• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رسول اللہ ﷺ کے ترکہ میں وراثت کا مسئلہ

شمولیت
ستمبر 03، 2012
پیغامات
214
ری ایکشن اسکور
815
پوائنٹ
75

​
﴿ وَرَ‌بُّكَ يَخلُقُ ما يَشاءُ وَيَختارُ‌ ۗ ما كانَ لَهُمُ الخِيَرَ‌ةُ ۚ سُبحـٰنَ اللَّـهِ وَتَعـٰلىٰ عَمّا يُشرِ‌كونَ ٦٨ ﴾ ۔۔۔ القصص
اور آپ کا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے، ان میں سے کسی کو کوئی اختیار نہیں، اللہ ہی کے لیے پاکی ہے وه بلند تر ہے ہر اس چیز سے کہ لوگ شریک کرتے ہیں (68)
اصلاح کے لئے شکریہ بھائی جان اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے ۔۔۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,516
پوائنٹ
964
ماشاء اللہ بہت اچھا لکھا ہے مگر اس میں بہت تضاد ہے
۔۔۔۔
اگر میں آپ کے کمنٹس کو من وعن مان لوں تو آپ نے یہ ثابت کردیا کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ میں سے کھلایا پلایا جو کہ ان کے لئے بقول آپ کے حرام ہے اور یہ آپ کے الفاظ ہیں
۔۔۔۔
مت بننا ریت کے محل بن بارش کے ٹوٹ جاتے ھیں ۔
اس حوالے سے گفتگو یہاں ہوچکی ہےاورشایدآپ کےپاس کہنے کے لیےکچھ بچابھی نہیں :
http://forum.mohaddis.com/threads/آل-محمد-صلی-اللہ-علیہ-وآلہ-وسلم-پر-صدقہ-کا-حرام-ہونا.10553/page-3
بہرصورت اب بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں تو دونوں ’’لڑیوں ‘‘ کافرق سمجھتے ہوئے ہرلڑی میں متعلقہ گفتگو ہی کریں ۔ اللہ توفیق دے ۔
 

Abu Hashir

مبتدی
شمولیت
فروری 06، 2025
پیغامات
50
ری ایکشن اسکور
6
پوائنٹ
21
شیعہ حضرات اکثر بخاری بخاری کی گردان کرتے ہیں لیکن لگتا ہے انہوں نے کبھی آنکھیں کھول کر یہ روایت نہیں پڑھی

روایت کے الفاظ ہیں
صحیح بخاری 4241

أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ , وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ

صاف لکھا ہے مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ

یعنی سیدہ مال فے سے اپنے حصے کا مطالبہ کررہی ہیں
اور یہ تین مطالبات ہیں

مدینہ(مال فے)
فدک (مال فے)
خیبر کا خمس
کہ ان تینوں میں حصہ دیا جائے

تو تمام روایات سے پتہ چلتا ہے کہ مدینہ کے بنو نضیر اور بنوقریظہ کے باغات پہلے ہی حضرت علی کے پاس تھے

تو کیا سیدہ نے جھوٹا مطالبہ پیش کیا؟؟؟؟
ایک چیز پہلے ہی انکے خاوند کے قبضے میں ہے تو اسکا وہ مطالبہ کررہی ہیں
ہوسکتا ہے کہ حضرت علی خود ہی سب کچھ کھا پی جاتے ہوں اور سیدہ کو کچھ نہ دیتے ہوں

یعنی دوسرے لفظوں میں وہ کہہ رہی ہیں کہ حضرت علی سے قبضہ واپس لیکر انہیں دیا جائے
شائد آپ یہ کہنا چاہتے ہیں

خیبر میں نبی کریم کی جو جائیداد تھی وہ بھی حضرت علی کے کنٹرول میں تھی
آپ شائد یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سیدہ نے حضرت علی کے خلاف خلیفہ سے مدد مانگی کہ حضرت علی سے خیبر والی زمین کا قبضہ لیکر انہیں دیا جائے

خیبر وغیرہ سے جو خمس آتا تھا وہ حضرت علی اور عباس کے ذمے ہی لگایا جاتا تھا کہ اسکو تقسیم کریں حضرت ابوبکر صدیق نے اور حضرت عمر نے بھی حضرت علی کی ہی ڈیوٹی برقرار رکھی

