1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حضرت ابن مسعود سے رفع الیدین کی حدیث بسند صحیح

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد طلحہ اہل حدیث, ‏دسمبر 03، 2019۔

  1. ‏دسمبر 03، 2019 #1
    محمد طلحہ اہل حدیث

    محمد طلحہ اہل حدیث مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2019
    پیغامات:
    156
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے رفع الیدین کا ثبوت


    بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ


    حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے آل تقلید ترمذی اور ابو داود وغیرہ سے ایک ضعیف و باطل روایت نقل کرتے ہیں۔


    لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ترک رفع الیدین ثابت نہیں بلکہ رفع الیدین کرنا ثابت ہے


    امام بیھقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ

    أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر محمد بن داود بن سليمان الزاهد الثقة المأمون ثنا محمد بن أحمد بن المؤمل الضرير حدثني إبراهيم بن راشد الأدمي ثنا محمد بن يحيى الواسطي خادم أبي منصور الشنابذي قال قال لي أبو منصور قم حتى أريك صلاة سفيان الثوري فإن سفيان الثوري قال لي قم حتى أريك صلاة منصور فإن منصورا قال لي قم حتى أريك صلاة إبراهيم فإن إبراهيم قال لي قم حتى أريك صلاة علقمة فإن علقمة قال لي قم حتى أريك صلاة عبد الله بن مسعود فإن عبد الله بن مسعود قال لي قم حتى أريك صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فإن رسول الله قال لي "قم حتى أريك صلاة جبريل عليه السلام فصلى فافتتح الصلاة فرفع يديه فلما أراد أن يركع رفع يديه فلما رفع رأسه من الركوع رفع يديه

    ترجمہ:

    محمد بن یحیی الواسطی کہتے ہیں کہ مجھ سے ابو منصور شنابذی نے کہا کہ کھڑے ہو جاؤ تاکہ تمہیں سفیان ثوری رحمہ اللہ کی نماز پڑھا سکوں۔ ابو منصور شنابذی کہتے ہیں کہ مجھ سے سفیان ثوری نے کہا کہ کھڑے ہو جاؤ تاکہ تمہیں منصور بن المعتمر کی نماز پڑھا سکوں سفیان ثوری کہتے ہیں کہ مجھ سے منصور بن المعتمر نے کہا کھڑے ہو جاؤ تاکہ تمہیں ابراہیم نخعی کی نماز پڑھا سکوں منصور بن المعتمر کہتے ہیں کہ مجھ سے ابراہیم نخعی نے کہا کہ کھڑے ہو جاؤ تاکہ تمہیں علقمہ کی نماز پڑھا سکوں۔ ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ مجھ سے علقمہ بن قیس رحمہ اللہ نے کہا کہ کھڑے ہو جاؤ تاکہ تمہیں عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی نماز پڑھا سکوں۔ علقمہ کہتے ہیں ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ کھڑے ہو جاؤ تاکہ تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھا سکوں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کھڑے ہو جاؤ تاکہ تمہیں جبریل علیہ السلام کی نماز پڑھا سکوں پس انہوں نے نماز پڑھائی اور نماز شروع کی تو رفع الیدین کیا اور جب رکوع کا ارادہ کیا تو رفع الیدین کیا اور جب رکوع سے سر اٹھایا تو رفع الیدین کیا

    [خلافیات للبیھقی للبیھقی 362،363/2 ]



    ●ابو عبداللہ الحافظ یہ امام حاکم رحمہ اللہ ہے

    معروف و مشہور محدث ہے ان کی توثیق بھی معروف ہے


    ●محمد بن داود بن سلیمان


    امام ذہبی رحمہ اللہ

    وکان صدوقا مقبولا واسع العلم حسن الحفظ

    (تاریخ الاسلام ت بشار 7/785)


    امام دارقطنی رحمہ اللہ

    فاضل ثقة

    (علل الدارقطنی 4/53 الناشر دار طیبة الریاض)


    امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ

    ثقة

    (تاریخ بغداد ت بشار 3/171)


    امام حاکم رحمہ اللہ

    ثقة مامون

    (سوالات السجزی للحاکم 1/196 الناشر دار الغرب الاسلامی)


    ●محمد بن احمد بن المومل


    عمر بن بشران رحمہ اللہ

    ثقة

    (تاریخ بغداد للخطیب ت بشار 2/229)


