• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
بالکل اسی طرح قرآن میں بھی ہے، جو وجہ دوم کے تحت برق صاحب نے لکھا ہے، یعنی کافر اگر صلح چاہیں تو صلح کرلو، یہاں بھی وہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ کافروں نے دھوکہ دینے کے لیے صلح کی ہو، تو ایسے موقع کے لیے اللہ نے اس کے آگے فرمایا { وَتَوَکَّلُ عَلَی اللہِ }(یعنی صلح کرلو) اور اللہ پر توکل کرو، ایسا نہ ہو کہ وہ صلح کرنا چاہیں، اور تم دغا کے اندیشہ سے صلح نہ کرو، بلکہ صلح ان کے ظاہری مطالبہ پر ہی کرلی جائے، اور دلوں کے معاملہ کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا جائے، حدیث زیر بحث میدان جنگ ہی کے متعلق ہے ''ورنہ حسابھم علی اللہ'' کے الفاظ نہ ہوتے، کیونکہ میدان جنگ میں ایسا ہوسکتا ہے کہ دشمن دھوکہ دینے کے لیے مسلمان ہو جائیں، لہٰذا آپ نے فرمایا کہ اس کا حساب اللہ لے گا، تم ان کے ظاہری ایمان کو تسلیم کرکے لڑائی سے باز آجاؤ۔
برق صاحب قرآن مجید کی جو آیت آپ نے وجہ سوم میں نقل کی ہے، وہ بھی حدیث مذکور کی تائید کرتی ہے، مگر آپ نے اسے پورا نقل نہیں فرمایا، پوری آیت اس طرح ہے:
{ قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللہُ وَ رَسُوْلُہٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّ ھُمْ صٰغِرُوْنَ } (التوبۃ)
ان اہل کتاب سے جنگ کرو، جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور نہ اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں اور دین حق کی پیروی نہیں کرتے، یہ جنگ اس وقت تک جاری رکھو، جب تک وہ ہار مان کر جزیہ دینے پر راضی نہ ہو جائیں۔
اس آیت میں جنگ جاری رکھنے کی تین وجہیں بتائی گئی ہیں:
(۱) اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان نہ لانا
(۲) حرام چیزوں کو حلال سمجھنا۔
(۳) دین حق یعنی اسلام کی پیروی نہ کرنا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
یعنی جن لوگوں میں یہ تین باتیں نہ ہوں، ان سے لڑنا چاہیے، دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ ان لوگوں سے لڑو، اس لیے کہ وہ مسلم نہیں ہیں، اب یا تو وہ ان تینوں باتوں کو مان کر مسلم بن جائیں، تو لڑائی رک سکتی ہے، ورنہ جزیہ دینا قبول کریں، اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان کرنے کے لیے لڑنا فرض ہے، اور جو کافر قوم اسلام قبول کرنا نہیں چاہتی تو پھر اس کو ذلیل ہو کر جزیہ دینے پر مجبور کیا جائے، ان دونوں باتوں میں سے ایک چیز انہیں مجبوراً اختیار کرنی ہوگی، یا اسلام یا جزیہ، کہیے یہ آیت کیا کہتی ہے کیا زبردستی مسلمان بنانے کی ہدایت نہیں دیتی، کیا یہ آیت زبردستی لوگوں کو اپنا محکوم بنانے کی ہدایت نہیں دیتی، اگر اس میں ان دونوں باتوں کا حکم ہے، تو پھر حدیث نے کیا قصور کیا؟ جو اعتراض بظاہر اس آیت پر ہے، وہی بظاہر حدیث زیر بحث پر ہے، برق صاحب غلط فہمی سے تو آیات میں بھی تصادم پیدا ہوسکتا ہے، آخری باب میں اس بات کی قدرے تفصیل ہے کہ قرآنی آیات میں بظاہر کتنا تصادم ہے، اور وہ حدیث سے کہیں زیادہ ہے۔
دوسری آیت سنیے:
{ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَکُمْ مِّنَ الْکُفَّارِ وَ لْیَجِدُوْا فِیْکُمْ غِلْظَۃً } (التوبۃ)
