بتائیے کہ اس مرحلہ تک پہنچنے سے پہلے اگر وہ تائب ہوگیا اور اپنی صحت کو ٹھیک کرلیا تو وہ مستقبل میں آنے والی اور نہ ٹلنے والی مصیبت سے بچ گیا یا نہیں، اس مستقبل میں آنے والی مصیبت کی طرف اس کے قدم اٹھ چکے تھے اور اس مصیبت کی عمارت کی بنیاد وہ رکھ چکا تھا، لیکن اس کے سنبھل جانے کی وجہ سے یہ بنیاد بے کار کر دی گئی اور مستقبل کی ساری مصیبتیں ٹل گئیں لہٰذا جب ہم یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص کا گناہ معاف ہو گیا تو اس کے یہی معنی ہوتے ہیں کہ مستقبل میں آنے والا عذاب معاف ہوگیا، نہ کہ ماضی میں گذارا ہوا عذاب برق صاحب ہمارا مطلب ہی نہ سمجھے، لہٰذا انہیں اعتراض کرنا پڑا غرض اگر کوئی شخص کوئی گناہ کرتا ہے اور اپنی زندگی میں اس سے توبہ کرکے نیک عمل کرلیتا ہے تو اس گناہ کی آنے والی سزا معاف ہو جائے گی، ہاں اگر وہ موت کے مرحلہ تک پہنچ گیا، تو پھر نیک عمل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور تلافی مافات کی گنجائش نہیں رہتی، لہٰذا توبہ قبول نہیں ہوتی۔
اب رہی یہ بات کہ کیا گناہ معاف ہوتا ہے یا نہیں تو خود قرآن مجید اس پر شاہد ہے کہ گناہ معاف ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{وَمَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ} (الشوریٰ)
''جو مصیبت تم پر آتی ہے وہ تمہارے گناہوں کی وجہ سے آتی ہے اور بہت سے گناہ تو وہ معاف ہی کر دیتا ہے۔''
اس آیت سے معلوم ہوا کہ بعض گناہوں کی سزا مل جاتی ہے اور بہت سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ان کی کوئی سزا ہی نہیں ملتی نہ ماضی میں نہ مستقبل میں:
دوسری آیت میں ارشاد ہے:
{اَوْ یُوبِقْہُنَّ بِمَا کَسَبُوْا وَیَعْفُ عَنْ کَثِیْرٍ} (الشوریٰ)
''یا تو ان کو ان کے گناہ کی سزا میں تباہ کر دے یا یہ کہ بہت سے گناہ معاف کر دے۔''
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے ''عَفُوٌّ'' کا لفظ استعمال کیا ہے یعنی ''معاف کرنے والا'' لہٰذا اس اسم گرامی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ گناہوں کو معاف کر دے اور یہی حقیقت بھی ہے کہ وہ معاف کرتا رہتا ہے۔
 
Top