    ●ابراھیم بن راشد الادمی


    امام ذہبی رحمہ اللہ

    ثقة

    (تاریخ الاسلام ت بشار 6/286)


    امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ

    ثقة

    (تاریخ بغداد للخطیب ت بشار 6/589)


    امام ابن حبان رحمہ اللہ

    ثقات میں ذکر کیا ہے

    ‏(الثقات لابن حبان ت العلمیة 1/2)


    ابن ابی حاتم الرازی رحمہ اللہ

    صدوق

    (الجرح و التعدیل لابن ابی حاتم الناشر طبعة مجلس دائرة المعارف العثمانیة 2/99)


    ●محمد بن یحیی الواسطی


    امام ابن ابی حاتم الرازی رحمہ اللہ

    کان رجلا صالحا صدوقا فی الحدیث

    (الجرح و التعدیل لابن ابی حاتم الناشر طبعة مجلس دائرة المعارف العثمانیة 8/125)


    امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ

    ثقة

    (الجرح و التعدیل لابن ابی حاتم الناشر طبعة مجلس دائرة المعارف العثمانیة 8/125)


    ●ابو منصور


    امام ابن حجر رحمہ اللہ

    صدوق

    (تقریب التھذیب ط دار الرشید 1/148)


    امام ذہبی رحمہ اللہ

    ثقة

    (الکاشف للذھبی 1/305)


    امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ

    صدوق

    (الجرح و التعدیل لابن ابی حاتم الناشر طبعة مجلس دائرة المعارف العثمانیة 3/90)


    امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اپنی ثقات میں ذکر کیا ہے


    امام حاکم رحمہ اللہ نے ان کی روایت کی تصحیح کی ہے مستدرک میں


    ●سفیان ثوری

    مشہور امام ہے ان کی توثیق پر عام کتب رجال ملاحظہ کریں


    ●منصور

    منصور بن المعتمر

    ان کی توثیق بھی معروف ہے عام کتب رجال ملاحظہ کریں


    ●ابراھیم

    ابراھیم النخعی

    ان کی توثیق بھی معروف ہے عام کتب رجال ملاحظہ کریں


    ●علقمة

    علقمة بن قیس

    ان کی توثیق بھی معروف ہے عام کتب رجال ملاحظہ کریں


    ●عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

    صحابی رسول


    (ایک شبہ کا جواب ابو منصور کی تعین)


    عرض ہے یہ راوی ابو منصور الحارث بن منصور ہے جس پر درج زیل مضبوط قرینہ موجود ہے


    پہلا قرینہ (شاگرد کی طرف سے تعین)


    زیر بحث روایت کی سند اس طرح ہے

    "محمد بن یحیی الواسطی خادم ابی منصور الشنابذی قال قال لی ابو منصور"


    سند دیکھنے پر معلوم ہوا کی یہاں محمد بن یحیی الواسطی کے استاد ابو منصور ہے اب یہ ابو منصور کون ہے ذیل میں ملاحظہ کریں


    محمد بن یحیی الواسطی یہ امام ابن ابی حاتم الرازی رحمہ اللہ کے استاد ہے جیسا کی انھوں نے خود اپنی کتاب میں صراحت کی ہے


    کتبت عنه مع ابی

    (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم 8/125)


    بلکہ اپنی دوسری کتاب میں انھوں نے ان سے کثرت سے کئی مقامات پر ان سے روایات لی ہے مثلا


    اول

    حدثنا محمد بن یحیی الواسطی

    (تفسیر ابن ابی حاتم 1/116)


    دوم

    حدثنا محمد بن یحیی

    (تفسیر ابن ابی حاتم 1/168)


    سوم

    حدثنا محمد بن یحیی

    (تفسیر ابن ابی حاتم 9/3062)


    چہارم

    حدثنا محمد بن یحیی الواسطی

    (تفسیر ابن ابی حاتم 7/2162)


    معلوم ہوا کی محمد بن یحیی الواسطی یہ امام ابن ابی حاتم الرازی کے استاد ہے


    پھر امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ اسی کتاب میں ایک روایت یوں نقل کرتے ہیں


    حدثنا محمد بن یحیی حدثنا الحارث بن منصور

    (تفسیر ابن ابی حاتم 7/2247)