اے ایمان والو! اپنے گرد و پیش کے کفار سے جنگ کرو، اور ان کو تمہارے اندر سختی پانا چاہیے۔
برق صاحب اوپر اور نیچے کی آیات پڑھ لیجئے، اور پھر بتائیے کہ ان کافروں سے لڑنے کی کیا وجہ ہے؟ کوئی وجہ آپ کو نہیں ملے گی، پس اگر حدیث مذکور اور قرآنی آیات میں تضاد ہے، تو یہ آیت بھی تو قرآن سے ٹکراتی ہے، اگر اس کا کوئی صحیح مقام ہے، تو وہی صحیح مقام حدیث مذکور کا بھی ہے۔
اور سنیے:
{ يٰٓاَيُّھَا النَّبِیُّ جَاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْہِمْ } (تحریم)
اے نبی کفار اور منافقین سے جنگ کیجئے اور ان پر سختی کیجئے۔
پوری سورہ تحریم پڑھ جائیے، آپ کو جنگ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ملے گی، لہٰذا کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ یہ آیت بھی قرآن سے متصادم ہے یا نہیں؟ براہِ کرم احادیث کو بالاستیعاب پڑھیے اور پھر ان کی روشنی میں کسی حدیث کا مطلب سمجھئے، برق صاحب یہ وہ حدیث ہے جو صحابہ کی موجودگی میں پڑھی گئی، پڑھنے والے '' حسبنا کتاب '' کہنے والے یعنی فاروق رضی اللہ عنہ تھے اور جن کے سامنے پڑھی گئی، وہ مرکز ملت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے، نہ مرکز ملت نے یہ کہا کہ میں اس کو منسوخ کرتا ہوں، نہ انہوں نے نہ کسی اور صحابی نے یہ کہا کہ یہ تو قرآن کے بھی خلاف ہے، یہ صحابہ کرام کی جماعت ہے، یہ وہ لوگ ہیں جن کی تعریف آپ بھی اپنی کتاب میں کر آئے ہیں، اور جن کی تعریف قرآن میں موجود ہے، جن کو رضی اللہ عنہ کا خطاب دیا گیا، جن کے متعلق قرآن کا دعویٰ ہے:
{ ... کلمۃ التقوی وکانوا احق بھا واھلھا }
اور تقویٰ کو ان کے ساتھ چمٹا دیا گیا اور وہ اس کے حقدار بھی ہیں اور اہل بھی۔
جب ان سچے اور اسلام کا صحیح فہم رکھنے والے مسلمانوں نے اس کو قرآن کے خلاف نہیں سمجھا، تو آپ کیوں اس کا قرآن کے خلاف سمجھتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
دوم حضور علیہ السلام نے معاذ بن جبل کو اہل بحرین سے جزیہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ بخاری جلد۳، ص۱۳۱۔ حالانکہ وہ لوگ غیر مسلم تھے اور اس حدیث کی رو سے ان کے خلاف جہاد کرنا چاہیے تھا۔ (دو اسلام ص ۲۹۴)
ازالہ
یہ بھی غلط فہمی ہے، جہاد کی تو اس وقت ضرورت ہے، جب دشمن نہ اسلام قبول کرے، نہ جزیہ دے، اور اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دشمن نے جزیہ دینا قبول کرلیا، لہٰذا جہاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
سوم: حضور علیہ السلام نے جنگ خیبر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ ... انہیں اسلام کی طرف دعوت دو... یہ نہیں فرمایا کہ ہر غیر مسلم کو قتل کردو اور جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائے، جنگ جاری رکھو۔ (دو اسلام ص ۲۹۴)
ازالہ
جنگ تو جاری تھی، لہٰذا جنگ جاری رکھنے کی ہدایت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ہاں بحالت جنگ آپ نے فرمایا کہ انہیں اسلام کی دعوت دینا، اگر وہ اسلام قبول کرلیں، تو اچھا ہے تاکہ جنگ بحسن و خوبی اختتام کو پہنچے اور بلاوجہ خونریزی نہ ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
