محمد عامر یونس
خاص رکن
- شمولیت
- اگست 11، 2013
- پیغامات
- 17,117
- ری ایکشن اسکور
- 6,822
- پوائنٹ
- 1,069
جشن عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دور کی بدترین بدیت اور سب سے بڑی جہالت ہے !!!
1٭ یہ عروہ بن زبیر تابعی کا قول ہے ، جو مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف و ناقابل استدلال ہے ، حیرانی اس بات پر ہے کہ جو لوگ عقائد میں خبرِ واحد کو حجت نہیں مانتے ، وہ تابعی کے اس ''ضعیف '' قول کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں ۔''عروہ بن زبیر تابعی کا بیان ہے کہ ثویبہ ابو لہب کی لونڈی تھی ، ابو لہب نے اس کو آزاد کر دیا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا،جب ابولہب مرا تو اس کے بعد اہل خانہ کو برے حال میں دکھایا گیا ، اس نے اس (ابو لہب )سے پوچھا ، تو نے کیا پایا ہے ؟ ابو لہب بولا کہ تمہارے بعد میں نے کوئی راحت نہیں پائی، ماسوائے اس کے کہ ثویبہ کو آزاد کرنے کی وجہ سے اس ( انگوٹھے اور اگشت ِ شہادت کے درمیان گڑھے )سے پلایا جاتا ہوں۔''
(صحیح البخاري : ٢/٧٦٤، تحت الحدیث : ٥١٠١، نصب الرایۃ للزیلعي : ٣/١٦٨)
4٭ اس پر کوئی دلیل نہیں ہے کہ اس نے اپنی لونڈی ثویبہ کو اس وجہ سے آزاد کیا تھا کہ اس نے ابولہب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کی خوشخبری سنائی تھی -فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
(تَبَّتْ یَدَا أَبِي لَہَبٍ وَّتَبَّ ٭ مَآ اَغْنٰی عَنْہُ مَالُہ، وَمَا کَسَبَ)(اللھب : ١، ٢)
''ابو لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوگئے اور وہ خود بھی ہلاک ہوگیا ، اسے اس کے مال اور اعمال نے کچھ فائدہ نہ دیا ۔''
ہمیں اس اختلاف سے کوئی سروکار نہیں،دیکھنا صرف یہ ہے کہ جو لوگ بارہ ربیع الاول کو جشنِ میلادِ النبی صلی اللہ علیہ وسلم مناتے ہیں، ان کے نزدیک آپ کی تاریخِ وفات کونسی ہے ؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یومِ ولادت با سعادت میں اختلاف ہے ، شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:''ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت دس محرم کو ہوئی ہے۔
''(غنیۃ الطّالبین : ٢/٣٩٢،طبع بیروت)
معلوم ہوا کہ بریلویت کے امام احمد رضا خاں کی تحقیق یہ ہے کہ آپ کی ولادت اور وفات ١٢ ربیع الاول کو ہوئی ہے ، کچھ عرصہ پہلے یہ لوگ بارہ ربیع الاول کو ''بارہ وفات '' کہہ کر پکارتے تھے اور ختم دلواتے تھے ،بڑی عجیب بات ہے کہ آج یہی لوگ اس دن کو عید ِمیلادِ النبی کا جشن مناتے ہیں ، کتنا تضاد ہے ان کے آج اور کل میں؟؟جناب احمد رضا خاں بریلوی لکھتے ہیں:
''نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ١٢ ربیع الاول دو شنبہ کو ہے اور اسی میں وفات شریف ہے ۔''
(ملفوظات : ٢/٢٢٠)
اس حدیث کو امام ترمذی ، امام ابن حبان(٦٦٣٤)نے ''صحیح ''اور امام حاکم (٣/٥٧)نے امام مسلم کی شرط پر'' صحیح ''کہا ہے ، حافظ ذہبی نے ان کی مو افقت کی ہے ۔بارہ ربیع الاول کو صحابہ کرام کی غم کے مارے کیا حالت تھی ، اس کا کچھ اندازہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے اس بیان سے ہو سکتا ہے ، فرماتے ہیں :
[لَمَّا کَانَ الْیَوْمُ الَّذِي قَدِمَ فِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِینَۃَ، أَضَاء َ مِنْہَا کُلُّ شَيْء ٍ، فَلَمَّا کَانَ الْیَوْمُ الَّذِی مَاتَ فِیہِ، أَظْلَمَ مِنْہَا کُلُّ شَيْء ٍ]
''جس دن نبی ئاکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں (ہجرت فرما کر ) تشریف لائے تھے ، اس کی ہر چیز (خوشی سے )چمک اٹھی تھی اور جس دن آپ نے وفات پائی ، اس کی ہر چیز(فرطِ غم سے ) اندھیری ہو گئی تھی ۔''
(مسند الإمام أحمد : ٣/٢٢١،٢٦٨، جامع الترمذي : ٣٦١٨، سنن ابن ماجہ : ١٦٣١، وسندہ، حسنٌ)
مگر افسوس ہے ان خواہشات پر ستوں اور پیٹ کے پجاریوں پر ، جنہیں صحابہ کرا م اور اہلِ بیت کی اس پریشانی کا احساس تک نہیں ہوا، اس دن کو اپنی شکم پروری کا ذریعہ بنا کر گلے میں پھولوںکے ہار ڈالے اچھلتے، کو دتے ، دھمال ڈالتے ، دیگیں پکاتے اور خو شیا ں مناتے نظر آتے ہیں!!!سیدنا عمررضی اللہ عنہ جیسے جری و بہادرانسان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات حسرت ِآیات کاسن کر شدتِ غم میں گھٹنوں کے بل گر گئے تھے۔
(صحیح بخاری :٤٤٥٤)