    اس سند سے بلکل واضح ہوگیا کی محمد بن یحیی الواسطی کے استاد الحارث بن منصور ہے اور انھی کی کنیت ابو منصور ہے یعنی شاگرد کے ذریعے علم ہوا کی محمد بن یحیی الواسطی کے استاد الحارث بن منصور ہے جن کی کنیت ابو منصور ہے


    دوسرا قرینہ (استاد کی طرف سے تعین)


    زیر بحث روایت میں ابو منصور نے روایت سفیان ثوری رحمہ اللہ سے لی ہے جیسا کی سند یوں ہے


    "قال لی ابو منصور قم حتی اریك صلاة سفیان الثوری"


    اور کتب رجال دیکھنے سے پتہ چلتا ہیکہ سفیان الثوری رحمہ اللہ کے شاگرد الحارث بن منصور ہے اور انھی کی کنیت ابو منصور بھی ہے جیسا کی امام مزی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب تھذیب الکمال میں سفیان الثوری رحمہ اللہ کے ترجمے میں ان کے شاگرد میں الحارث بن منصور کا بھی ذکر کیا ہے حوالہ

    (تھذیب الکمال فی اسماء الرجال 11/162)


    علاوہ ازیں کتب رجال میں الحارث بن منصور کے شیوخ میں بھی سفیان الثوری رحمہ اللہ کا نام ملتا ہے


    امام مزی رحمہ اللہ نے بھی ابو منصور الحارث بن منصور کے شیوخ میں سفیان الثوری کا ذکر کیا ہے


    (تھذیب الکمال فی اسماء الرجال 5/286)


    اسی طرح امام ذہبی رحمہ اللہ نے بھی ابو منصور الحارث بن منصور کے شیوخ میں سفیان الثوری کا ذکر کیا ہے


    (تاریخ الاسلام 5/290)


    اس کے علاوہ کئی کتب رجال میں ان کے شیوخ میں سفیان الثوری کا تذکرہ ملتا ہے


    Sent from my SM-J510F using Tapatalk
     
  2. ‏دسمبر 04، 2019 #2
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    651
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    62

    تمہاری ذہنی پستگی اس سے واضح ہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ جو خود کو اہلحدیث کہلاتے ہیں تقلید وہ بھی کرتے ہیں اور تقلید مذموم کرتے ہیں۔
     
  3. ‏دسمبر 04، 2019 #3
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    651
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    62

    ان احادیث سے پہلو تہی کیوں؟
    مصنف ابن أبي شيبة:
    حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: نا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، وَعِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ لَا يَرْفَعُهُمَا حَتَّى يَفْرُغَ»

    حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، «أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ مَا يَسْتَفْتِحُ، ثُمَّ لَا يَرْفَعُهُمَا»


    حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَلَا أُرِيكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ «فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً»

    حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قِطَافٍ النَّهْشَلِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّ عَلِيًّا، كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ لَا يَعُودُ» (روات کلھم ثقہ)

    2446 - حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: «كَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ وَأَصْحَابُ عَلِيٍّ، لَا يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ إِلَّا فِي افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، قَالَ وَكِيعٌ،، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ»


    حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: «مَا رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَا يَفْتَتِحُ»

    حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ عُمَرَ، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ إِلَّا حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ»
     
  4. ‏دسمبر 04، 2019 #4
    محمد طلحہ اہل حدیث

    محمد طلحہ اہل حدیث مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2019
    پیغامات:
    156
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    میری پوسٹ پر عقل والے کمنٹ کیا کریں

    آپ جیسے جاہل اجتناب ہی کریں
    والسلام

    Sent from my SM-J510F using Tapatalk
     
  5. ‏دسمبر 04، 2019 #5
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    651
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    62

    اتنی جلدی گھبرا گئے!
    سمندر میں چھلانگ لگانے سے پہلے تیرنا سیکھ لینا چاہیئے وگرنہ یونہی ڈبکیاں کھا کر ڈوب مرو گے۔
     
  6. ‏دسمبر 04، 2019 #6
    محمد طلحہ اہل حدیث

    محمد طلحہ اہل حدیث مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2019
    پیغامات:
    156
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    1۔)
    جو روایت آپ نے مصنف ابن ابی شیبہ کے حوالہ سے پیش کیں ہیں اس میں محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلی ضعیف سی الحفظ راوی ہے

