• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حنفیوں کا خود ساختہ اصول

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,682
ری ایکشن اسکور
752
پوائنٹ
290
میں اس پوسٹ سے متفق ہوں لیکن صرف اتنی حد تک کہ جن کو احناف نے غیر معمول بہا کہا وہ کیسے ضعیف ہو گئیں؟ چلو صحیح تو ان کے نزدیک ہوں گی لہذا انہوں نے عمل کر لیا لیکن ضعیف کیسے؟

اس پوسٹ سے قطع نظر ایک بات یا نکتہ یہ ہے کہ ایک حدیث ائمہ کے پاس صحیح سند سے پہنچی اور انہوں نے اس کے مطابق عمل شروع کردیا بعد میں اس کی سند میں کوئی ضعیف راوی آگیا تو ظاہر ہے وہ حدیث ہمارے ہاں تو ضعیف ہوگی لیکن ائمہ کے ہاں تو نہیں۔ پھر ہم ضعیف احادیث لے کر ائمہ پر کیسے اعتراض کر سکتے ہیں کہ ان کا مسئلہ صحیح احادیث سے ثابت نہیں ہے؟ اکثر احادیث میں ہمیں ضعف بعد کے زمانے میں ملتا ہے اور اس کے ابتدائی راوی صحیح ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک کثیر ذخیرہ احادیث ہمارے پاس ایسا ہے جو قابل احتجاج نہیں ہے جب کہ ائمہ کے پاس وہ ذخیرہ احادیث قابل احتجاج تھا۔
کیا خیال ہے خضر حیات اور عبدہ بھائی؟
 

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
733
ری ایکشن اسکور
2,576
پوائنٹ
211
م اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک کثیر ذخیرہ احادیث ہمارے پاس ایسا ہے جو قابل احتجاج نہیں ہے جب کہ ائمہ کے پاس وہ ذخیرہ احادیث قابل احتجاج تھا۔
دخل اندازی کے لئے معذرت۔ لیکن کہے بنا رہ نہیں پایا۔
کیا درج بالا بات کا براہ راست مطلب یہ نہیں بنتا کہ ایک کثیر حصہ دین کا ایسا ہے جو آج ضائع ہو چکا ہے؟
ایک حسن یا صحیح درجے کی حدیث اگر ائمہ تک پہنچ چکی تھی، تو کیا ہر زمانے میں اس حدیث کو روایت کرنے والا ایک بھی ثقہ راوی موجود نہیں پایا گیا؟
حتیٰ کہ یہ حسن یا صحیح حدیث صرف ضعیف رواۃ نے بیان کی اور ان سے لے کر محدثین نے نقل کی، لیکن تب تک ان ضعیف رواۃ کی وجہ سے وہ حدیث صحیح یا حسن نہ رہی۔
اور یہ کیسے معلوم ہوگا کہ آیا ان ائمہ کا فتویٰ ، اس وجہ سے آج ہمیں خلاف حدیث معلوم ہو رہا ہے ، کیونکہ:
1۔ ان ائمہ ہی تک وہ حدیث نہیں پہنچی۔
2۔ ان ائمہ کے زمانے تک تو انہیں حسن یا صحیح حدیث ملتی رہی، بعد کے ازمنہ کے لئے وہ ضعیف رواۃ کی وجہ سے قابل احتجاج نہ رہی
کفایت اللہ
رضا میاں
سے گزارش ہے کہ وہ بھی اس موضوع پر ضرور اظہار خیال کریں ، کیونکہ یہ اصول نما اعتراض احناف کی جانب سے بڑی شدو مد سے پیش کیا جاتا ہے۔
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,035
ری ایکشن اسکور
1,230
پوائنٹ
425
میں اس پوسٹ سے متفق ہوں لیکن صرف اتنی حد تک کہ جن کو احناف نے غیر معمول بہا کہا وہ کیسے ضعیف ہو گئیں؟
یعنی آپ کو اس اعتراض پر اتفاق ہے کہ مصنف نے غیر معمول بہا کو سندا صحیح ہونے کے باوجود ضعیف کیوں کہا
اصل میں آپ اگر مصنف کی ضعیف کی اصطلاح کو محدثین کی اصطلاح سمجھ رہے ہیں مگر میرے خیال میں شاہد مصنف کا جواب ایک اعتراض کے پس منظر میں ہے کہ حنفی ضعیف حدیثوں پر علم کرتے ہیں اور چونکہ معاشرے میں اب یہ ہو گیا ہے کہ ضعیف کو بلحاظ سند مردود کی بجائے بلحاظ عمل مردود سمجھا جا رہا ہے تو مصنف کی اوپر ضعیف سے مراد بلحاظ عمل مردود ہو نہ کہ بلحاظ سند مردود- کیونکہ بلحاظ سند کا تو وہ اگلے پیرے میں خود اعتراف کر رہے ہیں کہ اسکی تحقیق فی نفسہ ضروری ہے واللہ اعلم

