میں اس پوسٹ سے متفق ہوں لیکن صرف اتنی حد تک کہ جن کو احناف نے غیر معمول بہا کہا وہ کیسے ضعیف ہو گئیں؟
یعنی آپ کو اس اعتراض پر اتفاق ہے کہ مصنف نے غیر معمول بہا کو سندا صحیح ہونے کے باوجود ضعیف کیوں کہا
اصل میں آپ اگر مصنف کی ضعیف کی اصطلاح کو محدثین کی اصطلاح سمجھ رہے ہیں مگر میرے خیال میں شاہد مصنف کا جواب ایک اعتراض کے پس منظر میں ہے کہ حنفی ضعیف حدیثوں پر علم کرتے ہیں اور چونکہ معاشرے میں اب یہ ہو گیا ہے کہ ضعیف کو بلحاظ سند مردود کی بجائے بلحاظ عمل مردود سمجھا جا رہا ہے تو مصنف کی اوپر ضعیف سے مراد بلحاظ عمل مردود ہو نہ کہ بلحاظ سند مردود- کیونکہ بلحاظ سند کا تو وہ اگلے پیرے میں خود اعتراف کر رہے ہیں کہ اسکی تحقیق فی نفسہ ضروری ہے واللہ اعلم
اس پوسٹ سے قطع نظر ایک بات یا نکتہ یہ ہے کہ ایک حدیث ائمہ کے پاس صحیح سند سے پہنچی اور انہوں نے اس کے مطابق عمل شروع کردیا بعد میں اس کی سند میں کوئی ضعیف راوی آگیا تو ظاہر ہے وہ حدیث ہمارے ہاں تو ضعیف ہوگی لیکن ائمہ کے ہاں تو نہیں۔ پھر ہم ضعیف احادیث لے کر ائمہ پر کیسے اعتراض کر سکتے ہیں کہ ان کا مسئلہ صحیح احادیث سے ثابت نہیں ہے؟ اکثر احادیث میں ہمیں ضعف بعد کے زمانے میں ملتا ہے اور اس کے ابتدائی راوی صحیح ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک کثیر ذخیرہ احادیث ہمارے پاس ایسا ہے جو قابل احتجاج نہیں ہے جب کہ ائمہ کے پاس وہ ذخیرہ احادیث قابل احتجاج تھا۔
کیا خیال ہے
خضر حیات اور
عبدہ بھائی؟
جی ہاں آپکی بات ٹھیک ہے بلکہ خالی سند میں کی بات ہی اس اختلاف کی علت نہیں بلکہ اصولوں میں اختلاف بھی ہو سکتا ہے مثلا پہلے زمانہ میں صحابی کی عظمت کے پیش نظر انکے چھوٹ جانے سے (یعنی مرسل حدیث) فقہاء یہ سمجھتے تھے کہ حدیث عمل کے لحاظ سے مردود نہیں ہوتی چنانچہ غالبا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام مالک رحمہ اللہ مرسل کو حجت مانتے تھے اور اس وقت ان کا یہ اصول ٹھیک تھا کیوں کہ جب اس کے خلاف کوئی گواہی معلوم نہ تھی تو انھوں نے اچھا گمان کرتے ہوئے مرسل کو حجت ہی ماننا تھا مگر بعد میں جب دوسرے ذرائع سے بہت سی مرسل احادیث کے غلط ہونے کا علم ہوا تو وہ اصول تبدیل ہو گیا جیسے امام شافعی نے الرسالہ میں شرائط رکھی ہیں واللہ اعلم
البتہ اوپر اگلے پیرے میں جو مصنف نے سند کی اہمیت پر محدثین کے اقوال لکھے ہیں وہ تو ٹھیک ہے مگر اس کی جو اپنے پاس سے وضاحت کی ہے وہ ٹھیک نہیں
مصنف نے ایک طرف تو یہ لکھا ہے کہ ہمارے نزدیک سند کا صحیح ہونا ہمارے لئے کوئی فائدہ نہیں دے گا اور ہم احکام اخذ کرتے ہوئے اسکو نہیں دیکھیں گے اور دوسرے طرف یہ کہا ہے کہ سند کی تحقیق ضروری ہے کیونکہ اس کے ڈر سے لوگ جھوٹی احادیثیں نہیں گھڑیں گے
میرا سوال
جب آپ کے لئے جب احکام کے لئے سندا صحیح اور ضعیف حدیث کی تحقیق کا کوئی فائدہ ہی نہیں تو پھر لوگوں کو حدیثیں گھڑنے سے ڈرانے کی کیا ضرورت ہے یعنی اگر کوئی حدیث گھڑے گا تو آہ کا کیا نقصان کر لے گا کیونکہ آپ نے تو سند صحیح ہو یا ضعیف ہو اپنے علیحدہ طریقے ہی استعمال کرنے ہیں جیسے کہتے ہیں کہ
جب میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی-
پس
جب لوگ ہیں قانع تو کیا کرے گا واضع(حدیث وضع کرنے والا)