    2۔)
    دوسرا اثر پیش کیا ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا
    اس روایت میں وہ عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے ہیں
    اور ایک بات یاد رکھو جب ابراہیم نخعی رح ابن مسعود رح سے کوئی روایت نقل کریں تو حجت نہیں ہیں

    امام ذھبی کہتے ہیں
    قلت: استقر الأمر على أن إبراهيم حجة، وأنه إذا أرسل عن ابن مسعود وغيره فليس ذلك بحجة
    [دیکھیے میزان الاعتدال جلد 1 صفحہ 75]

    معلوم ہوا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے جب کوئی بات ابراہیم نخعی کہیں تو حجت نہیں ہیں


    3) تیسرا اثر پیش کیا سفیان ثوری کے طریق سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی ترک رفع الیدین سے متعلق روایت
    یہ روایت سند اور متن دونوں اعتبار سے ضعیف روایت ہے
    سفیان ثوری مدلس ہیں اور مدلس کا عنعنہ حجت نہیں الا یہ کہ سماع کی تصریح ثابت ہو جائے


    4) تیسرا اثر پیش کیا آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے پیش کیا
    اور آگے لکھ دیا روات کلھم ثقات
    حالانکہ ادنی سا طالب علم بھی یہ بات جانتا ہے کہ سند کے ٹھیک ہونے سے متن کے صحیح ہونے کا التزام قطعی نہیں ہوتا۔
    اس اثر کا متقدمین نے انکار کیا ہے کہ یہ ثابت نہیں جیسے امام عبد الرحمن بن مھدی رحمہ اللہ نے
    لہذا یہ جرح خاص ہے اور سند کے ٹھیک ہونگ کا دھنڈورا پیٹنے والی دلیل عام ہے۔
    اور بات طہ شدہ ہے عام خاص پر دلیل۔نہیں بن سکتا

    لہذا یہ روایت عام روایات سے مستشنی ہیں
    اور حضرت علی سے صحیح سند کے ساتھ حدیث مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے اور دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے تو رفع الیدین کرتے۔
    [دیکھیے جامع ترمذی حدیث 3423]


    5) پانچواں اثر ابن عمر رض کا پیش کیا
    یہ روایت ابو بکر بن عیاش کا وہم ہے امام یحیی بن معین امام احمد اور بخاری وغیرھما نے اس روایت کو ابو بکر بن عیاش کا وہم قرار دیا ہے۔



    Sent from my SM-J510F using Tapatalk
     
  7. ‏دسمبر 04، 2019 #7
    محمد طلحہ اہل حدیث

    محمد طلحہ اہل حدیث مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2019
    پیغامات:
    156
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    چھٹا اثر ابن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے پیش کیا

    لیکن یہ اثر بھی ضعیف ہے ابراہیم نخعی مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے
    اور مدلس کا عنعنہ بالاتفاق حجت نہیں ہوتا

    دوسرا یہ روایت شاذ بھی ہے امام حاکم وغیرھما نے اس روایت کو شاذ قرار دیا ہے

    Sent from my SM-J510F using Tapatalk
     
  8. ‏دسمبر 04، 2019 #8
    محمد طلحہ اہل حدیث

    محمد طلحہ اہل حدیث مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2019
    پیغامات:
    156
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    یہ مثال اپنے اوپر فٹ کر کے دیکھنا

    میں نے جو اوپر ٹھریڈ بنایا تھا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اثبات رفع الیدین والی روایت سے متعلق

    اس کا کوئی جواب نہیں اس کے بجائے یہ ضعیف و مردود روایات بھیج دیں



    Sent from my SM-J510F using Tapatalk
     
  9. ‏دسمبر 04، 2019 #9
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    651
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    62

    مذکورہ روایت میں محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلی کے حافظہ کی خرابی کا اثر کس طرح واقع ہوسکتا ہے؟
    اس کی وضاحت دلیل سے کیجئے گا اور تقلیدی بیان سے پرہیز کیجئے گا۔


    ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہیں تو حجت نہیں اور امام ذہبی کہیں تو حجت!!!؟؟؟
    یہ کیا ڈرامہ بازی ہے؟
    اندھی تقلید چھوڑو اور عقل استعمال کرو۔