اس پوسٹ سے قطع نظر ایک بات یا نکتہ یہ ہے کہ ایک حدیث ائمہ کے پاس صحیح سند سے پہنچی اور انہوں نے اس کے مطابق عمل شروع کردیا بعد میں اس کی سند میں کوئی ضعیف راوی آگیا تو ظاہر ہے وہ حدیث ہمارے ہاں تو ضعیف ہوگی لیکن ائمہ کے ہاں تو نہیں۔ پھر ہم ضعیف احادیث لے کر ائمہ پر کیسے اعتراض کر سکتے ہیں کہ ان کا مسئلہ صحیح احادیث سے ثابت نہیں ہے؟ اکثر احادیث میں ہمیں ضعف بعد کے زمانے میں ملتا ہے اور اس کے ابتدائی راوی صحیح ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک کثیر ذخیرہ احادیث ہمارے پاس ایسا ہے جو قابل احتجاج نہیں ہے جب کہ ائمہ کے پاس وہ ذخیرہ احادیث قابل احتجاج تھا۔
کیا خیال ہے خضر حیات اور عبدہ بھائی؟
جی ہاں آپکی بات ٹھیک ہے بلکہ خالی سند میں کی بات ہی اس اختلاف کی علت نہیں بلکہ اصولوں میں اختلاف بھی ہو سکتا ہے مثلا پہلے زمانہ میں صحابی کی عظمت کے پیش نظر انکے چھوٹ جانے سے (یعنی مرسل حدیث) فقہاء یہ سمجھتے تھے کہ حدیث عمل کے لحاظ سے مردود نہیں ہوتی چنانچہ غالبا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام مالک رحمہ اللہ مرسل کو حجت مانتے تھے اور اس وقت ان کا یہ اصول ٹھیک تھا کیوں کہ جب اس کے خلاف کوئی گواہی معلوم نہ تھی تو انھوں نے اچھا گمان کرتے ہوئے مرسل کو حجت ہی ماننا تھا مگر بعد میں جب دوسرے ذرائع سے بہت سی مرسل احادیث کے غلط ہونے کا علم ہوا تو وہ اصول تبدیل ہو گیا جیسے امام شافعی نے الرسالہ میں شرائط رکھی ہیں واللہ اعلم

البتہ اوپر اگلے پیرے میں جو مصنف نے سند کی اہمیت پر محدثین کے اقوال لکھے ہیں وہ تو ٹھیک ہے مگر اس کی جو اپنے پاس سے وضاحت کی ہے وہ ٹھیک نہیں
مصنف نے ایک طرف تو یہ لکھا ہے کہ ہمارے نزدیک سند کا صحیح ہونا ہمارے لئے کوئی فائدہ نہیں دے گا اور ہم احکام اخذ کرتے ہوئے اسکو نہیں دیکھیں گے اور دوسرے طرف یہ کہا ہے کہ سند کی تحقیق ضروری ہے کیونکہ اس کے ڈر سے لوگ جھوٹی احادیثیں نہیں گھڑیں گے

میرا سوال

جب آپ کے لئے جب احکام کے لئے سندا صحیح اور ضعیف حدیث کی تحقیق کا کوئی فائدہ ہی نہیں تو پھر لوگوں کو حدیثیں گھڑنے سے ڈرانے کی کیا ضرورت ہے یعنی اگر کوئی حدیث گھڑے گا تو آہ کا کیا نقصان کر لے گا کیونکہ آپ نے تو سند صحیح ہو یا ضعیف ہو اپنے علیحدہ طریقے ہی استعمال کرنے ہیں جیسے کہتے ہیں کہ
جب میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی-
پس
جب لوگ ہیں قانع تو کیا کرے گا واضع(حدیث وضع کرنے والا)
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,999
ری ایکشن اسکور
9,803
پوائنٹ
773
ایک بات یا نکتہ یہ ہے کہ ایک حدیث ائمہ کے پاس صحیح سند سے پہنچی اور انہوں نے اس کے مطابق عمل شروع کردیا بعد میں اس کی سند میں کوئی ضعیف راوی آگیا تو ظاہر ہے وہ حدیث ہمارے ہاں تو ضعیف ہوگی لیکن ائمہ کے ہاں تو نہیں۔
انتہائی لغو بات ہے ۔
سوال یہ ہے کہ ایک ضعیف حدیث ائمہ کے دور میں صحیح تھی اور ضعف بعد میں آیا اس بات کی کیا دلیل ہے؟
مطلب یہ کہ کسی حدیث کی سند میں ضعف ایسے دور کے راوی میں آرہا ہے جو ائمہ کے بعد کا ہے تو اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ ائمہ کے دور میں یہ حدیث صحیح تھی؟
کیونکہ بعد کے جس دور میں بھی ضعف آیا، وہیں سے اوپر کی پوری حدیث سند ومتن کے ساتھ مردود وغیرثابت ہوگئی تو پھر یہ کس بنیاد پرکہا جاسکتا ہے کہ ائمہ کے دور میں یہ حدیث ثابت تھی ؟
اس بات پر غور کیا جائے کہ بعد کے دور میں جو ضعیف راوی ہے وہی بدنصیب ہی تو یہ بات بتارہا کہ ہم نے اس حدیث فلاں سے سنی اور انہوں نے فلاں امام سے سنی اور انہوں نے فلاں صحابی سے اور انہوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے۔۔۔۔۔
یعنی ضعیف راوی سند بیان کرتے ہوئے اپنے سے اوپر یعنی اپنے سے پہلے دور کا جو یہ حوالہ دیتا ہے کہ میں نے اس حدیث کو فلاں سے سنا اور انہوں نے فلاں امام سے ۔ تو سند میں اوپر جو امام صاحب کا نام اوران کے دور کا ذکر آرہا ہے یہ نام بتانے والا اور ان کے دور کا تذکرہ کرنے والا یہی ضعیف راوی ہی ہے ۔
پھرجب یہ ضعیف راوی ہے تو اس کا سارا بیان ہی مردود وغیرمقبول ہے پھر کس بنیاد پر ثابت ہوگا کہ یہ حدیث ائمہ کے دور میں صحیح تھی ؟؟؟


اوراگر اس لغو ترین اصول کو کوئی مان لے تو دنیا کی کوئی ایک حدیث بھی ضعیف ثابت نہیں کی جاسکتی کیونکہ ہر حدیث کے شروع میں صحابی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ ہوتا ہے ۔ اور سند میں جو بھی ضعف آتاہے وہ اللہ کے نبی صلی اللہ اور صحابہ کے دور بے بعد آتا ہے ۔
تو ہر حدیث کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے یہ حدیث اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے دور میں صحیح تھی اور ضعف بعد میں طاری ہوا؟

سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگ اس طرح کی احمقانہ بات پر کیسے ایمان لے آتے ہیں۔
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,035
ری ایکشن اسکور
1,230
پوائنٹ
425
اوراگر اس لغو ترین اصول کو کوئی مان لے تو دنیا کی کوئی ایک حدیث بھی ضعیف ثابت نہیں کی جاسکتی کیونکہ ہر حدیث کے شروع میں صحابی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ ہوتا ہے ۔ اور سند میں جو بھی ضعف آتاہے وہ اللہ کے نبی صلی اللہ اور صحابہ کے دور بے بعد آتا ہے ۔
سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگ اس طرح کی احمقانہ بات پر کیسے ایمان لے آتے ہیں۔
محترم شیخ صاحب واقعی کوئی بھی عقلمند اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ جس بعد کے ضعیف راوی نے حدیث گھڑی تو جب اسنے گھڑنا ہی ہے تو اسکو غیر ثقہ راویوں کا حوالہ دینے کی کیا ضرورت ہے اللہ ہم سب کو حق تسلیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین

محترم شیخ صاحب ایک بات پوچھنی ہے کہ میں نے آج کے دور میں بھی پرانے اہل حدیث کو دیکھا ہے کہ وہ بہت سی ضعیف احادیث کو صحیح کہ رہے ہوتے ہیں اور ہمارے آج کے محدث مثلا مبشر ربانی حفظہ اللہ، زبیر علی زئی رحمہ اللہ وغیرہ کی جدید تحقیق کے مطابق ہمارے پرانے اسلاف کی اکثر احادیث ضعیف قرار دے دی گئی ہیں اللہ آپ کو جزائے خیر دے امین
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,999
ری ایکشن اسکور
9,803
پوائنٹ
773
واقعی کوئی بھی عقلمند اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ جس بعد کے ضعیف راوی نے حدیث گھڑی تو جب اسنے گھڑنا ہی ہے تو اسکو غیر ثقہ راویوں کا حوالہ دینے کی کیا ضرورت ہے اللہ ہم سب کو حق تسلیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین
ان الفاظ میں آپ کیا کہنا چاہتے ہیں کچھ اور واضح کریں۔
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,035
ری ایکشن اسکور
1,230
پوائنٹ
425
ان الفاظ میں آپ کیا کہنا چاہتے ہیں کچھ اور واضح کریں۔
محترم شیخ صاحب اس میں میں آپکی بات کی توثیق کرنا چاہ رہا ہوں کہ واضع یا ضعیف راوی ایک حدیث کو گھڑنا چاہتا ہے تو جب سب کچھ اس نے خود ہی تیار کرنا ہوتا ہے اور اسکو پیچھے راویوں پر جرح و تعدیل کا علم ہوتا ہے تو وہ اہنی مرضی سے غلط راویوں کو کیوں گڑھے گا پس جب وہ پیچھے صحیح راویوں کو ہی گھڑے گا تو وہ حدیث اس سے پہلے زمانہ میں بھی غیر معتبر ہی رہے گی یعنی واقعی آپ کی بات ٹھیک ہے
نیچے جو میں نے لکھا ہے وہ میرا اشکال ہے اور اسکا اوپر کی توثیق سے کوئی تعلق نہیں
شیخ صاحب اللہ آپ کی حدیث پر مختلف پوسٹوں میں معلومات پڑھ کر واللہ آپ کا معترف ہوں اسلئے اپنے اشکال کا آپ سے پوچھا ہے کہ ایسے میں ہم کن کی تحقیق پر عمل کریں اللہ آپ کے علم میں اضافہ فرمائے امین
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,999
ری ایکشن اسکور
9,803
پوائنٹ
773

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,682
ری ایکشن اسکور
752
پوائنٹ
290
انتہائی لغو بات ہے ۔

شیخ صاحب میں اسے کسی اصول کے طور پر نہیں بلکہ ایک بات کے طور پر کہہ رہا ہوں کہ کیا ایسا ممکن نہیں ہے؟ یہ تو مجھے بھی علم ہے کہ اس بنیاد پر ہم اس حدیث کو صحیح نہیں کہہ سکتے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث ضعیف ہمیشہ گھڑی ہوئی نہیں ہوتی بلکہ اس کی سند میں ضعیف راوی کی وجہ سے یہ شبہہ ہو جاتا ہے کہ شاید یہ بھول گیا ہے یا اور کوئی مسئلہ ہوا ہے۔ اب جب ایک امام جس کے علم و فضل پر دنیا گواہ ہو وہ اس حدیث پر عمل پیرا ہو تو کیا یہ شبہہ پیدا نہیں ہوتا؟ (اصول سے ہٹ کر)
 
Top