چہارم مؤطا میں مذکور ہے:
ایک اعرابی نے حضور کے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر کہنے لگا، میں بیعت کو توڑتا ہوں تین مرتبہ یہی التجا دہرائی لیکن آپ نے کوئی جواب نہ دیا، اس کے بعد وہ اٹھ کر چلا گیا، تو آپ نے فرمایا مدینہ ایک بھٹی کی طرح ہے، جہاں خالص دھات باقی رہ جاتی ہے اور کثافت نکل جاتی ہے۔ (موطا ص۳۵۹)
اس موقع پر حضور نے اس مرتد سے جنگ نہیں کی، بلکہ خاموش رہے، جس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اسلام میں کسی کا مذہب بہ جبر تبدیل کرنے کی کوئی ہدایت موجود نہیں۔ (دو اسلام ص ۲۹۴۔ ۲۹۵)
ازالہ
اس حدیث میں یہ کہاں ہے کہ آپ نے اس سے جنگ نہیں کی۔
دوم: اس حدیث میں یہ کہاں ہے کہ وہ سلطنت اسلامیہ میں ہی رہا، ہوسکتا ہے کہ وہ وار الحرب میں چلا گیا ہو ، اور آپ اس پر قادر نہ ہوسکے ہوں، اور یہ بالکل قرین قیاس ہے، اس لیے کہ اسلامی حکومت اس وقت تک صرف مدینہ ہی تک محدود تھی، اور یہ اوائل اسلام کا زمانہ تھا، مدینہ کی آب و ہوا خراب تھی، اسی وجہ سے اس عرابی کی صحت بھی خراب ہوگئی اور اس نے بیعت توڑنی چاہی کچھ عرصہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے مدینہ کی آب و ہوا اچھی ہوگئی تھی۔
سوم : اس حدیث میں جو اصل مضمون ہے، وہ برق صاحب نے چھوڑ دیا، اصل مضمون اس طرح ہے کہ اس کو مدینہ کی آب و ہوا ناموافق ہوئی، تو اس نے مدینہ سے باہر جانا چاہا، اور بیعت واپس کرنے کے لیے کہا، حدیث کے الفاظ یہ ہیں: '' اصاب الاعرابی وعک بالمدینۃ''یعنی وہ مدینہ میں کسی مرض میں مبتلا ہوگیا (صحیح مسلم باب المدینۃ تنفی شرارہا) پس ثابت ہوا کہ وہ شخص محض مدینہ سے باہر جانا چاہتا تھا، لیکن آپ نے اس کی اجازت نہیں دی، بلکہ خاموش رہے، حدیث کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے مدینہ میں رہنے کی بھی بیعت کی تھی، اس بیعت کو توڑ کر وہ چلا گیا بتائیے اس میں ارتداد کا ذکر ہی کہاں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
غلط فہمی
اور یہ حدیث بھی (وضعی ہے) '' من بدل دینہ فاقتلوہ''کہ جو شخص اسلام چھوڑ جائے اسے قتل کر ڈالو۔ (دو اسلام ص ۲۹۵)
ازالہ
پہلا جواب: برق صاحب کافر کو اسلام قبول کرنے کے لیے مجبور کرنا یہ ازروئے آیت قرآنی ناجائز ہے، اور اسلام پر مسلمان کو قائم رہنے کے لیے مجبور کرنا، یہ ازروئے حدیث ہے یہ دو مختلف مسئلے ہیں، دونوں ایک نہیں، قرآن میں جو کچھ ہے، وہ بھی صحیح ہے اور جو کچھ حدیث میں ہے وہ بھی صحیح ہے، وہ اپنی جگہ پر اور یہ اپنی جگہ پر، لہٰذا تصادم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، تصادم وہاں ہوتا ہے جہاں مسئلہ ایک ہو ، اور حکم دو اور متضاد، یہاں مسئلے دو ہیں لہٰذا حکم بھی دو ہیں:
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
پہلا مسئلہ: کافر کو اسلام لانے کے لیے مجبور کرنا
دوسرا مسئلہ: مسلمان کو اسلام پر قائم رہنے کے لیے مجبور کرنا
پہلا مسئلہ '' لا اکراہ فی الدین'' کے مطابق ہے ، اور دوسرا مسئلہ '' من بدل دینہ فاقتلوہ'' کے مطابق ہے، لہٰذا حدیث قرآن کے خلاف نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
دوسرا جواب
اس حدیث کی صحت کا ایک اور ثبوت بھی ہے اور وہ ہے تاریخی ثبوت، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مرتدین سے جنگ کی، یہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے اور محدثین کے اصول پر بھی یہ ایک حقیقت ثابتہ ہے، لہٰذا مسئلہ یہی ہوا کہ مرتد سے قتال ضروری ہے، اگر آپ اس مسلمہ واقعہ کا بھی انکار کردیں، تو پھر یہ کہا جائے گا کہ آپ حقائق کا بھی انکار کردیتے ہیں، اور اس کی آپ سے توقع نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
تیسرا جواب
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{ وَقَالَتْ طَّآئِفَۃٌ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْٓ اُنْزِلَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْہَ النَّھَارِ وَاکْفُرُوْٓا اٰخِرَہٗ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ } (اٰل عمران)
اور اہل کتاب کی ایک جماعت نے کہا کہ صبح کے وقت ایمان لے آؤ، اس چیز پر جو ایمان والوں پر نازل کی گئی ہے، اور شام کے وقت اس کا انکار کردو، شاید مسلمان بھی اس طریقہ سے اسلام سے برگشتہ ہو جائیں۔
یہ تھی اہل کتاب کی ایک چال، مسلمان ہو جانے کے بعد اگر پھر کوئی شخص دوبارہ کافر ہو جائے، تو دوسروں پر اس کا برا اثر پڑتا ہے، اور وہ یہ سمجھنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ اسلام میں کوئی نہ کوئی ایسی خرابی ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد لوگ پھر اس سے منحرف ہو جاتے ہیں، اور خود مسلمان بھی یہ گمان کرسکتے ہیں کہ واقعی کوئی ایسی خرابی ہے، کہ لوگ مسلمان ہو کر پھر کافر ہوگئے، ان کے ایمان میں بھی تزلزل کا اندیشہ ہے، اور کافروں کے مسلمان نہ ہونے کا بھی خطرہ ہے، اور یہ چیز اسلامی معاشرہ کے لیے بڑی خطرناک ہے، اس سے اسلام کی ترقی رک جاتی ہے اور اگر کہیں مسلمان ہو کر کافر ہو جانے والا شخص ذی حیثیت اور ذی علم ہو، تو پھر اس کا بہت ہی برا اثر پڑتا ہے، لوگوں کو گمان ہوتا ہے کہ اتنا بڑا آدمی، اتنا بڑا عالم جب اسلام سے برگشتہ ہوگیا، تو ضرور کوئی مخفی خرابی ہے، جس کی وجہ سے وہ اسلام سے منحرف ہوگیا، یہ خطرہ کا بہت ہی خوفناک پہلو ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس سازش کی اطلاع اس آیت میں دی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دینی قانون نافذ کردیا کہ:
من بدل دینہ فاقتلوہ
جو مرتد ہو جائے، اسے قتل کردو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
سازش کرنے والوں کے حوصلے پست ہوگئے، اور اسلام ترقی کے مراحل طے کرتا چلا گیا، یہ ہے حدیث کا پس منظر، کتنا معقول ہے، جس پر جتنا بھی ناز کیا جائے کم ہے، معلوم نہیں، اس قابل فخر قانون کو برق صاحب کیوں نہ سمجھ سکے، اور کیوں اس کی افادیت کا اندازہ نہ لگا سکے کافروں کی گہری سازشوں کے سدباب کے لیے یہی قانون ہے۔ فللہ الحمد
یہ خطرہ اسلام اور اسلامی معاشرہ کو ہر وقت درپیش ہے، لہٰذا یہ حدیثی قانون بھی غیر متبدل ہے اگر یہ قانون نہ ہو، تو ارتداد کے دروازے کھل جاتے ہیں، اس قانون نے ارتداد کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کردیا، اور اسلام کو تمام خطروں سے بچا لیا، یہ ہے، اس حدیث کا سیاسی و نفسیاتی جائزہ۔
 
Top