    جب کوئی مدلس راوی عنعنہ سے ایسے راوی سے روایت کرے جس سے اس کا سماع ثابت نا ہو تو کیا سمجھا جائے گا؟
    اس نے جھوٹ بولا؟؟؟
    اگر ایسا ہے تو کیا سماع کی صراحت کسی جھوٹے کی بات کو صحیح قرار دلوا دے گی؟؟؟
    اندھی تقلید عجیب گل کھلاتی ہے اور منکر حدیث بناتی ہے۔


    جناب کے لئے امتیوں کے اقوال حجت اور دوسروں کو امتیوں کے اقوال کی طعن تشنیع!!!؟؟؟
    یہ عجیب تقسیم ہے جناب کی۔
    اگر سند صحیح ہونے کے باوجود حدیث صحیح نہیں تو کسی حدیث کے صحیح ہونے کے لئے پھر کونسا کلیہ استعمال کیا جائے گا؟
    یعنی جس کو ماننے کو دل چاہے وہی صحیح دیگر ناقابل قبول :)


    انہوں نے اس پر کوئی دلیل دی؟؟؟
    بلا دلیل کسی کی بات ماننا ـــ تمہارے نزدیک تقلید ہے ـــ جسے تم لوگ شرک کہتے ہو۔

    یہ اتفاق کس نے کیا اور کہاں ہؤا؟
    تیسری رکعت کو اٹھتے وقت کی رفع الیدین نا کرنے پر چاروں اہلسنت کے اتفاق کو تسلیم کرتے ہو؟
    محدثین تو کہتے ہیں کہ فلاں حدیث روایتاً ضعیف مگر متن صحیح اور تم ہو کہ راوی کی تدلیس کے سبب اسے جھوٹا ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہو۔
    افسوس کی بات ہے۔
     
  10. ‏دسمبر 04، 2019 #10
    محمد طلحہ اہل حدیث

    محمد طلحہ اہل حدیث مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2019
    پیغامات:
    156
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    29



    جب بات کریں تو مطالعہ کر لیا کریں۔
    مفید رہے گا یہ جتنی بھی اوپر باتیں کی ساری بونگیاں ماری ہیں آپ نے

    رہی بات تقلید کی تو آپ کو سمجھا دوں یہ تقلید نہیں تحقیق ہے۔
    کیوں کہ حدیث میں اسماء الرجال میں انہیں محدثین کی باتیں حجت ہیں

    دوسرا یہ کہ محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف سیء الحفظ و ناقابل اعتماد راوی ہیں
    اور ایسے راوی کی روایت بھلا کیوں کر حجت ہو گی

    پھر آگے آپ کی ایک اور بونگی کہ آپ کہتے ہیں کہ
    "جب مدلس عنعنہ سے روایت کرے تو کیا سمجھا جائے گا کہ کیا اس نے جھوٹ بولا"
    ہاہاہاہاہاہاہاہا یقین جانو آپ کی جہالت پر ہنسی آ رہی ہے۔
    اپ کی یہ بونگیاں پڑھ کر ہمیں یقین ہو گیا کہ آپ اصول حدیث سے کوئی معرفت نہیں رکھتے بس یہاں ہوا میں اندھی چلا رہے ہو

    ارے بھائی سنو مدلس جھوٹا نہیں ہوتا بلکہ جس روایت میں تدلیس کرتا ہے اس کو محتمل صیغے سے بیان کرتا ہے جس سے واضح نا ہو کہ اس نے اپنے اسی استاذ سے سنی ہے جس سے عن یا قال یا دوسرے کسی محتمل صیغے سے وہ بیان کر رہا ہے۔ یعنی یوں کہہ لو کہ وہ دھوکہ دیتا ہے۔ لیکن جھوٹ نہیں بولتا۔
    اب جس کو اتنی معمولی باتیں نا پتا ہوں وہ نا جانے کس خوش فہمی میں بیٹھا ہے مباحثہ کرنے

    باقی تمہیں عموم اصول ہی نہیں پتا تو تم سے فالتو میں بحث کرنا وقت ضائع کرنے والی بات ہے

    پہلے مطالعہ کر لو پھر بحث کرنا
    والسلام

    Sent from my SM-J510F using Tapatalk
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں