ماشاء اللہ بہت اچھا لکھا ہے مگر اس میں بہت تضاد ہے
پہلی حدیث جو بیان کی گئی :
آخری پیج کی حدیث اور اور کمنٹس:
اگر میں آپ کے کمنٹس کو من وعن مان لوں تو آپ نے یہ ثابت کردیا کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ میں سے کھلایا پلایا جو کہ ان کے لئے بقول آپ کے حرام ہے اور یہ آپ کے الفاظ ہیں
مت بننا ریت کے محل بن بارش کے ٹوٹ جاتے ھیں ۔
شیعہ حضرات اکثر بخاری بخاری کی گردان کرتے ہیں لیکن لگتا ہے انہوں نے کبھی آنکھیں کھول کر یہ روایت نہیں پڑھی
روایت کے الفاظ ہیں
صحیح بخاری 4241
أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ , وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ
صاف لکھا ہے مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ
یعنی سیدہ مال فے سے اپنے حصے کا مطالبہ کررہی ہیں
اور یہ تین مطالبات ہیں
مدینہ(مال فے)
فدک (مال فے)
خیبر کا خمس
کہ ان تینوں میں حصہ دیا جائے
تو تمام روایات سے پتہ چلتا ہے کہ مدینہ کے بنو نضیر اور بنوقریظہ کے باغات پہلے ہی حضرت علی کے پاس تھے
تو کیا سیدہ نے جھوٹا مطالبہ پیش کیا؟؟؟؟
ایک چیز پہلے ہی انکے خاوند کے قبضے میں ہے تو اسکا وہ مطالبہ کررہی ہیں
ہوسکتا ہے کہ حضرت علی خود ہی سب کچھ کھا پی جاتے ہوں اور سیدہ کو کچھ نہ دیتے ہوں
یعنی دوسرے لفظوں میں وہ کہہ رہی ہیں کہ حضرت علی سے قبضہ واپس لیکر انہیں دیا جائے
شائد آپ یہ کہنا چاہتے ہیں
خیبر میں نبی کریم کی جو جائیداد تھی وہ بھی حضرت علی کے کنٹرول میں تھی
آپ شائد یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سیدہ نے حضرت علی کے خلاف خلیفہ سے مدد مانگی کہ حضرت علی سے خیبر والی زمین کا قبضہ لیکر انہیں دیا جائے
خیبر وغیرہ سے جو خمس آتا تھا وہ حضرت علی اور عباس کے ذمے ہی لگایا جاتا تھا کہ اسکو تقسیم کریں حضرت ابوبکر صدیق نے اور حضرت عمر نے بھی حضرت علی کی ہی ڈیوٹی برقرار رکھی
ہوسکتا ہے یہی مطالبہ ہو کہ حضرت علی سے لیکر سیدہ کو کنٹرول دیا جائے
جہاں تک فدک کا معاملہ ہے وہ نہ نبی کریم کے کنٹرول میں تھا نہ ہی خلیفہ کے کیونکہ فدک والوں سے آدھی فصل کا معاہدہ تھا
تو فدک کے معاملے میں تو معذرت ہی بنتی تھی
یقینا حضرت ابوبکر صدیق نے بنونضیر اور بنو قریظہ اور خیبر کا قبضہ حضرت علی سے لیکر سیدہ فاطمتہ کو دینے سے انکار کیا ہوگا اسی پر ناراض ہوسکتی ہیں اور تو کوئ وجہ سمجھ نہیں آتی