ہوسکتا ہے یہی مطالبہ ہو کہ حضرت علی سے لیکر سیدہ کو کنٹرول دیا جائے

جہاں تک فدک کا معاملہ ہے وہ نہ نبی کریم کے کنٹرول میں تھا نہ ہی خلیفہ کے کیونکہ فدک والوں سے آدھی فصل کا معاہدہ تھا
تو فدک کے معاملے میں تو معذرت ہی بنتی تھی

یقینا حضرت ابوبکر صدیق نے بنونضیر اور بنو قریظہ اور خیبر کا قبضہ حضرت علی سے لیکر سیدہ فاطمتہ کو دینے سے انکار کیا ہوگا اسی پر ناراض ہوسکتی ہیں اور تو کوئ وجہ سمجھ نہیں آتی
 

Abu Hashir

مبتدی
شمولیت
فروری 06، 2025
پیغامات
50
ری ایکشن اسکور
6
پوائنٹ
21
ماشاء اللہ بہت اچھا لکھا ہے مگر اس میں بہت تضاد ہے

پہلی حدیث جو بیان کی گئی :



آخری پیج کی حدیث اور اور کمنٹس:




اگر میں آپ کے کمنٹس کو من وعن مان لوں تو آپ نے یہ ثابت کردیا کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ میں سے کھلایا پلایا جو کہ ان کے لئے بقول آپ کے حرام ہے اور یہ آپ کے الفاظ ہیں



مت بننا ریت کے محل بن بارش کے ٹوٹ جاتے ھیں ۔
شیعہ حضرات اکثر بخاری بخاری کی گردان کرتے ہیں لیکن لگتا ہے انہوں نے کبھی آنکھیں کھول کر یہ روایت نہیں پڑھی

روایت کے الفاظ ہیں
صحیح بخاری 4241

أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ , وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ

صاف لکھا ہے مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ

یعنی سیدہ مال فے سے اپنے حصے کا مطالبہ کررہی ہیں
اور یہ تین مطالبات ہیں

مدینہ(مال فے)
فدک (مال فے)
خیبر کا خمس
کہ ان تینوں میں حصہ دیا جائے

تو تمام روایات سے پتہ چلتا ہے کہ مدینہ کے بنو نضیر اور بنوقریظہ کے باغات پہلے ہی حضرت علی کے پاس تھے

تو کیا سیدہ نے جھوٹا مطالبہ پیش کیا؟؟؟؟
ایک چیز پہلے ہی انکے خاوند کے قبضے میں ہے تو اسکا وہ مطالبہ کررہی ہیں
ہوسکتا ہے کہ حضرت علی خود ہی سب کچھ کھا پی جاتے ہوں اور سیدہ کو کچھ نہ دیتے ہوں

یعنی دوسرے لفظوں میں وہ کہہ رہی ہیں کہ حضرت علی سے قبضہ واپس لیکر انہیں دیا جائے
شائد آپ یہ کہنا چاہتے ہیں

خیبر میں نبی کریم کی جو جائیداد تھی وہ بھی حضرت علی کے کنٹرول میں تھی
آپ شائد یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سیدہ نے حضرت علی کے خلاف خلیفہ سے مدد مانگی کہ حضرت علی سے خیبر والی زمین کا قبضہ لیکر انہیں دیا جائے

خیبر وغیرہ سے جو خمس آتا تھا وہ حضرت علی اور عباس کے ذمے ہی لگایا جاتا تھا کہ اسکو تقسیم کریں حضرت ابوبکر صدیق نے اور حضرت عمر نے بھی حضرت علی کی ہی ڈیوٹی برقرار رکھی

ہوسکتا ہے یہی مطالبہ ہو کہ حضرت علی سے لیکر سیدہ کو کنٹرول دیا جائے

جہاں تک فدک کا معاملہ ہے وہ نہ نبی کریم کے کنٹرول میں تھا نہ ہی خلیفہ کے کیونکہ فدک والوں سے آدھی فصل کا معاہدہ تھا
تو فدک کے معاملے میں تو معذرت ہی بنتی تھی

یقینا حضرت ابوبکر صدیق نے بنونضیر اور بنو قریظہ اور خیبر کا قبضہ حضرت علی سے لیکر سیدہ فاطمتہ کو دینے سے انکار کیا ہوگا اسی پر ناراض ہوسکتی ہیں اور تو کوئ وجہ سمجھ نہیں آتی
 
Top